جیمز ڈی واٹسن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
James Watson
(انگریزی میں: James Dewey Watsonخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
James Watson
James Watson

معلومات شخصیت
پیدائشی نام James Dewey Watson
پیدائش 6 اپریل 1928 (89 سال)[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
شکاگو[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
قومیت American
رکن رائل سوسائٹی،قومی سائنس اکادمی یوکرین،سائنس کی روسی اکادمی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن در (P463) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ Elizabeth Watson (née Lewis) (شادی. 1968)
عملی زندگی
المؤسسات
الأطروحات The Biological Properties of X-Ray Inactivated Bacteriophage
مادر علمی
ڈاکٹری مشیر سیلواڈور لوریا
ڈاکٹری شاگرد
نمایاں شاگرد
پیشہ ماہر حیاتیات،حیاتی کیمیا دان،سائنس دان،طبیب،استاد جامعہ،کیمیادان،طبیعیات دان،مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
تصنیفی زبان انگریزی[8]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بولی، لکھی اور دستخط کی گئیں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
مجال العمل Genetics
آجر جامعہ ہارورڈ[3]،جامعہ کیمبرج  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ شہرت
اعزازات
Order of the British Empire ribbon.png مبارِز کمانڈر برائے رتبۂ سلطنت برطانیہ
قومی تمغا برائے سائنس (1997)
میخائیل لومونوسف گولڈ میڈل (1994)
کاپلی میڈل (1993)
نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب  (1962)[9][10][11]
رائل سوسائٹی فیلو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
جیمز ڈی واٹسن
ویب سائٹ
ویب سائٹ www.cshl.edu/gradschool/james-d-watson.html
IMDB IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی  بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر
  • جیمز ڈی واٹسن 1928ء میں امریکہ کے شہر شکاگو میں پیدا ہوئے۔
  • اس نے حیاتیات کی تعلیم امریکہ کی انڈیانا یونیورسٹی سے حاصل کی۔ 1951ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اس نے برطانیہ میں کیمبرج یونیورسٹی کی ایک تجربہ گاہ میں کام شروع کر دیا جہاں سائنسدان ایکس رے کرسٹیلو گرافی (X-Ray Crystallography) کی مدد سے پیچیدہ مالیکیولوں کی ساخت معلوم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان میں ایک مالیکول یا سالمہ ڈی این اے یعنی ڈی آکسی رائبو نیوکلیک ایسڈ (Deoxyribonucleic Acid) تھا۔ جس کی تصویرکیمبرج یونیورسٹی نے سائنسدانوں کے کامیابی سے حاصل کر لی تھی۔ ڈی این اے میں کسی جاندار چیز کے متعلق معلومات محفوظ ہوتی ہیں۔ ان معلومات کی بنیاد پر یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ جاندار کس قسم کا ہو گا۔ کئی سالوں تک ڈی این اے کے سالمے کی ساخت سائنسدانوں کے لیے ایک معما بنی رہی اور اس کے بغیر یہ جاننا ممکن نہ تھا کہ ڈی این اے کس طرح نئے جاندار کی نشورنما کے متعلق معلومات کو آگے منتقل کرتا ہے۔
جیمز ڈی واٹسن ، فروری 2003ء)
  • واٹسن ایک اور سائنسدان کرک کے ساتھ مل کر ڈی این اے کی ساخت معلوم کرنے میں مصروف ہو گیا۔ انہوں نے ایکس رے سے حاصل ہونے والی معلومات کا جائزہ لینا شروع کیا۔ اور تمام معلومات کی روشنی میں چھوٹی چھوٹی گولیوں اور تنکوں کی مدد سے ڈی این اے کا ماڈل بنانے کی کوشش کی۔ اس کے نتیجے میں ان دونوں کو نوبل انعام سے بھی نوازا گیا۔
  • ان دنوں سائنسدانوں کے درمیان ڈی این اے کی ساخت معلوم کرنے کے لیے مقابلہ بڑا سخت تھا اور کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ پہلے ڈی این اے کی ساخت معلوم کرنے کا اعزاز کون حاصل کرتا ہے۔ بالآخر واٹسن اور کرک نے محسوس کیا کی ڈی این اے کا سالمہ یقیناً ایک دوہرے لچھے کی شکل کا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے دو سپرنگ ایک دوسرے کے گرد لپٹے ہوئے ہوں۔ انہوں نے اپنی تحقیق کے نتائج ایک رسالے میں شائع کرا دیے۔ ان کی دریافت کردہ ڈی این اے کی ساخت کیمیائی طور پر قابل قبول ہوئی۔

واٹسن بعد میں امریکہ چلا گیا جہاں اس نے ڈی این اے پر کام جاری رکھا۔ 1968ء میں اسے نیویارک کی ایک تجربہ گا کا ڈائریکٹر بنا دیا گیا۔ بعد ازاں اس نے نیشنل انسیٹیوٹ آف ہیلتھ واشنگٹن میں ایک منصوبے کی قیادت کی جس کا مقصد انسانی جسم میں موجود تمام جینز کی مقامات کی تلاش کرنا اور انہیں سمجھنا تھا۔

  1. آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی: https://tools.wmflabs.org/wikidata-externalid-url/?p=345&url_prefix=http://www.imdb.com/&id=nm0914677 — اخذ شدہ بتاریخ: 16 اکتوبر 2015
  2. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w6pc3ns4 — بنام: James Watson — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. ^ 3.0 3.1 دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/Britannica_Academic,_s.v._"James_Watson,"
  4. Capecchi، Mario (1967)۔ On the Mechanism of Suppression and Polypeptide Chain Initiation۔ Harvard University۔ 
  5. ^ 5.0 5.1 5.2 5.3 5.4 "Chemistry Tree - James D Watson Details"۔ academictree.org۔ اصل سے جمع شدہ 2015-01-22 کو۔ 
  6. Steitz، J (2011). "Joan Steitz: RNA is a many-splendored thing. Interview by Caitlin Sedwick". The Journal of Cell Biology 192 (5): 708–9. doi:10.1083/jcb.1925pi. PMID 21383073. 
  7. Hopkin، Karen (June 2005). "Bring Me Your Genomes: The Ewan Birney Story". The Scientist 19 (11): 60. 
  8. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11928929d — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  9. عنوان : DNA Discoverer James Watson Gives Advice on Success
  10. http://www.nobelprize.org/nobel_prizes/medicine/laureates/1962/
  11. https://www.nobelprize.org/nobel_prizes/about/amounts/
  12. WATSON, Prof. James Dewey۔ Who's Who۔ 2015 (online Oxford University Press ed.)۔ A & C Black, an imprint of Bloomsbury Publishing plc۔ http://www.ukwhoswho.com/view/article/oupww/whoswho/U39051۔  (رکنیت درکار)
  13. Cite error: حوالہ بنام formemrs کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  14. "Copley Medal"۔ Royal Society website۔ The Royal Society۔ اخذ کردہ بتاریخ April 19, 2013۔