رابرٹ ہک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
رابرٹ ہک
(انگریزی میں: Robert Hooke ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش 18 جولا‎ئی 1635ء[1][2][3][4][5]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فریشواتیر[6]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 3 مارچ 1703ء (68 سال)[7][8][1][2][9][3][10]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لندن[11]  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت مملکت انگلستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکن رائل سوسائٹی  ویکی ڈیٹا پر (P463) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
پروفیسر   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آغاز منصب
1665 
عملی زندگی
مقام_تدریس آکسفورڈ یونی ورسٹی
مادر علمی کرائسٹ چرچ
ویسٹمنسٹر اسکول
واڈھم کالج، اوکسفرڈ
جامعہ اوکسفرڈ  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
استاذ رابرٹ بوئل
پیشہ معمار[12]،  ماہر فلکیات،  طبیعیات دان،  روزنامچہ نگار،  استاد جامعہ،  فلسفی،  موجد،  ماہر حیاتیات،  فطرت پسند  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[13][14]،  لاطینی زبان[15]،  قدیم یونانی[15]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل میکانیات،  طبیعیات،  کیمیا،  حیاتیات،  معماری[16]،  فلکیات،  ریاضی،  اموادی علم  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت رائل سوسائٹی[17][18]،  Gresham College،  لندن شہر کارپوریشن[16]  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں خورد پیمائی[19]  ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
رائل سوسائٹی فیلو  (1663)  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط

رابرٹ ہک ایف آر ایس ( /hʊk/ ؛ 18 جولائی 1635 – 3 مارچ 1703) [ب] ایک انگریزی جامع العلوم تھا جو بطور سائنسدان، فطری فلسفی اور معمار سرگرم تھا، جو سنہ 1665ء میں ایک مرکب خوردبین کا استعمال کرتے ہوئے خرد نامیوں MicroOrganism کو دریافت کرنے والے پہلے دو سائنسدانوں میں سے ایک ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ [24] دوسرے سائنس دان انتونی وان لیونھوک Antonie van Leeuwenhoek تھے۔[25] جوانی میں ایک غریب سائنسی تفتیش کار کے طور پر، آپ نے 1666 کی لندن کی عظیم آگ کے بعد نصف سے زیادہ آرکیٹیکچرل سروے کر کے دولت اور شہرت پائی۔ ہُک رائل سوسائٹی کا رکن بھی تھا اور سنہ 1662ء سے اس میں ہونے والے تجربات کے کیوریٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ رابرٹ ہُک گریشم کالج میں جیومیٹری کے پروفیسر بھی تھے۔

طبیعیاتی سائنس دان رابرٹ بوئل کے معاون کے طور پر، ہُک نے گیس کے قانون پر بوائل کے تجربات میں استعمال ہونے والے ویکیوم پمپ بنائے اور خود بھی تجربات کیے۔ سنہ 1673ء میں اس نے ابتدائی گریگورین دوربین بنائی اور اس کے ذریعے سیاروں، مریخ اور مشتری کی گردش کا مشاہدہ کیا۔ رابرٹ ہُک کی 1665ء کی تصنیف مائیکروگرافیا، جس میں اس نے "خلیہ" کی اصطلاح وضع کی تھی، نے خوردبینی تحقیقات کو فروغ دیا۔ آپٹکس میں تحقیق کرتے ہوئے، خاص طور پر روشنی کے انعطاف نور پر، اس نے روشنی کے لہریاتی نظریے کا نتیجہ اخذ کیا۔ اور حرارت کے ذریعے مادوں کا پھیلائو، ہوا کی ساخت میں زیادہ فاصلے پر موجود چھوٹے ذرات کا کردار اور حرارت بطور توانائی اس کے اولین مفروضوں میں ہے۔

طبیعیات میں، اس نے تجرباتی طور پر اس بات کی تصدیق کی کہ کشش ثقل ایک معکوس مربع قانون پر عمل کرتی ہے اور سب سے پہلے سیاروں کی حرکت میں بھی اس طرح کے تعلق کا قیاس کیا، ایک اصول جسے آئزک نیوٹن نے نیوٹن کے آفاقی کشش ثقل کے قانون میں آگے بڑھایا اور باقاعدہ بنایا۔ [26] اس بصیرت پر ترجیح نے ہُک اور نیوٹن کے درمیان دشمنی کو جنم دیا، جس نے ہُک کی علمی حیثیت کی مخالفت کی۔ ارضیات اور قدیمیات میں، ہُک نے ارض آبی کرے کے نظریے کی ابتدا کی، زمین کی عمر کے بائبل کے لفظی نظریے سے اختلاف کیا، انواع کے معدوم ہونے کا قیاس کیا اور دلیل دی کہ پہاڑ اور پہاڑوں کے اوپر موجود حجریات ارضیاتی عمل سے بلند ہوئے ہیں۔ [27] اس طرح خوردبینی حجریات کا مشاہدہ کرتے ہوئے، ہُک نے حیاتیاتی ارتقاء کا نظریہ پیش کیا۔ [28] [29] زمین کے سروے اور نقشہ سازی میں ہُک کے اہم کام نے پہلے جدید منصوبہ بندی کے نقشے کی ترقی میں مدد فراہم کی، حالانکہ لندن کے لیے اس کے گرڈ سسٹم کے منصوبے کو موجودہ راستوں کے ساتھ دوبارہ تعمیر کرنے کے حق میں مسترد کر دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود، ہک لندن کے لیے منصوبہ بندی کے کنٹرول کا ایک سیٹ وضع کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتے تھے جو پھر بھی موثر رہے۔ حالیہ دنوں میں، انھیں "انگلینڈ کا لیونارڈو" کہا جاتا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب Robert Hooke
  2. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6b86gwd — بنام: Robert Hooke — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. ^ ا ب Structurae person ID: https://structurae.net/persons/1009828 — بنام: Robert Hooke — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://bigenc.ru/ — عنوان : Большая российская энциклопедия — اجازت نامہ: کام کے حقوق نقل و اشاعت محفوظ ہیں
  5. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Robert-Hooke — اخذ شدہ بتاریخ: 11 نومبر 2021 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  6. http://www.isle-of-wight-memorials.org.uk/others/freshwaterhooke.htm
  7. ربط : https://d-nb.info/gnd/118774883  — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اپریل 2014 — اجازت نامہ: CC0
  8. ربط : https://d-nb.info/gnd/118774883  — اخذ شدہ بتاریخ: 22 اگست 2017
  9. فائنڈ اے گریو میموریل شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/memorial/10309088 — بنام: Robert Hooke — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  10. Brockhaus Enzyklopädie online ID: https://brockhaus.de/ecs/enzy/article/hooke-robert — بنام: Robert Hooke
  11. مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия — اشاعت سوم — باب: Гук Роберт
  12. یو ایل اے این - آئی ڈی: https://www.getty.edu/vow/ULANFullDisplay?find=&role=&nation=&subjectid=500017976 — اخذ شدہ بتاریخ: 14 مئی 2019 — خالق: گیٹی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ — شائع شدہ از: 5 نومبر 2010
  13. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb123064502 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  14. کونر آئی ڈی: https://plus.cobiss.net/cobiss/si/sl/conor/76340323
  15. https://www.jstor.org/stable/184662
  16. ^ ا ب https://www.cityoflondon.gov.uk/things-to-do/history-and-heritage/london-metropolitan-archives/collections/robert-hooke
  17. https://royalsociety.org/~/media/library/The%20library%20and%20archives%20of%20the%20royal%20society%201660-1990%20Marie%20Boas%20Hall.pdf
  18. https://www.biography.com/scholar/robert-hooke
  19. https://fr.wikipedia.org/wiki/Robert_Hooke#/media/Fichier:Micrographia_title_page.gif
  20. Lawrence R. Griffing (2020)۔ "The lost portrait of Robert Hooke?"۔ Journal of Microscopy۔ 278 (3): 114–122۔ PMID 31497878۔ doi:10.1111/jmi.12828 
  21. Lawrence R. Griffing (2021)۔ "Comments on Dr Whittaker's letter and the article"۔ Journal of Microscopy۔ 282 (2): 191–192۔ doi:10.1111/jmi.12993 
  22. Christopher A. Whittaker (2021)۔ "Unconvincing evidence that Beale's Mathematician is Robert Hooke"۔ Journal of Microscopy۔ 282 (2): 189–190۔ ISSN 0022-2720۔ PMID 33231292 تأكد من صحة قيمة |pmid= (معاونت)۔ doi:10.1111/jmi.12987 
  23. "Robert Hooke - Biography, Facts and Pictures"۔ FamousScientists.org۔ 26 November 2014۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 دسمبر 2022 
  24. "Antonie van Leeuwenhoek | Biography, Discoveries, & Facts | Britannica"۔ www.britannica.com (بزبان انگریزی)۔ اخذ شدہ بتاریخ 09 مارچ 2023 
  25. Encyclopædia Britannica, 15th Edition, vol.6 p. 44
  26. John Gribbin، Mary Gribbin (2017)۔ Out of the shadow of a giant: Hooke, Halley and the birth of British science, 1946-۔ London: William Collins۔ ISBN 978-0-00-822059-4۔ OCLC 966239842 
  27. Drake, Ellen Tan (2006)۔ "Hooke's Ideas of the Terraqueous Globe and a Theory of Evolution"۔ $1 میں Michael Cooper، Michael Hunter۔ Robert Hooke: Tercentennial Studies۔ Burlington, Vermont: Ashgate۔ صفحہ: 135–149۔ ISBN 978-0-7546-5365-3 
  28. Drake, Ellen Tan (1996)۔ Restless Genius: Robert Hooke and His Earthly Thoughts۔ Oxford University Press۔ ISBN 978-0-19-506695-1