رجب طیب اردوغان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
رجب طیب اردوغان

Recep Tayyip Erdoğan



12ویں صدر ترکی
نومنتخب
Taking office
28 اگست 2014
جانشین عبداللہ گل

برقرار
برسر منصب 
14 مارچ 2003
صدر Ahmet Necdet Sezer
عبداللہ گل
نائب عبداللہ گل
Cemil Çiçek
Beşir Atalay
پیشرو عبداللہ گل

برقرار
برسر منصب 
14 اگست 2001
پیشرو قائم مقام

در منصب
27 مارچ 1994 – 6 نومبر1998
پیشرو Nurettin Sözen
جانشین Ali Müfit Gürtuna

پیدائش 26 فروری 1954 (1954-02-26) ‏(60)
استنبول, ترکی
سیاسی جماعت National Salvation Party
(1981کے بعد )
Welfare Party (1983–1998)
Virtue Party (1998–2001)
Justice and Development Party (2001–تاحال)
ازواج Emine Gülbaran (1978–تاحال)
بچے احمد براق
نجم الدين بلال
اسراء
سومیہ
مادر علمی جامعہ مارماریا
مذہب اسلام
دستخط
موقع جال Government website
Personal website


رجب طیب اردوغان (ترکی: Recep Tayyip Erdoğan) (پیدائش: 26 فروری 1954ء ) ایک ترک سیاست دان، استنبول کے سابق ناظم، جمہوریہ ترکی کے موجودہ وزیر اعظم اور بارہویں منتخب صدر ہیں۔ رجب 14 مارچ 2003ء سے وزارت عظمی پر فائز اور عدالت و ترقی پارٹی (AKP) کے سربراہ ہیں جو ترک پارلیمان میں اکثریت رکھتی ہے۔

اکتوبر 2009ء میں دورۂ پاکستان کے موقع پر رجب اردوغان کو پاکستان کا اعلی ترین شہری اعزاز نشان پاکستان سے نوازا گیا۔

علاوہ ازیں جامعہ سینٹ جانز، گرنے امریکن جامعہ، جامعہ سرائیوو، جامعہ فاتح، جامعہ مال تپہ، جامعہ استنبول اور جامعہ حلب کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند سے بھی نوازا گیا ہے۔ فروری 2004ء میں جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول اور فروری 2009ء میں ایران کے دارالحکومت تہران نے رجب اردوغان کو اعزازی شہریت سے بھی نوازا۔

سن 2008ء میں غزہ پٹی پر اسرائیل کے حملے کے بعد رجب طیب اردوغان کے زیرقیادت ترک حکومت نے اپنے قدیم حلیف اسرائیل کے خلاف سخت رد عمل کا اظہار کیا، اور اس پر سخت احتجاج کیا۔ ترکی کا احتجاج یہیں نہیں رکا بلکہ اس حملے کے فوری بعد ڈاؤس عالمی اقتصادی فورم میں ترک رجب طیب اردوغان کی جانب سے اسرائیلی صدر شمعون پیریز کے ساتھ دوٹوک اور برملا اسرائیلی جرائم کی تفصیلات بیان کرنے کے بعد ڈاؤس فورم کے اجلاس کے کنویئر کیک جانب سے انہیں وقت نہ دینے پر رجب طیب اردوغان نے فورم کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور فوری طور پر وہاں سے لوٹ گئے ۔ اس واقعہ نے انہیں عرب اور عالم اسلام میں ہیرو بنادیا اور ترکی پہنچنے پر فرزندان ترکی نے اپنے ہیرو سرپرست کا نہایت شاندار استقبال کیا۔

اس کے بعد 31 مئی بروز پیر 2010 ء کو محصور غزہ پٹی کے لئے امدادی سامان لے کر جانے والے آزادی بیڑے پر اسرائیل کے حملے اور حملے میں 9 ترک شہریوں کی ہلاکت کے بعد پھر ایک بار اردوگان عالم عرب میں ہیرو بن کر ابھر اور عوام سے لے کر حکومتوں اور ذرائع ابلاغ نے ترکی اور ترک رہنما رجب طیب اردوغان کے فلسطینی مسئلے خاص طورپر غزہ پٹی کے حصار کے خاتمے کے لئے ٹھوس موقف کو سراہا اور متعدد عرب صحافیوں نے انہیں قائد منتظر قرار دیا۔