مندرجات کا رخ کریں

صوبہ میدان وردک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
میدان وردک
Wardak

ميدان وردگ
صوبہ
صوبہ میدان وردک
صوبہ میدان وردک
افغانستان کے نقشے پر صوبہ میدان وردک
افغانستان کے نقشے پر صوبہ میدان وردک
ملک افغانستان
دار الحکومتمیدان شہر
حکومت
 • گورنرمحمد حلیم فاائی
رقبہ
 • کل9,934 کلومیٹر2 (3,836 میل مربع)
آبادی (2013)
 • کل567,600
 • کثافت57/کلومیٹر2 (150/میل مربع)
منطقۂ وقتUTC+4:30
آیزو 3166 رمزAF-WAR
اہم زبانیںپشتو
دری

وردک کو وردگ بھی کہا جاتا ہے یہ ایک افغان (پشتون) قبیلہ ہے جو زیادہ تر افغانستان میں رہتے ہیں خاص طور پر یہ صوبہ میدان وردک میں رہتے ہیں۔

تاریخ کے پس منظر میں وردگ کون ہے

وردک دراصل کرلانڑی قبیلہ کی شاخ ہیں۔ کچھ لوگ غلطی سے انھیں سیّد گردانتے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں سیّد پشتونوں میں نہیں ہو سکتے جیسا کہ اب ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔ سیّدوں کا اگر اک آدھ خاندان کسی گاؤں میں ہو بھی، تو اس حوالہ سے گاؤں والوں کو معلوم ہوتا ہے ۔ وردکوں میں جس گاؤں میں سیّد آباد ہیں، ان کے بارے میں سب کو علم ہے اور لوگ ان کا احترام بھی کرتے ہیں۔ تمام وردک اب سیّد ہیں، نہ اس سے پہلے کبھی تھے ۔ اس حوالہ سے خورشید جہان نے تاریخ میں جو کچھ چھوڑا ہے ، وہ افسانے کے علاوہ کچھ نہیں۔ وردک کی قِبلہ کی طرف سرحد ہزارہ کے علاقوں سے لگی ہوئی ہے اور باقی تینوں اطراف کی سرحدیں غلجی کے ساتھ لگی ہوئی ہیں۔ ان کا علاقہ پہاڑوں کے بیچ واقع ہے۔ مشرق اور قبلہ رُخ پہاڑ ہی پہاڑ ہیں۔ تنگی، شیخ آباد، سید آباد، خوات، سہ آب، جغتو، تکیہ اور چک یہاں کے مشہور گاؤں ہیں۔ وردکوں کا علاقہ اچھا اور آباد ہے ۔ فصلِ خریف مقدار میں تھوڑی سی ہوتی ہے۔ چاول بھی یہاں پیدا ہوتا ہے۔ اس علاقہ کا موٹا چاول بطورِ خاص مشہور ہے۔ یہاں کے لوگ مضبوط تن و توش کے مالک اور غیرت مند ہیں۔ یہاں نامور لوگ ہو گذرے ہیں، جن میں محمد جان خان غازی قابلِ ذکر ہیں۔ محمد جان خان غازی دوسری افغان انگریز جنگ کے مشہور فاتح غازی کہلائے، جنہیں بعد میں امیر عبد الرحمان نے شہید کیا۔ وردکوں میں میرخیل تعداد کے لحاظ سے سب سے زیادہ ہیں۔ ان کے بعد مہیاروں اور نورزی یا نوری قبیلہ کی تعداد زیادہ ہے ۔ وردک کے بعض لوگ موضع چچ (چچ ہزارہ) میں بھی بستے ہیں۔ بعض کنڑ (افغانستان) کے علاقہ ’’اسمار‘‘ میں بھی بستے ہیں۔ (م، ج سیال مومند کی تالیف شدہ کتاب ’’د پختنو قبیلو شجری‘‘ ناشر یونیورسٹی بک ایجنسی پشاور دوسرا ایڈیشن فروری 2015ء، صفحہ 252 تا 254 کا اردو ترجمہ)

حوالہ جات

[ترمیم]