درگا پوجا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
درگا پوجا
আহিরীটোলা সার্বজনীন দূর্গা পুজো ২০১৮.jpg
مغربی بنگال کے شہر کولکاتا میں درگا پوجا 2018
منانے والے بنگالی، اُڑیسی، میتھلی، اور آسامی برادریاں بطور سماجی ثقافتی اور مذہبی تہوار
قسم ہندو
تقریبات ہندو دیوی دیوتاؤں کی پرستش، خاندان اور دیگر افراد کا اکٹھا ہونا، خریداری اور تحفے دینا، ضیافت، پنڈال جانا، اور دیگر ثقافتی پروگرام
رسومات دیوی دُرگا کی تقریبی پرستش
آغاز اشون کی چھٹے روز شُکل پکش[1]
اختتام اشون کے دسویں روز شُکل پکش[1]
2018ء  تاریخ 15 اکتوبر  – 19 اکتوبر
2019ء  تاریخ 4 اکتوبر - 8 اکتوبر
تکرار سالانہ
منسلک پِتر پکش، نوراتری، دسہرہ

درگا پوجا معروف بہ درگ اُتسو، شردھ اُتسو یا آگ منی ایک ہندو تہوار ہے جس کا آغاز برصغیر سے ہوا تھا، جس میں ہندو دیوی درگا سے عقیدت کا اظہار کیا جاتا ہے۔[2][3] یہ بھارتی ریاستوں میں سے مغربی بنگال، آسام، بہار اور اوڈیشا اور دیگر ایشیائی ممالک بنگلہ دیش اور نیپال میں مشہور ہے، نیپال میں یہ 'دشین' کے نام سے منایا جاتا ہے۔ یہ تیوہار ہندو تقویم کے مہینے اشون میں آتا ہے اور اشون میں گریگوری تقویم کے مطابق ستمبر اکتوبر آتا ہے۔[4][5] یہ دس روزہ تہوار ہے[6][2] اور آخر کے پانچ ایام بہت اہم ہوتے ہیں۔[7][5] گھروں اور عوامی جگہوں پر پوجا کی جاتی ہے، عارضی اسٹیج اور پنڈال لگائے جاتے ہیں۔ تہوار میں کتب مقدسہ میں سے پڑھا جاتا ہے، فن کے مظاہرے ہوتے ہیں، موج میلہ ہوتا ہے، تحائف دینا، رشتہ داروں کے ہاں آنا جانا، ضیافت اور دیگر رسومات ہوتی ہیں۔[2][8][9] درگا پوجا کی ہندو مت کے فرقے شکتی مت میں خاص اہمیت ہے۔[10][11][12]

دیومالا کے مطابق دیوی دُرگا نے روپ بدلنے والے اسُر، مہیشاسر کے خلاف جنگ میں فتح حاصل کی تھی اور یہ تہوار اسی یاد میں منایا جاتا ہے۔[13][14] یوں یہ تہوار برائی پر اچھائی کی جیت کی خوش میں مناتے ہیں، یہ فصل کٹائی کے تہوار کا بھی حصہ ہے اور دیوی ایک مادری قوت ہے جس کا تمام زندگیوں اور تخلیق کے پیچھے ہاتھ ہے۔[15][16] درگا پوجا کا تہوار نوراتری اور دسہرہ کے تہواروں کے قریب آتا ہے۔[17][18]

درگا پوجا میں پوجے جانے والی مرکزی دیوی درگا ہے، تقریبات میں مرکزی دیوی دیوتا بھی پوجے جاتے ہیں جیسے کہ لکشمی، سرسوتی، گنیش اور کارتیکے۔ بنگالی روایات میں یہ دیوی دیوتا درگا کے بچے سمجھے جاتے ہیں اور درگا پوجا کے دوران وہ اپنے بچوں کے ہمراہ تشریف لاتی ہیں۔[19] اس تیوہار سے قبل پِتر پکش آتا ہے، جس کے متعلق عقیدہ ہے کہ درگا تشریف لانے کی تیاری کر چکی ہوتی ہیں۔ مرکزی تقریبات کا آغاز چھٹے دن (ششتھی) ہوتا ہے، اس دن رسومات کے ساتھ دیوی کا استقبال ہوتا ہے۔[3][5] تیوہار کا اختتام دسویں دن (وجیا دشمی) ہوتا ہے، جب عقیدت مند مورتیوں کو جھیل وغیرہ میں ڈبو دیتے ہیں اور عقیدت مندوں کے نزدیک، دیوی اپنے سسرال میں شوہر شِو کے پاس واپس چلی جاتی ہیں۔[3][5] مختلف برادریوں میں تہوار کی تقریبات میں مختلف رسومات پائی جاتی ہیں۔

درگا پوجا ہند مت کا ایک قدیم تہوار ہے، لیکن اس کے آغاز کے بارے میں تاریخ خاموش ہے۔ چودہویں صدی عیسوی سے محفوظ مخطوطات میں درگا پوجا کے لیے ہدایات درج ہیں، تاہم تاریخی ریکارڈ کے مطابق کم از کم سولہویں صدی عیسوی سے شاہی اور امیر خانوادے بڑی دُرگا پوجا کا انعقاد کرتے تھے۔[10] درگا پوجا کی اہمیت برطانوی راج کے دور میں بنگال اور آسام کے صوبوں میں بڑھی تھی۔[20][3] دور حاضر میں درگا پوجا کی اہمیت سماجی اور ثقافتی تہوار سے بڑھ کر مذہبی تہوار کی ہے۔[3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب Durga Puja Tithi.
  2. ^ ا ب پ Lochtefeld 2002، صفحہ۔ 208.
  3. ^ ا ب پ ت ٹ Bradley 2012، صفحہ۔ 214.
  4. Kinsley 1988، صفحات۔ 106-108.
  5. ^ ا ب پ ت Encyclopedia Britannica 2015.
  6. Doniger 1999، صفحہ۔ 306.
  7. Borah 2011.
  8. Melton 2011، صفحات۔ 239–241.
  9. Amazzone 2011، صفحات۔ 82-83.
  10. ^ ا ب McDermott 2001، صفحات۔ 172-174.
  11. Foulston & Stuart Abbott 2009، صفحات۔ 162-169.
  12. Rodrigues 2003، صفحات۔ 7-8.
  13. Daniélou 1991، صفحہ۔ 288.
  14. McDaniel 2004، صفحات۔ 215-219.
  15. Kinsley 1988، صفحات۔ 111-112.
  16. Donner 2016، صفحہ۔ 25.
  17. Lochtefeld 2002، صفحات۔ 212-213.
  18. Jones & Ryan 2006، صفحات۔ 308-309.
  19. Kingsley 1988، صفحہ۔ 95.
  20. Durga Puja.