لعزر کو زندہ کرنا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بروکلین عجائب گھر میں موجود "یسوع کا لعزر کو زندہ کرنے" کی خیالی تصویر از مصور James Tissot

سیدنا یسوع دریائے یردن کے مشرقی کنارے پر جہاں یوحنا اصطباغی قتل ہونے سے پیشتر تبلیغ کیا کرتے تھے، درس دے رہے تھے کہ ایک قاصد بیت عنیاہ گاؤں کی بی بی مریم اور مرتھا کی طرف سے پیغام لے کر پہنچا کہ ہمارا بھائی لعزر سخت بیمار ہے۔ یہ سن کر یسوع مسیح قصداً دو دن اور اسی مقام پر بیماروں کو شفا اور عوام کو درس فرماتے رہے۔ اس کے بعد ہی آپ دریا عبور کر کے بیت عنیاہ کی طرف تشریف فرما ہوئے۔ رسولوں کو یہ دیکھ کر کہ یسوع یروشلم کے اس قدر نزدیک جا رہے ہیں بڑی تشویش ہوئی کیونکہ بیت عنیاہ یروشلم سے دو ہی میل کے فاصلہ پر تھا۔ چنانچہ انہوں نے کہا:

"اے ربی! ابھی تو یہودی تجھے سنگسار کرنا چاہتے تھے اور تو پھر وہاں جاتا ہے؟ یسوع نے جواب دیا کیا دن کے بارہ گھنٹے نہیں ہوتے؟ اگر کوئی دن کو چلے تو ٹھوکر نہیں کھاتا کیونکہ وہ دنیا کی روشنی دیکھتا ہے۔ لیکن اگر کوئی رات کو چلے تو ٹھوکر کھاتا ہے کیونکہ اس میں روشنی نہیں۔ اس نے یہ باتیں کہیں اور اس کے بعد ان سے کہنے لگا کہ ہمارا دوست لعزر سو گیا ہے لیکن میں اسے جگانے جاتا ہوں۔

"پس شاگردوں نے کہا اے خداوند! اگر سو گیا ہے تو بچ جائے گا۔ یسوع نے تو اس کی موت کی بابت کہا تھا مگر وہ سمجھے کہ آرام کی نیند کی بابت کہا۔ تب یسوع نے ان سے صاف کہہ دیا کہ لعزر مر گیا۔ اور میں تمہارے سبب سے خوش ہوں کہ وہاں نہ تھا کہ تم ایمان لاؤ لیکن آؤ ہم اس کے پاس چلیں"[1] ان کے ایک شاگرد توما (جنہیں توام کہتے تھے) نے یہ محسوس کیا کہ یسوع کا یروشلم کے قریب جانا کس قدر خطرناک ہے۔ انہوں نے تھوڑا ہی عرصہ پہلے یروشلم کے یہودی راہنماؤں کی نفرت اور غیظ و غضب کو دیکھا تھا کہ آپ کو قتل کرنے کی ٹھان رہے تھے۔ پس انہوں نے اسی سنگین خطرے کے پیش نظر دیگر شاگردوں سے کہا: "آؤ ہم بھی چلیں تاکہ اس کے ساتھ مریں"۔[2]

درج ذیل واقعہ ان تمام عجیب وغریب کا رہائے خیر اور معجزات سے جو یسوع نے اپنے مسیح موعود ہونے کے ثبوت میں کیے تھے۔ سب سے حیران کن ہے۔
"پس یسوع کو آکر معلوم ہوا کہ اسے قبر میں رکھے چار دن ہوئے بیت عنیاہ یروشلیم کے نزدیک قریباً دو میل کے فاصلہ پر تھا۔ اور بہت سے یہودی مرتھا اور مریم کو ان کے بھائی کے بارے میں تسلی دینے آئے تھے۔ پس مرتھا یسوع کے آنے کی خبر سن کر اس سے ملنے گئی۔ لیکن مریم گھر میں بیٹھی رہی۔
‎"مرتھا نے یسوع سے کہا اے خداوند! اگر تو یہاں ہوتا تو میرا بھائی نہ مرتا۔ اور اب بھی جانتی ہوں کہ جو کچھ تو خدا سے مانگے گا وہ تجھے دے گا۔"
سیدنا یسوع نے بی بی مرتھا سے فرمایا:
"تیرا بھائی جی اٹھے گا۔"
مرتھا نے آپ سے کہا
"میں جانتی ہوں کہ قیامت میں آخری دن جی اٹھے گا۔"
یسوع نے اس سے کہا:
"قیامت اور زندگی تو میں ہوں۔ جو مجھ پر ایمان لاتا ہے گو وہ مر جائے تو بھی زندہ رہے گا۔ اور جو کوئی زندہ ہے اور مجھ پر ایمان لاتا ہے وہ ابد تک کبھی نہ مرے گا، کیا تو اس پر ایمان رکھتی ہے؟
"اس نے اس سے کہا اے خداوند، میں ایمان لاچکی ہوں کہ خدا کا بیٹا مسیح جو دنیا میں آنے والا تھا تو ہی ہے۔
"یہ کہہ کر وہ چلی گئی اور چپکے سے اپنی بہن مریم کو بلا کر کہا استاد یہیں ہے اور تجھے بلاتا ہے۔ وہ سنتے ہی جلد اٹھ کر اس کے پاس آئی۔ (یسوع ابھی گاؤں میں نہیں پہنچا تھا بلکہ اسی جگہ تھا جہاں مرتھا اس سے ملی تھی)۔ پس جو یہودی گھر میں اس کے پاس تھے اور اسے تسلی دے رہے تھے یہ دیکھ کر کہ مریم جلد اٹھ کر باہر گئی اس خیال سے اس کے پیچھے ہولیے کہ وہ قبر پر رونے جاتی ہے۔
"جب مریم اس جگہ پہنچی جہاں یسوع تھا اور اسے دیکھا تو اس کے قدموں میں گر کر اس سے کہا اے خداوند! اگر تو یہاں ہوتا تو میرا بھائی نہ مرتا۔
"جب یسوع نے اسے اور ان یہودیوں کو جو اس کے ساتھ آئے تھے روتے دیکھا تو دل میں نہایت رنجیدہ ہوا اور گھبرا کر کہا تم نے اسے کہا رکھا ہے؟
"انہوں نے کہا اے خداوند! چل کر دیکھ لے۔ یسوع کے آنسو بہنے لگے۔ پس یہودیوں نے کہا دیکھو وہ اس کو کیسا عزیز تھا۔ لیکن ان میں سے بعض نے کہا کیا یہ شخص جس نے اندھے کی آنکھیں کھولیں اتنا نہ کرسکا کہ یہ آدمی نہ مرتا؟ یسوع پھر اپنے دل میں نہایت رنجیدہ ہوکر قبر پر آیا۔ وہ ایک غار تھا اور اس پر پتھر دھرا تھا۔"[3] اور جلد ہی آپ بہ نفس نفیس قبر سے زندہ ہو کر اپنے اس دعوے کی صداقت پر مہر لگانے والے تھے۔ چنانچہ آپ نے لعزر کی قبرپر کھڑے ہوکر فرمایا:
"پتھر کو ہٹاؤ۔ اس مرے ہوئے شخص کی بہن مرتھا نے اس سے کہا اے خداوند! اس میں سے تو اب بدبو آتی ہے کیونکہ اسے چار دن ہو گئے۔ یسوع نے اس سے کہا کیا میں نے تجھ سے کہا نہ تھا کہ اگر تو ایمان لائے گی تو خدا کا جلال دیکھے گی؟ پس انہوں نے اس پتھر کو ہٹادیا۔" پھر یسوع نے آنکھیں اٹھا کر کہا۔
"اے باپ میں تیرا شکر کرتا ہوں کہ تو نے میری سن لی۔ اور مجھے تو معلوم تھا کہ تو ہمیشہ میری سنتا ہے مگر ان لوگوں کے باعث جو آس پاس کھڑے ہیں میں نے یہ کہا تاکہ وہ ایمان لائیں کہ تو ہی نے مجھے بھیجا ہے۔ اور یہ کہہ کر اس نے بلند آواز سے پکارا کہ اے لعزر نکل آ۔ جو مرگیا تھا وہ کفن سے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے نکل آیا اوراس کا چہرہ رومال سے لپٹا ہوا تھا۔ یسوع نے ان سے کہا اسے کھول کر جانے دو۔"
صاحب کرامات سیدنا مسیح کا یہ عظیم الشان اور بے مثل اعجاز دیکھ کر ان یہودیوں میں سے جو بی بی مریم کے ساتھ آئے تھے متعدد ایمان لائے۔ لیکن ان میں سے چند بد باطن اشخاص نے اس واقعہ کے بارے میں جاکر فریسیوں کو خبر دی اور انہیں یسوع المسیح کے خلاف اکسایا۔
چنانچہ سردار کاہن اور فریسیوں نے فوراً اپنی مجلسِ عالیہ کا اجلاس طلب کرکے کہا:
"ہم کرتے کیا ہیں؟ یہ آدمی تو بہت معجزے دکھاتا ہے۔ اگر ہم اسے یوں ہی چھوڑ دیں تو سب اس پر ایمان لے آئیں گے اور رومی آکر ہماری جگہ اور قوم دونوں پر قبضہ کر لیں گے۔"
پس اس دن سے وہ یسوع مسیح کو قتل کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ لہذا انہوں نے یہودیوں میں علانیہ نقل و حرکت ترک کردی اور وہاں سے جنگل کے نزدیک واقع ایک شہر بنام افرائیم میں چلے گئے۔[4]

تفسیر[ترمیم]

"بیت عنیاہ کا لعزر مردوں میں سے جی اٹھا" از مصور Sebastiano del Piombo

یسوع مسیح کا یہ فرمان کہ "قیامت اور زندگی تو میں ہوں" ان کا اپنی ذات پاک کے متعلق سب سے بڑا دعویٰ تھا۔
اکثر لوگوں کو یہاں تک کہ خدائے واحد کو ماننے والوں کو بھی یہ خوف پریشان کر رہا ہے کہ موت کے بعد ہمارا کیا حال ہوگا۔ یسوع المسیح نے بی بی مرتھا اور ان تمام افراد سے جو ان پر ایمان لاتے ہیں یہ وعدہ فرمایا ہے کہ جو
"مجھ پر ایمان لاتا ہے وہ ابد تک کبھی نہ مرے گا"۔
یسوع پر ایمان لانے والے کے لیے مرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک بیمار اور ناتواں بدن سے چھوٹ کر خدا تعالیٰ کی بہشت کی مسرتوں میں شریک ہو جائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اسے ایمان لانے کے ساتھ ہی یہ خوشی اور اطمینان مل جاتا ہے کہ جسمانی موت کے بعد وہ دوزخ میں نہیں بلکہ ابد تک خدا تعالیٰ کے جوارِ رحمت میں رہے گا۔ یسوع مسیح لعزر کے بارے میں کیوں روئے جبکہ وہ جانتے تھے کہ لعزر جی اٹھے گا اس کی وجہ یہ ہوگی کہ انہیں اس امر کا شدت سے احساس ہوا کہ گناہ نے خدا تعالیٰ کے اعلٰی ترین تخلیق نوع انسانی کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ اگر انسان نافرمانی نہ کرتا تو موت اس پر ہرگز وارد نہ ہو سکتی۔ موت کا عمل دخل گناہ کا ہی نتیجہ ہے۔ یسوع مسیح اسی لیے مبعوث ہوئے کہ ابلیس کے کاموں کو مٹا کر موت کا قلع قمع کر دیں۔[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. انجیل بہ مطابق یوحنا، باب 11 آیت 8 تا 15
  2. انجیل شریف بہ مطابق یوحنا، باب 11 آیت 16
  3. انجیل شریف بہ مطابق یوحنا باب 11 آیت 17 تا 38
  4. انجیل شریف بہ مطابق یوحنا باب 11 آیت 39، 48، 53، 54
  5. سیرت المسیح ابن مریم، مصنف ایک شاگرد، مترجم وکلف اے۔ سنگھ