فیصل بن مساعد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
فیصل بن مساعد بن عبدالعزیز
(عربی میں: الکیر الخر خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
معلومات شخصیت
پیدائش 4 اپریل 1944(1944-04-04)
ریاض  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 18 جون 1975(1975-60-18) (عمر  31 سال)
ریاض  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات سر قلم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Saudi Arabia.svg سعودی عرب[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
والد مساعد بن عبدالعزیز آل سعود
والدہ وطفاء بنت محمد آل رشید
خاندان آل سعود  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں خاندان (P53) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کولوراڈو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت شاہ سعود یونیورسٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
الزام
جرم شاہ کش  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں جرم (P1399) ویکی ڈیٹا پر

فیصل بن مساعد بن عبد العزیز آل سعود (عربی: فيصل بن مساعد بن عبد العزيز آل سعود) مساعد بن عبدالعزیز آل سعود کا بیٹا اور اپنے تایا شاہ فیصل بن عبدالعزیز آل سعود کا قاتل تھا۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

فیصل بن مساعد 1944ء کو پیدا ہوا۔[2] اس کا والد مساعد بن عبدالعزیز آل سعود جو شاہ فیصل بن عبدالعزیز آل سعود کا سوتیلا بھائی تھا۔ اس کی والدہ وطفاء بنت محمد آل رشید تھی جو امارت جبل شمر کے آخری امیر محمد بن طلال کی بیٹی تھی۔ اس کے والدین کی طلاق ہو گئی تھی۔ وہ اس کے بھائی اور بہنیں اپنے خاندان آل سعود کی نسبت اپنے ماں کے خاندان آل رشید سے زیادہ قریب تھے۔[3]

1966ء میں شاہ فیصل بن عبدالعزیز نے ریاض میں نیا ٹیلی ویژن اسٹیشن قائم کیا جس کی مخالفت وہاں کے مذہبی حلقوں سے کی جا رہی تھی۔[4] اسی سال ٹیلی ویژن اسٹیشن پر حملے کے دوران فیصل بن مساعد کا بڑا بھائی خالد [5] ہلاک ہو گیا۔[6] اس کی موت کی تفصیلات متنازع رہی ہیں۔ بعض رپورٹوں کے مطابق وہ اپنے ہی گھر کے باہر گرفتاری پر مزاحمت کرتے ہوئے مارا گیا۔

تعلیم[ترمیم]

فیصل 1966ء میں امریکا آیا اور انگریزی تعلیم کے حصول کے لیے سان فرانسسکو اسٹیٹ کالج میں داخلہ لیا۔ سان فرانسسکو کے امریکی زبان کے انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر آلس بینس (Allis Bens) نے اس کے بارے میں کہا "وہ دوستانہ اور شائستہ اور اچھی پرورش کا حامل تھا۔ میں واقعی اس بارے میں بہت حیران ہوں" [7] فیصل سان فرانسسکو میں تھا جبکہ اس کا بھائی خالد جاں بحق ہوا۔ سان فرانسسکو اسٹیٹ کالج چھوڑنے کے بعد فیصل یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے اور پھر یونیورسٹی آف کولوراڈو بولڈر میں گیا۔ یونیورسٹی میں اس کے ساتھی اسے ایک خاموش، قابلِ رغبت، مطالعہ کا شوق نہ رکھنے والا نوجوان بتاتے ہیں۔[8] یونیورسٹی آف کولوراڈو کے پروفیسر ایڈورڈ روزیک (Edward Rozek) جس نے اسے تین تقابلی حکومتی کورسز پڑھائے کا کہنا ہے کہ وہ "تعلیمی طور پر ڈی اور سی کے طالب علم" تھا۔

1969ء میں جب وہ بولڈر میں ہی تھا جب اسے ایل ایس ڈی فروخت کرنے کی سازش میں گرفتار کیا گیا۔ اس پر جرم ثابت ہوا اور اسے ایک سال کے لیے آزمائشی مدت پر رکھا گیا۔[9] مئی 1970ء میں ڈسٹرکٹ اٹارنی کے الزامات ختم کر دیے۔[8]

1971ء میں اس نے یونیورسٹی آف کولوراڈو سے سیاسیات میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی اور پھر سان فرانسسکو کے ساحلی علاقے میں واپس آگیا۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے میں اس نے سیاسیات میں گریجویٹ کورسز میں داخلہ لیا لیکن ایک ماسٹر کی ڈگری حاصل نہیں کر سکا۔[9]

امریکا کے بعد[ترمیم]

ریاستہائے متحدہ چھوڑنے کے بعد وہ نے بیروت چلا گیا۔ نامعلوم وجوہات کی بنا پر وہ بھی مشرقی جرمنی بھی گیا۔ جس وہ سعودی عرب واپس آیا تو سعودی حکام بیرون ملک اس کے معاملات کی وجہ سے اس کا پاسپورٹ ضبط کر لیا۔ اس نے شاہ سعود یونیورسٹی، ریاض میں پڑھانا شروع کر دیا۔ وہ اپنی گرل فرینڈ، کرسٹین سورما (Christine Surma) کی کے ساتھ رابطے میں رہا، جو قتل کے وقت 26 سال کی تھی۔[6] کرسٹین سورما کا مقصد "اسرائیل کے ساتھ امن کے حصول میں" سعودی مفاد کو دیکھنا تھا جو حکمران شاہ فیصل بن عبدالعزیز ہوتے ممکن نظر نہیں آتا تھا۔[10]

قتل اور مقدمہ[ترمیم]

شاہی محل میں فائرنگ[ترمیم]

25 مارچ 1975ء کو وہ ریاض کے شاہی محل میں گیا جہاں اس وقت شاہ فیصل بن عبدالعزیز ایک میٹنگ کا انعقاد کیا تھا جسے مجلس کہا جاتا ہے۔ وہ کویتی وفد میں شامل ہو کر بادشاہ سے ملنے کے لیے لائن میں کھڑا ہو گیا۔ شاہ فیصل نے اپنے بھتیجے کو پہچان لیا اور اپنا سر جھکایا تا کہ احترام کی ایک علامت کے طور پر سر کا بوسہ لے سکے۔ تاہم فیصل بن مساعد نے اپنے لباس میں چھپے پستول کو نکال کر شاہ فیصل سر میں دو گولیاں مار دیں۔ اس کی تیسری گولی نشانے پر نہیں لگی اور اس نے پستول پھینک دی۔ شاہ فیصل فرش پر گرے۔ تلواروں اور مشین گنوں سے مسلح محافظوں نے فیصل بن مساعد کو گرفتار کر لیا۔[8] شاہ فیصل کو فوری طور پر ہسپتال کے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔ قتل کے وقت سعودی ٹیلی ویژن کا عملہ موجود تھا جو اجلاس کی ریکارڈنگ کر رہا تھا جس میں پورے قتل کا واقع بھی ریکارڈ ہوا۔[11]

قید اور سزائے موت[ترمیم]

ابتدائی رپورٹوں کے مطابق فیصل بن مساعد ذہنی طور پر الجھاو کا شکار تھا۔ اسے ریاض جیل میں منتقل کر دیا گیا۔[8] تاہم، بعد میں اسے با شعور تصور کرتے ہوئے اس پر مقدمہ چلایا گیا۔[12]

شرعی عدالت نے 18 جون کو فیصل بن مساعد کو بادشاہ کے قتل کا مجرم پایا اور اس کے چند گھنٹوں بعد اس سرعام اس کو سر قلم کر دیا گیا۔[13] اس کے بھائی بندر ایک سال کے لیے قید میں رکھا گیا اور بعد میں رہا کر دیا گیا۔[3] لاوڈسپیکر والی گاڑیاں ریاض میں گشت کر کے سزائے موت کا اعلان کرتی رہیں تا کہ ہجوم چوک میں جمع ہو جائے۔[13] فیصل بن مساعد کو سزائے موت کے مقام پر ایک سپاہی لے کر آیا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ڈگمگاتے ہوئے اس مقام تک پہنچا۔[13] سفید ثوب میں ملبوس آنکھوں پر پٹی پہنے ہوئے فیصل بن مساعد کو سر تلوار کے ایک وار سے قلم کر دیا گیا۔[13]

محرکات[ترمیم]

بیروت اخباروں نے منشیات کے استعمال کو قتل کا ایک محرک قرار دیا۔ سعودی حکام کے مطابق یہ منصوبہ بندی کے تحت دانستہ عمل تھا۔ ایسی فواہیں گردش میں رہیں کہ فیصل بن مساعد نے قتل کی منصوبہ بندی کے بارے میں اپنی ماں کو بتایا تھا اور اس کی ماں نے یہ بات شاہ فیصل کو بتا دی تھی جس پر شاہ فیصل نے کہا "اگر یہ اللہ کی مرضی تھی، تو یہ ہوگا" عرب میڈیا میں یہ بات گردش میں رہی کہ فیصل بن مساعد امریکی ایجینسی سی آئی اے کا آلہ کار تھا۔[8]

بیروت کے اخبارات نے قتل کے تین محرکات بیان کیے۔ لبنانی اخبار النھار نے اس کی ممکنہ وجہ شاہ سعود بن عبدالعزیز کا معزول کرنا ہو سکتا ہے کیونکہ فیصل بن مساعد کی شادی شاہ سعود کی بیٹی شہزادی سیتا اسی ہفتے ہوتا طے تھی۔[14] النھار نے یہ بھی لکھا کہ شاہ فیصل نے فیصل بن مساعد کی بار بار شکایات کو نظر انداز کیا جس میں اس نے کہا تھا کہ 3،500 امریکی ڈالر ماہانہ (مساوی 15,200 مریکی ڈالر ماہانہ بمطابق 2014ء) الاؤنس اس کے لیے ناکافی تھا جو اس قتل کا محرک ہو سکتا ہے۔[14] ایک اور لبنانی اخبار البيرق نے لکھا کہ قابل اعتماد سعودی ذرائع کے مطابق شاہ فیصل نے اسے شراب اور منشیات کے استعمال کی وجہ سے بیرون ملک جانے پر پابندی لگا دی تھی کو کہ قتل کی ممکنہ وجہ ہو سکتی ہے۔[14]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://murderpedia.org/male.M/m/musaid-faisal-bin.htm
  2. George Fetherling۔ The Book of Assassins: A Biographical Dictionary from Ancient Times to the Present۔ New York: Wiley۔ صفحہ 139۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 ستمبر 2013۔  – via Questia (رکنیت درکار)
  3. ^ ا ب Madawi Al Rasheed۔ Politics in an Arabian Oasis. The Rashidis of Saudi Arabia۔ New York: I. B. Tauirs & Co. Ltd.۔
  4. Boyd، Douglas A. (Winter 1970–71). "Saudi Arabian Television". Journal of Broadcasting 15 (1). 
  5. Ali، Tariq (2001). "Kingdom of corruption: Keeping an eye on the ball: the Saudi connection" (PDF). Index on Censorship 30: 14–18. doi:10.1080/03064220108536972. http://ipac.kacst.edu.sa/edoc/2010/184681_1.pdf۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 April 2012. 
  6. ^ ا ب Reported Killer of King Faisal Knew Drugs, Radicals, p. 5, AP The Journal, (Meriden, Connecticut), 25 March 1975. Retrieved 25 March 2015.
  7. Saudi Arabia's King Faisal Assassinated, p. 1, Lodi News-Sentinel, 26 March 1975. Retrieved 25 March 2015. – via news.google.com
  8. ^ ا ب پ ت ٹ "Saudi Arabia: The Death of A Desert Monarch"۔ Time۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ (رکنیت درکار (help))۔
  9. ^ ا ب "Prince tied to drugs as student in U.S."۔ Chicago Tribune۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 مارچ 2016۔
  10. Saudi Prince Beheaded. The News and The Courier, 19 June 1975.
  11. Ludington, Nick (27 March 1975) Public Execution is Expected The Daily News, p. 5. Retrieved 25 March 2015. – via news.google.com
  12. UPI (31 March 1975) Faisal's Slayer Will Stand Trial Milwaukee Sentinel, p. 2. Retrieved 25 March 2015. – via news.google.com
  13. ^ ا ب پ ت "Prince beheaded in public for King Faisal's murder.", The Times, London, 19 June 1975, p. 1
  14. ^ ا ب پ Motives for Slaying Offered The Daily News, p. 5. 27 March 1975. Retrieved 25 March 2015, via news.google.com