مکروہ تحریمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مقالات بہ سلسلۂ مضامین

فقہ

ائمہ فقہ

امام ابو حنیفہ · امام مالک
امام شافعی · امام احمد بن حنبل

فقہ اربعہ

فقہ حنفی · فقہ شافعی
فقہ مالکی · فقہ حنبلی

تقسیم بلحاظ تقلید

احناف · شوافع
مالکی · حنابلہ
غیر مقلد

اقسام جائز و ناجائز

فرض <=> حرام
واجب <=> مکروہ تحریمی
سنت مؤکدہ <=> اساءت
سنت غیرمؤکدہ <=> مکروہ تنزیہی
مستحب <=> خلافِ اولی
مباح


شریعت اسلامی کی اصطلاح میں مکروہ تحریمی وہ فعل ہے جس سے لازمی طور پر رک جانے کا مطالبہ ہو اور وہ مطالبہ دلیل ظنی سے ثابت ہو۔

اسلامی فقہ میں مکروہ تحریمی کی اصطلاح واجب کے بالعکس ہے۔ اس کو اپنانے سے عبادت ناقص ہو جاتی ہے، مثلاً نماز عشاء کے بعد وتر کا چھوڑنا، (نماز وتر چونکہ واجب ہے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں اس کو کبھی ترک نہ فرمایا اور اس کے چھوڑنے پر وعید سنائی ہے۔)