سر پیٹر مینسفیلڈ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Sir Peter Mansfield
Peter Mansfield Leipzig.jpg
پیدائش 9 اکتوبر 1933 (1933-10-09) ‏(82)
لیمبیتھ, London
شہریت British
قومیت English
ادارے
مادر علمی Queen Mary College, University of London
مقالہ Proton magnetic resonance relaxation in solids by transient methods (1962)
علمائی مشیر Jack Powles
وجہِ معروفیت برائے Magnetic Resonance Imaging
اہم انعامات
شریک حیات Jean Margaret Kibble (شادی 1962–تا حال) «Did not recognize date. Try slightly modifying the date in the first parameter.»"Marriage: Jean Margaret Kibble to سر پیٹر مینسفیلڈ" Location: (linkback://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%D8%B1_%D9%BE%DB%8C%D9%B9%D8%B1_%D9%85%DB%8C%D9%86%D8%B3%D9%81%DB%8C%D9%84%DA%88)
اولاد 2
ویب سائٹ
www.nobelprize.org/nobel_prizes/medicine/laureates/2003/mansfield-bio.html
سر پیٹر مینسفیلڈ

پیدائش: 9 اکتوبر 1933ء

برطانوی سائنسدان۔ 2003ء کا طب کا نوبل انعام ان کو دیا گیا۔سر مینسفیلڈ نے سن ستّر کی دہائی میں ایکس۔رے کے بغیر اعضائےجسمانی کی اندرونی تصویر کشی کا آلہ ایجاد کیا تھا- یہ آلہ یا ’ سکینر‘ جسم کے اندرونی ریشوں سے ٹکرا کر لوٹنے والے مقناطیسی ارتعاشات کو ایک سہ طرفی ٹھوس شبیہ کی صورت میں سکرین پر منتقل کر دیتا ہے۔

سن اسّی کی دہائی میں یہ سکینر مغربی ملکوں کے بڑے بڑے ہسپتالوں میں نصب ہونے لگے اور آج دنیا بھر میں اس طرح کے بائیس ہزار سکینر کام کر رہے ہیں جن کے ذریعے سالانہ چھ کروڑ طبّی رپورٹیں تیار کی جاتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ طبّی تفتیش کے میدان میں پیٹر مینسفیلڈ کا ایجاد کردہ آلہ ایک سنگِ میل ثابت ہوا کیونکہ اس کی بدولت اندرونی اعضاء کے ایسے ایسے گوشے بے نقاب ہوئے جو ایکسرے کی پہنچ سے باہر تھے۔ خاص طور پر انسانی دماغ کے پیچ و خم کو سمجھنے میں یہ آلہ بہت ممد ثابت ہوا اور آجکل اسی آلے کی مدد سے یہ سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کسی خیال کو جنم دیتے ہوئے دماغ کے اندر کس طرح کے اعمال وقوع پذیر ہوتے ہیں۔

نوبل انعام میں امریکی محقق پروفیسر پال لاٹربر بھی ان کے ساتھ شریک تھے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ "Fellows of the Royal Society". London: Royal Society. Archived from the original on 2015-03-16.