ہندو قانون تبنیت و پرورش

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ہندو قانون تبنیت و پرورش
Emblem of India.svg
نفاذ بذریعہ بھارتی پارلیمان
صورت حال: نافذ

ہندو قانون تبنیت و پرورش 1956ء بھارت کی پارلیمان کی جانب سے منظور شدہ ایک قانون ہے۔ یہ 1956ء میں ہندو کوڈ بل کے تحت منظور کیا گیا تھا۔ اسی دوران میں تین اہم قوانین بنے تھے: ہندو قانون وراثت (1956ء)، ہندو قانون کم سنی و سرپرستی (1956ء) اور ہندو قانون شادی 1955ء ۔

مقصد[ترمیم]

ہندو گود لینے اور تکمیل ضروریات قانون خصوصًا کسی ہندو کی جانب سے بچوں کو گود لینے اور اِس شخص کے قانونی فرائض جن میں مختلف ارکان خاندان کی کفالت جن میں زوجہ یا ازواج، والدین اور سسرالی اعزاء شامل ہیں، مذکور ہے۔

گود لیے گئے بچے کے لیے اردو میں لفظ مُتَبَنّٰی ہے۔

تاریخ اور مذہبی روابط[ترمیم]

ہندو دھرم میں لڑکے کی اہمیت[ترمیم]

ہر ہندو کے لیے لڑکے کا ہونا ضروری ہے اور لڑکا پیدا کر کے ایک ہندو دنیا میں تین واجبات میں سے ایک کی تکمیل کرتا ہے۔ ہندو دھرم میں مانا گیا ہے کہ لڑکا باپ کو جہنم سے نجات دلاتا ہے (اسی وجہ اسے پُوت کہا گیا ہے) اور فرزند کو عرف عام میں پُتْر کہا گیا ہے۔[1]

ہندوؤں نے ہمیشہ ہی خواہش کی ہے کہ فطری طور پر فرزند پیدا ہو (ایک 'اَوْراسا') تاکہ روحانی فوائد حاصل ہوں اور خاندان آگے بڑھے۔ تاہم ثانوی لڑکوں کو ویدی دور سے آج تک تسلیم کیا گیا ہے۔

کچھ ناجائز لڑکے بھی حصولِ فرزند کے نظام کا حصہ بن گئے اور جو رہ گئے، انہیں کبھی بھی اَن دیکھا نہیں کیا گیا۔ یہ تسلیم کیا گیا کہ جو کوئی، راست یا بالواسطہ کسی بچے کی ولادت کا سبب بنے وہ اس کی دیکھ ریکھ کا ضامن ہوگا۔ ہندو سادھوؤں کے مطابق لڑکوں کی تعداد بارہ یا تیرہ ہونا چاہیے۔

منو کے مطابق، فرزندان دو زمرے میں آتے ہیں۔ زمرۂ اول کے فرزند زشتے دار اور وارث ہیں جبکہ زمرۂ دوم میں رشتے دار ہیں۔ انگریزی دورِ حکومت تک زیادہ فرزند جو اوپر کے زمرے میں تھے، معدوم ہوچکے تھے اور صرف فطری طور پر مولود اور متبنٰی (لے پالک) رہ گئے تھے۔

نفاذ[ترمیم]

یہ قانون نافذ ہوگا:

-ہر وہ شخص جو بدھ مت کا پیروکار، جین یا مذہبًا سکھ ہو۔

-ہر وہ شخص جو ان علاقوں میں رہتا ہو جہاں یہ قانون نافذ ہوتا ہے اور وہ مسلمان، مسیحی، پارسی یا یہودی نہ ہو، جائز اور ناجائز بچہ جس کی پرورش نکتہ اولٰی میں مذکور مذاہب کے طرز پر کی گئی یا جس نے ان مذاہب میں سے کسی ایک کو قبول کیا ہو۔

یہ قانون ان گود لینے کے معاملوں کا احاطہ نہیں کرتا جو اس کے نفاذ سے پہلے رونما ہوئے۔ تاہم یہ ہر اس شادی پر نافذ ہو گا جو اس قانون سے پہلے یا بعد میں رونما ہوئی ہو۔ اس کے علاوہ اگر بیوی ہندو نہ ہو تو شوہر جدید ہندو قانون کے تحت اس کی کفالت کا ذمے دار نہیں ہے۔[2]

گود لینا[ترمیم]

کون گود لے سکتا ہے[ترمیم]

اس قانون کے تحت صرف وہی ہندو کون گود لے سکتے ہیں جو کچھ معیاروں کو پورا کرتے ہوں۔ اس میں پہلی شرط یہ ہے کہ گود لینے والا قانونی حق رکھے—جو اس قانون کی رو سے یہ ہے کہ وہ ہندو ہو۔ دوسری بات یہ ہے کہ گود لینے والے متبنٰی کو پرورش کرنے کے موقف میں ہو۔ تیسری بات یہ ہے کہ بچہ بھی گود لیے جاسکنے کے موقف میں ہو۔ آخر میں یہ بھی ہے کہ گود لینے کی تمام ضروری شرائط کی تکمیل ہے۔[3]

آدمی اپنی زوجہ یا ازواج کی مرضی سے گود لے سکتا ہے۔ تاہم اگر زوجہ یا ازواج دماغی فتور کا شکار ہوں، گزر چکی ہیں، دنیا سے سنیاس لے چکی ہوں یا ہندو دھرم سے خارج ہوچکی ہوں، تو مرضی کا حصول ضروری نہیں ہے۔ غیر شادی شدہ مرد گود لے سکتا ہے اگر وہ کم سن نہ ہو۔ تاہم، اگر کوئی آدمی ایک لڑکی کو گود لینا چاہے تو وہ کم از کم اکیس سال یا اس سے بڑی عمر کا ہونا چاہیے۔[4]

صرف غیر شادی شدہ ہندو خواتین ہی قانونًا کسی بچے کو گود لے سکتی ہیں۔ شادی شدہ عورت صرف اپنے شوہر کو اپنی مرضی دے سکتی ہے۔ شادی شدہ عورت جس کا شوہر کسی بچے کو گود لے وہ اس بچے کی ماں قرار پاتی ہے۔[4] اگر کوئی بچہ گود لیا گیا اور اس گھر میں ایک سے زائد بیویاں ہوں، تو سب سے مقدم بیوی کو گود لیے گئے بچے کی قانونی ماں کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔[3]

کسے گود لیا جا سکتا ہے؟[ترمیم]

مُتَبَنّٰی لڑکا یا لڑکی دونوں ہو سکتے ہیں۔ مُتَبَنّٰی ہندو زمرے میں آنا چاہیے۔ مُتَبَنّیہ غیر شادی شدہ ہونا چاہیے؛ تاہم اگر کوئی مخصوص رسم ورواج فریقین پر ایسا عائد ہو کہ متبنیہ بیاہی ہو، تو ایضًا بھی قانونًا درست ہے۔ مُتَبَنّٰی سولہ یا اس کے نہیں ہو سکتی، تاوقتیکہ رسم ورواج فریقین پر ایسی صورت حال نہ ڈالیں۔ گود اس وقت لیا جا سکتا ہے جب اسی جنس کا بچہ گود لیے جانے کے گھر میں نہ ہو۔ بالخصوص اگر لڑکے کو گود لیا جا رہا ہو تو پالنے والے ماں باپ کے گھر میں کوئی جائز یا گود لیا گیا لڑکا بہ قید حیات نہیں ہونا چاہیے۔[4]

مُتَبَنّٰی کا قانونی پہلو[ترمیم]

گود لیے جانے کی تاریخ سے بچہ قانونی سرپرست کو نوتسلیم شدہ والدین مان کر ان کے زیر سایہ ہے اور اس وجہ سے وہ خاندانی وابستگی کا ہر فائدہ ملنا چاہیے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ جس خاندان سے اسے گود لیا گیا ہے، وہاں کے قانونی فوائد جیسے کہ جائداد، وراثت، وغیرہ وہ بالکل کٹ چکا ہے۔[4]

دیکھ ریکھ[ترمیم]

بیوی کی دیکھ ریکھ[ترمیم]

ایک ہندو بیوی کے شوہر پر لازم ہے وہ تاحیات اس کا خیال رکھے۔ قطع نظر یہ کہ شادی اس قانون سے پہلے ہوئی ہو یا بعد، یہ قانون نافذ رہے گا۔ استثنائی حالات یہ ہو سکتے ہیں کہ بیوی ہندومت ترک کر کے کوئی اور مذہب قبول کرے یا زنا کا ارتکاب کرے۔[2]

بیوی کو اجازت ہے کہ وہ شوہر سے الگ رہے اور پھر بھی اس کے اخراجات کی ادائیگی ہو۔ اس علیحدگی کو کئی وجوہات کی بنا پر جواز فراہم کیا گیا ہے، جن میں شوہر کا کسی دوسری بیوی کے ساتھ رہنا یا شوہر کا ہندومت کی بجائے دوسرے مذہب کو اختیار کرنا، بیوی سے ظالمانہ انداز میں پیش آنا یا جذام کا متشدد معاملہ۔[2]

اگر بیوی اپنے شوہر کے گزر جانے کی وجہ سے بیوہ بن جائے، تب خسر پر لازم ہے کہ اس کا خیال رکھے۔ یہ قانونی فریضہ اسی وقت نافذ العمل ہوگا جب بیوہ کے پاس گزربسر کا کوئی ذریعہ نہ ہو۔ اگر اس کے پاس زمین یا آمدنی کے دیگر ذرائع ہو اور وہ خود کی دیکھ ریکھ کر سکے، تب خسر پر اس عورت کی ذمے داری نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، اگر بیوہ کسی اور سے شادی کر لے تو خسر اس قانون کی گرفت سے بالکل ہی آزاد متصور ہوگا۔[2]

بچے یا بوڑھے ماں باپ کی دیکھ ریکھ[ترمیم]

اس قانون کے تحت، ایک بچے کو اپنے والدین سے دیکھ ریکھ کی طمانیت دی گئی ہے تاوقتیکہ وہ کم سنی سے باہر نہ آئے۔ یہ والدین کی جانب سے جائز و ناجائز دونوں بچوں کے بارے میں ہے جن کا دعوٰی والدین میں سے کم سے کم کوئی ایک کرے۔

والدین اور غیر خودکفیل لڑکیوں کا خیال اس وقت تک رکھا جانا چاہیے جب تک وہ خود کی دیکھ ریکھ کر نہ سکے۔[2]

دیکھ ریکھ کی رقمی امداد[ترمیم]

دیکھ ریکھ کی رقمی امداد کا فیصلہ عدالتوں کا اختیار ہے۔ بہ طور خاص جن عوامل کو فیصلہ سازی میں غور کیا جاتا ہے ان میں فریقین کا مقام یا رتبہ، دیکھ ریکھ میں شامل لوگوں کی تعداد، دعوے داروں کے واجبی خواہشات، اگر دعوے دار علاحدہ رہ رہا ہو اور رہنے کے لیے منصفانہ جواز بھی رکھتا ہو اور دعوے داروں کی جائداد اور آمدنی۔ اگر متوفی قرض میں مبتلا تھا، تب اس کی ادائیگی کسی بھی دیکھ ریکھ کی رقمی امداد کی فراہمی یا اس پر غور کرنے سے پہلے ضروری ہے۔[2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]