سر پیٹر مینسفیلڈ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سر پیٹر مینسفیلڈ
Peter Mansfield Leipzig.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 9 اکتوبر 1933[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
لیمبیتھ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 8 فروری 2017 (84 سال)[3][1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ناٹنگھم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of the United Kingdom.svg برطانیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
رکن رائل سوسائٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن در (P463) ویکی ڈیٹا پر
اولاد 2
عملی زندگی
المؤسسات
مقالات Proton magnetic resonance relaxation in solids by transient methods
مادر علمی Queen Mary, University of London  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم در (P69) ویکی ڈیٹا پر
ڈاکٹری مشیر جیک پاولز
پیشہ طبیعیات دان،موجد،استاد جامعہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل طبیعیات،مقناطیسی اصدائی تصویرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت University of Nottingham  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب  (2003)[4][5]
رائل سوسائٹی فیلو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
سر پیٹر مینسفیلڈ

سر پیٹر مینسفیلڈ (9 اکتوبر 1933 – 8 فروری 2017)[7]برطانوی سائنسدان 2003ء کا طب کا نوبل انعام ان کو دیا گیا۔سر مینسفیلڈ نے سن ستّر کی دہائی میں ایکس۔رے کے بغیر اعضائےجسمانی کی اندرونی تصویر کشی کا آلہ ایجاد کیا تھا- یہ آلہ یا ’ سکینر‘ جسم کے اندرونی ریشوں سے ٹکرا کر لوٹنے والے مقناطیسی ارتعاشات کو ایک سہ طرفی ٹھوس شبیہ کی صورت میں سکرین پر منتقل کر دیتا ہے۔

سن اسّی کی دہائی میں یہ سکینر مغربی ملکوں کے بڑے بڑے ہسپتالوں میں نصب ہونے لگے اور آج دنیا بھر میں اس طرح کے بائیس ہزار سکینر کام کر رہے ہیں جن کے ذریعے سالانہ چھ کروڑ طبّی رپورٹیں تیار کی جاتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ طبّی تفتیش کے میدان میں پیٹر مینسفیلڈ کا ایجاد کردہ آلہ ایک سنگِ میل ثابت ہوا کیونکہ اس کی بدولت اندرونی اعضاء کے ایسے ایسے گوشے بے نقاب ہوئے جو ایکسرے کی پہنچ سے باہر تھے۔ خاص طور پر انسانی دماغ کے پیچ و خم کو سمجھنے میں یہ آلہ بہت ممد ثابت ہوا اور آجکل اسی آلے کی مدد سے یہ سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کسی خیال کو جنم دیتے ہوئے دماغ کے اندر کس طرح کے اعمال وقوع پزیر ہوتے ہیں۔

نوبل انعام میں امریکی محقق پروفیسر پال لاٹربر بھی ان کے ساتھ شریک تھے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Peter-Mansfield — بنام: Sir Peter Mansfield — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  2. ^ 2.0 2.1 Find a Grave memorial ID: https://www.findagrave.com/cgi-bin/fg.cgi?page=gr&GRid=176163552 — بنام: Peter Mansfield — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. Nobel Prize winning physicist and MRI pioneer Sir Peter Mansfield dies aged 83
  4. http://www.nobelprize.org/nobel_prizes/medicine/laureates/2003/
  5. https://www.nobelprize.org/nobel_prizes/about/amounts/
  6. "Fellows of the Royal Society"۔ London: رائل سوسائٹی۔ اصل سے جمع شدہ 2015-03-16 کو۔ 
  7. Tributes to Professor Sir Peter Mansfield University of Nottingham