مسلمانوں کی معصومیت (فلم) پر رد عمل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مسلمانوں کی معصومیت (فلم) پر رد عمل
Anti-Islam Film protests (8009237593).jpg
کوالالمپور ہزاروں افراد امریکی سفارتخانے کیجانب احتجاج کرتے ہوئے۔
تاریخ 11 ستمبر 2012ء (2012ء-09-11) – September 29, 2012
مقام دنیا بھر میں
وجوہات گستاخانہ فلم
طریقہ کار
اموات اور زخمی

انیوسنس آف دی مسلمز، ایک گستاخانہ امریکی فلم تھا جس میں پیغمبرِ اسلام محمد ﷺ کی کی کردار کشی کی گئی تھی۔ ستمبر 2012ء میں جب یوٹیوب پر گستاخانہ فلم اینوسنس آف مسلمز کا ٹریلر یوٹیوب پر جاری ہوا، تو اس پر دنیا بھر میں مسلمانوں نے احتجاج کیا۔ سب سے پہلے احتجاج مصر کے دارالحکومت قاہرہ سے شروع ہوا جہاں لوگوں نے امریکی سفارتخانے کا گھیراو کیا اور امریکی پرچم کو اتارا۔ 13 ستمبر 2012ء کو یمن کے دارلحکومت صنعاء میں امریکی سفارتخانے کے سامنے احتجاج کیا گیا جس میں چار افراد جاں بحق ہوئے۔14ستمبر 2012ء کو بھارتی شہر چینائی میں امریکی کانسلیٹ پر حملہ ہوا جس میں تقریباََ 25 افراد زخمی ہوئے۔تونیسیا کے شہر تیونس میں موجود امریکی سفارتخانے کے دیواروں پر لوگ چھڑے اور آگ بھی لگا گئی۔اس کے بعد متواتر دیگر اسلامی ممالک بشمول مشرقی وسطی، افریقا، پاکستان، افغانستان وغیرہ میں احتجاج کئے گئے۔

انٹرنیٹ پر[ترمیم]

سام بیسلی نے یکم جولائی کو یوٹیوب پر خاکے جاری کئے اور ستمبر میں اسے عربی میں ڈب کیا گیا اور مورس سادک کے ذریعے عرب دنیا کی توجہ حاصل کی گئی۔ عربی میں دو منٹ کی عربی ڈبنگ مصری ٹی وی الناس پر خالد نامی شخص نےنشر کی ۔مصر اور لیبیا میں یوٹیوب نے رضاکارانہ طورپرگستاخانہ فلم کے ویڈیو کوبند کر دیا ۔ انڈونیشیا، سعودی عرب، ملائیشیا، انڈیا، سنگاپور میں بھی ملکی قوانین کی وجہ سے اُسے بند کر دیا گیا۔ ترکی، برازیل اور روس نے ویڈیو بند کروایا۔اس کے علاوہ یوٹیوب کے مالک نے پاکستان اور مصر میں بھی اس ویڈیو کو بند کر دیا،کیونکہ ان ممالک میں حالات کافی پیچیدہ ہوتے جارہے تھے اور لوگ کے احتجاج شدت اختیار کرہے تھے۔ستمبر2012ء میں افغانستان ،بنگلہ دیش ، سوڈان او رپاکستان کی حکومتوں نے بھی یوٹیوب کو بلاک کر دیا او ریہ ویب سائٹ اُس وقت تک بند رکھنے کا حکم دیا گیا کہ جب تک کہ یہ گستاخانہ فلم ویب سے ہٹا نہیں دی جاتی۔ایران کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ممکن ہے اس فلم کی وجہ سے وہ گوگل کو بھی بند کردیں گے (کیونکہ یوٹیوب اور گوگل دونوں ایک پروڈکشن کے دو مختلف پراجیکٹس ہیں)۔

احتجاج اور ڈپلومیٹ مشنز[ترمیم]

فلم کے خاکوں کے خلاف دنیابھر کے شہروں میں پرہجوم اور پرتشدد احتجاج ہوا جس کے نتیجے میں کئی اَموات ہوئیں او رسینکڑوں کی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے۔ 12 ستمبر 2012ء، کو یوٹیوب نے اعلان کیا کہ وہ عارضی طور پر لیبیا او رمصر میں فلم تک رسائی کو محدود کر رہے ہیں، اس کے بعد افغانستان او رایران نے یوٹیوب کو سنسر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔پاکستانی حکومت نے ملکی سطح پر تعطیل کا اعلان کیا اور اپیل کی کہ محمدﷺ کی تعظیم میں پُرامن احتجاج کیا جائے۔نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیرمسلموں میں سے کئی لوگ نے اس کی مذمت کی تھی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Female suicide bomber strikes Kabul bus"۔ Al Jazeera English۔ ستمبر 18, 2012۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ ستمبر 18, 2012۔
  2. Phil Vinter (ستمبر 18, 2012)۔ "Pakistani man dies after inhaling fumes from burning American flag at anti-Islam film rally - Daily Mail Online"۔ Mail Online۔ London۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ فروری 14, 2015۔
  3. "Violent protests against video rock Pakistan"۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ فروری 14, 2015۔
  4. ^ ا ب New film protests in Pakistan as death toll rises to 21
  5. ^ ا ب "4 killed as Yemeni police, demonstrators clash at U.S. Embassy"۔ CNN۔ ستمبر 13, 2012۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ ستمبر 13, 2012۔
  6. ^ ا ب "Tunisia death toll rises to four in U.S. embassy attack". Reuters via Trust.org. September 15, 2012. Retrieved September 15, 2012.
  7. "Shadowy Egypt-based group claims Israel border attack, cites video as motive"۔ واشنگٹن پوسٹ۔ ستمبر 23, 2012۔ مورخہ 9 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ ستمبر 23, 2012۔ [مردہ ربط]
  8. ^ ا ب پ "Embassies under attack over anti-Islam video"۔ Al Jazeera English۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ ستمبر 14, 2012۔
  9. ^ ا ب "News: One killed in violent Lebanon protest over anti-Islam film"۔ The Daily Star۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ ستمبر 14, 2012۔
  10. "Protesters clash with police near US Embassy in Cairo, one dead"۔ Telegraph۔ ستمبر 15, 2012۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ ستمبر 15, 2012۔
  11. "Timeline: Protests over anti-Islam video"۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ فروری 14, 2015۔
  12. "Fallout of film: Pak mob sets church ablaze, pastor’s son injured in attack"۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ فروری 14, 2015۔ C1 control character in |title= at position 52 (معاونت)
  13. "224 injured so far at US embassy clashes in Cairo: Health ministry - Politics - Egypt - Ahram Online"۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ فروری 14, 2015۔
  14. Daniel P George (ستمبر 14, 2012)۔ "US consulate targeted in Chennai over anti-Prophet Muhammad film"۔ The Times of بھارت۔ اخذ شدہ بتاریخ ستمبر 14, 2012۔
  15. "National - Live feed"۔ news۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ فروری 14, 2015۔
  16. "Over 100 arrested in protest of anti-Islam film outside U.S. embassy in Paris" – New York Daily News. Retrieved September 16, 2012.
  17. "Embassy under attack as protests spread"۔ The Sydney Morning Herald۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ فروری 14, 2015۔
  18. Sean Rayment؛ Ben Farmer (ستمبر 14, 2012)۔ "British troops help fight off Taliban attack on Afghan military base housing Prince Harry"۔ The Daily Telegraph۔ London۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ ستمبر 15, 2012۔
  19. "Niger church ransacked in demo over anti-Islam film | Radio Netherlands Worldwide"
  20. "Belgian police detain 230 protesting anti-Islam film - EUROPE"۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ فروری 14, 2015۔