مسعود احمد برکاتی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مسعود احمد برکاتی
مسعود احمد برکاتی

معلومات شخصیت
پیدائش 15 اگست 1933  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ریاست ٹونک  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 10 دسمبر 2017 (84 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کراچی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
رہائش کراچی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مناصب
مدیر   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
1953  – 10 دسمبر 2017 
عملی زندگی
پیشہ مصنف،  بچوں کے ادیب[1]،  سفر نامہ نگار،  مدیر،  مترجم،  مؤرخ[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت ہمدرد فاؤنڈیشن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
اے پی این سی کی طرف سے، 1996ء میں نشان سپاس
اور 2012ء میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ
P literature.svg باب ادب

مسعود احمد برکاتی پاکستان کے معروف مدیر اور بچوں کے ادیب تھے، جو 1953ء سے دسمبر 2017ء تک مسلسل بچوں کے ایک ہی ماہنامہ رسالے ہمدرد نونہال کے مدیر رہے۔ بچوں کے لیے اردو میں پہلے سفر نامے کے مصنف اور حکیم محمد سعید کے قریبی دوست تھے۔ برکاتی ایک علمی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا تعلق ہندوستان کی ریاست ٹونک سے تھا۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آئے۔ ہمدرد فاؤندیشن سے منسلک رہے، ہمدرد صحت کے مدیر منتظم اور ہمدرد وقف پاکستان کے ٹرسٹی اور پبلی کیشنز ڈویژن کے سینئر ڈائریکٹر تھے۔[3]

ابتدائی زندگی و تعلیم[ترمیم]

مسعود احمد برکاتی 15 اگست 1933ء کو راجستھان کی ایک مسلم ریاست ٹونک میں پیداہوئے۔ آپ کے دادا حکیم برکات احمد ایک جید عالم دین تھے۔ سید مناظر احسن گیلانی اور مولوی معین الدین اجمیری، برکات احمد کے شاگردوں میں شامل تھے۔ اس علمی ماحول میں مسعود احمد برکاتی نے عربی، فارسی، اردو اور انگریزی زبان کی تعلیم کے علاوہ طب کی تعلیم بھی حاصل کی۔ آپ نے کراچی کے ایک ادارے سے روسی زبان بھی سیکھی۔

علمی دور[ترمیم]

مسعود احمد برکاتی کی عمر ابھی محض چودہ برس تھی جب انہوں نے اپنے دادا برکات احمد کے نام پر البرکات کے نام سے ایک قلمی رسالے کا اجرا کیا۔ 16 سال کی عمر میں مسعود احمد برکاتی نے انجمن ترقی اردو کے رسالے معاشیات میں مضامین لکھناشروع کیے۔ اس سلسلہ مضامین پربابائے اردو مولوی عبد الحق نے بھی پسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔ 1948ء میں مسعود احمد برکاتی اپنے بڑے بھائی اختربرکاتی کے ساتھ ہجرت کرکے پاکستان آ گئے اور حیدرآباد میں قیام کیا۔ پاکستان کے معروف طبیب اور اسکالر حکیم محمود احمد برکاتی بھی آپ کے بڑے بھائی تھے۔ حیدرآباد میں رہائش کے دوران میں گزر اوقات کے لیے آپ نے چھ روپے ماہوار پر ٹیوشن پڑھایا۔ چند ماہ بعد آپ کراچی آ گئے۔ کراچی میں ایک دوست کی معرفت آپ کی ملاقات ہمدرد وقف کے بانی حکیم محمد سعید سے ہوئی۔ حکیم سعید نے اپنے ساتھ کام کرنے کی پیشکش کی۔ اس طرح مسعود احمد برکاتی 1952ء میں ادارہ ہمدرد سے وابستہ ہو گئے۔ یہ وابستگی تاوفات برقرار ہی۔ حکیم محمد سعید نے مسعود احمد برکاتی کو ہمدرد وقف کے ٹرسٹیز میں بھی شامل کیا۔ 1953 میں بچوں کے رسالے نونہال کے اجرا پر اس کے مدیر مقرر ہوئے۔ تقریباً 65 سال اس ذمہ داری کو نہایت احسن طریقے سے نبھایا۔ اس زمانے میں کراچی میں کچھ نوجوان نونہال پاکستان کے نام سے بھی ایک رسالہ شائع کیا کرتے تھے۔ ہمدر دوقف کے زیر اہتمام شائع ہونے والے رسالے نونہال کا نام بعد میں ہمدرد نونہال کر دیا گیا۔ آپ پاکستان کے ممتاز طبی جریدے ہمدردصحت کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کی حیثیت سے بھی اپنے فرائض نہایت تندہی سے سر انجام دیتے رہے۔ آپ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے زیر اہتمام شائع ہونے والے رسالے کوریئر (Courier) کے اردو ایڈیشن پیامی کے شریک مدیر بھی رہے۔ کوریئر کی مجلس ادارت کی، مٹینگ منعقدہ پیرس میں بھی شریک ہوئے۔ بعض رسائل کی مجلسِ ادارت میں بھی شامل رہے۔ مسعود احمد برکاتی نے پاکستان میں اور بیرون ممالک مختلف علمی اجلاسوں اور سیمنارز وغیرہ میں شرکت کی اور مقالات پیش کیے۔ بعض بین الاقوامی مجالس کی صدارت بھی کی۔ کئی اخبارات و رسائل میں مسعود احمد برکاتی کی مختلف موضوعات پر شائع ہونے والی تحریروں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ مسعود احمد برکاتی کوان کی قابل قدراورمسلسل خدمات کے اعتراف میں آل پاکستان نیوزپیپرز سوسائٹی کی جرائد کمیٹی نے 2 مارچ، 1996ء میں نشان ِسپاس اور اے پی این ایس کی جانب سے 2012ء میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پیش کیا گیا۔[4]

تصنیفات[ترمیم]

مسعود احمد برکاتی نے بچوں اور نوجوانوں کے لیے کئی کتابیں تصنیف کیں۔

  • مفید غذائیں: قدیم و جدید طبی تحقیقات کی روشنی میں، کراچی، بیت الحکمت، بار سوم، 1997ء،[5]
  • ادبی مقالاتِ سعید، کراچی، ہمدرد فاؤنڈیشن، 2000ء، 104 صفحات[5]
  • قیدی کا اغوا (48 صفحات) ہمدرد فاؤنڈیشن۔ کراچی (بچوں کے لیے کہانیاں)[5]
  • چور پکڑو، مضامین[5]
  • ایک کھلا راز، مضامین[5]
  • دو مسافر دو ملک، سفرنامہ، 1993ء، 136 صفحات، یہ اردو زبان میں بچوں کے لیے پہلا سفر نامہ مانا جاتا ہے۔[5]
  • انکل حکیم محمد سعید، 2001ء، 112 صفحات[3]
  • سعید پارے، 1999ء، 192 صفحات[3]
  • وہ بھی کیا دن تھے[3]
  • مرد درویش–حکیم عبد الحمید کی عظمت کے چند گوشے، 1999ہ، 140 صفحات
  • صحت کی الف بے
  • جوہر قابل (مولانا محمد علی جوہر کی کہانی اورکارنامے)
  • مونٹی کرسٹو کا نواب، الیگزنڈر ڈوما کے مشہور فرانسیسی ناول کی اردو تلخیص، 1995ء، 94 صفحات
  • ہزاروں خواہشیں، چارلس ڈکنز کے مشہور ناول کی تلخیص ترجمہ
  • تین بندوقچی، الیگزنڈر ڈوما کے مشہور فرانسیسی ناول کی اردو تلخیص، 1994ء، 100 صفحات
  • چھوٹی سی پہازی لڑکی، ترجمہ ناول
  • فرہنگ اصطلاحات طب(نظر ثانی اورترمیم واضافہ)
  • PROFILE OF HUMANITARIAN(شریکِ مصنف)

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Dawn — اخذ شدہ بتاریخ: 10 دسمبر 2017
  2. The Express Tribune — اخذ شدہ بتاریخ: 10 دسمبر 2017
  3. ^ ا ب پ ت "مسعود احمد برکاتی ،پاکستان کے سینئر صحافی و مدیرسے مکالمہ"۔ ہماری ویب۔ اخذ کردہ بتاریخ 30 جون 2017۔ 
  4. بچوں کے ادب کا بڑا نام، مسعود احمد برکاتی،  اخبارِ جہاں، 19 اگست 2013ء، صفحہ 30
  5. ^ ا ب پ ت ٹ ث "دبستانوں کا دبستان"۔ بائیو بیبلوگرافی۔ اخذ کردہ بتاریخ 30 جون 2017۔ 

بیرونی روابط[ترمیم]