نور النساء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
نور عنایت خان
نورالنساء


نورالنساء (مقبول بنام : نور عنایت خان؛ 1 جنوری 1914ء - 13 ستمبر 1944ء) تقسیم سے قبل کے بھارت یعنی اصلاً برطانوی خفیہ جاسوس تھیں، جنہوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانیہ کے لئے جاسوسی کی۔ برطانیہ کے اسپیشل آپریشنز ایگزیکٹو کے طور پر تربیت یافتہ نور عنایت خان دوسری جنگ عظیم کے دوران فرانس کے نازی دائرہ اختیار میں جانے والی پہلی خاتون وائرلیس آپریٹر تھیں۔ وہ دوسری جنگ عظیم کے دوران فرانس میں ایک خفیہ مہم کے تحت نرس کا کام کرتی تھیں۔ جرمنی کی طرف سے گرفتار کئے جانے کے بعد10 ماہ تک انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پوچھ گچھ کی گئی، لیکن پوچھ گچھ کرنے والی نازی جرمنی کی خفیہ پولیس گسٹاپو ان سے کوئی راز نہیں اگلواسکے ۔ آخر کار انہیں گولی مار کر شہید کردیا گیا۔ نور عنایت خان کی قربانی اور جرات کی کہانی برطانیہ اور فرانس میں آج بھی مقبول ہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں برطانیہ کے سب سے بڑے شہری اعزاز جارج کراس سے نوازا گیا۔ ان کی یاد میں لندن کے گورڈن اسکوائر میں یادگار بنائی گئی، جو انگلینڈ میں کسی مسلمان کے لئے وقف اور کسی ایشیائی خواتین کے اعزاز میں پہلی یادگار ہے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

نور عنایت کی پیدائش 1 جنوری 1914 کو ماسکو، روس میں ہوئی ۔ ان کا پورا نام نور النساء عنایت خان تھا۔ وہ چار بھائی بہن میں سب سے بڑی تھی۔ اس کے بعد اس کے بھائی ولایت کی پیدائش 1916، ہدایت کی پیدائش 1917 اور بہن خیرالنساء کی پیدائش 1919 میں ہوئی تھی۔ نورالنساء کے والد عنایت خان 18 ویں صدی میں سلطنت خداداد میسور ریاست کے حکمران ٹیپو سلطان کے پڑپوتے تھے، وہ ایک صُوفی منش انسان تھے ، عدم تشدد کے قائل اور عارفانہ موسیقی کے شیدائی تھے، انہوں نے برصغیر کے تصوف کو مغربی ممالک تک پہنچایا۔ وہ خاندان کے ساتھ پہلے لندن اور پھر پیرس میں بس گئے تھے۔ جبکہ نور النساء کی ماں ایک نو مسلم امریکی خاتون تھی۔ نور کی دلچسپی بھی ان کے والد کی طرح مغربی ممالک میں اپنے فن کو آگے بڑھانے کی تھی۔ نور موسیقار بھی تھیں اور انہیں ستار بجانے کا شوق تھا۔ انہوں نے بچوں کے لئے کہانیاں بھی لکھی اور کہانیوں پر ان کی ایک کتاب بھی چھپی تھی۔

پہلی جنگ عظیم کے فورا بعد ان کا خاندان ماسکو سے لندن، انگلستان آ گیا تھا، جہاں نور کا بچپن گزرا۔ نوٹنگ ہل میں واقع ایک نرسری اسکول میں داخلہ کے ساتھ ان کی تعلیم شروع ہوئی۔ 1920 میں وہ فرانس چلی گئیں، جہاں وہ پیرس کے قریب سریسنیس کے ایک گھر میں اپنے خاندان کے ساتھ رہنے لگیں جو انہیں صوفی تحریک کے ایک پیروکار کی طرف تحفے میں ملا تھا۔ نورالنساء کا بچپن پیرس کے نواح میں گزرا۔ وہ اپنے خیالات میں گُم رہنے والی اور طلسمی کہانیاں پڑھنے والی ایک بچّی تھی لیکن 1927ء میں جب وہ صرف تیرہ برس کی تھی تو والد کا انتقال ہوگیا اور والدہ اس صدمے سے مستقلاً سکتے میں آگئیں۔ والد کی موت کے بعد چار بچّوں میں سب سے بڑی ہونے کے سبب سارے خاندان کی ذمہ داری نورالنساء کے ناتواں کاندھوں پر آن پڑی تھی۔ فطرتی طور پر کم گو ، شرمیلی اور حساس نورکو موسیقی کے ذریعے معاش کا بندوبست کرنا پڑا اور وہ پیانو کی دھن پر صوفی موسیقی کا فروغ کرنے لگی، نظمیں اور بچوں کی کہانیاں لکھ کر اپنے معاش کو سوارنے لگیں۔ ساتھ ہی فرانسیسی ریڈیو میں باقاعدہ شراکت بھی دینے لگیں۔ 1939 میں بدھ مت کے پیروکاروں کی جاتك کہانیوں سے متاثر ہو کر انہوں نے ایک کتاب 20جاتك کہانیاں کے نام سے لندن سے شائع کی۔

دوسری جنگ عظیم چھڑ نےکے بعد، فرانس اور جرمنی کی جنگ کے دوران وہ 22 جون 1940 کو اپنے خاندان کے ساتھ سمندری راستے سے برطانیہ کے علاقے فالماؤتھ، کارن وال لوٹ آئیں۔

خواتین کے ضمنی ایئر فورس[ترمیم]

1940ء میں جب جرمنوں نے فرانس پر قبضہ کیا تو نورالنساء کا سماجی اور سیاسی شعور پختہ ہوچکا تھا۔ اپنے والد کی امن کی تعلیم سے متاثر نور کو نازیوں کے ظلم سے گہرا صدمہ لگا۔ جب فرانس پر نازی جرمنی نے حملہ کیا تو ان کے دماغ میں اس کے خلاف نظریاتی ابال آ گیا۔ وہ سمجھتی تھی کہ اب والد صاحب کی طرح محض عدم تشدد پہ یقین رکھنے اور صوفیانہ موسیقی میں گم رہنے سے کام نہیں چلے گا بلکہ حالات براہِ راست عملی اقدام کا تقاضا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے بھائی ولایت کے ساتھ مل کر نازی ظلم کو کچلنے کا فیصلہ کیا۔ نور کو بچپن ہی سے ریڈیو پر بچّوں کو کہانیاں سنانے کا شوق تھا اور وہ ریڈیو اور وائرلیس کی تکنیک سے قدرے شناسا تھی چنانچہ جرمنوں کے خلاف تحریکِ مزاحمت میں اُس نے خفیہ پیغام رسانی کا میدان چُنا۔ 19 نومبر 1940 کو وہ خواتین کے ضمنی ایئر فورس WAAF میں کلاس 2 ایئر کرافٹ افسر کے طور پر شامل ہوئیں، جہاں انہیں ’’وائرلیس آپریٹر‘‘ کے طور پر تربیت کیلئے بھیجا گیا۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ نور عنایت خان جرمنوں کے خلاف کام کرنے والی اولین خاتون ریڈیو آپریٹر تھی۔ جون 1941 میں انہوں نے ان پر Raf بمبار کمان کے بمبار تربیت اسکول میں کمیشن کے سامنے ’’مسلح فورس افسر‘‘ کے لئے درخواست کی، جہاں انہیں اسسٹنٹ سیکشن افسر کے طور پر پرموشن حاصل ہوا۔ وہ اپنے تین خفیہ نام بالترتیب ’’نورا بیکر ‘‘، ’’میڈلین‘‘ اور ’’جین مری رینيا‘‘ کے طور پر بھی جانی جاتی ہیں۔ انہوں نے چھبیس برس کی عمر میں خود کو تحریکِ مزاحمت کے لئے وقف کر دیا تھا اور اُنتیس برس کی عمر میں جرمنوں کے ہاتھوں ایک اذیت ناک موت سے ہم کنار ہوئی۔

خصوصی مہم کے ایگزیکٹو ایف سیکشن ایجنٹ کے طور پر جاسوسی[ترمیم]

بعد میں نور کو اسپیشل آپریشنز ایگزیکٹو کے طور پر ایف (فرانس) کی سیکشن میں شمولیت کیلئے بھرتی کیا گیا اور فروری 1943 میں ان فضائیہ وزارت میں تعینات کیا گیا۔ ان کے اعلی افسران میں خفیہ جنگ کے لئے ان کی مناسب پر مخلوط رائے بنی اور یہ محسوس کیا گیا کہ اب ان کا تربیت نامکمل ہے، لیکن فرانسیسی زبان کی اچھی معلومات اور بولنے کی صلاحیت نے اسپیشل آپریشنز گروپ کی توجہ انہوں نے اپنی طرف متوجہ کر لیا، نتیجے کے طور پر ان وائرلیس آپریشن میں تجربہ کار ایجنٹوں کے زمرے میں ایک ضروری امیدوار کے طور پر پیش کیا گیا۔ پھر وہ بطور جاسوس کام کرنے کے لئے تیار کی گئیں اور 16-17 جون 1943 میں ان کی جاسوسی کے لئے ریڈیو آپریٹر بنا فرانس بھیج دیا گیا۔ ان کا کوڈ نام ’’میڈیلین‘‘ رکھا گیا. وہ بھیس بدل کر مختلف جگہ سے پیغام بھیجتی رہیں۔ انہوں نے دو دیگر خواتین بالترتیب ڈیانا راڈین (خفیہ کوڈ نام: پاؤلیٹ/ چیپلین) اور سسیلی لیفورٹ (خفیہ کوڈ نام: ایلیس / ٹیچر ) کے ساتھ فرانس کا سفر کیا، جہاں وہ فرانسس ستتيل (خفیہ کوڈ نام: پروسپر) کی قیادت میں ایک نرس کے طور پر فزیشن نیٹ ورک میں شامل ہو گئیں۔ ڈیڑھ ماہ بعد ہی علاج نیٹ ورک سے منسلک ریڈیو آپریٹرز کو جرمنی کی سیکورٹی سروس (ایس ڈی) کی طرف سے گرفتار کر لیا گیا۔ وہ دوسری جنگ عظیم میں پہلی ایشین خفیہ ایجنٹ تھی۔ ایک کامریڈ گرل نے جلن کے مارے ان کی مخبری کی اور وہ پکڑی گئیں۔

خفیہ ایجنٹ کے طور پر کیریئر[ترمیم]

دوسری جنگ عظیم کے دوران نور ونسٹن چرچل کے قابل اعتماد لوگوں میں سے ایک تھیں۔ انہیں خفیہ ایجنٹ بنا کر نازیوں کے قبضے والے فرانس میں بھیجا گیا تھا۔ نور نے پیرس میں تین ماہ سے زیادہ وقت تک کامیابی سے اپنا خفیہ نیٹ ورک چلایا اور نازیوں کی معلومات برطانیہ تک پہنچائی۔ پیرس میں 13 اکتوبر 1943 کو انہیں جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ اس دوران خطرناک قیدی کے طور پر ان کے ساتھ تشد آمیز سلوک کیا جاتا رہا، تاہم اس دوران انہوں نے دو بار جیل سے فرار ہونے کی کوشش کی، لیکن ناکام رہیں۔

گسٹاپو کے سابق افسر ہنس كفر نے ان خفیہ اطلاعات حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن انہیں کامیابی نہیں ملی۔ 25 نومبر 1943 کو عنایت ایس او ای ایجنٹ جان رینشا اور لیون فے کے ساتھ (ایس ڈی)، پیرس کے ہیڈ کوارٹر سے فرار ہوئیں، لیکن وہ زیادہ دور تک نہیں سکیں اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ 27 نومبر 1943 کو نور کو پیرس سے جرمنی لے جایا گیا۔ نومبر 1943 میں انہیں جرمنی کے فرجیم جیل بھیجا گیا۔ اس دوران بھی حکام نے ان خوب پوچھ گچھ کی، لیکن انہوں نے کچھ نہیں بتایا۔ انہیں دس ماہ تک سخت سزائیں دی گئیں، پھر بھی انہوں نے کسی بھی قسم کی معلومات دینے سے انکار کر دیا۔ انتہائی کوشش کے باوجود جرمن فوجی ان کا اصلی نام بھی نہیں جان پائے۔ بالآخر جرمن نازیوں نے نور کو گولی مار کر شہید کردیا۔


شہادت[ترمیم]

11 ستبر 1944 کو انہیں اور ان کے تین ساتھیوں کو جرمنی کے ڈكاو کیمپ لے جایا گیا، جہاں 13 ستمبر 1944 کی صبح چاروں کے سر پر گولی مارنے کا حکم سنایا گیا۔ اگرچہ سب سے پہلے نور کو چھوڑ ان تینوں ساتھیوں کے سر پر گولی مار کر قتل کیا گیا، تاکہ نور کو ڈرایا جائے اور وہ جس معلومات کو جمع کرنے کے لئے برطانیہ سے آئی تھیں، وہ اسے بتا دے ۔ لیکن انہوں نے کچھ نہیں بتایا، بالآخر ان کے بھی سر پر گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ اس کے بعد سب کو جلا کر ایک خفیہ ڈچ جیل میں دفن کردیا گیا۔ جو بعد میں 1958ء میں دریافت ہوا۔ موت کے وقت ان کی عمر 30 سال تھی۔ جب نور کو گولی مار ی گئی ، تو ان کے ہونٹوں پر آخری لفظ تھا - ’’آزادی‘‘۔

یادگاریں اور اعزازات[ترمیم]

برطانیہ کی پوسٹل سروس، رائل میل کی طرف سے ’’قابل ذکر لوگوں‘‘ کی سیریز میں نور نور کی یاد میں ڈاک ٹکٹ جاری کئے گئے ۔ لندن میں ان کی تانبے کا مجسمہ لگایا گیا ہے. یہ پہلا موقع ہے جب برطانیہ میں کسی مسلم یا پھر ایشیائی عورت کا مجسمہ لگا۔ اس مجسمہ کو لندن کے آرٹسٹ نیومین نے بنایا ۔ گورڈن اسکوائر گارڈن میں اس مکان کے نزدیک مجسمہ نصب کیا گیا ہے جہاں وہ بچپن میں رہا کرتی تھیں۔ مجسمے کی نقاب کشائی کی تاریخ 8 نومبر 2012 کو ملکہ الزبتھ دوم کی بیٹی شہزادی اینی نے کیا۔ قابل ذکر ہے کہ نور کی یاد میں بننے والا لندن کا اسکوائر گارڈن برطانیہ میں کسی بھارتی خاتون اور کسی مسلمان عورت کی یاد میں بننے والا پہلا یادگار ہے۔ اس بھارتی خاتون فوجی نور کو 1949 ءمیں بعد از مرگ برطانیہ کا سب سے زیادہ قابلِ احترام اعزاز جارج کراس سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ فرانس کی طرف سے ان کوسب سے اعلی شہری اعزاز كروكس ڈی گیری سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں برطانیہ کی طرف سے میسڈ ان ڈسپیچج (برطانوی گیلینٹری ایوارڈ) بھی ملا۔

مزید[ترمیم]

دوسری جنگِ عظیم کے دوران نازیوں کے زیرِ قبضہ فرانس میں کئی سطحوں پر تحریکِ مزاحمت جاری تھی۔ برطانیہ کی خفیہ سروس نے پیرس میں اپنے جاسوسوں کا جال پھیلا رکھا تھا جسکے ذریعے پل پل کی خبر اتحادی کمان کو پہنچتی تھی۔ نورالنساء (Noor-u-Nissa) جرمنوں کے خلاف کام کرنے والی پہلی خاتون ریڈیو آپریٹر تھیں

نورالنساء کا باپ صُوفی منش انسان تھا، عدم تشدد کا قائل اور عارفانہ موسیقی کا شیدائی جبکہ اُس کی ماں ایک نو مسلم امریکی خاتون تھی۔

پہلی جنگِ عظیم کے وقت بلومز بری میں پیدا ہونے والی یہ لڑکی دوسری جنگِ عظیم کے دوران جرمنوں کی قید میں انتہائی اذیت ناک حالات میں دم توڑ گئی۔

1943ء میں نازیوں نے اِن جاسوسوں کی بڑے پیمانے پر پکڑ دھکڑ شروع کر دی اور ایک ایسا وقت بھی آیا کہ نورالنساء کے تمام ساتھی گرفتار ہوگئے اور پیرس میں اتحادیوں کے لِیے پیغام رسانی کی تمام تر ذمہ داری اس نوجوان خاتون پر آن پڑی لیکن آخر کار جرمن خفیہ سروس گستاپو نے نور کو بھی آن لیا۔

نازی پنجے کی گرفت میں آنے کے بعد نور کا حوصلہ مزید مضبوط ہوگیا اور راز اُگلوانے کے سارے نازی ہتھکنڈے ناکام ہوگئے۔ نور کی زبان کُھلوانے کے لئے اُسے جو جو اذیتیں دی گئیں اُن کا اندازہ اس امر سے ہوجاتا ہے کہ جنگ کے بعد نازیوں پر چلنے والے جنگی جرائم کے مقدّمے میں گستاپو کے متعلقہ افسر، ہانس جوزف کیفر سے نورالنساء کی موت کے بارے میں پوچھا گیا تو سنگدِل افسر کی آنکھوں میں آنسو اگئے۔

نورالنساء کا بچپن پیرس کے نواح میں گزرا۔ وہ اپنے خیالات میں گُم رہنے والی اور طلسمی کہانیاں پڑھنے والی ایک بچّی تھی لیکن 1927ء میں جب وہ صرف تیرہ برس کی تھی تو والد کا انتقال ہوگیا اور والدہ اس صدمے سے مستقلاً سکتے میں آگئیں۔

چار بچّوں میں سب سے بڑی ہونے کے سبب سارے خاندان کی ذمہ داری نورالنساء کے ناتواں کاندھوں پر آن پڑی تھی۔

1940ء میں جب جرمنوں نے فرانس پر قبضہ کیا تو نورالنساء کا سماجی اور سیاسی شعور پختہ ہوچکا تھا۔ وہ سمجھتی تھی کہ اب والد صاحب کی طرح محض عدم تشدد پہ یقین رکھنے اور صوفیانہ موسیقی میں گم رہنے سے کام نہیں چلے گا بلکہ حالات براہِ راست عملی اقدام کا تقاضا کر رہے ہیں۔

نور کو بچپن ہی سے ریڈیو پر بچّوں کو کہانیاں سنانے کا شوق تھا اور وہ ریڈیو اور وائرلیس کی تکنیک سے قدرے شناسا تھی چنانچہ جرمنوں کے خلاف تحریکِ مزاحمت میں اُس نے خفیہ پیغام رسانی کا میدان چُنا۔

یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ نور عنایت خان جرمنوں کے خلاف کام کرنے والی اولین خاتون ریڈیو آپریٹر تھی۔ اس نے چھبیس برس کی عمر میں خود کو تحریکِ مزاحمت کے لئے وقف کر دیا تھا اور اُنتیس برس کی عمر میں جرمنوں کے ہاتھوں ایک اذیت ناک موت سے ہم کنار ہوئی۔

نرم و نازک خدوخال، گہری سیاہ آنکھوں اور دھیمے لہجے والی حسین و جمیل خاتون کی خطر پسند زندگی نے کئی قلم کاروں کو اپنی جانب راغب کیا اور اب تک اس کی زندگی پر عالمی شہرت کے دو ناول تحریر کئے جا چکے ہیں۔

نور عنایت خان کو اپنے جدِ امجد سلطان ٹیپو سے والہانہ عقیدت تھی اور اُسی روایت پہ چلتے ہوئے انھوں نے ہندوستان کو انگریزی عمل داری سے پاک کرنے کی قسم کھا رکھی تھی۔ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ جب خفیہ سروس میں بھرتی کے لئے انٹرویو ہوا تو نور عنایت نے انگریز افسر سے صاف صاف کہہ دیا کہ فی الحال ہمارے سامنے ایک مشترکہ دشمن نازی جرمنی کی شکل میں موجود ہے لیکن نازی ازم کا خاتمہ ہوتے ہی میں آزادیء ہند کے لئے انگریزوں کے خلاف بر سرِ پیکار ہوجاؤں گی۔

ایک ایسی خوبرو، صاف گو، شیردِل لیکن فنکارانہ مزاج کی عورت کے اصل حالاتِ زندگی بہت پہلے دنیا کے سامنے آجانے چاہیئں تھے۔ بہر حال مصنفہ شربانی باسُو داد کی مستحق ہیں کہ انھوں نے اس دیرینہ ضرورت کو پورا کیا ہے اور نور عنایت خان کی ہشت پہلو زندگی ہم پہ بے نقاب کی ہے۔

نورالنساء (Noor-u-Nissa) کی داستانِ حیات پر اب تک اسرار کا دبیز پردہ پڑا رہا ہے جس نے بے شمار افواہوں کو بھی جنم دیا لیکن اب شربانی باسُو کی نئی کتاب ’جاسوس شہزادی‘ (Spy Princess) نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیا ہے۔