شہاب الدین النویری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


شہاب الدین النویری
(عربی میں: شهاب الدين النويري خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
معلومات شخصیت
پیدائش 5 اپریل 1279  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
اخمیم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 5 جون 1333 (54 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
قاہرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Mameluke Flag.svg سلطنت مملوک  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ الازہر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مؤرخ،  قاموس نگار،  خطاط،  شاعر،  ادیب،  مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
کارہائے نمایاں نہایۃ الارب فی فنون الادب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کارہائے نمایاں (P800) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

شہاب الدین النویری (پیدائش: 5 اپریل 1279ء— وفات: 5 جون 1333ء) مصر کے مسلم ماہر دائرۃ المعارف، محقق، خطاط، شاعر، ادیب اور مؤرخ تھے۔

سوانح[ترمیم]

النویری کی پیدائش 21 ذوالقعدہ 677ھ مطابق 5 اپریل 1279ء کو ہوئی۔ بعض مؤرخین کے مطابق النویری قوص میں پیدا ہوئے تھے، البتہ اخمیم کا حوالہ مستند ثابت ہوتا ہے۔النویری موجودہ مصری ضلع محافظہ بنی سیوف کے گاؤں النویرہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ابتدائی تعلیم کے متعلق حقائق پردۂ اخفا میں ہیں لیکن اُنہوں نے تعلیم جامعۃ الازہر میں حاصل کی۔ تفسیر، حدیث، عربی ادب اور تاریخ سے متعلق اپنے عہد کے ممتاز علما سے تحصیل علم کیا۔ عہد شباب میں وہ بطور خطاط کے کام کرنے لگے۔ عربی زبان میں ادب سے خاصا شغف تھا اور عربی کتب کی خطاطی سے وہ بہترین معاوضہ حاصل کیا کرتے تھے۔ خوشخطی اور خوش نویسی میں کمالِ مہارت حاصل تھا اور النویری کے ہاتھ کا لکھا ہوا صحیح بخاری کا ایک نسخہ ایک ایک ہزار دینار میں فروخت ہوتا تھا۔ جامعۃ الازہر سے تحصیل علم سے فراغت پائی تو سلطان ملک الناصر بن قلاوؤن کے ندیم خاص کی حیثیت سے تقرری ہوئی۔ سلطان الناصر کی نظر عاطفت اور اپنی قابلیت و لیاقت کی بنا پر جلیل القدر مناصب پر فائز ہوتے رہے۔ ہر کام کو نہایت خوبی کے ساتھ انجام دیا اور کوتوال، محصل اور ناظر جیسے عہدوں سے گزرتے ہوئے طرابلس الغرب کے لشکر کی سپہ سالاری حاصل کی۔ سلطان الناصر کے بعض مخصوص اُمور میں اُن کے نائب بھی رہے۔ مختلف علمی، مالی اور سیاسی اِداروں میں کام کرنے کی وجہ سے اُن کی علمی وسعت و نظر بہت زیادہ ہو گئی تھی، چنانچہ اُن کی تصنیف اِس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اُنہیں یہ خشک زِندگی پسند نہ آئی اور وہ جلد ہی سلطانی مراتب و مناصب سے الگ ہو کر درس و تدریس اور علوم و فنون کے مطالعہ میں مشغول ہو گئے۔[1][2][3][4] باقی تمام عمر تصنیف و تالیف اور درس و تدریس میں بسر کی۔

وفات[ترمیم]

النویری نے 54 سال شمسی کی عمر میں بروز منگل 5 جون 1313ء کو قاہرہ میں وفات پائی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تقی الدین المقریزی: السلوک، جلد 2، صفحہ 363۔
  2. ابن تغری بردی: النجوم الزاھرہ، جلد 9، صفحہ 299۔
  3. ابن تغری بردی: المنہل الصافی، جلد 1، صفحہ 361۔
  4. جلال الدین سیوطی: حسن المحاضرہ، جلد 1، صفحہ 266۔