نیل آرمسٹرانگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
نیل آرمسٹرانگ

نیل آرمسٹرانگ (پیدائش: 5 اگست 1930ء – وفات: 25 اگست 2012ء) ایک سابق امریکی خلا باز تھے، جنہیں چاند پر قدم رکھنے والے پہلے انسان ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ وہ ایک فضائیات (aerospace)کے انجینئر، امریکی بحریہ کے پائلٹ، تجرباتی پائلٹ اور جامعہ کے معلم بھی تھے۔ وہ امریکی بحریہ میں افسر تھے اور انہوں نے جنگ کوریا میں بھی خدمات انجام دیں ۔ جنگ کے بعد انہوں نے قومی مشاورتی مجلس برائے فضائیات (National Advisory Committee for Aeronautics) میں تجرباتی پائلٹ کی حیثیت سے کام کیا جہاں انتہائی تیز رفتار پروازوں کے تجربات کیے جاتے تھے۔ اب یہ مجلس ڈرائیڈن فلائٹ ریسرچ سینٹر کہلاتی ہے، جہاں آرمسٹرانگ نے 900 سے زائد پروازیں کیں۔ وہ جامعہ پرڈیو کے تعلیم یافتہ تھے اور اپنی تعلیم جامعہ جنوبی کیلیفورنیا میں مکمل کی۔

آرمسٹرانگ نے 1962ء میں ناسا خلا باز دستے میں شمولیت اختیار کی اور پہلی بار 1966ء میں ناسا کی مہم جیمینائے 8 (انگریزی: Gemini 8) میں اپنا پہلا خلائی سفر کیا اور خلاء میں بھیجے گئے امریکہ کے اولین شہریوں میں سے ایک بنے۔ اس مہم میں انہوں نے ساتھی پائلٹ ڈیوڈ اسکاٹ کے ساتھ دو انسان بردار خلائی جہازوں کو متصل کرنے کا کام انجام دیا۔

آرمسٹرانگ کا خلا میں دوسرا اور آخری سفر جولائی 1969ء میں اپالو 11 کا وہ تاریخی مشن تھا جس میں انہیں چاند پر اترنا تھا۔ آرمسٹرانگ اور ان کے ساتھی بز ایلڈرن چاند کی سطح پر اتنے اور وہاں ڈھائی گھنٹے گزارے جبکہ مائیکل کولنز کمانڈ ماڈیول کے ذریعے مدار میں گردش کرتے رہے۔ اس دوران دونوں خلا بازوں نے چاند کی سرزمین کا جائزہ لیا، تصاویر لیں اور مٹی اور پتھروں کے نمونے جمع کیے۔ دونوں نے چاند کی سطح پر امریکی جھنڈا لہرانے کے علاوہ ایک لوح بھی نصب کی جس پر درج تھا کہ

یہ وہ جگہ ہے جہاں سیارہ زمین سے آکر انسان نے پہلی مرتبہ قدم رکھا، اور جو پوری انسانیت کے لئے امن کا پیغام لے کر یہاں آیا

نیل آرم اسٹرانگ نے جب پہلی بار چاند پر قدم رکھا تو ان کی زبان سے یہ الفاظ نکلے:

ایک آدمی کے لیے یہ ایک چھوٹا سا قدم ہے، مگر انسانیت کے لیے وہ ایک عظیم جست ہے (انگریزی: That's one small step for a man , one giant leap for mankind.)

اس کے بعد دونوں خلاباز خلائی گاڑی ایگل کے ذریعے چاند کے گرد چکر لگاتے ہوئے اپالو 11 جہاز تک پہنچے اور پھر 24 جولائی کو واپس زمین پر اترے۔

آرمسٹرانگ کو کولنز اور ایلڈرن کے ساتھ صدر رچرڈ نکسن کی جانب سے صدارتی تمغۂ آزادی سے، 1978ء میں صدر جمی کارٹر کی جانب سے کانگریسی خلائی تمغہ اعزاز اور 2009ء میں کانگریسی طلائی تمغے سے نوازا گیا۔

25 اگست 2012ء کو آرمسٹرانگ سنسناٹی، اوہائیو میں 82 سال کی عمر میں وفات پا گئے، جس کی وجہ دل کی شریانوں کے بند ہونے کی وجہ سے پیدا ہونے والی پیچیدگی تھی۔

چاند پر قدم رکھنےوالے پہلے انسان کی حیثیت سے نیل آرمسٹرانگ کا نام تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا ہے۔

مزید دیکھیئے[ترمیم]

کیا انسان کبھی چاند پر اترا؟

حوالہ جات[ترمیم]