حفیظ الرحمان واصف دہلوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حفیظ الرحمان واصف دہلوی
مدرسہ امینیہ کے چوتھے مہتمم
مدت منصب
ستمبر 1955ء تا 1979ء
Fleche-defaut-droite-gris-32.png احمد سعید دہلوی[1]
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 10 فروری 1910  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 13 مارچ 1987 (77 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد مفتی کفایت اللہ دہلوی  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی مدرسہ امینیہ  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ خطاط،  شاعر،  مفتی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

حفیظ الرحمان واصف دہلوی (10 فروری 1910ء – 13 مارچ 1987ء) ایک بھارتی عالم، مفتی، ادبی نقاد اور اردو زبان کے شاعر تھے، جنھوں نے 1955ء سے 1979ء تک مدرسہ امینیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ تحریک آزادی ہند میں شریک تھے اور ’’جمعیۃ علما پر ایک تاریخی تبصرہ‘‘، ’’ادبی بھول بھلیّاں‘‘، ’’اردو مصدر نامہ‘‘ اور ’’تذکرۂ سائل‘‘ جیسی کتابوں کے مصنف ہیں۔ انھوں نے اپنے والد کفایت اللہ دہلوی کے مجموعۂ فتاوٰی کو ’’کفایت المفتی‘‘ کے نام سے نو جلدوں میں مرتب کیا۔

سوانح[ترمیم]

حفیظ الرحمان واصف دہلوی 10 فروری 1910ء کو شاہجہاں پور میں پیدا ہوئے تھے۔[2] وہ مفتی اعظم ہند کفایت اللہ دہلوی کے بڑے بیٹے تھے۔[2][3] انھوں نے مدرسہ امینیہ میں اپنے والد کفایت اللہ دہلوی اور خدا بخش اور عبد الغفور عارف دہلوی سمیت کئی اساتذہ سے تعلیم حاصل کی۔[4] انھوں نے حامد حسین فرید آبادی اور منشی عبد الغنی سے اسلامی خطاطی کی تعلیم حاصل کی۔[5]

واصف ایک خطاط، ادبی نقاد، شاعر اور مفتی تھے۔[6][7] 15 سال کی عمر میں انھوں نے فارسی میں شاعری شروع کردی تھی۔ اردو میں ان کی ابتدائی شاعری حکیم اجمل خان کے بارے میں ایک مرثیہ تھی، جو الجمعیت کے 22 جنوری 1928ء کے ایڈیشن میں شائع ہوئی تھی۔[8] انھوں نے غزل، نظم، قصیدہ، مسدس اور اردو شاعری کی دیگر انواع میں لکھا۔[8] وہ شاعری میں سائل دہلوی اور نوح ناروی کے شاگرد تھے۔[9][10] جمیل مہدی کہتے ہیں:

جگر مراد آبادی کے بعد مولانا واصف ہی اردو کے ایسے شاعر تھے، جو خوش نویسی میں بھی یدِ طُولٰی رکھتے تھے اور جن کے بارے میں کہا جاسکتا تھا کہ اگر وہ شاعر نہ ہوتے تو بہت بڑے خطاط اور خوش نویس ہوتے۔ انھوں نے خوش نویسی نہ صرف اپنے والد سے ورثہ میں پائی تھی؛ بل کہ مشق اور محنت کے ذریعہ اس میں استادانہ مہارت بھی حاصل کی تھی۔[7]

واصف نے اپنے پیشہ وارانہ زندگی کا آغاز عربی زبان و ادب کے حکومت دہلی کے محکمہ تعلیم میں کیا۔[1] 1936ء میں ان کے والد نے انھیں کتب خانہ رحیمیہ کا ناظم بنایا۔[1] انھیں 1953ء میں مدرسہ امینیہ کا نائب مہتمم بنایا گیا۔[1] وہ ستمبر 1955ء میں مہتمم بنے اور 1979ء میں اہتمام سے استعفی دے دیا۔[11] انھوں نے تحریک آزادی ہند میں بھی حصہ لیا۔[12][13] ان کا انتقال 13 مارچ 1987ء کو دہلی میں ہوا۔[3]

ادبی خدمات[ترمیم]

واصف نے اپنے والد کفایت اللہ دہلوی کی طرف سے جاری کردہ مجموعۂ فتاوٰی کو "کفایت المفتی" کے نام سے نو جلدوں میں مرتب کیا۔[14] پاکستانی مورخ ابو سلمان شاہجہانپوری نے اسے ان کا بڑا علمی، سیاسی، مذہبی اور زندہ کام قرار دیا ہے۔[2] واصف کے دیگر کاموں میں یہ بھی شامل ہیں:[15]

  • ادبی بُھول بُھلیّاں: زبان و قواعد اور اردو اِملا پر تنقید
  • جمعیۃ علما پر ایک تاریخی تبصرہ (اس مختصر سی کتاب میں بہت سے اصل حقائق کو اجاگر کیا گیا ہے، جس سے جمعیت علمائے ہند کی اصل تاریخ کی بصیرت افروز آگہی حاصل ہوتی ہے۔)
  • سہ لسانی مَصدر نامہ (اردو مصادر کے عربی، فارسی مترادفات کی تحقیق و تشریح و طریقۂ استعمال)
  • تذکرۂ سائل (سوانحِ سائل دہلوی)
  • اردو مصدر نامہ (اردو زبان کے تیرہ سو مصادر اور انیس سو مشتق الفاظ کا ذخیرہ)
  • زرِ گُل (ان کا شعری مجموعہ)

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت محمد قاسم دہلوی، مولانا حفیظ الرحمان واصف دہلوی، صفحہ 24 
  2. ^ ا ب پ ابو سلمان ابو سلمان شاہجہانپوری (2005). مفتیِ اعظم ہند. پٹنہ: خدا بخش اورئینٹل پبلک لائبریری. صفحات 105–106. 
  3. ^ ا ب اسیر ادروی (اپریل 2016). تذکرہ مشاہیرِ ہند: کاروانِ رفتہ (ایڈیشن 2). دیوبند: دار المؤلفین. صفحہ 82. 
  4. محمد قاسم دہلوی، مولانا حفیظ الرحمان واصف دہلوی، صفحہ 19 
  5. محمد قاسم دہلوی، مولانا حفیظ الرحمان واصف دہلوی، صفحہ 20 
  6. نور عالم خلیل امینی، پسِ مَرگِ زندہ، صفحہ 177 
  7. ^ ا ب محمد قاسم دہلوی، مولانا حفیظ الرحمان واصف دہلوی، صفحہ 22 
  8. ^ ا ب محمد قاسم دہلوی، مولانا حفیظ الرحمان واصف دہلوی، صفحہ 44 
  9. نور عالم خلیل امینی، پسِ مَرگِ زندہ، صفحہ 188 
  10. محمد قاسم دہلوی، مولانا حفیظ الرحمان واصف دہلوی، صفحہ 45 
  11. محمد قاسم دہلوی، مولانا حفیظ الرحمان واصف دہلوی، صفحات 25–26 
  12. محمد قاسم دہلوی، مولانا حفیظ الرحمان واصف دہلوی، صفحہ 28 
  13. نور عالم خلیل امینی، پسِ مَرگِ زندہ، صفحہ 185 
  14. نور عالم خلیل امینی، پسِ مَرگِ زندہ، صفحہ 210 
  15. نور عالم خلیل امینی، پسِ مَرگِ زندہ، صفحات 210–211 

کتابیات[ترمیم]