گلاب سنگھ ڈوگرا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
گلاب سنگھ ڈوگرا
Maharaja Gulab Singh of Jammu and Kashmir.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 18 اکتوبر 1792  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
جموں  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 30 جون 1857 (65 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
جموں  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ بادشاہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

گلاب سنگھ (1792-1857) ریاست جموں اور کشمیر کا پہلا مہاراجا تھا۔ انگریزوں اور سکھوں کی پہلی لڑائی میں سکھوں کی شکست کے بعد وہ انگریزوں سے مل گیا۔ انگریزوں نے جموں اور کشمیر 75 لاکھ روپے کے عوض اسے بیچ دیا۔ جب مہاراجہ رنجیت سنگھ نے جموں پر حملہ کیا تو گلاب سنگھ نے اس کا مقابلہ کیا لیکن شکست کھانے پ سکھ فوج کے ساتھ مل گیا۔ سکھ افواج نے جب ملتان اور پشاور پر حملہ کیا تو یہ ان کے ساتھ تھا۔ پنجاب پر انگریزوں کے قبضے کے بعد وہ کشمیر کا مہاراجا بن گیا۔ گلاب سنگھ کے مرنے کے بعد اس کا بیٹا رنبیر سنگھ راجا بنا۔

گلاب سنگھ (1792-1857): لاہور کی سکھ ریاست کا ایک بارسوخ راج درباری ، جسے جموں کا راجا مقرر کیا گیا تھا۔یہ میاں کشورا سنگھ کا بڑا بیٹا تھا جو 17 اکتوبر 1729 کو پیدا ہوا۔ گلاب سنگھ 1809 میں مہاراجا رنجیت سنگھ کی فوج میں تین روپے کے مشاہرے پر رسالے میں ایک فوجی کی حیثیت سے بھرتی ہوا تھا۔جلد ہی اس نے مہاراجا کی نظروں میں اپنا مقام بنا لیا اور اسے 12000 روپے کی جاگیر کے ساتھ 90 گھوڑوں کی کمان دی گئی۔

رنجیت سنگھ کے دور میں[ترمیم]

اس خاندان کی قسمت اس وقت اچانک سے چمک گئی جب رنجیت سنگھ نے اس کے باپ کشورا سنگھ کو جموں کا منتظم مقرر کیا۔ گلاب سنگھ کو اپنے باپ کے ساتھ رہ کر انتظامی امور کو دیکھنے کا پروانہ ملا۔ 1882 میں کشورا سنگھ کے مرنے کے بعد مہاراجا رنجیت سنگ نے یہ عہدہ گلاب سنگھ کو عطا کیا اور جموں کے قریب اکھنور میں 16 جون 1822 کو اس کی رسم قلمدان برپا کی گئی۔گلاب سنگھ نے خود کو ایک کامیاب منتظم ثابت کیا اور ہمسایہ راجپوت ریاستوں کے ساتھ اپنا اختیار بڑھا لیا۔ وہ ویک بہترین فوجی تھا اور اس نے پنجاب کے پہاڑوں اور کشمیر کے لالہ زاروں کی ہر ہر مہم میں اپنے مربّی رنجیت سنگھ کی خدمت کی۔ لاہور کے سرکاری روزنامچہ نگار ، سوہن لال سوری نے اپنی دستاویزات میں مہاراجا رنجیت سنگھ کی جانب سے گلاب سنگھ کی تعریف کرنے اور اسے تحفے اور مراعات دینے کا ریکارڈ درج کیا ہے۔

معاشی ترقی[ترمیم]

پہاڑی علاقوں کے علاوہ گلاب سنگھ نے چناب اور جہلم دریاؤں کے مابین علاقے 45000 روپے کے ٹھیکے پر لے لیے۔ اپنی جاگیروں کے علاوہ، جن کی کل رقم 737237 بنتی تھی، اس اکیلے کا نمک کی کانوں پر مکمل اختیار تھا جو اس نے آٹھ لاکھ روپے کے پٹے پر لیا ہوا تھا۔ مالی طور وہ سکھ راج کا سب سے بڑا جاگیر دار اور دولت مند تھا۔ اگرچہ یہ مہاراجا کی زندگی میں اچھا اور حمایت بنا رہا، پھر بھی اپنے خاندانی معاملات کی ترقی کے لیے اپنے بھائی راجا دھیان سنگھ پر سب سے زیادہ اعتماد کرتا تھا۔ گلاب سنگھ کے سپرد کیے ہوئے 22 اضلاع کے مالیے کی رقم خود اس نے اکٹھا کی۔ سکھوں کو ٹیکس ادا کرنے والی کئی پہاڑی ریاستیں اس نے ہڑپ لیں۔ 1836 سے اس کی نظر مسلسل کشمیر پر تھی۔ چینی قبائل کے خلاف اس کے منصوبوں کی انگریز نے حمایت نہیں کی تھی، لیکن پھر بھی وہ اسے سکھوں کے برابر طاقت بننے کے لیے شہ دیتے رہے۔ 1841 میں گلاب سنگھ ، کھڑک سنگھ کی بیوہ ، چند کور کی جاگیروں کا نگران بن گیا اور مہارانی کے کہنے پر قیمتی اشیا جموں لے گیا۔

تخت لاہور کے خلاف سازشیں[ترمیم]

لاہور سرکار کی خلاف اس کی سازشوں نے خالصہ فوج کو اس قدر غضبناک کر دیا کہ اس کی سرکوبی کے لیے 35000 سپاہیوں کی فوج جموں بھیجی گئی۔ اس کو قیدی بنا کے لاہور لایا گیا اور اس وقت تک نہیں چھوڑا گیا جب تک اس نے اڑسٹھ لاکھ روپے جرمانہ بھرنے اور آئندہ کے لیے اچھے طرز عمل کا اقرار نہ کر لیا۔

انگریزوں سے گٹھ جوڑ[ترمیم]

گلاب سنگھ نے انگریزوں کے ساتھ اپنا تعلق بنائے رکھا اور پہلی سکھ انگریز لڑائی (1845-1846) کے وقت لدھیانہ میں بریگیڈیئر وہ کر کو خفیہ فوجی معلومات دیتا رہا۔ انگریزوں نے اس لڑائی میں گلاب سنگھ کی جانب سے کی گئی خفیہ مدد کے صلے میں اسے انعامات دیے۔ اور 16 مارچ 1846 کو ہونے والے معاہدہ امرتسر کے تحت اسے اور اس کے خاندان کو پہاڑی علاقے اور وہاں بہنے والے دریائے سندھ جنوبی علاقے مزید یہ کی دریائے راوی کے مغربی علاقوں پر عملداری دے دی۔ یہ علاقے سکھ راجا کا حصہ ہونے کی وجہ سے لڑائی کے اختتام پر 9 مارچ 1846 کو معاہدہ لاہور کے تحت انگریزوں کے سپرد کر دیے گئے۔ اسی طرح اس معاہدے کی دیگر شرائط کے مطابق وہ انگریزوں کا جاگیردار بن گیا اور اُن کی باجگزاری کو اس نے قبول کر لیا۔[1][2][3][4][5][6]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. موہن لال سوری، امدات-التواریخ، لاہور، 1885-89
  2. گرفن، لیپل، رنجیت سنگھ، دلی، 1957
  3. لطیفَ، سید محمد، ہسٹری آف د پنجاب، دلی، 1964
  4. خشونت سنگھ، رنجیت سنگھ : مہاراج آف د پنجاب، ممبئی، 1962
  5. حسرت، ب.ج.، لائیف اینڈ ٹائیمس آف رنجیت سنگھ، نابھہ، 1977
  6. چرک، سکھدیو سنگھ، (سمپا.)، گلابناما آف دیوان کرپا رام، دلی، 1977