ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمن اعظمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمن اعظمی۔ (اور اَب مختصراً محمد عبد اللہ اعظمی بھی کہتے ہیں۔) ہندوستانی نژاد سعودی عالم، متعدد کتابوں کے مصنف، اعلی مناصب پر فائز رہ چکے ہیں ۔ سنِ پیدائش: ۱۹۴۳م

ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمن اعظمی
معلومات شخصیت
P islam.svg باب اسلام

تعلیم[ترمیم]

  • شبلی کالج اعظم گڑھ
  • عالمیت، فضیلت: جامعہ دار السلام، عمرآباد
  • گریجویشن: الجامعۃ الاسلامیۃ المدینۃ المنورۃ
  • ماسٹر: جامعۃ الملک عبد العزیز مکۃ المکرمۃ، جو اَب جامعۃ أم القریٰ کے نام سے جانی جاتی ہے۔
  • ڈاکٹریٹ: جامعۃ الأزھر، مصر۔

مناصب:[ترمیم]

رابطہ عالمِ اسلامی مکہ مکرمہ میں مختلف مناصب پر فائز رہے اور آخر میں انچارج ہیڈ آفس جنرل سکریٹری (مدیر مکتب الأمین العام لرابطۃ العالم الاسلامی) رہے۔

تعلیم وتدریس:[ترمیم]

- ۱۳۹۹ھ میں جامعہ اسلامیہ میں بطورِ پروفیسر متعین ہوئے۔ - ڈاکٹریٹ کے مقالوں کی نگرانی اور ان کے مناقشے۔

ادارتی ذمہ داریاں:[ترمیم]

- مدیر البحث العلمی - مدیر مکتب الجالیات التابعۃ للجامعۃ الإسلامیۃ - رکن مجلۃ الجامعۃ الاسلامیۃ - عمید کلیۃ الحدیث

دعوتی اسفار:[ترمیم]

ہندوستان، پاکستان، مصر، اردن، آسٹریلیا،سری لنکا، انڈونیشیا، ملیشیا، نیپال، برطانیہ، الامارات العربیۃ وغیرہ۔

اساتذہ[ترمیم]

اساتذہ کے علاوہ جن مشائخ کے دروس سے زیادہ علمی استفادہ کیا ان میں سرِ فہرست:

  • علامہ شیخ عبد اللہ بن حمید رحمہ اللہ (چیف جسٹس سعودی عرب)
  • علامہ شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ (وائس چانسلر جامعہ اسلامیہ اور پھر مفتی ٔ اعظم سعودی عرب)

مشغولیات[ترمیم]

  • مسجدِ نبوی میں صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے دروس۔
  • ہندی اور عربی میں مقالات کی کتابت اور تألیف ِ کتب۔
  • پھر جامعہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد یکسوئی سے علمی وتحقیقی کاموں میں مصروف ہو گئے اور ہر طرح کی سرگرمیوں کو موقوف کر دیا۔​

تصانيف[ترمیم]

· عربی تصانیف:[ترمیم]

(1) أبو هریرة في ضوء مرویاته[ترمیم]

طبع اول: دار الکتاب المصری، القاہرۃ ۱۹۷۹م طبع دوم: مکتبۃ الغرباء الأثریۃ، المدینۃ المنورۃ ۱۴۱۸ھ​ صحابی ٔ جلیل حضرت ابو ہریرہؓ پر مستشرقین نے بے شمار اعتراضات کیے ہیں اور رواۃِ حدیث میں سب سے زیادہ انہیں کی حدیثوں کو اپنا نشانہ بنایا ہے۔ چنانچہ مؤلف نے اس موضوع کو اپنی ’’ماسٹر‘‘ کی ڈگری کے مقالے کے لیے منتخب کیا اور صحاحِ ستہ اور مسند احمد میں موجود اُن کی ساری حدیثوں کو جمع کرکے دوسرے صحابہ کی حدیثوں سے مقارنہ کیا اور آخر میں اس نتیجے پر پہنچے کہ اکثر وبیشتر حدیثوں میں دوسرے صحابہ نے ان کی موافقت کی ہے اور جن حدیثوں میں حضرت ابو ہریرہؓ منفرد ہیں ان کی تعداد بہت کم ہے۔ علما وطلبہ میں جو یہ بات مشہور ومتداول ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ کی حدیثوں کی تعداد ۵۳۷۴ ہے اس سے مراد مختلف اسانید ہیں، نہ کہ خالص متونِ حدیث اور متونِ حدیث کی تعداد کسی بھی صورت میں دو ہزار سے زیادہ نہیں پہنچتی۔ اب اگر حضرت ابو ہریرہؓ کی زندگی کے ایام، جو انہوں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں گزارے، اُن پر یہ حدیثیں تقسیم کی جائیں تو روزانہ دو حدیث سے زیادہ نہیں بنتی، کیونکہ آپؓ نے غزوۂ خیبر میں اسلام قبول کیا جو ۷ھ میں واقع ہوا اور غزوۂ خیبر سے رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے ایام تقریباً ایک ہزار ہیں۔ اس نتیجے نے علما وطلبہ کے درمیان زبردست انقلاب برپا کر دیا اور اُن سارے اعتراضات کا ازالہ ہو گیا جو حضرت ابوہریرہؓ پر لگائے جاتے تھے، کیونکہ حضرت ابوہریرہؓ دن رات نبی ﷺ کی خدمت میں لگے رہتے تھے، اس لیے ان کا یومیہ دو حدیثیں بیان کرنا قابلِ اعتراض نہیں ہے۔ مؤلف کا ماسٹر کا رسالہ (Thesis) تقریباً ۸۰۰ صفحات پر مشتمل تھا، اس کا مختصر نمونہ دو تین بار شائع ہو چکا ہے۔ اُس وقت جامعۃ الملک عبدالعزیز کے مدیر ڈاکٹر محمد عبدہ یمانی تھے، جو بعد میں وزیرِ ثقافہ بھی بنے۔ انہوں نے بطورِ خاص اُس رسالے (Thesis) کی ایک کاپی طلب کی اور مؤلف کے نتیجے کی روشنی میں ایک گراں قدر مقالہ تحریر فرمایا جو ’’مجلۃ الیمامۃ‘‘ میں شائع ہوا اور پھر اسی نتیجے کی روشنی میں «أبو هریرة» کے نام سے ایک مستقل کتاب تصنیف کی۔ یہ موضوع نہایت ہی دقیق اور مشکل تھا، جسے مؤلف نے اپنی ماسٹر کی ڈگری کے لیے منتخب کیا تھا۔ موضوع کی حساسیت کااندازہ محدثِ شام شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کے اس جملے سے بخوبی ہوتا ہے جو آپ نے مؤلف سے اس رسالے کی تیاری کے وقت کہا تھا، آپ نے فرمایا: «لقد دخلت في بحر لا ساحل له»، ’’تم ایسے سمندر میں داخل ہو گئے ہو جس کا کوئی ساحل ہی نہیں ہے۔‘‘ اس عظیم موضوع پر ریسرچ کی وجہ سے وہ مؤلف سے بہت محبت کرتے تھے اور انہیں «یا صاحب أبي هریرة» کہہ کر پکارتے تھے۔ ان واقعات کی تفصیل مؤلف کے مشفق استاد محترم جناب حافظ حفیظ الرحمن عمری مدنی نے «دراسات في الجرح والتعدیل» کے مقدمے میں تحریر فرمائی ہے جو جامعہ سلفیہ بنارس سے ۱۹۸۳م میں شائع ہوئی۔

(2) أقضیة رسول الله ﷺ لابن الطلاع (ت 497 هـ)[ترمیم]

طبع اول: دار الکتاب، بیروت ۱۹۸۱م طبع دوم: دار الکتاب، بیروت ۱۹۸۲م طبع سوم: دار السلام، الریاض ۲۰۰۳م​ یہ کتاب دراصل اندلس کے معروف عالم محمد بن فرج المالکی کی تصنیف ہے، جسے ڈاکٹر صاحب نے جامعۃ الأزھر مصر سے Ph.d کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے اپنی تحقیق کا موضوع بنایا۔ بشری اختلافات اور باہمی تنازعات میں رسول اللہ ﷺ کے فیصلوں کو جو اہمیت حاصل ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔ اسی اہمیت کے پیشِ نظر ابن الطلاع نے نبی ﷺ کے تمام فیصلوں کو اس کتاب میں جمع کرنے کی کوشش کی، لیکن اُن سے بہت سے فیصلے چھوٹ گئے تھے، جن کو محترم ڈاکٹر صاحب نے استدراک کرکے اس کتاب میں شامل کر دیا اور ہر فیصلے کی تحقیق وتخریج کرکے اس کی صحت وضعف کی نشان دہی فرما دی۔ اس طرح یہ کتاب رسول اللہ ﷺ کے فیصلوں پر مشتمل ایک مستند اور کامل انسائیکلوپیڈیا بن گئی۔ اس کا اُردو ترجمہ متعدد بار لاہور پاکستان سے شائع ہو چکا ہے اور اب انگلش زبان میں اس کے ترجمے کی کوشش ہو رہی ہے، تاکہ غیر مسلمین میں نبی ﷺ کی شخصیت ایک چیف جسٹس اور جج کی حیثیت سے بھی اجاگر ہو اور عدل وانصاف کی جو بے نظیر مثالیں آپ ﷺ نے قائم کی ہیں اُن پر واضح ہوں۔

(3) دراسات في الجرح والتعدیل[ترمیم]

طبع اول: الجامعۃ السلفیۃ، بنارس ۱۹۸۳م طبع دوم: عالم الکتب، بیروت ۱۹۹۵م طبع سوم: مکتبۃ الغرباء، المدینۃ ۱۹۹۵م طبع چہارم: مکتبۃ دار السلام، الریاض ۱۴۲۴ھ​ اس کتاب میں مؤلف نے رواۃ الحدیث سے متعلق محدثین کے جرح وتعدیل کے قواعد مختلف کتبِ احادیث سے جمع کیا ہے۔ اس کتاب میں کل چار فصلیں ہیں، پہلی فصل جرح سے متعلق، دوسری فصل تعدیل سے متعلق، تیسری فصل بعض مصطلحاتِ حدیث سے متعلق اور چوتھی فصل میں ابتدائی تین صدیوں کے ۳۵ مشہور ناقدینِ حدیث کا مختصر تعارف اور ان کے یہاں حدیثوں کی جانچ پڑتال کرنے اور پرکھنے کے جو طریقے تھے ان کا مکمل تعارف ہے۔ مؤلف نے تدریس کے دوران حدیث کے طلبہ کو جب ’’جرح وتعدیل‘‘ کے باب میں محدثین کے منہج سے دور دیکھا اور ان کی اصطلاحات سے ناواقف پایا، تو اس کتاب کی تالیف فرمائی، تاکہ علمِ حدیث کے اس نازک باب سے طلبہ اچھی طرح واقف ہو سکیں۔

(4) المدخل إلی السنن الکبری للبیهقي (ت 458 هـ)[ترمیم]

  1. طبع اول: أضواء السلف، الریاض ۱۴۰۴ھ
  2. طبع دوم: أضواء السلف، الریاض ۱۴۲۰ھ​

یہ امام بیہقی کی مشہور کتاب ’’السنن الکبری‘‘ کا مقدمہ ہے جو اب تک ناپید تھا، ڈاکٹر صاحب نے خدابخش لائبریری سے اس کا قلمی نسخہ حاصل کیا اور اس کو اپنی تحقیق وتعلیق سے شائع کرایا۔

صحابہ، تابعین اور تبعِ تابعین کے یہاں سنت کا کیا مقام ومرتبہ تھا، انہوں نے سنت کو کیسے محفوظ کیا اور کیسے اس کی نشرواشاعت کی اور اس راستے میں کن کن مصائب وآلام سے سامنا کیا، ان تمام موضوعات کا اس کتاب میں احاطہ کیا گیا ہے۔

کتاب کے شروع میں محقق نے ایک نہایت ہی وقیع اور جامع مقدمہ تحریر فرمایا ہے جس میں امام بیہقی نے سنت ِ نبوی کی خدمت واشاعت میں جو کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں انہیں اجاگر کیا گیا ہے اور ان کے ۸۹ مشہور اساتذہ کے حالاتِ زندگی کو مختلف کتب ِ تراجم سے جمع کیا گیا ہے۔ اس کا اُردو ترجمہ ۱۹۹۷م میں لاہور سے شائع ہو چکا ہے۔

(5) دراسات في الیهودیة والنصرانیة[ترمیم]

طبع اول: مکتبۃ الدار، المدینۃ المنورۃ ۱۹۸۸م​ اس کتاب میں یہودیت ونصرانیت کے آغاز، ارتقا، تحریف اور انحطاط پر خالص علمی انداز میں بحث کی گئی ہے اور ٹھوس علمی وعقلی دلائل سے ثابت کیا گیا ہے کہ یہودیت ونصرانیت کے نام سے آج دنیا میں جو مذاہب پائے جاتے ہیں اِن کا اُس دین سے کوئی تعلق نہیں جو حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام پر نازل ہوا تھا۔ نیز بائبل میں علمائے یہود ونصاریٰ نے جو تحریف کی ہیں اس کا بھرپور جائزہ لیا گیا ہے اور بائبل میں موجود تحریفات کے باوجود نبی ﷺ سے متعلق جو بشارات ہیں انہیں ایک فصل میں جمع کر دیا گیا ہے جس کی تاکید قرآن مجید میں بھی وارد ہے۔ ﴿وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُم مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِن بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ ۖ فَلَمَّا جَاءَهُم بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا هَٰذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ﴾ [الصف: ٦].

’’اور جب عیسیٰ بن مریم نے کہا: اے بنی اسرائیل! میں یقیناً تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور پہلے سے نازل شدہ تورات کی تصدیق کرتا ہوں اور ایک رسول کی بشارت دیتا ہوں جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا۔‘‘

(6) فصول في أدیان الهند[ترمیم]

طبع اول: دار البخاری، المدینۃ المنورۃ ۱۹۹۷م​ اس کتاب میں ہندوستان کے چار بڑے مذاہب ہندومت، بدھ مت، جین مت اور سکھ مذہب کا علمی وتحقیقی جائزہ لیا گیا ہے کہ یہ چارو مذاہب اپنے بعض بنیادی اختلافات کے باوجود اپنی موجودہ صورت میں بہت سی باتوں میں مشترک ہیں اور ان کی بنیادیں زیادہ تر دیومالائی عقائد وتصورات اور رسم ورواج پر کھڑی ہیں۔ یہ کتاب دراصل ان مقالات کا مجموعہ ہے جو ’’مجلۃ الجامعۃ الاسلامیۃ‘‘ مدینہ منورہ میں شائع ہوتے رہے اور پھر جب ڈاکٹر صاحب جامعہ اسلامیہ میں پروفیسر مقرر ہوئے اور دیگر مضامین کے علاوہ ’’أدیان العالم‘‘ کی تدریس کی بھی ذمہ داری آپ کو سونپی گئی تو آپ نے انہیں مقالات سے ’’ادیان‘‘ کے دروس تیار فرمائے اور پھر افادۂ عام کے لیے ان مقالات کو نئی ترتیب وتہذیب کے بعد کتابی شکل میں شائع کر دیا۔ اور اب یہ دونوں کتابیں جو ’’ادیان‘‘ سے متعلق ہیں، یعنی ’’یہودیت ونصرانیت‘‘ اور ’’ادیان الھند‘‘، مضمون کی یکسانی کی وجہ سے ایک جلد میں شائع کردی گئی ہیں، جو ۷۸۴ صفحات پر مشتمل ہے۔ اسے سعودی عرب کا مشہور طباعتی ادارہ مکتبۃ الرشد شائع کر رہا ہے اور اس کے اب تک سات ایڈیشن آچکے ہیں۔ یہ کتاب اس ادارے سے ہر سال شائع ہو رہی ہے، کیونکہ یہاں کی یونیورسٹیوں کے اساتذہ وطلبہ میں یہ بے حد مقبول ہے۔

(7) فتح الغفور في وضع الأیدي علی الصدور للعلامة محمد حیاة السندي (ت 1163 هـ)[ترمیم]

طبع اول: دار السنۃ، مصر ۱۴۰۹ھ طبع دوم: کلیۃ القرآن والحدیث، فیصل آباد ۱۴۱۸ھ طبع سوم: مکتبۃ الغرباء، المدینۃ المنورۃ ۱۴۱۹ھ​ یہ محمد حیات السندی رحمہ اللہ کی کتاب ہے، جو بہت مفید موضوع پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی تحقیق وتخریج سے اس کی اہمیت وافادیت میں مزید اضافہ ہو گیا۔

(8) ثلاثة مجالس من أمالي ابن مردویه (ت 410 هـ)[ترمیم]

طبع اول: دار علوم الحدیث، الإمارات العربیۃ المتحدۃ ۱۹۹۰م​ یہ کتاب حافظ ابوبکر احمد بن موسیٰ بن مردویہ کی تین مجالس کے املاِ حدیث پر مشتمل ہے، جس کی تحقیق وتخریج ڈاکٹر صاحب نے کی، تاکہ حدیث رسول کے طلبہ اس سے استفادہ کر سکیں۔ محقق نے کتاب کے شروع میں نہایت ہی قیمتی اور مفید مقدمہ بھی تحریر فرمایا، جس میں ابن مردویہ کا مفصل تذکرہ اور انہوں نے احادیث کی تدوین وترویج میں جو کارنامہ انجام دیا ہے اس کو اجاگر کیا اور مشہور کتب ِ امالی کا مفصل تذکرہ بھی کر دیا۔

(9) معجم مصطلحات الحدیث ولطائف الأسانید[ترمیم]

طبع اول: أضواء السلف، الریاض ۱۹۹۹م​ یہ کتاب حدیث، مصطلحِ حدیث، اسانید ِ حدیث سے متعلق تمام اصطلاحات اور اہم مصادرِ حدیث کے جامع تعارف پر مشتمل ہے۔ مؤلف نے قارئین کی آسانی کے لیے اس کو حروفِ تہجی پر مرتب فرمایا ہے۔ چونکہ آپ کے اسفار کے دوران علمِ حدیث اور جرح وتعدیل سے متعلق بکثرت سوالات کیے جاتے تھے جو حدیث کی بے شمار کتابوں میں منتشر ہیں، لہٰذا آپ نے اس کتاب کی تألیف فرمائی، تاکہ قارئین یہ تمام معلومات اور علمِ حدیث کی اصطلاحات ایک جگہ ایک کتاب میں دیکھ سکیں اور اب مزید ترمیم واضافے کے بعد اس کا نیا ایڈیشن زیرِ طبع ہے۔ اس کتاب کا اُردو ترجمہ بعض اضافوں کے ساتھ ڈاکٹر سہیل حسن نے اسلام آباد سے شائع کیا اور پھر اس کو ڈاکٹر عبدالرحمن الفریوائی نے دار الدعوۃ دہلی سے شائع کیا۔

(10) المنة الکبری شرح وتخریج السنن الصغری للحافظ البیهقي (ت 458 هـ)[ترمیم]

جلدیں: ۷ طبع اول: مکتبۃ الرشد ۲۰۰۱م طبع دوم: مکتبۃ الرشد ۲۰۰۵م​ امام بیہقی کی کتاب ’’السنن الصغری‘‘ جو ’’السنن الکبری‘‘ کی تلخیص ہے، ’’المنۃ الکبری‘‘ اسی تلخیص کی شرح وتخریج ہے۔ امام بیہقی اپنے وقت کے بہت بڑے محدث تھے اور امام شافعی کے مذہب کے مؤید وناصر تھے، انہوں نے اس کتاب میں امام شافعی کے مذہب کی صحیح حدیثوں کو جمع کیا تھا۔ لیکن محقق نے اس میں بقیہ تینوں مذاہب (حنفی، مالکی، حنبلی) کی دلیلوں کو جمع کرکے ہر حدیث پر صحت اور ضعف کا حکم بھی بیان فرما دیا اور پھر ہر باب میں راجح مسئلے کی نشان دہی بھی کردی۔ اس طرح یہ کتاب ’’فقہِ شافعی‘‘ سے نکل کر ’’فقہِ مقارن‘‘ کی کتاب بن گئی، تاکہ ہر مذہب کے لوگ اس سے استفادہ کر سکیں۔

(11) التمسک بالسنة في العقائد والأحکام[ترمیم]

طبع اول: مکتبۃ الغرباء، المدینۃ المنورۃ ۱۴۱۷ھ​ سنت کیا ہے؟ اسلام میں اس کا تشریعی مقام کیا ہے؟ سلف ِ صالحین کے یہاں سنت کا کیا مرتبہ ہے؟ محدثین وفقہاء کے نزدیک سنت کا کیا مفہوم ہے؟ سنت کے بارے میں مستشرقین کا نظریہ کیا ہے؟ اور ان کے استدلال کا رد کیسے کیا جا سکتا ہے؟ کیا سنت محض اعمال واحکام ہی میں قابلِ حجت ہے یا عقائد میں بھی؟ کیا سنت کے بغیر قرآن کو سمجھنا ممکن ہے؟ حکمرانوں کی اطاعت میں ضابطۂ سنت کیا ہے؟ مؤلف محترم نے اپنی اس کتاب میں مذکورہ سوالات کا مختصر مگر نہایت ہی مدلل جواب دیا ہے۔ اصل کتاب عربی زبان میں ہے، جس کا اُردو ترجمہ مؤلف کے ایک فاضل شاگرد ڈاکٹر ابوالحسن طاہر محمود نے انجام دیا، تاکہ اُردوداں طبقہ بھی اس اہم کتاب سے مستفید ہو سکے۔ یہ ترجمہ دو بار مکتبہ دار السلام ریاض سے شائع ہو چکا ہے اور ممبئی سے بھی چھپ چکا ہے۔

(12) تحفة المتقین في ما صح من الأذکار والرقی والطب عن سید المرسلین[ترمیم]

طبع اول: مکتبہ احمد بن حنبل، فیصل آباد ۲۰۱۵م طبع دوم: جامعہ دار السلام، عمرآباد ۲۰۱۶م​ ’’الجامع الکامل‘‘ جو بارہ ضخیم جلدوں میں شائع ہو چکی ہے، جس میں مؤلف محترم نے ساری صحیح حدیثوں کو فقہی ترتیب سے جمع کر دیا ہے۔ اُردو، انگریزی اور دوسری عام زبانوں میں ترجمے کے لیے اس کی تلخیص پانچ جلدوں میں تیار ہو چکی ہے۔ اسی تلخیص کا ایک باب جو ’’أدعیہ وأذکار‘‘ سے متعلق ہے، مستقل کتاب کی صورت میں دو بار شائع کیا گیا۔ یہ کتاب اصلاً عربی زبان میں ہے اور اس کا اُردو ترجمہ بھی آچکا ہے،جو مختار فاؤنڈیشن ممبئی سے شائع ہوچکا ہے۔ یہ ہر گھر کی ضرورت ہے، کیونکہ اس میں نہ صرف صحیح احادیث سے ثابت مسنون دعاؤں اور اذکار ووظائف کی طرف رہنمائی کی گئی ہے، بلکہ بہت ساری بیماریوں کا علاج طب ِ نبوی سے پیش کیا گیا ہے اور بعض باطل عقائد کی اصلاح کتاب وسنت کی روشنی میں کی گئی ہے۔

(13) الجامع الکامل في الحدیث الصحیح الشامل[ترمیم]

جلدیں: ۱۲ طبع اول: دار السلام، الریاض ۲۰۱۶م​ تاریخِ اسلام میں یہ وہ پہلی کتاب ہے جس میں رسول اللہ ﷺ کی تمام صحیح حدیثوں کو مختلف کتب ِ احادیث جیسے مؤطات، مصنفات، مسانید، جوامع، صحاح، سنن، معاجم، مستخرجات، أجزاء اور أمالی سے مؤلف نے جمع کیا ہے اور ہر حدیث کی تخریج کے بعد اس کے صحیح اور حسن کا درجہ بھی بیان فرما دیا ہے اور قارئین کی سہولت کے لیے اسے فقہی ابواب پر مرتب فرمایا ہے۔ یہ کتاب سولہ ہزار (۱۶۰۰۰) صحیح حدیثوں پر مشتمل ہے، جس میں عقائد، احکام، عبادات، معاملات، غزوات، سیرۃ النبی، فضائل ومناقب، آداب، تفسیر القرآن، زہد ورقاق، أدعیہ وأذکار، رقیہ شرعیہ، طب ِ نبوی، تعبیرِ رؤیا، لباس وزینت، فتن اور علاماتِ قیامت نیز جنت وجہنم سے متعلق حدیثیں شامل ہیں۔ اسلامی شریعت کے دو مآخذ ہیں، ایک کتابُ اللہ اور دوسرا رسول اللہ ﷺ کی سنت ِ مبارکہ۔ مؤلف محترم سے سفر وحضر میں بار بار سوال کیا جاتا تھا کہ دوسرا مأخذ کہاں ہے اور اس سے استفادے کی کیا شکل ہے؟ لہٰذا مؤلف نے اس عظیم الشان کام کا بیڑا اٹھایا اور اللہ تعالیٰ کی نصرت وتائید سے پندرہ سال کی طویل مدت میں شب وروز کی انتھک محنت ومشقت کے بعد یہ کام پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ ’’الجامع الکامل‘‘ میں کل ۶۷ کتابیں اور چھ ہزار (۶۰۰۰) ابواب اور سولہ ہزار (۱۶۰۰۰) صحیح حدیثیں ہیں اور ہر باب کے اخیر میں اُن ضعیف حدیثوں کی بھی نشان دہی کر دی گئی ہے جو عوام الناس میں معروف ومشہور ہیں، اِن کی مجموعی تعداد تین ہزار (۳۰۰۰) ہے، لیکن یہ ضعیف حدیثیں اصل ’’الجامع الکامل‘‘ کی شرط پر نہیں ہیں، بلکہ مؤلف نے قارئین کے مزید علم کے لیے اسے ذکر کیا ہے، اسی لیے مطبوعہ نسخے میں اِن ضعیف حدیثوں سے پہلے گول دائرہ (l) نہیں لگایا گیا ہے، جبکہ ہر صحیح حدیث سے پہلے یہ دائرہ موجود ہے۔ اور طبع دوم میں إن شاء اللہ تمام صحیح حدیثوں پر گول دائرے کی بجائے تسلسلی نمبرنگ کی جائے گی، لیکن ضعیف حدیثیں ان نمبروں سے خالی ہوں گی۔ مؤلف کے خیال کے مطابق طبع دوم میں ۹۹ فیصد صحیح احادیث آجائیں گی، سو فیصد کہنا اس لیے درست نہ ہوگا کہ صد فیصد صحیح تو صرف اللہ کی کتاب ہی ہے۔ اس کتاب کی تألیف پر بہت سارے علما، فضلاء اور اسکالرس نے خوشی کا اظہار کیا اور اس بات کو شدت سے محسوس کیا کہ یہ ایک اہم ضرورت تھی، گو تاخیر سے سہی مگر پوری ہو گئی اور بعض نے برجستہ اظہارِ خیال کیا کہ اب إن شاء اللہ اس کتاب کے بعد مسلمانوں کے بہت سارے اختلافات دور ہو جائیں گے۔ یہ کتاب بیس (۲۰) جلدوں میں تھی، لیکن ناشر نے فانٹ بدل کربارہ (۱۲) جلدوں میں شائع کیا ہے، جو الحمد للہ انتہائی قلیل مدت میں بازار سے ختم ہو گئی اور متعدد لوگوں نے شکایت کی کہ ابھی ہم خریدنے کا ارادہ کر ہی رہے تھے کہ کتاب بازار سے ختم ہو گئی۔ مؤلف محترم نے غیر عربی داں حلقوں کے لیے اس کی تلخیص پانچ جلدوں میں تیار کی ہے، جو آئندہ کسی وقت شائع ہوگی، لیکن فی الحال اس تلخیص کا اُردو اور انگریزی ترجمہ ہو رہا ہے۔

(14) الأدب العالي (زیرِ طبع)[ترمیم]

جامعہ دار السلام، عمرآباد​ یہ کتاب بھی ’’الجامع الکامل‘‘ کی تلخیص کا ایک باب ہے، جو آدابِ زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہے، جس کے مطالعے سے ہمیں صحیح اندازہ ہوتا ہے کہ اسلامی آداب کی تعلیماب کتنی اعلیٰ وارفع ہیں اور ایک مسلمان اگر اپنی زندگی میں ان آداب کا لحاظ رکھے تو وہ اسلام کا چلتا پھرتا نمونہ بن جائے گا۔ امید ہے کہ یہ کتاب جلد منظرِ عام پر آجائے گی۔ یہ کتاب عربی زبان میں ہے اور امکان ہے کہ عنقریب اس کا اُردو ترجمہ بھی آجائے گا۔

· ہندی تصانیف:[ترمیم]

(1) قرآن کی شیتل چھایا[ترمیم]

طبع اول: دہلی ۱۹۷۷م​ یہ کتاب ہندی زبان میں ہے۔ اس میں پڑھے لکھے ہندوؤں کے لیے ان کے مخصوص مزاج کی مناسبت سے اسلام کی دعوت پیش کی گئی ہے۔ یہ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے، پہلے حصے میں قرآن کی بنیادی دعوت جیسے عقیدہ، عبادات، اخلاقِ حسنہ وغیرہ کا ذکر ہے اور دوسرے حصے میں پہلی صدی سے لے کر ماضی قریب تک کے ان اصحابِ عزیمت بزرگوں کا ذکر ہے جنہوں نے اسلام کی راہ میں جانی ومالی قربانیوں کی تابناک مثالیں قائم کیں۔ ۷۰-۱۹۶۹م میں جب مؤلف جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں زیرِ تعلیم تھے، اسی طالب علمی کے زمانے میں اس کتاب کو مقالات کی شکل میں تحریر فرمایا اور ’’کانتی‘‘ دہلی میں یہ مقالے شائع ہوتے رہے۔ انہیں مقالوں کو ایک جگہ جمع کرکے کتابی شکل میں دہلی سے ۱۹۷۷م میں شائع کیا گیا۔ اس کے بعد سے اب تک اس کے دسیوں ایڈیشن مختلف جگہوں سے شائع ہو چکے ہیں، جیسے مدھر سندیش سنگم دہلی، قرآن اکادمی ڈمریاگنج سدھارتھ نگر، مکتبہ دار السلام ریاض، جمعیۃ التوحید بمبئی وغیرہ۔ یہ کتاب غیر مسلم حضرات میں کافی مقبول ہوئی۔ سنا ہے کہ اس کا ملیالم اور تمل زبان میں ترجمہ شائع ہو گیا ہے۔

(2) قرآن مجید کی انسائیکلوپیڈیا[ترمیم]

طبع اول: دارالسلام، الریاض ۲۰۱۰م طبع دوم: جمعیت اہل حدیث، دہلی ۲۰۱۰م طبع سوم: دار الہدی، ممبئی ۲۰۱۱م طبع چہارم: اسلامک دعوہ سنٹر، دہلی ۲۰۱۲م طبع پنجم: توحید ایجوکیشنل ٹرسٹ، بہار ۲۰۱۲م طبع ششم: صوبائی جمعیت اہل حدیث، ممبئی ۲۰۱۳م طبع ہفتم: الجامعۃ السلفیۃ، بنارس ۲۰۱۶م​ یہ کتاب ہندی زبان میں ہے۔ بر صغیر ہند میں مسلمانوں نے آٹھ صدیوں تک حکومت کی، لیکن انہوں نے اپنے ہم وطن غیر مسلمین کے لیے کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے وہ ’’قرآن مجید‘‘ جو ساری دنیا کے لیے رشد وہدایت ہے، کی طرف راغب ہوتے۔ اسی غرض سے محترم ڈاکٹر صاحب نے اس ’’انسائیکلوپیڈیا‘‘ کی تصنیف فرمائی، جو قرآن مجید کے تقریباً چھ سو (۶۰۰) موضوعات پر مشتمل ہے۔ یہ تاریخِ ہند میں اپنی نوعیت کی سب سے پہلی کتاب ہے جو اس موضوع پر لکھی گئی اور لوگوں میں کافی مقبول ہوئی اور نہایت ہی قلیل مدت میں اس کے سات ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور آٹھواں ایڈیشن مؤلف کی نظرِ ثانی کے بعد جلد ہی طباعت کے اعلیٰ معیار سے مزین ہو کر منظرِ عام پر آنے والا ہے۔ ہندی زبان میں قرآن مجید کے تقریباً دس ترجمے شائع ہو چکے ہیں، لیکن ایک غیر مسلم کے لیے صرف ترجمے کے ذریعے قرآن کی تعلیمات کو سمجھنا مشکل ہے، مگر اس ’’انسائیکلوپیڈیا‘‘ کے ذریعے قرآن کے ہر موضوع کو سمجھنا آسان ہو گیا ہے۔ بعض مسلم دوستوں نے مطالعے کے بعد یہ اصرار کیا کہ اس کا اُردو ترجمہ بھی ہونا چاہیے، کیونکہ بہت سے مسلمان بھی اِن موضوعات سے ناواقف ہیں، ان کی خواہش کے مطابق الحمد للہ اُردو ترجمہ ڈاکٹر عبدالرحمن الفریوائی کے زیرِ نگرانی پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ محترم ڈاکٹر صاحب نے بہت جانفشانی کے ساتھ اس کو اُردوداں طبقے کے لیے تیار کیا۔ امید ہے کہ اس ’’انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے عوام وخواص سبھی لوگ فائدہ اٹھائیں گے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اس کا انگریزی ترجمہ بھی مکمل ہو گیا ہے، جو ڈاکٹر صہیب حسن (لندن) کی نگرانی میں مراجعت کے مرحلے سے گزر رہا ہے، جلدازجلد اس کو لندن اور امریکا سے شائع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، کیونکہ ڈاکٹر صہیب حسن صاحب کے خیال میں یہ اپنے موضوع کے اعتبار سے منفرد کتاب ہے جو کسی صحیح العقیدہ مسلمان کے قلم سے لکھی گئی ہے، اس کے بر خلاف یورپ اور امریکا میں ’’قرآن کی انسائیکلوپیڈیا‘‘ کے موضوع پر جو کتابیں شائع ہوئی ہیں اُن میں جان بوجھ کر اسلامی تعلیمات کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے، کیونکہ ان کے لکھنے والے زیادہ تر یہودی، مسیحی، قادیانی وغیرہ ہیں۔