طلقاء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

«طُلَقَاء» اسمِ طَلِیق کی جمع ہے۔ طلیق کے لغوی معنی رہا یا آزاد شدہ کے ہیں۔ ایسا شخص جو قابو میں آگیا ہو، پکڑا جا چکا ہو، گرفتار کیا جا چکا ہو لیکن اسے بوجوہ چھوڑ دیا گیا ہو۔[1][2] اور اصطلاح میں طلقاء ان اشخاص کے لیے استعمال ہوتا ہے جو فتح مکہ کے بعد ایمان لائے مثلاً جبیر بن مطعم، عکرمہ بن ابوجہل، عتاب بن اسید، صفوان بن امیہ، مطیع بن اسود، حکیم بن حزام، حارث بن ہشام اور حکم بن ابی العاص اور دیگر اہل مکہ جو اس شہر کے فتح ہوجانے کے بعد داخل دین اسلام ہوئے اور رسول اکرم صلی الله علیه و آلہ وسلم نے کمال مہربانی و شفقت سے انہیں آزاد کر دیا تھا حالانکہ وہ لوگ مستحق مواخذہ اور سزا تھے لیکن نبی اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں امان بخشی اور کچھ باز پرس نہ کی۔[3]ایک روایت کے مطابق یہ وہ لوگ تھے جو پیغمبر اسلام صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شدید مخالف تھے اور فتح مکہ کے بعد بہ اکراہ مسلمان ہوئے اور نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے از راہ لطف و کرم ان سے باز پرس نہ کی اور انہیں طلقاء یعنی آزاد شدہ کہا۔ [4] چودھویں صدی کے شیعہ عالم سید محمد حسین تہرانی لکھتے ہیں ؛ طلقاء فتح مکہ سے پہلے کہا کرتے تھے کہ محمد صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی قوم کے ساتھ چھوڑ دو، اگر وہ ان پر غالب آگئے تو ہم بھی اسلام لے آئیں گے اور اگر یہ لوگ محمد صل اللہ علیہ وآلہ وسلم پر فتحیاب ہوئے تو ہمیں ان سے نجات مل جائیگی۔ [5] بعض روایات میں ان لوگوں کو " مسلمانان فتح مکہ " بھی کہا گیا ہے۔ [6]

طبری نے اس بارے میں لکھا ہے : «اللہ نے پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی جانوں پر تسلط عطا کیا؛ کیونکہ وہ اسیر اور ان کے مال غنیمت تھے ؛ لیکن آنحضرت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا ؛ اسی وجہ سے مکہ کے لوگوں کو طُلَقَاء یعنی آزاد شدہ کہا جاتا ہے۔»[7]

مدینہ میں اسلامی حکومت کی تشکیل کے فورا بعد ہی مسلمانوں اور قریش میں رقابت و تنازعات کا آغاز ہو گیا تھا۔ غزوہ بدر، احد و خندق اس دور کی اہم ترین جنگیں تھیں جو رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کفار قریش کے خلاف لڑیں۔ اورخاتم انبیا صلی الله علیه و آله وسلم نے بالآخر ہجرت کے آٹھویں سال مکہ کو فتح کیا۔[8]

تعداد و مشاہیر[ترمیم]

تاریخی روایات کی بنیاد پر طلقاء کی تعداد دو ہزار سے زائد بیان کی گئی ہے۔[9] اسی طرح تاریخ میں درج ان کچھ ناموں کا ذکر ہے ، جیسے کہ سہیل بن عمرواور حویطب بن عبد العزی [10] جبیر بن مطعم، عکرمہ بن ابوجہل، عتاب بن اسید، صفوان بن امیہ، مطیع بن اسود، حکیم بن حزام، حارث بن ہشام اور حکم بن ابی العاص[11] کو بھی طلقاء میں شمار کیا گیا ہے۔


اہل سنت عالم دین حسن بن فرحان مالکی نے طُلَقَاء کو مقام و منزلت کے اعتبار سے تین گروہوں میں تقسیم کیا ہے:

  • پہلا گروہ ان لوگوں کا تھا جن کی درستی ایمان پر پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم مطمئن تھے لیکن انہیں مؤلفہ قلوب جیسی کوئی چیز نہ دی مثلاً عکرمہ بن ابو جہل، عتاب بن اسید اور جبیر بن مطعم
  • دوسرا گروہ ان لوگوں پر مشتمل ہے جنہیں رسول کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تالیف قلوب کے لیے اموال وغیرہ دیے؛ جن میں یہ لوگ شامل ہیں ؛ صفوان بن امیہ اور مطیع بن اسود اور اس گروہ کو طلقاء میں کم ترین مرتبہ کا حامل سمجھا جاتا ہے۔
  • تیسرا گروہ ان دونوں کے مابین ہے جس میں حارث بن ہشام، سہیل بن عمرو اور حکیم بن حزام شامل ہیں۔[12]

مقتولین فتح مکہ[ترمیم]

حضرت رسول صلی الله علیه و آله وسلم نے فتح مکہ کے بعد ان لوگوں کے نام لیے جو آنحضرت رسول صلی الله علیه و آله اور مسلمانوں کے شدید ترین دشمن تھے اور فرمایا کہ انہیں قتل کر دیا جائے۔ ابن ہشام اس بارے میں لکھتا ہے: «‌رسول‌ خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے لشکر اسلامی کے کمانداروں کو حکم دیا تھا کہ کسی سے بھی الجھا نہ جائے ما سوائے ان لوگوں کے جن کے قتل کا حکم آنحضرت رسول صلی الله علیه و آله نے دیا تھا ؛ یہانتک کہ اگر وہ لوگ غلاف کعبہ میں بھی چھپے ہوں »[13]

واقعات[ترمیم]

فتح کے بعد جب نبی اکرم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ میں داخل ہو گئے تو مسجد الحرام میں تشریف لائے اور اس کا طواف کیا۔ اثنائے طواف کعبہ کے ارد گرد موجود بتوں کو اپنے پاس موجود تیر سے گراتے اور پڑھتے جاتے: «جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا»[14] و«جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ»،[15] "جاء الحق و زھق الباطل ان الباطل کان زھوقا" (ترجمہ: حق آن پہنچا اور باطل مٹ گیا اور یقیناً باطل ایسی ہی چیز ہے جو مٹنے والی ہے) اور پڑھتے "جاء الحق وما يبدئ الباطل وما يعيد" (ترجمہ: حق آچکا ہے اور باطل میں نہ کچھ شروع کرنے کا دم ہے، نہ دوبارہ کرنے کا)۔ کعبہ میں بتوں کی تصویریں آویزاں اور ان کے مجسمے نصب تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو بھی ہٹانے اور توڑنے کا حکم دیا جس کی تعمیل کی گئی، جب نماز کا وقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بلال ابن رباح کو حکم فرمایا کہ کعبہ کے اوپر چڑھ جائیں اور اذان دیں؛ بلال کعبہ کے اوپر چڑھے اور اذان دی۔

معافی[ترمیم]

صحن حرم میں نبی اکرم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہل مکہ سے فرمایا “ تم لوگ کیا گمان کرتے ہو اور کیا کہتے ہو” اس پر سہیل بن عمرو نے کہا “ ہم آپ سے نیک گمان رکھتے ہیں اور اچھی بات کہتے ہیں۔ آپ جواں مرد ہیں اور ہمارے بزرگ اور چچا زاد بھی ہیں۔ اور آج آپ سب پر فتح یاب ہوئے ہیں۔ “ اس پر آنحضرت نے فرمایا” میں آج تم سے وہی بات کہتا جو میرے بھائی یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کہی تھی ، لا تَثْرَيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ ؛ اور اس کے بعد آپ نے انہیں معاف کر دیا۔ [16] تیسری صدی ہجری کے مورخ احمد بن یحیی بلاذری اپنی کتاب انساب الاشراف میں لکھتے ہیں ؛ حضرت عمر بن خطاب ، طلقاء اور ان کے بیٹوں کو خلافت کا اہل نہیں سمجھتے تھے۔[17]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ابن‌منظور، لسان العرب، ج10، ص227. طلیق - فعیل به معنای مفعول - و هوالأسیر إذا أطلق سبیله. مقریزی، تقی‌الدین؛ إمتاع الأسماع، بیروت، دار‌الکتب العلمیة، 1420، طبع اول، ج8، ص388.
  2. معجم المعانی
  3. الطلقاء، یعنی الذین خلی عنهم یوم فتح مکة و أطلقهم، فلم یسترقهم. مقریزی، اولین، ج8، ص388 و ابن‌ابی‌الحدید، شرح نهج البلاغه، دار احیاء الکتب العربیه، ج1، ص31.
  4. مقریزی، إمتاع الأسماع، 1420ق، ج1، ص391
  5. حسینی تهرانی، امام‌شناسی، 1426ق، ج18، ص280
  6. مالکی، الصحبة و الصحابة، 1422ق، ص192.
  7. طبری، محمد بن جریر؛‌ تاریخ الأمم والملوک،‌ بیروت، دارالتراث، ‌1387 ش، طبع دوم‌، ج3، ص61.
  8. مسعودی، علی بن حسین؛ مروج الذهب، قم، دارالهجره، 1409ق، طبع دوم، ج2، ص290.
  9. مقدسی، البدء و التاریخ، مکتبة الثقافة الدینیه، ج4، ص236.
  10. حسینی تهرانی، امام‌شناسی، 1426ق، ج18، ص280.
  11. مالکی، الصحبة و الصحابة، 1422ق، ص192-193.
  12. مالکی، الصحبة و الصحابة، 1422ق، ص192-193
  13. ابن‌هشام حمیری؛ السیرة النبویه، مکتبه محمدعلی صبیح و اولاده، 1383ش، ج4، ص51 و طبرسی، فضل بن حسن؛ اعلام الوری، قم آل البیت، 1417ق، طبع اول، ج1، ص224.
  14. سورة الإٍسراء، الآية: 81
  15. سورة سبأ، الآية: 49
  16. یعقوبی، پیشین، ج1، ص420 و ذهبی، محمد بن احمد؛ تاریخ الاسلام، بیروت، دارالکتاب العربی، 1413ق، چاپ دوم، ج2، ص546.
  17. بلاذری، جمل من انساب الاشراف، 1417ق، ج 10، ص434-435؛ ابن حجر عسقلانی، الإصابة، 1415ق، ج4، ص70..