ہر برٹ سپنسر گیسر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ہر برٹ سپنسر گیسر
(انگریزی میں: Herbert Spencer Gasser خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Herbert Spencer Gasser nobel.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 5 جولا‎ئی 1888[1][2][3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات 11 مئی 1963 (75 سال)[4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
نیویارک شہر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ امریکا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
رکن رائل سوسائٹی،  رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز،  قومی اکادمی برائے سائنس،  امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون،  امریکن فلوسوفیکل سوسائٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن (P463) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مقام_تدریس Rockefeller University
کورنیل یونیورسٹی
Washington University in St. Louis
مادر علمی یونیورسٹی آف وسکونسن–میڈیسن
جامعہ جونز ہاپکنز  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ طبیب،  استاد جامعہ،  ماہر نفسیات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان انگریزی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل فعلیات
اعزازات

ہر برٹ سپنسر گیسرایک امریکی ماہر عصبیات تھے جنھوں نے 1944 کا نوبل انعام برائے طب و فعلیات حاصل کیا۔ انھوں نے پتہ لگایا تھا کہ انسانی جسم میں پیغام ایک سے دوسرے حصے میں کیسے پہنچتا ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اجازت نامہ: CC0
  2. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Herbert-Spencer-Gasser — بنام: Herbert Spencer Gasser — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  3. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w64q7w4h — بنام: Herbert Spencer Gasser — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. اجازت نامہ: CC0
  5. http://www.nobelprize.org/nobel_prizes/medicine/laureates/1944/
  6. https://www.nobelprize.org/nobel_prizes/about/amounts/
  7. Adrian، L. (1964). "Herbert Spencer Gasser 1888-1963". Biographical Memoirs of Fellows of the Royal Society 10: 75–26. doi:10.1098/rsbm.1964.0005.