ایلیسینڈرو وولٹا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ایلیسینڈرو وولٹا
Volta A.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 18 فروری 1745[1][2][3][4][5][6]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کومو[7][8]  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 5 مارچ 1827 (82 سال)[1][3][4][5][6]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کومو[9][8]  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of the Napoleonic Kingdom of Italy.svg مملکت اطالیہ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکن سائنس کی پروشیائی اکیڈمی، فرانسیسی اکادمی برائے سائنس  ویکی ڈیٹا پر رکن (P463) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ طبیعیات دان، موجد، پروفیسر  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان لاطینی زبان، اطالوی[10]  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل طبیعیات اور کیمیاء
اعزازات
کاپلی میڈل (1794)[11][12]
رائل سوسائٹی فیلو   ویکی ڈیٹا پر وصول کردہ اعزازات (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ایلیسینڈرو گیسپی انٹونیو انسٹازیو وولٹا (اطالوی:Alessandro Giuseppe Antonio Anastasio Volta) ‏ (18 فروری 1745 - 5 مارچ 1827) اٹلی سے تعلق رکھنے والے مشہور کیمیا دان اور ماہرِ طبعیات تھے۔[14]وولٹیک پائل نامی برقی بیٹری کے موجد ہیں جسے انہوں نے 1799 میں بنایا اور 1800 میں رائل سوسائٹی[15] کے صدر کو ایک خط کے ذریعے اس ایجاد سے آگاہ کیا۔ وولٹا نے اس ایجاد کے ذریعے ثابت کر دیا کہ بجلی کیمیائی طریقوں سے پیدا کی جا سکتی ہے۔ اس طرح انہوں نے اس قدیم نظریے کو منسوخ کر دیا جس کے مطابق بجلی جانداروں کے ذریعے بنتی ہے۔ وولٹا کی اس اہم ایجاد نے سائنس کے میدان میں نئے راستے کھول دیے اور بڑی تعداد میں دیگر سائنسدانوں نے تجربات شروع کر دیے جس کے نتیجے میں الیکٹروکیمسٹری کا موضوع معرض ِوجود میں آیا۔

نپولین بوناپارٹ نے ایلیسینڈرو وولٹا کی سائنسی تحقیقات کی قدر کرتے ہوئے انہیں جامعہ فرانس میں دعوت دی جہاں انہوں نے اپنی ایجاد کے متعلق اس تعلیمی ادارے کے اراکین کو معلومات فراہم کیں۔ وولتا تقریباََ چالیس سال تک University of Pavia کی طبعیاتی تجربہ گاہ میں اعلی عہدے پر فائز رہے اور اس عرصے میں کثیر تعداد میں طلبہ نے ان سے فیض حاصل کیا۔[16]

وولٹا اپنی تمام تر سائنسی کامیابی کے باوجود الگ تھلگ رہنے کے عادی تھے۔ 1823 میں انہیں کئی بیماریوں نے یکے بعد دیگرے آ گھیرا جن کے باعث وہ 1827 میں وفات پا گئے۔ وولٹا کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اکائیوں کے بین الاقوامی نظام میں الیکٹرک پوٹینشل کی اکائی کا نام ان کے نام پر رکھا گیا۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

وولٹا 18 فروری 1745ء میں اٹلی کے ایک قصبے کومو (Como) میں پیدا ہوئے۔ 1794ء میں انہوں نے کومو سے ہی تعلق رکھنے والی ایک رئیس خاتون ٹیریسا پیریگرینی (Teresa Peregrini)سے شادی کی۔ وولٹا کے تین بیٹے تھے : زینینو، فلامینیو اور لوئگی۔ وولٹا کا تعلق بھی ایک رئیس خاندان سے تھا۔[17]

1774ء میں وولٹا کومو کے رائل اسکول میں طبعیات کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ اس عرصے میں انہوں نے الیکٹروفورَس (Electrophorus) نامی آلہ متعارف کروایا جو ساکت بجلی (Static Electricity) پیدا کرتا تھا۔ ان کی اس ایجاد کو بہت سراہا گیا اور اکثر ان کی اس ایجاد پر تعریف کی جاتی حالانکہ 1762ء میں سوڈان کے ایک سائنس دان جان ولکے ( Johan Wilcke) نے ایک مشین متعارف کرائی تھی جو اسی نظریے پر کام کرتی تھی۔

1776ء سے 1778ء کے سالوں میں وولٹا نے گیسوں کی کیمیا کا مطالعہ کیا۔ بنجامن فرینکلن کے مضمون "Flammable Air" پڑھنے کے بعد وہ کھوج میں لگ گئے اور آخرکار انہوں نے Lake Maggioreکے مقام پر میتھین گیس دریافت کی۔ دو سال بعد وہ میتھین گیس کو دیگر گیسوں اور دھاتوں سے علاحدہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے مختلف تجربات کیے جیسے ایک بند برتن میں برقی شعلے کے ذریعے میتھین گیس کو جلانے کی کوشش۔ وولٹا نے برق کی موثر گنجائش(Electrical Capacitance) کا مطالعہ بھی کیا اور اس سلسلے میں بتایا کہ ایک جسم کے لیے الیکٹرک پوٹینشل اور چارج متناسب ہوتے ہیں۔ اس نظریے کو "وولٹا کا نظریۂ موثر گنجائش" کہتے ہیں۔

وولٹا اور گیلوانی[ترمیم]

اطالوی طبعیات دان لوگی گیلوانی(Luigi Galvani) نے "حیوانی برق" (Animal Electricity)نامی تحقیق کی جس کے مطابق جب دو مختلف دھاتوں کو سیریز یعنی قطار میں ایک مینڈک کی ٹانگ اور باہمی طور پر ایک دوسرے سے جوڑا جائے تو بجلی بنتی ہے۔ وولٹا نے محسوس کیا کہ مینڈک کی ٹانگ موصل(Conductor) کا کردار ادا کر رہی ہے جسے آج کل ایلیکٹرولائٹ(Electrolyte)کہا جاتا ہے اور اس سے بجلی کی موجودگی کا پتہ چلتا ہے۔ انہوں نے مینڈک کی ٹانگ کی بجائے کھارے پانی سے تر کاغذ کا ٹکڑا استعمال کیا اور انہیں معلوم ہوا کہ برقی بہائو کی یہ شکل گزشتہ مطالعے سے مماثلت رکھتی ہے۔

اس سلسلے میں وولٹا نے یہ قانون دریافت کیا کہ دھاتی برقیرے(Metal Electrodes)کے جوڑے جنہیں الیکٹرولائٹ کے ذریعے الگ کیا گیا ہو، پر مشتمل ایک گیلوانک سیل(Galvanic Cell) کی الیکٹروموٹو فورس دراصل اس کے دو الیکٹراڈ پوٹینشلز کے درمیان کے فرق کے برابر ہوتی ہے۔ لہذا اس طرح دو یکساں برقیرے اور ایک الیکٹرولائٹ کی مجموعی الیکٹروموٹو فورس(Electromotive Force) صفر ہوتی ہے۔ اس قانون کو وولٹا کا الیکٹرومکینیکل سیریز کا نظریہ بھی کہا جاتا ہے۔

1800میں گیلوانی کے گیلوانک نظریے سے اختلاف کے نتیجے میں وولٹا نے ابتدائی برقی بیٹری وولٹیک پائل( Voltaic Pile) ایجاد کی جو مستحکم الیکٹرک کرنٹ پیدا کرتی تھی۔ وولٹا کو معلوم تھا کہ جست اور چاندی کی دھاتوں کے ذریعے زیادہ موثر بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔[18] آغاز میں انہوں نے ایک سیریز میں سیلز کا تجربہ کیا کہ ہر سیل جو شراب کا گلاس تھا، اسے کھارے پانی سے بھر دیا جس میں دو متضاد برقیرے(Electrodes) ڈبو دیے گئے۔ بعد میں گلاس کی جگہ کھارے پانی سے گیلے کارڈبورڈ کا استعمال کیا گیا۔

بیٹری

پہلی بیٹری[ترمیم]

وولٹا کی بیٹری کو پہلا الیکٹروکیمیکل سیل قرار دیا گیا۔ اس میں دو برقیرےپائے جاتے ہیں۔ ایک جست اور دوسرا تانبے کی دھات سے بنا ہوتا ہے۔ الیکٹرولائٹ گندھک کے تیزاب اور نمکین پانی کے ملاپ سے تیار ہوتا ہے۔ الیکٹرولائٹالیکٹرولائٹ کی شکل میں ہوتا ہے۔ جست جو الیکٹروکیمیکل سیریز میں تانبے اور ھائیڈروجن سے اوپر ہوتی ہے، سلفیٹ سلفیٹکے منفی چارج کے ساتھ تعامل پزیر ہوتی ہے۔ مثبت چارج والے ھائیڈروجن کے پروٹان تانبے کے الیکٹرانز کو کھینچ لیتے ہیں جس کے نتیجے میں ھائیڈروجن گیس کے بلبلے پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے سبب جست کا راڈ منفی اور تانبے کا راڈ مثبت الیکٹراڈ بن جاتے ہیں۔ اس طرح یہ دو ٹرمینل ہوتے ہیں جنہیں آپس میں جوڑ دیا جائے تو برقی رو کا گزر شروع ہو جاتا ہے۔ وولٹیک سیل میں پایا جانے والا کیمیائی تعامل درج ذیل طریقے سے ہوتا ہے :

جست:

جست

گندھک کا تیزاب:

گندھک کا تیزاب

تانبے پر کوئی فرق نہیں پڑتا تاہم پھر بھی یہ برقی رو کے لیے ایک الیکٹراڈ کا کردار ادا کرتا ہے۔

اس سیل کے مفادات کے ساتھ ساتھ کچھ نقصانات بھی ہیں۔ مثلاَ َاسے استعمال کرنا غیر محفوظ ہے کیونکہ اس میں گندھک کا تیزاب پایا جاتا ہے جو خطرناک ہے۔ دیگر یہ کہ سیل کی قوت وقت کے ساتھ ساتھ کمزور پڑتی جاتی ہے کیونکہ ہائیڈروجن گیس کا انخلاء نہیں ہوپاتا۔

زندگی کے آخری ایام[ترمیم]

1810میں وولٹا اپنی ایجادات کے اعزاز میں نیپولین بوناپارٹ کے ہاں اعلی عہدے پر فائز رہے۔[19] ان کی تصویر دس ہزار لیرے کے اطالوی نوٹ پر چھاپی گئی۔ وولٹا 1819 میں ریٹائر ہو کر اپنی ریاست کیمناگو چلے گئے۔ کیمناگو کو آج کل "کیمناگو وولٹا" کہا جاتا ہے۔[20] یہیں 5 مارچ 1827 میں اپنی بیاسیویں سالگرہ کے چند دن بعد وہ وفات پا گئے۔ وولٹا کی باقیات کیمناگو کے عجائب گھر ٹیمپیو وولٹینیو(Tempio Voltiano )میں موجود ہیں جو جھیل کے کنارے باغات میں واقع ہے۔ اس میوزیم میں وہ ساز و سامان رکھا گیا ہے جسے وولٹا اپنے تجربات کے دوران استعمال کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی وِلا اولمو(Villa Olmo) کی وولٹین فائونڈیشن بھی موجود ہے جو سائنسی ترقی کے لیے سرگرم ہے۔ وولٹا نے اپنے تجربات کے نتیجے میں پہلی ایجاد کومو قصبے میں کی تھی۔

کرنسی نوٹ پر وولٹا کی تصویر

مذہبی عقائد[ترمیم]

وولٹا کاتھولک تھے اور وہ پوری عمر اپنے ایمان پر قائم رہے۔[21] چونکہ وہ اپنے خاندان کی خواہش میں مطابق پادری نہ بن سکے، لوگ انہیں غیر مذھبی ہونے کا الزام دیتے تھے یہاں تک کہ کچھ لوگ یہ کہتے ہوئے انہیں مذہب سے دور تصور کرتے تھے کہ “وولٹا کبھی چرچ نہیں آتا“ [22] یا “وہ چرچ کے بلاوے کی پروا نہیں کرتا۔ “[23] بہرحال اپنے مذہبی نظریات کے متعلق وولٹا کا کہنا تھا کہ:[24]

مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کیسے کوئی میرے مذہبی معاملات میں خلوص اور ثابت قدمی پر شک کر سکتا ہے۔ میرا تعلق روم کے کاتھولک مذہب سے ہے اور اسی کے ساتھ میں پیدا ہوا اور بڑا ہوا ہوں اور اسی مذہب کا میں نے کھُلم کھُلا یا پوشیدہ اقرار کیا ہے۔ میں بے شک ان اچھے کاموں کی تکمیل میں ناکام رہا جو کاتھولک عیسائیوں کے ہاں رائج ہیں اور مجھے بہت سے گناہوں کا افسوس بھی ہے مگر خدا کا کرم ہے کہ میں کبھی بھی اپنے مذہبی عقائد سے دستبردار نہیں ہوا۔

حوالہ:

تصنیفات[ترمیم]

وولٹا نے 1769 میں (On the attractive force of electric fire) کے عنوان سے کتاب شائع کی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12486203t — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. Léonore ID: http://www.culture.gouv.fr/public/mistral/leonore_fr?ACTION=CHERCHER&FIELD_1=COTE&VALUE_1=LH/2738/29 — بنام: Alexandre Joseph Antoine Volta — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — ناشر: Ministry of Culture
  3. ^ ا ب CTHS person ID: http://cths.fr/an/prosopo.php?id=112656 — بنام: Alessandro Volta — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6vh5sks — بنام: Alessandro Volta — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. ^ ا ب KNAW past member ID: http://www.dwc.knaw.nl/biografie/pmknaw/?pagetype=authorDetail&aId=PE00003610 — بنام: Alessandro G.A.A. Volta — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  6. ^ ا ب Brockhaus Enzyklopädie online ID: https://brockhaus.de/ecs/enzy/article/volta-alessandro-giuseppe-antonio-anastasio — بنام: Alessandro Giuseppe Antonio Anastasio Volta — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  7. اجازت نامہ: CC0
  8. ^ ا ب مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия — اشاعت سوم — باب: Вольта Алессандро — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC
  9. اجازت نامہ: CC0
  10. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12486203t — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  11. https://docs.google.com/spreadsheets/u/1/d/1dsunM9ukGLgaW3HdG9cvJ_QKd7pWjGI0qi_fCb1ROD4/pubhtml?gid=1336391689&single=true — اقتباس: For his several Communications explanatory of certain Experiments published by Professor Galvani.
  12. Award winners : Copley Medal — اخذ شدہ بتاریخ: 30 دسمبر 2018 — ناشر: رائل سوسائٹی
  13. ^ ا ب نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ ArchiveBook نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  14. Hall of Fame، ایڈیسن
  15. Enterprise and electrolysis". http://www.rsc.org. Royal Society of Chemistry۔ موصول 18 فروری 2015
  16. Munro, John (1902). Pioneers of Electricity; Or, Short Lives of the Great Electricians. London: The Religious Tract Society. صفحات 89–102.
  17. "Life and works". Alessandrovolta.info. Como, Italy: Editoriale srl. موصول 18 فروری 2015
  18. Robert Routledge (1881). A popular history of science (2nd ed.). G. Routledge and Sons. p. 553. ISBN 0-415-38381-1.–102.
  19. Giuliano Pancaldi, "Volta: Science and culture in the age of enlightenment", Princeton University Press, 2003.
  20. "Volta". Institute of Chemistry - Jerusalem.
  21. "Gli scienziati cattolici che hanno fatto lItalia (Catholic scientists who made Italy)". زینٹ کے اطالوی الفاظ۔
  22. 'Adam-Hart Davis. (2012). Engineers. Penguin. صفحہ 138
  23. Michael Brian Schiffer (2003), Draw the Lightning Down: Benjamin Franklin and Electrical Technology in the Age of Enlightenment. یونیورسٹی آف کیلیوفورنیا پریس۔ صفحہ 55
  24. Kneller, Karl Alois, Christianity and the leaders of modern science; (1911), p. 117–118