معرکہ مرج راہط (684ء)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
معرکہ مرج راہط
بسلسلہ دوسرا فتنہ
تاریخ18 اگست 684ء
مقاممرج راہط، قریب دمشق
متناسقات: 33°35′02″N 36°27′42″E / 33.58389°N 36.46167°E / 33.58389; 36.46167
نتیجہ خلافت امویہ فتح
محارب

خلافت امویہ کی حمایت

عبد اللہ ابن زبیر کی حمایت

کمانڈر اور رہنما
مروان بن حکم
ابن زیاد
Amr ibn Sa'id ibn al-'As
Abbad ibn Ziyad
ضحاک بن قيس الفہری 
طاقت
6,000 یا 13,000, زیادہ تر پیاده فوج[4] 30,000 یا 60,000, زیادہ تر گھڑسوار
ہلاکتیں اور نقصانات
معمولی بھاری، جس میں 80 قابل ذکر شامل ہیں[5]
معرکہ مرج راہط (684ء) is located in Syria
معرکہ مرج راہط (684ء)
جنگ کا مقام سوریہ

معرکہ مرج راہط یا معرکہ مرج راهط یا جنگ مرج راہط یا جنگ مرج راهط دوسرے فتنے کی ابتدائی لڑائیوں میں سے ایک تھی۔ یہ جنگ 18 اگست 684ء کو یمن کی بنو کلب جو خلیفہ مروان کی حمایت کر رہے تھے اور قیس کے ضحاک بن قيس الفہری، جو مکہ میں مقیم عبد اللہ ابن الزبیر جو خود کو خلیفہ کہتے تھے، کی حمایت کرتے تھے، کے درمیان لڑی گئی۔

پس منظر[ترمیم]

خلافت بنی امیہ کے بانی معاویہ (ح 661ء–680ء) کی وفات پر، 680ء میں، مسلم دنیا میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ اگرچہ معاویہ نے اپنے بیٹے یزید کا نام اپنے وارث کے طور پر رکھا تھا، لیکن اس انتخاب کو عالمی طور پر تسلیم نہیں کیا گیا، خاص طور پر مدینہ کے لوگوں نے، جنھوں نے امویوں کے جانشینی کے دعوے کو چیلنج کیا۔ ان میں خلافت کے لئے دو اہم امیدواروں میں حسین بن علی اور عبد اللہ ابن الزبیر شامل تھے۔[6] حضرت حسین نے پہلے امویوں کے خلاف بغاوت کی کوشش کی لیکن اس کے نتیجے میں اکتوبر 680ء میں جنگ کربلا میں حضرت حسین شہید ہو گئے[7][8] اور پھر عبد اللہ ابن الزبیر خلافت کے اہم دعویدار تھے۔ جب تک یزید زندہ رہا، عبد اللہ ابن الزبیر نے مکہ سے اپنی حکمرانی کی مذمت کی لیکن انہوں نے خلیفہ کا دعوی نہیں کیا، بجائے اس بات پر اصرار کیا کہ خلیفہ کا انتخاب روایتی انداز میں کیا جانا چاہئے۔ اموی حکمرانی کے خلاف مدینہ کی کھلی بغاوت کے بعد، 683ء میں یزید نے ایک لشکر عرب روانہ کیا جس نے مدینہ کے لوگوں کو شکست دے کر اسلام کا سب سے مقدس شہر مکہ کا محاصرہ کرلیا، لیکن یزید کی موت نے نومبر میں اس مہم کو مجبور کیا کہ وہ وطن واپس لوٹ آئے۔[9][10]

بعد میں[ترمیم]

مرج راہط میں فتح امویوں کو حاصل ہوا اور انہیں عبد اللہ ابن الزبیر کے حامیوں کے خلاف حملہ کرنے کی اجازت دی۔ اس سال کے آخر میں مصر کی بازیافت ہوئی، لیکن عبید اللہ ابن زیاد کی سربراہی میں عراق کو حاصل کروانے کی کوشش کو اگست 686 میں موصل کے قریب مختار ثقفی کی فوج نے شکست دی۔ اکتوبر 692ء میں، مکہ کے محاصرے کے بعد، عبد اللہ ابن الزبیرکو قتل کر دیا گیا اور جنگ کا خاتمہ ہوا۔[11][12]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Kennedy 2001، صفحہ 31.
  2. Wellhausen 1927، صفحہ 181.
  3. Crone 1994، صفحہ 45.
  4. Crone 1994، صفحہ 55.
  5. Wellhausen 1927، صفحہ 173.
  6. Hawting 2000، صفحہ 46.
  7. Hawting 2000، صفحات 49–51.
  8. Kennedy 2004، صفحہ 89.
  9. Hawting 2000، صفحات 47–48.
  10. Kennedy 2004، صفحات 89–90.
  11. Kennedy 2001، صفحات 92–98.
  12. Hawting 2000، صفحات 48–49, 51–53.