جیمز ڈی واٹسن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
James Watson
James D Watson.jpg
James Watson
پیدائش James Dewey Watson6 اپریل 1928 (1928-04-06) ‏(88)[1]شکاگو, الینوائے, الینوائے, U.S.
قومیت American
میدان Genetics
ادارے
مادر علمی
مقالہ The Biological Properties of X-Ray Inactivated Bacteriophage (1951)
علمائی مشیر سیلواڈور لوریا
علمائی طلباء
دیگر قابل ذکر طلباء
وجہِ معروفیت برائے
اہم انعامات
شریک حیات Elizabeth Watson (née Lewis) (ش. 1968)
دستخط
ویب سائٹ
www.cshl.edu/gradschool/james-d-watson.html
  • جیمز ڈی واٹسن 1928ء میں امریکہ کے شہر شکاگو میں پیدا ہوئے۔
  • اس نے حیاتیات کی تعلیم امریکہ کی انڈیانا یونیورسٹی سے حاصل کی۔ 1951ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اس نے برطانیہ میں کیمبرج یونیورسٹی کی ایک تجربہ گاہ میں کام شروع کر دیا جہاں سائنسدان ایکس رے کرسٹیلو گرافی (X-Ray Crystallography) کی مدد سے پیچیدہ مالیکیولوں کی ساخت معلوم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان میں ایک مالیکول یا سالمہ ڈی این اے یعنی ڈی آکسی رائبو نیوکلیک ایسڈ (Deoxyribonucleic Acid) تھا۔ جس کی تصویرکیمبرج یونیورسٹی نے سائنسدانوں کے کامیابی سے حاصل کر لی تھی۔ ڈی این اے میں کسی جاندار چیز کے متعلق معلومات محفوظ ہوتی ہیں۔ ان معلومات کی بنیاد پر یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ جاندار کس قسم کا ہو گا۔ کئی سالوں تک ڈی این اے کے سالمے کی ساخت سائنسدانوں کے لیے ایک معما بنی رہی اور اس کے بغیر یہ جاننا ممکن نہ تھا کہ ڈی این اے کس طرح نئے جاندار کی نشورنما کے متعلق معلومات کو آگے منتقل کرتا ہے۔
جیمز ڈی واٹسن ، فروری 2003ء)
  • واٹسن ایک اور سائنسدان کرک کے ساتھ مل کر ڈی این اے کی ساخت معلوم کرنے میں مصروف ہو گیا۔ انہوں نے ایکس رے سے حاصل ہونے والی معلومات کا جائزہ لینا شروع کیا۔ اور تمام معلومات کی روشنی میں چھوٹی چھوٹی گولیوں اور تنکوں کی مدد سے ڈی این اے کا ماڈل بنانے کی کوشش کی۔ اس کے نتیجے میں ان دونوں کو نوبل انعام سے بھی نوازا گیا۔
  • ان دنوں سائنسدانوں کے درمیان ڈی این اے کی ساخت معلوم کرنے کے لیے مقابلہ بڑا سخت تھا اور کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ پہلے ڈی این اے کی ساخت معلوم کرنے کا اعزاز کون حاصل کرتا ہے۔ بلآخر واٹسن اور کرک نے محسوس کیا کی ڈی این اے کا سالمہ یقیناً ایک دوہرے لچھے کی شکل کا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے دو سپرنگ ایک دوسرے کے گرد لپٹے ہوئے ہوں۔ انہوں نے اپنی تحقیق کے نتائج ایک رسالے میں شائع کرا دیے۔ ان کی دریافت کردہ ڈی این اے کی ساخت کیمیائی طور پر قابل قبول ہوئی۔

واٹسن بعد میں امریکہ چلا گیا جہاں اس نے ڈی این اے پر کام جاری رکھا۔ 1968ء میں اسے نیویارک کی ایک تجربہ گا کا ڈائریکٹر بنا دیا گیا۔ بعد ازاں اس نے نیشنل انسیٹیوٹ آف ہیلتھ واشنگٹن میں ایک منصوبے کی قیادت کی جس کا مقصد انسانی جسم میں موجود تمام جینز کی مقامات کی تلاش کرنا اور انہیں سمجھنا تھا۔

  1. WATSON, Prof. James Dewey. Who's Who. 2015 (online Oxford University Press ed.). A & C Black, an imprint of Bloomsbury Publishing plc. http://www.ukwhoswho.com/view/article/oupww/whoswho/U39051.  (رکنیت درکار)
  2. Capecchi، Mario (1967). On the Mechanism of Suppression and Polypeptide Chain Initiation. Harvard University. 
  3. ^ 3.0 3.1 3.2 3.3 3.4 "Chemistry Tree - James D Watson Details". academictree.org. اصل سے جمع شدہ 2015-01-22 کو. 
  4. Steitz، J (2011). "Joan Steitz: RNA is a many-splendored thing. Interview by Caitlin Sedwick". The Journal of Cell Biology 192 (5): 708–9. doi:10.1083/jcb.1925pi. PMID 21383073. 
  5. Hopkin، Karen (June 2005). "Bring Me Your Genomes: The Ewan Birney Story". The Scientist 19 (11): 60. 
  6. خطا در حوالہ: حوالہ بنام formemrs کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  7. "Copley Medal". Royal Society website. The Royal Society. اخذ کردہ بتاریخ April 19, 2013.