کھڑک سنگھ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مہاراجہ کھڑک سنگھ
مہاراجہ کھڑک سنگھ
مہاراجہ کھڑک سنگھ

دور حکومت 27 جون 1839ء8 اکتوبر 1839ء
(مدتِ حکومت: 3 ماہ 10 دن)
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 22 فروری 1801ء
تاریخ وفات 5 نومبر 1840ء (عمر: 39 سال)
مذہب سکھ مت
زوجہ چاند کور کنہیا
والد مہاراجہ رنجیت سنگھ
والدہ مہارانی داتار کور
نسل نو نہال سنگھ
دیگر معلومات
پیشہ مہاراجہ سکھ سلطنت

مہاراجہ کھڑک سنگھ (پنجابی زبان: ਖੜਕ ਸਿੰਘ) (پیدائش: 22 فروری 1801ء5 نومبر 1840ء) سکھ سلطنت کا دوسرا حکمران تھا۔ وہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کا بیٹا تھا۔ جون 1839ء کو تخت نشیں ہوا مگر اُس کے بیٹے نو نہال سنگھ نے اُسے معزول کردیا اور نظر بند کردیا۔ نومبر 1840ء کو قید میں ہی وفات پائی۔

خاندانی پس منظر[ترمیم]

مہاراجہ کھڑک سنگھ 22 فروری 1801ء کو پیدا ہوا۔ باپ کا نام مہاراجہ رنجیت سنگھ اور ماں کا نام مہارانی داتر کور (بعض روایات میں دراج کور) تھا۔ کھڑک سنگھ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے سب سے بڑا بیٹا تھا۔

دور حکومت[ترمیم]

مہارجہ رنجیت سنگھ نے 1812ء میں جموں کا علا قہ اس کی جاگیر قرار دیا اور 20 جون 1839ء کو اسے ولی عہد نامزد کر دیا۔ 30 جون 1839ء مہاراجہ رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد اس کا سب سے بڑا بیٹا کھڑک سنگھ حکمران بنا، مگر اس میں اپنے باپ جیسی کوئی صلاحیت نہیں تھی۔ وہ افیون کا رسیا تھا۔ دن کا بڑا حصہ وہ افیون کے نشے میں گزارتا تھا۔ اس کے باپ نے مرتے وقت اسے وصیت کی تھی کہ وزارت عظمیٰ دھیان سنگھ ڈوگرہ کو دی جائے گی، مگر کھڑک سنگھ نے اپنے ایک قریبی دوست چیت سنگھ کو اپنا مقرب خاص بنا لیا اور ڈوگرہ سرداروں دھیان سنگھ، سوچیت سنگھ اور گلاب سنگھ کو نظرانداز کر دیا، جس سے خالصہ دربار میں ڈوگرہ برادری کی قدر و قیمت کم ہوگئی۔ قلعہ لاہور میں ان کی آمدو رفت محدود کردی گئی۔ ڈوگرہ برادران جوڑ توڑ کے ماہر تھے خالصہ فوج ان کے ہاتھ میں تھی۔ انہوں نے سازشوں کا جال بچھا دیا۔ لاہور میں یہ افواہ گردش کرنے لگی کہ مہاراجہ کھڑک سنگھ نے انگریزوں سے معاہدہ کیاہے، جس کے تحت انگریز خالصہ علاقہ جات سے مالیہ وآبیانہ اور دیگر واجبات وصول کریں گے، جس کے عوض انگریزوں کو ایک روپے میں سے 6آنے معاوضہ دیاجائے گا۔ یہ صورت حال سکھ امراء کے لئے خطرے کی گھنٹی تھی کیونکہ وہ ان ریاستوں کا انجام دیکھ چکے تھے جو انگریزوں سے معاہدوں کے باعث ان کی غلامی میں چلے گئے تھے، چنانچہ انہوں نے اس فیصلہ کو ماننے سے انکار کر دیا۔ چیت سنگھ مقرب خاص نے اس خبر کو جھوٹ قرار دیا اور کہا کہ یہ افواہ ڈوگروں نے اڑائی ہے اور انہیں اس کی سزا ملے گی۔

معزولی[ترمیم]

گلاب سنگھ ڈوگرہ اور دیگر سرداروں نے کھڑک سنگھ کی بیوی چاند کور اور اس کے بیٹے نونہال سنگھ کو باور کروایا کہ سکھ حکومت کی بقاء کے لئے لازم ہے کہ کھڑک سنگھ کو معزول کیا جائے اور نونہال سنگھ کو راجہ کی گدی پر بٹھایاجائے۔ چاند کور اور نونہال سنگھ نے اس تجویز کو مان لیا، مگر انہوں نے کھڑک سنگھ کی زندگی کی شرط عائد کر دی۔ فریقین میں گفت وشیند کے بعد 5 اکتوبر 1839ء کی رات دھیان سنگھ، اس کے بھائی سوچیت سنگھ اور گلاب سنگھ، اس کا بیٹا ہیرا سنگھ، لال سنگھ اور دیگر رفقاء کے ہمراہ کھڑک سنگھ کی خواب گاہ (متصل شیش محل) میں داخل ہوئے۔ کھڑک سنگھ نے مزاحمت کی مگر مہارانی چاندکور اور نونہال سنگھ نے کنیزوں کے ساتھ مل کر اسے بے بس کردیا اور اسے گرفتار کر لیا گیا، جبکہ اس کا مقرب خاص چیت سنگھ اپنے اہل وعیال اور دوستوں کے ہمراہ موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

موت[ترمیم]

کھڑک سنگھ معزول ہونے کے بعد 10ماہ تک زندہ رہا۔ اس کی حویلی (موجودہ نسبت روڈ لاہور) میں اور ایک روایت کے مطابق اندرون لاہور ایک حویلی میں نظربند رکھا گیا۔ وہاں جوالہ سنگھ نام کا ایک حکیم مقرر کیا گیا، جو دھیان سنگھ کا ایک خاص آدمی تھا۔ اس نے معزول مہاراجہ کو زہر خوانی کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارنے کی کوشش کی، جس کے نتیجہ میں مہاراجہ کھڑک سنگھ پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہو کر 5 نومبر 1839ء کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

مہاراجہ کی وفات کی خبر کا باقاعدہ اعلان قلعہ لاہور میں توپیں چلا کر کیا گیا۔ مہاراجہ کھڑک سنگھ کی چتا میں دو بیواؤں اور سات کنیزوں نے ستی ہونا قبول کیا۔ جب یہ عورتیں چتا میں بٹھائی گئیں تو وزیراعظم دھیان سنگھ نے ان سے کہا کہ نوجوان راجہ (نونہال سنگھ) کے لئے خیروبرکت کی دعائیں کریں، مگر وہ چپ رہیں۔

پیشرو 
رنجیت سنگھ
مہاراجہ سکھ سلطنت
27 جون 1839ء8 اکتوبر 1839ء
جانشین 
نو نہال سنگھ

حوالہ جات[ترمیم]