موبائل فون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(محمول سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

موبائل فون (mobile) کو سیل فون (cell phone) بھی کہا جاتا ہے اور یہ جدید طرزیات کی مدد سے تیار کی جانے والی ایک ایسی برقی اختراع ([electronic device) ہوتی ہے کہ جسکے ذریعے ٹیلی فون (telephone) کا استعمال آزادانہ اور دوران حرکت و سفر کسی بھی جگہ بلا کسی قابل دید رابطے (یعنی تار وغیرہ کے بغیر) کیا جاسکتا ہے۔ آج کل جو جدید موبائل فون تیار کیے جارہے ہیں ان میں نا صرف یہ کہ ہاتف اور انٹرنیٹ سے روابط (برقی خط اور پاکٹ سوئچنگ وغیرہ کی سہولیات میسر ہیں بلکہ اسکے ساتھ ساتھ ان میں تصاویر بھیجنے اور موصول کرنے کیلیے کثیرالوسیط پیغامی خدمت، کیمرا اور ویڈیو بنانے کی خصوصیات بھی موجود ہوتی ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

تاریخی لحاظ سے 1908ء میں میں امریکہ میں درج کرایا جانے والا ایک ایسا پیٹنٹ ملتا ہے کہ جو لاسلکی ہاتف کے کے لیے 887357 کے عدد کے تحت موجود ہے [1] ، اسے کنتاکی کے Nathan Stubblefield نے حاصل کیا تھا ، یہ دراصل ایک قسم کی تحریضی (induction) اختراع تھی نا کہ اشعاعی (radiation) ، اسی وجہ سے اسے ریڈیو کی پہلی ایجاد نہیں سمجھا جاتا [2] ۔ 1947ء میں بیل تجربہ گاہ کے مہندسین (engineers) نے AT&T پر موبائل (mobiles) کے لیے cellsمتعارف کروائے جنہیں بیل تجربہ گاہ ہی نے 1960ء میں مزید ترقی دی۔ غلط استعمال کی بدولت موبائل فون کے خلاف پنچایتوں میں نت نئے فیصلے کئے جارہے ہوں لیکن گلوبل ریسرچ گروپ مارکیٹ اسٹینڈ مارکیٹس کی ایک تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں رواں برس موبائل فون استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 5 اعشاریہ 5 بلین تک پہنچ جائے گی۔نوبت یہ آپہنچی ہے کہ کینیڈا کی سمارٹ فون بنانے والی کمپنی بلیک بیری کا کہنا ہے کہ اس نے اب تک اپنے نئے اسمارٹ فون ’بلیک بیری Z10‘ کے10 لاکھ سیٹ فروخت کئے ہیں۔کمپنی کے توقع سے بہتر نتائج کے مطابق اس نے پہلی سہ ماہی میں90 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کا منافع کمایا جبکہ گزشتہ سال انہی دنوں میں کمپنی نے بہت زیادہ نقصان اٹھایا تھا۔بلیک بیری Z10 کو بلیک بیری کمپنی کے مستقبل کیلئے انتہائی اہم قرار دیا جارہا ہے جسے ایپل اور انڈرو زیڈ کے موبائل فونوں کے ساتھ مقابلہ کرنے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔بلیک بیری Z10 گزشتہ ایک ماہ سے کینیڈا، برطانیہ اور دیگرممالک میں فروخت کیلئے موجود ہے۔گزشتہ ہفتہ اس کو امریکہ میں بھی فروخت کیلئے پیش کیا گیا جو کہ اس کیلئے ایک اہم منڈی ہے لیکن اس کی زیادہ تشہیر نہیں کی گئی۔ان اعدادوشمار میں امریکہ میں فروخت کے اعدادوشمار شامل نہیں ہیں۔بلیک بیری کمپنی کو اس سے قبل ’ریسرچ ان موشن‘ کہا جاتا تھا لیکن گزشتہ سال کمپنی نے اپنا نام بدل لیا تھا۔مبصرین ان نتائج پر تبصرہ کرنے میں کافی محتاط تھے اور ان کا کہنا تھا بلیک بیری Z10 کا اسی کمپنی کے دوسرے موبائل فون Q10 کے ساتھ موازنہ اور اس کی کامیابی پر تبصرہ کرنا قبل از وقت ہوگا۔رواں ہفتہ کے آغاز میں بلیک بیری کے حصص گراوٹ کا شکار ہوئے تھے جب امریکہ کے بڑے بروکریج اداروں نے امریکہ میں اس کی فروخت کے آغاز پر مایوسی کا اظہار کیا تھا۔انہیں نتائج میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کمپنی نے گزشتہ سال کے دوران 30 لاکھ صارفین سے ہاتھ دھوئے ہیں لیکن اب اس کے موبائل فون70 کروڑ 60 لاکھ افراد کے استعمال میں ہیں جبکہ 12ماہ قبل70 کروڑ 90لاکھ افراد کے استعمال میں تھے۔بلیک بیری کے مطابق اس نے اس سال کے پہلے 3 مہینے کے عرصہ میں 60 لاکھ موبائل فون فروخت کیلئے بھجوائے۔ سائنسدانوں نے ایک ایسے نئے آلے کی ایجاد کا دعویٰ کیا ہے جو جلد کے اندر پہنچتے ہی خون میں شوگر کی مقدار کے بارے میں تفصیلات موبائل فون پر بتا دیتا ہے۔سوئٹزر لینڈ کے سائنسدانوں نے وائرلیس پروٹو ٹائپ نامی اس آلے کو تیار کیا ہے۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ تقریباً نصف انچ یا14 ملی میٹرلمبے اور دو ملی میٹر چوڑے اس آلے کے ذریعے ایک ساتھ پانچ اقسام کے بلڈ ٹیسٹ کئے جا سکتے ہیں۔معروف سائنسدان سینڈرو کرارا اور پروفیسر جیوانی دی میشیلی کے بقول جلد کے اندر نصب ہونے والا یہ آلہ منفرد ہے کیونکہ ایک ہی وقت میں متعدد کام کر سکتا ہے۔ماہرین نے کہا ہے کہ یہ آلہ آئندہ چار سال کے اندر مریضوں کیلئے دستیاب ہو سکے گا۔ اس آلے کی ساخت اس طرح کی ہے کہ اس میں نصب ایک سوئی شکم، ٹانگ یا بازو کی کھال کے نیچے بین خلوی سطح میں ڈالی جا سکتی ہے۔ یہ سوئی کئی مہینوں تک جسم کے مذکورہ حصوں کی کھال میں ڈال کر وہاں چھوڑی جا سکتی ہے اور مخصوص مدت کے بعد ہی اسے بدلنے کی ضرورت پیش آتی ہے یا اسے نکال دیا جاتا ہے۔گرچہ اس آلے سے ملتی جلتی ڈیوائسوںکے تجربات دیگر محققین ایک عرصے سے کرتے آئے ہیں تاہم پروفیسر جیوانی دی میشیلی اور سانڈرو کرارا کے بقول ان کا یہ اسکن ٹیسٹ انوکھی نوعیت کا ہے کیونکہ یہ ایک وقت میں کئی مختلف چیزوں کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ان سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان کا یہ آلہ صحت سے متعلق کئی کہنہ مسائل کی نشاندہی میں کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ ہائی کولیسٹرول اور ذیابیطس کی صورتحال کا اندازہ لگانے میں نہایت کارآمد ثابت ہو گا۔ اس کے علاوہ اس آلے کی مدد سے کیمو تھراپی اور دیگر سخت ادویات کی مدد سے کئے جانے والے علاج کے اثرات کا بھی اندازہ لگایا جا سکے گا۔پروفیسر دی میشیلی نے کہا ہے کہ یہ نیا آلہ مسلسل اور براہ راست مانیٹرنگ کی سہولت فراہم کرے گا جس کا استعمال مریضوں کی انفرادی قوت برداشت کے مطابق کیا جا سکے گا۔ اس کی ریڈنگز کا انحصار نہ تو عمر نہ ہی وزن کے چارٹ اور نہ ہی ہفتہ وار بلڈ ٹیسٹ پر ہو گا۔اب تک اس آلے کا تجربہ سائنسدانوں نے صرف لیبارٹری میں اور جانوروں پر کیا ہے جبکہ اس آلے کی مدد سے خون میں کولیسٹرول اور گلوکوز کی مقدار کا قابل بھروسہ اندازہ لگایا گیا ہے۔ ان سائنسدانوں نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ جلد ہی اس آلے کی مدد سے ایسے مریضوں کے خون کا معائنہ قریب سے کر پائیں گے جنہیں بار بار بلڈ ٹیسٹ کروانا پڑتے ہیں۔ حال ہی میں دنیا بھر کے مالیاتی گروپوں نے مستقبل میں ’موبائل منی‘ یا موبائل فون کے ذریعے لین دین کے حوالے سے تفصیلی بحث کی۔ دنیا بھر میں اسمارٹ فونوںکے صارفین کیش یا کریڈٹ کارڈز کی جگہ اپنے فونوں کا استعمال کر سکیں گے۔حال ہی میں اسپین کے شہر بارسلونا میں منعقد ہونے والی موبائل ورلڈ کانگریس کے موقع پر ماسٹر کارڈ، ویزا اور آن لائن پے منٹ سروس پے پال نئی سامنے آتی ہوئی اس صنعت میں اپنے اپنے حصے کی دوڑ میں مصروف رہے۔ دنیا کے اس سب سے بڑے موبائل میلے میں مختلف اداروں کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ 2013میں موبائل صنعت 13.8 بلین یورو کے کاروباری حجم کی حامل رہے گی جبکہ 2018تک یہ حجم 278 بلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کیلئے مالیاتی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کی نگاہیں اس تیزی سے ترقی کرتی صنعت کی جانب مبذول ہو گئی ہیں۔ مالیاتی اداروں کے اندازے کے مطابق اس صنعت میں منافع کی شرح خاصی زیادہ ہو گی۔ماسٹر کارڈ کی جانب سے حال ہی میں ایک نیا ڈیجیٹل پےمنٹ نظام متعارف کروایا گیا ہے جو موبائل فون سمیت مختلف ڈیوائسوں کے ذریعے کام کر سکتا ہے۔ماسٹر پاس کے نام سے سامنے آنے والے اس نئے نظام کو استعمال کرنے والے صارفین ایک ’سکیور کلاو ¿ڈ‘ میں اپنی بینکنگ اور ذاتی معلومات ذخیرہ کر سکتے ہیں اور اسے آن لائن یا کسی اسٹور پر خریداری کے وقت استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ خریدار ماسٹر پاس کا استعمال کرتے ہوئے فون میں موجود خصوصی ریڈر کے ذریعے کسی چیز کے فیلڈ کمیونی کیشن یا این ایف سی کے قریب صرف موبائل فون لہرا کر بھی خریداری کر سکتا ہے۔رواں ماہ کے اختتام پر یہ ماسٹر پریس آسٹریلیا اور کینیڈا میں شروع کیا جا رہا ہے اور بعد میں اسے دنیا کے دیگر ممالک میں بھی جاری کر دیا جائے گا۔دوسری جانب ویزا کی جانب سے بھی سمارٹ فونز بنانے والے ادارے سیم سنگ کے ساتھ مل کر ایک نئے عالمی اتحاد کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت لوگ سیم سنگ اسمارٹ فونوں میں موجود NFC کے ذریعے رقم کی ادائی کر سکیں گے۔ ان دونوں اداروں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت اب سیم سنگ اپنے نئے فونوں میں ایک ایپلی کشن ویزا پے ویو متعارف کر دے گاجس کے ذریعے ویزا کا کانٹیکٹ لیس پے منٹ سسٹم پہلے ہی سے لوڈ ہو گا۔ اس نظام کے تحت بینکنگ ڈاٹا موبائل فون کے اندرنہ صرف موجود ایک چپ پر اتارا جا سکے گا بلکہ وہ انتہائی محفوظ بھی ہو گا۔ویزا کے مطابق یہ معاہدہ تیزی سے آگے بڑھنے کے امکانات کا حامل ہے۔ تحقیقی ادارے ABI کے مطابق 2017 تک NFC ٹیکنالوجی کے حامل 1.95 بلین موبائل فون استعمال کئے جا رہے ہوں گے۔پے پال پہلے ہی امریکہ میں اس طرح کی ٹیکنالوجی متعارف کروا چکا ہے تاہم اس ٹیکنالوجی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ این ایف ایس NFC نظام پر بہت زیادہ انحصار کرنے سے پیدا ہونے والے نقصانات مختلف مسائل کا باعث بھی بن سکتے۔

حوالہ جات[ترمیم]