ملک محسن علی عمرانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مولانا محسن علی عمرانی Molana Mohsin Ali Imrani

پیدائش[ترمیم]

مولانا محسن علی عمرانی 1917 کو سرائیکی وسیب کے عظیم مرثیہ نگار شاعر و عالم دین حضرت مولانا محمود مولائی ؒ کے خانوادے میں پیدا ہوئے۔

تعلیم[ترمیم]

ابتدائی و ثانوی تعلیم کے بعد 1935میں آپ کے والد مرحوم مولانا خدابخش نے آپ کو عربی، فارسی اور مولوی فاضل کی تعلیم کے لئیے برصغیر کے مشہور و معروف دینی درسگاہ مدرستہ الواعظین لکھنؤ میں داخل کرا دیا۔ مولوی فاضل کی سند کے بعدمسلم یونیورسٹی علیگڑھ سے مذید تعلیم حاصل کرنے کی خاطر منسلک ہو گئے

مذہبی و فقہی تعلیم[ترمیم]

دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے والد مرحوم، مناظر ِ اسلام  مولانا خدا بخش اور چچا مولانا عبدالحق سے تاریخ،  قران و احادیث و فرامین  کے ساتھ ساتھ درس نظامی کے تمام علوم و فنون،   فقہ و منطق اور صرف و نحو کی ابتدائی  تعلیم  اور میٹرک مکمل کرنے کے بعد آپکے والد گرامی مولانا خدا بخش نے آپکو مذید تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے 1934-35 میں لکھنو ہندوستان بھیجا۔

آپ  نے سلطان ُ المدارس سے 1939 سے منشی فاضل (عربی فارسی) کی سند حاصل کی۔ پھر مدرستہ الواعظین میں چلے گئے۔ خوش قسمتی سے اس مدرسہ میں رہائش کے لئے آپکو اور علامہ نجم الحسن کراروی کو ایک ہی کمرہ دیا گیا۔  اس وقت آیت اللہ قبلہ سید عدیل اختر مدرستہ الواعظین کے مدیر تھے جو آپ کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ آیت اللہ قبلہ سید عدیل اختر نے مولانا محسن علی کو  عمرانی کے لقب سے نوازا جو بعد ازاں ان کا تخلص ٹھہراجو کہ خاندان کی وجہ ِ شہرت بنا۔مولانا محسن علی عمرانی اور مولانا نجم الحسن کراروی کی علمی و فکری سطح دیکھتے ہوئے جب کسولی ضلع انبالہ کے ایک پنڈت جن کا نام نیک رام تھا  مدرسۃ الواعظین میں آکر مسلمان ہوا  اور اس کے بعد ان کا نام غلام الحسنین رکھا گیا تو مدرستہ الواعظین کے پرنسپل آیت اللہ علامہ عدیل اختر نے انھیں بنیادی دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے آپ دونوں کے سپرد کیا اور آپ  دونوں نے انھیں تقریباً چھ مہینہ تک دینی تعلیم دی۔ آپ نے وہاں سے  صدر الافاضل کی سند حاصل کی۔ صدر الافاضل کی سند اس عہد میں حوزہ علمیہ لکھنو کی اعلیٰ ترین سند تھی۔  جو حوزہ علمیہ نجف میں اجازہ اجتہاد کے ہم پلہ شمار ہوتی تھی۔ یوں مولانا محسن علی عمرانی نے اپنے دروس اور تحقیقی کاموں کے نتیجے میں جوانی میں کلام فلسفہ منطق ادب  فقہ حدیث اور تفسیر کی منزل تک پہنچے۔

مذہبی خدمات[ترمیم]

  • مدرسہ ناظمیہ اور سلطان المدارس کے ہم مکتب دوست مجتہد علامہ فاضل نقوی صاحب  کے ساتھ مل کر انکے گھر میں  ایک وسیع کتب خانے کی بنیاد رکھی اور اسی کتب خانے کی کتب سے تحقیقی و علمی اور فکری آبیاری کی۔  اسی کتب خانے میں عربی ادب میں ما قبل اسلام کا ادب، عہد قرآنی کا ادب اور جدید عربی ادب، فارسی ادب میں حافظ و سعدی، خاقانی اور خیام، اردو ادب میں میر امن، انیس، دبیر، غالب، تفسیر قرآ ن، حدیث نبویؐ، فقہ و اصول، کلام و فلسفہ، ہیئت و نجوم، تاریخ و سیاست سبھی موضوعات پر مختلف سطح کے شاگر آپ دونوں سے د درس لینے آتے تھے۔
  • تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب واپس ڈیرہ اسماعیل خان آئے تو  علامہ حافظ کفایت حسین، سید ابن حسن جارچوی، مرزا یوسف حسین  اور علامہ مفتی جعفر حسین کے حکم کے مطابق آپ  مختلف شہروں میں تبلیغ مذہبِ حقہ اور ترویجِ عزاداری کی خاطر  جانے لگے۔1944 میں جب آپ  صوبہ سرحد کے ایک قبائلی شہر " بنوں " میں  تبلیغ  و خطابت کے سلسلے میں گئے تو  بنوں شہر میں ایک کمرہ پر مشتمل  صرف ایک چھوٹی سی کچی سی بوسیدہ شیعہ مسجد تھی۔ آپ نے وہاں پر باجماعت نماز اور مجلس کی ابتداء کی اور مقامی شیعہ آبادی کو  مذہبی تعلیم، فقہ وغیرہ کا درس دیتے رہے۔  اسی مسجد کے سامنے اس وقت کے بنوں کے مشہور و معروف خانوادہ ڈاکٹر بغداد خان  سے تعلق رکھنے والے وکیل حاجی حقنواز خان کا دفتر تھا۔  روزانہ کی بنیاد پر حاجی حقنواز خان کے ساتھ مولانا محسن علی عمرانی کا مذہبِ شیعہ کے بارے مناظرہ  اور بحث مباحثہ ہونے لگا۔ آخر کار مدلل جوابات اور حوالہ جات کی وجہ سے حاجی حقنواز خان اپنے پورے اہل و عیال کے ساتھ مذہب شیعہ  میں داخل ہوگئے اور اس زمانے میں  حاجی حقنواز خان نے کافی بھاری رقم کے عوض اسی ایک کمرہ پہ مشتمل مسجد کے آس پاس کے گھر خرید کر وقف کئے اور مکمل پختہ وسیع و عریض مسجد و امام بارگاہ بنوا کر دی، جو الحمد اللہ آج بھی  قائم و دائم ہے۔
  • تبلیغ مذہب حقہ اور مجالس کی خاطر ملک کے کونے کونے میں جانے کے علاوہ آپ نے اپنے اجداد کی طرح ڈیرہ اسماعیل خان  کے مرکزی امام بارگاہ  امام حسن علیہ السلام المعروف تھلہ پیر بھورہ شاہ  پر 1968 تا 1979  تک محرم الحرام اور چہلم سید الشہدا ء کے علاوہ  دیگر ایام مخصوصہ کی مجالس اور  ذکر آلِ محمد کرتے رہے۔  خصوصا بنوں، کوہاٹ، پشاور، مردان، کوٹلی آزاد کشمیر، لنڈی کوتل  جیسے پسماندہ علاقوں میں بہت زیادہ ترویج ِ مذہب حقہ کی خاطر جاتے اور درجنوں غیر مسالک  شخصیات کو مسلک ِ اہلبیت ؑ میں شامل کیا اور انہی کے تعاون سے وہاں پر مساجد و امام بارگاہوں کی بنیاد ڈالی۔
  • اپنے دیرینہ دوست علامہ نجم الحسن کراروی اور مبلغ اسلام مرزا یوسف حسین کے ساتھ ملک کے طول و عرض میں  ترویج مذہب حقہ اور شعیان علی کے حقوق کے سلسلے میں دورے، مجالس اور سفر کرتے رہے۔ ملکی سطع کی مختلف تنظیموں سے رابطے اور واسطہ رہنے کی وجہ سے ایک نڈر  رہنماء کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔  کئی دفعہ شیعہ حقوق کی خاطر پابند سلاسل ہوئے۔
  • ڈیرہ اسماعیل خان کے مضافات اور دیہاتوں  میں مساجد و امام بارگاہوں کی بنیاد رکھنے کے علاوہ آپ نے کئی مذہبی تنظیموں کی بنیاد رکھنے کے علاوہ شیعہ قوم کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔  خصوصا شہر ڈیرہ اسماعیل خان کے وسط میں جامع امامیہ مسجد و مدرسہ امام العصر ِ والزمان  عج اور انجمن محبان اہلبیت کی بنیاد رکھی۔  جہاں پر آپ کافی عرصہ نماز، درس اور عیدین وغیرہ کی نماز پڑھاتے رہے۔  حیدری مسجد بستی ڈیوالہ میں بھی درس و نماز کا آغاز کیا۔ جامع مسجد لاٹو فقیر کے اسکول و مدرسہ کے بھی بحثیت انچارج خدمات دیتے رہے۔   ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقہ چاہ سید منور شاہ  سے تعلق رکھنے والے اور مذہبی حلقوں میں قد آور شخصیت کے طور پر  جانے والی شخصیت سید غلام عباس شاہ زیدی صاحب کے ساتھ مل کر  وقف کوٹلی امام حسین علیہ السلام میں  باقاعدہ عید گاہ اور ضریح مبارکہ کا سنگِ بنیاد رکھا۔
  • 1948میں آپ نے  علامہ نجم الحسن کراروی کی خصوصی درخواست پر علماء سے مشاورت کے بعد  پشاور میں "پاکستان مجلس علماء شیعہ کی بنیاد رکھنے میں مدد کی
  •  1956- میں جامعہ علمیہ باب النجف کے قیام اور بنیاد کے سلسلے میں علامہ حسین بخش جاڑا کے ساتھ شانہ بشانہ کام کیا۔

تحریک پاکستان میں عملی کردار[ترمیم]

مایہ ناز آرٹسٹ عجب خان کی ہاتھ سے بنائی ہوئی مولانا محسن علی عمرانی کی تصویر

1940 میں تعلیم مکمل کرنے بعد جب ڈیرہ اسماعیل خان واپس آئے تو لکھنؤ اور علیگڑھ میں تحریک پاکستان اور مختلف شخصیات خصوصا علامہ راغب احسن سے متاثر ہو کر مقامی نوجوانوں کو جمع کر کے علامہ راغب احسن کے حکم پر اور شہزادہ فضل داد خان جو بحیثیت صدر مسلم لیگ، محمد نواز خان اور جنرل سیکریٹری مولا داد خان بلوچ کام کررہے تھے کہ مکمل تعاون اور سرپرستی کے نوجوانان ِمسلم لیگ کی بنیاد ڈالی اور سب سے پہلے جنرل سیکرٹری ہونے کا اعزاز حاصل کیا اور جوانوں کو یکجا کر کے بزرگوں کے ہاتھ مضبوط کئے۔ مولانا محسن علی عمرانی ایک شعلہ بیاں مقرر، بلا کے خطیب اور غضب کی زبان آور گفتگو کرنے والے تھے۔ تقریر کے دوران میں اپنے لکھے ہوئے قطعات جب جلسوں میں پڑھتے تو لوگوں کے جوش و خروش میں اضافہ کردیتے۔ جب ڈیرہ اسماعیل خان میں تحریک پاکستان کے حوالے سے سوّل نافرمانی کی تحریک شروع ہوئی اور روزانہ کی بنیاد پہ جب حافظ جمال والے میدان سے احتجاجی اور گرفتاری پیش کرنے کا جلوس نکلتا تو چوگلے کے نیچے لوگ انتظار میں خود بخود رُک جاتے کہ مولانا محسن عمرانی نے تقریر کرنی ہے۔ تحریک پاکستان کے حوالے سے ایسی مدلل تقریر ہوتی کہ لوگوں میں مذید جذبہ پیدا ہوتا اور روزانہ کی بنیاد پر درجنوں اشخاص گرفتاری پیش کرتے۔ اکابرین اور مسلم لیگ کے رہنماؤں سے مسلسل رابطہ اور خط و کتابت مولانا محسن علی عمرانی کی ہی زمہ داری تھی اور اکابرین کے حکم کے علاوہ پیرلطیف خان زکوڑی، حاجی محمد رمضان ایڈووکیٹ، فضل الرحمن خواجکزئی اور مولا داد خان کے مشورہ کے مطابق کہ آپ نے اپنی گرفتاری پیش نہیں کرنی بلکہ روزانہ کی بنیاد پر نکلنے والے جلوسوں اور جلسوں کے انتظامات اور گرفتار ہونے والوں کی فہرستیں بنانا اور پشاور و علی گڑھ بھیجنا اور تمام دفتری امور آپ کی زمہ داری ہیں۔ محمد علی جناح جب چند گھنٹوں کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان تشریف لائے تو نوجوانان مسلم لیگ کی طرف سے محترمہ فاطمہ جناح اور عبدالقیوم خان کی موجودگی میں قائد اعظم کو سپاس نامہ پیش کرنے کا اعزاز بھی مولانا محسن علی عمرانی کو حاصل ہے آج بھی ڈیرہ کے بزرگ اور تحریکی سپاہی اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ مولانا محسن عمرانی نے سپاس نامہ پیش کرنے اور تقریرکے دوران میں قائد اعظم کے بارے جو رباعی پڑھی تو وہ اتنی مقبول ہوئی کہ گلی محلوں اور جلسوں میں لوگ بار بار دہراتے۔

لاکھوں میں فقط ایک مسلماں دیکھا

میدانِ سیاست میں نمائیاں دیکھا

جو بِک نہ سکا غیر کے ہاتھوں محسن ؔ

اے قائدِ اعظم تیرا ایماں دیکھا

  • 1945-46ء کے انتخابات کے سلسلے میں عبدالرحیم خان سدوزئی، اللہ بخش چوڑیگر، ڈاکٹر میر عالم خان راقب، نوابزادہ ذوالفقار خان اور سردار ربنوازکوکب سرحدی کے ساتھ مل کر بحثیت سٹی لیگ نمائیندے مسلم لیگ کے لیے مسلسل گھر گھر جا کر لوگوں کو قائل کیا اور آگاہی دی اور ووٹ مانگتے رہے۔ انہی انتخابات میں مسلم لیگ کی شاندار کامیابی کے بعد قائدِ اعظم کی صدارت میں 1946ء میں منتخب نمائندوں کا دہلی میں کنونشن منعقد ہوا اور علامہ راغب احسن نے مولانا محسن علی عمرانی کواس کنونشن میں شرکت کی خصوصی دعوت دی جس میں علاقائی مسائل اور دوسری زمہ داریوں کی وجہ سے شرکت نہ کر سکے۔ اکابرین ومشاہیر کے حکم پر تقسیم کے بعد ہجرت کر کے ڈیرہ اسماعیل خان میں آنے والے مسلمانوں کی رہائش، طعام، خدمت اور بحالی کے لیے بے لوث اور بغیر کسی لالچ و صلہ و ستائش کے دن رات کام کیا۔
  • 1950میں جب ملک خدا بخش ایڈووکیٹ دستور ساز اسمبلی کے ممبر تھے اور زکواۃ کے بارے کچھ تضادات اور دشواری پیش آئی تو ملک خدا بخش ایڈووکیٹ نے قران و سنت واحادیث کی روشنی میں ان تضادات کو ختم کرنے کے لیے مولانا محسن علی عمرانی کی مشاورت سے قران و احادیث کی روشنی میں ایک سوالنامہ ترتیب دیا جسے اس وقت کے تمام جید علماء کو بھیجا گیا تاکہ ان تضادات کا خاتمہ کیا جا سکے جو زکواۃ کے معاملے میں دشواری پیدا کر رہے تھے۔
  • 1954میں جب پاکستان کا سرکاری طور پر قومی ترانہ نشر کیا گیا تو اگلے سال 1955 میں یوم آزادی کے موقع پر مولانا محسن علی عمرانی کی سربراہی میں اسلامیہ اسکول سے ایک بہت بڑا جلوس نکالا گیا اور سرزمینِ ڈیرہ اسماعیل خان میں پہلی دفعہ جلوس نکلنے سے پہلے اوراپنی تقریر سے پہلے تمام مہمانان و اکابرین کو بطور ادب اپنی نشتوں پر کھڑا کر کے قومی ترانہ پڑھنے کا اعزاز بھی مولانا محسن علی عمرانی کو حاصل ہے۔
  • 1945میں جب بلوچستان میں تباہ کُن زلزلہ آیا تھا تو والد مرحوم کی سربراہی میں سردار ربنواز کوکب، عبدالکریم صابر، عطاء اللہ خان عطاء  اور دیگر تحریکی ولیگی اور ادباء دوستوں نے متاثرین کی امداد کے لئے  ایک بھر پور مہم چلائی  اور ڈیرہ اسماعیل خان کے ہر بازار اور محلہ سے امدادی  سامان اکٹھا کیا  اور مطلوبہ علاقوں میں پہنچانے کی خاطر استاد جمعہ خان مقامی ٹرانسپورٹر نے اپنے دو ٹرک بغیر معاوضے کے سامان لے جانے کے لئے فی سبیل اللہ دیئے۔
  • 1965میں خطابت کے سلسلے میں علامہ مرزا یوسف کے ساتھ کھاریاں گئے  ہوئے تھے کہ ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کر کے جنگ کا آغاز کر دیا  اور اس وقت  صدر ایوب خان کی  اپیل کہ ”ایک پیسہ۔ 2ٹینک“ کی مہم میں اسی وقت چودھری محمد اکرام ایڈووکیٹ  جو اس وقت ضلع کھاریاں کی مسلم لیگ کے صدر تھے  کے ساتھ کھاریاں شہر  کے کونے کونے سے   ملک کی حفاظت اور پاک فوج کے لئے چندہ اور اشیاء حاصل کیں۔۔ واپس ڈیرہ آکربھی اسی مہم کو زور و شور سے جاری رکھا ڈیرہ کے غیرت مند لوگوں نے قومی جوش جذبہ کے ساتھ دفاعی فنڈ میں عطیات کے ڈھیر لگا دیئے۔

شادی[ترمیم]

حاجی خان حق نواز خان آف بنوں نے مولانا محسن علی عمرانی کے ہاتھوں شیعہ مذہب قبول کرنے اور ان کی علمی و فکری سطح اور کردار  سے متاثر ہو کر انہوں نے اپنی سب سے چھوٹی بیٹی  ولایت بی بی جو اس وقت میٹرک کی طالبہ تھی کا رشتہ  لینے کی درخواست کی۔  مولانا محسن علی عمرانی نے  یہی درخواست اپنے اساتذہ  و دوست  علامہ مرزا یوسف حسین، علامہ نجم الحسن کراوری  و دیگر علماء اور اپنے والد مولانا خدا بخش کے سامنے پیش کی، جو انہوں نے قبول کرتے ہوئے باقاعدہ  رشتہ لینے بنوں گئے۔  1945میں بارات کے ساتھ  ملک کے تمام جید علماء، دوست، اور رشتہ دار بنوں گئے۔  علامہ مرزا یوسف حسین  نے باقاعدہ نکاح پڑھوایا اور دلہن کا نام ولایت بی بی سے تبدیل کر کے ممتاز بیگم رکھا, علامہ مرزا یوسف حسین  نے دلہن  کو چاندی کے بنے ہوئے خاص کنگن تحفے کے طور پر دیئے۔

ادبی خدمات[ترمیم]

پہلا شعری مجموعہ کلام “ سنبل و ریحان “Molana Mohsin Ali Imrani
دوسرا شعری مجموعہ کلام “ اداس کیوں ہو “Molana Mohsin Ali Imrani

ویسے تو خاندانی ادبی و تحقیقی ماحول میں  پرورش پانے کی وجہ سے کمسنی ہی سے شاعری کا آغاز کیا اور اپنے والد مولانا خدا بخش مرحوم سے اصلاح لیتے۔ لکھنؤ جیسی ادب کی سر زمین پر جانے اور وہاں کی ادبی محفلوں میں شرکت اور وہاں کے شعراء سے دوستی کی وجہ سے اس وقت لکھنٗو کے مشہور و معروف شاعر جناب بہزاد لکھنؤی کی باقاعدہ شاگردی اختیار کی اور ان سے اصلاح لیتے تھے  جو اس  وقت آل انڈیا ریڈیو سے منسلک تھے  اور انہی  کے توسط سے  1938میں  آل انڈیا ریڈیو کے زیر انتظام ہونے والے کل ہندوستان مشاعرے میں اپنی غزل  پڑھ کر ڈھیروں داد وصول کرنے کے ساتھ ساتھ مشہور و معروف شاعر استاد قمر جلالوی سے حوصلہ افزائی کی خصوصی تھپکی اور داد اعزاز سمجھ کر وصول کی اور جوانی ہی میں لکھنؤ کے ادبی حلقوں میں اپنی پہچان بنا لی۔  مشاعرے میں پڑھی گئی غزل:

برہمی کا کوئی علاج کرو

میرے جی کا کوئی علاج کرو

آدمی، آدمی کو ڈستا ہے

آدمی کا کوئی علاج کرو

مٹ رہے ہیں نشاں منزل کے

رہبری کا کوئی علاج کرو

آگہی بھی تسلسل ِغم ہے

آگہی کاکوئی علاج کرو

مے گساری ازل سے پیاسی ہے

تشنگی کا کوئی علاج کرو

زندگی تشنہ حقیقت ہے

زندگی کا کوئی علاج کرو


ڈیرہ اسماعیل خان میں ترویج ادب کی خاطر دن رات کام کیا۔ بزم اقبال، ادارہ علم و فن کے علاوہ کئی ادبی تنظیموں کے روح رواں اور بانی تھے اور درجنوں یادگار اور عظیم الشان کل پاکستان مشاعروں کا انعقاد کیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں سب سے پہلی باقاعدہ سرائیکی ادبی تنظیم کی بنیاد رکھ کے سرائیکی شعراء کو ایک پلیٹ فارم پہ لانے کا سہرا بھی آپ ہی کے سر ہے۔ تقسیم پاکستان کے بعد ملکی سطح کی ادبی تنظیموں ادارہ علم و فن اور بزم اقبال کے صدر کی حیثیت سے آپ نے یوم اقبال پر اسلامیہ اسکول میں ایک سالانہ کل پاکستان مشاعرے کی بنیاد رکھی، اس مشاعرے کی خصوصی بات یہ ہوتی کے تمام شعراء کرام کو ایک جلوس کی شکل میں توپاں والے بازار سے گھاس منڈی، چوگلہ اور مسلم بازار کے راستے اسلامیہ اسکول لایا جاتا تھا۔ راستے میں لوگ باہر سے آئے ہوئے شعراء کا استقبال پھولوں اور ہاروں سے کرتے اور پھر عظیم الشان مشاعرہ شروع ہو جاتا۔

شاعری[ترمیم]

غزلیں[ترمیم]

غزل

اڑا کہ رنگ کسی کے حَسیں اشاروں کا

فلک نے باغ لگایا ہے چاند تاروں کا

کچھ ایسا گردش ِ دوراں نے رنگ بدلا ہے

گُلوں پہ ہونے لگا ہے گماں شراروں کا

یہاں وہ آئے جو ہو بے نیاز ہوش و خرد

کہ میکدے میں نہیں کام ہو شیاروں کا

گُلوں سئ سیکھیئے انداز ہم نشینی کے

دمِ وداع جو منہ چومتے ہیں خاروں کا

غمِ حیات کی افسردگی وہ کیا جانے

جسے مِلا ہو سہارا تیرے اشاروں کا

بھلائیں یاد تیری دل سے کس طرح محسن

یہی سہارا ہے لے دے کہ بے سہاروں کا

سلام و مناقب[ترمیم]

آپ نے سینکڑوں کے تعداد میں لازوال نوحے، سلام اور مناقب ِ اہلبیت لکھے، بعض  مخصوص نوحے تو آج  بھی قدیمی جلوسوں میں بڑی عقیدت کے ساتھ پڑھے  اور سنُے جاتے ہیں۔

مقبول عام نوحے

  • کربل کے مسافر کی ہے غم ناک کہانی
  • کربلا کے ہاتھ آئیں حیدری قربانیاں
  • دیوار و دَر سے اٹھتی ہے فریاد آج بھی
  • آج کی رات غم کی رات ہے


علی کا دَر ہی فقط ایسا دَر ہے دنیا میں

جواب آتا ہے محسنؔ سوال سے پہلے

عزادارِ حسین

آج مٹتا جا رہا ہے دل سے کردار ِ حسین ؑ

بن گیا زَر کا پجاری ہر عزادارِ حسین ؑ

تاجرانہ زہنیت ہر صاحبِ ممبر کی ہے

چند پیسوں کے عوض ہے ذکر و اذکارِ حسین ؑ

سودا بازی ہو رہی ہے مجلسِ شبیر میں

کیا اسی مقصد کی خاطر ہے یہ دربارِ حسین ؑ

حشر میں کیا منہ دکھائیں گے رسولِ پاک کو

بیچتے پھرتے ہیں ممبر پر جو اذکارِ حسین ؑ

امتیازِ شمر و حُر جن کے ذہنوں میں نہیں

کس طرح کہتے ہیں، ہم ہیں عزادارِ حسین ؑ

خوف کیا محسن ؔ یزیدانِ زمانہ سے مجھے

دَار پر بھی مسکراتے ہیں وفادارِ حسین ؑ


آل اور قران کی باتیں کرو

مومنو ایمان کی باتیں کرو         ۔    آل ؑ اور قرآن کی باتیں کرو

وقت کے تیور بڑے گستاخ ہیں     ۔    عظمتِ انسان کی باتیں کرو

مقصدِ مجلس پہ بھی ہو تبصرہ         ۔    ممبروں کی آن کی باتیں کرو

صورت و سیرت میں کچھ تطبیق ہو    ۔    زاہد و عرفان کی باتیں کرو

کس لیے آیا تھا جنت سے لباس    ۔    خلد کے رضوان کی باتیں کرو

کوثر و تسنیم کے شیدائیو        ۔    تشنہ لب مہمان کی باتیں کرو

پیروئی ِ حضرت سجاد ؑ میں         ۔    شام کے زندان کی باتیں کرو

قوم کو محسن ؔ جواب در پیش ہے     ۔    اس نئے طوفان کی باتیں کرو


تم اپنی بگڑی بناؤ علی علی کہہ کر

محبو ہوش میں آؤ علی ؑ علی ؑ کہہ کر          ۔    تم اپنی بگڑی بناؤ  علی ؑ علی ؑ کہہ کر

حسینیت کے چراغوں سے روشنی لے کر     ۔    عمل کی راہ سجاؤ  علی ؑ علی ؑ کہہ کر

خم ِ غدیر پہ جو مصطفےٰ نے بانٹی تھی         ۔    وہی شراب پلاؤ  علی ؑ علی ؑ کہہ کر

حقیقتوں کی تجلی بکھیر دو ہر سو        ۔    دلوں کو طور بناؤ  علی ؑ علی ؑ کہہ کر

متاعِ عشق حسینی بِنائے ایماں ہے        ۔    یہ رہزنوں سے بچاؤ  علی ؑ علی ؑ کہہ کر

بڑھو حمایت ِ مظلوم کا علم لے کر         ۔    فصیلِ ظلم گراؤ  علی ؑ علی ؑ کہہ کر

نہ خوف کھاؤ ستم گار حکمرانوں سے         ۔    یزیدیت کو مٹا ؤ  علی ؑ علی ؑ کہہ کر

اٹھا ؤ پرچم ِ عباس تان کر سینہ         ۔    فضائے دہر پہ چھاؤ  علی ؑ علی ؑ کہہ کر

دیا تھا سبطِ پیمبر نے جو تہہِ شمشیر         ۔    وہی پیام سناؤ  علی ؑ علی ؑ کہہ کر

غم ِ حسین میں محسن ؔ بصد عقیدت ِ دل    ۔    ہمیشہ اشک بہاؤ  علی ؑ علی ؑ کہہ کر

دیار ِ شمر ویذید وزیاد میں محسن ؔ        ۔    وِلا کے گیت سناؤ  علی ؑ علی ؑ کہہ کر


حاجیوں نے مل کے ڈھایا کعبہ ِ ایمان کو

حافظوں نے تیر مارے ناطقِ قران کو

کہاں ہے تاب سوال و جواب کی مولا

سمجھ کے بخش دے محسن کو بس گدائے حسین ؑ


کربلا کے ہاتھ آئیں حیدر ی قربانیاں

ریت کے ذروں میں رہ گئیں سینکڑوں تابانیاں

باپ کے ہاتھوں پہ یوں تڑپا کہ دنیا کہہ اُٹھی

دین زندہ کر گئیں اصغر تیری نادانیاں

انبیاء بھی آگئے روتے ہوئے ماتم کناں

خاک و خون میں دیکھ کر مولا تری قربانیاں

گھر اجڑ کر رہ گیا ہے دشت میں شبیر کا

امتِ ظالم نے کی ہیں دن میں من مانیاں

گلشنِ زہرا کے غنچوں سے لہو رسنے لگا

چل رہی ہیں ہر طرف ظلم و ستم کی کانیاں

دیکھ کر شمرِ لعیں سے یہ کہا سجاد نے

اب ہمارے پاس رہ گئی ہیں بے سرو سامانیاں

ماتمِ شبیر میں مصروف محسن ؔ تم رہو

کام آئیں گء قیامت میں یہ نوحہ خوانیاں


نوروز عالمِ افروز

ہے جشن ِ تاجپوشی جنابِ امیر کا     دل خوش ہوا ہے آج صغیر و کبیر کا

مسند نشینِ تخت خلافت علی ہوئے    پورا ہوا ہے وعدہ بشیراً نذیر کا


نوروز ہے خوشی کے ترانے سنائیں گے    مولائی لوگ اپنے گھروں کو سجائیں گے

جن کے دلوں میں جامِ غدیری کا ہے نشہ     وہ مست ہو کے حیدری نعرے لگائیں گے


منشورِ کردگار کی تائید ہو گئی         اسلام کے وقار کی تمہید ہو گئی

جس وقت آئے تختِ خلافت پہ مرتضیٰ    ہم سب موالیوں کے لیے عید ہوگئی


مومنو نظر اوصافِ جلی آتے ہیں         خم پہ مولا جو بنے تھے وہ ولی آتے ہیں

آج نوروز ہے خوشیوں کا سماں ہے محسنؔ    مسندِ احمد ِ مرسل پہ علی ؑ آتے ہیں

تصانیف[ترمیم]

  • سنبل و ریحان (شعری مجموعہ)
  • اداس کیوں ہو (شعری مجموعہ)
  • سلسبیل و مؤدت (مناقب و سلام)
  • نکہت و نور (مناقب و سلام)
  • فرات ِ فکر (مناقب و سلام)
  • فکرَ محسن (مناقب و سلام)
  • درجنوں تحقیقی قلمی نسخے

وفات[ترمیم]

لوحِ مزار Molana Mohsin Ali Imrani

31 مارچ 1979 میں یہ نابغہ روزگار شخصیت مولانا محسن علی عمرانی ڈیرہ اسماعیل خان کے ٹاؤن ہال میں اپنے ہی منعقدہ کردہ مشاعرے کے بعد رات 12 بجے دل کا دورہ پڑنے سے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔۔ ڈیرہ اسماعیل خان کی مرکزی قبرستان کوٹلی امام حسین علیہ السلام میں تدفین کی گئی۔

اساتذہ کرام[ترمیم]

اولاد[ترمیم]

ربِ ذوالجلال نے آپ کو سات بیٹوں اور چار بیٹیوں سے نواز

  1. حشمت علی عمرانی
  2. شوکت علی عمرانی
  3. خطیب ِ اہلبیت ذاکر لیاقت علی عمرانی
  4. خطیب ِ اہلبیت ذاکر پروفیسر نزاکت علی عمرانی
  5. خطیب ِ اہلبیت ذاکر کرامت علی عمرانی (مرحوم)
  6. شجاعت علی عمرانی
  7. خطیب اہلبیت ذاکر وجاہت علی عمرانی

سپاہِ یذید کے دہشت گرودں نے مولانا محسن علی عمرانی کے دو بیٹوں کو 2006 میں ٹارگٹ کلنگ کے زریے گولیاں مار کر  محبت اہلبیت اور ترویج ِ عزاداری  کے جرم میں شہید کر دیا گیا۔  شہید بیٹے مایہ ناز اور مشہور و معروف خطیب اور مقرر تھے

  • شہید لیاقت علی عمرانی
  • شہید پروفیسر نزاکت علی عمرانی

حوالہ جات[ترمیم]

تااثرات (بعد از وفات علمائے امامیہ کے خطوط)[ترمیم]

مبلغ اسلام ، مرزا یوسف حسین (سربراہ مجلس عمل، علمائے شیعہ پاکستان)
علامہ سید نجم الحسن کراروی (ناظم اعلیٰ پاکستان مجلس علماء)
علامہ سید شبہیہ الحسنین محمدی (ناظم مظفر المدارس مدرستہ ُ الواعظین)
ثقتہُ الاسلام محمد بشیر انصاری ٹیکسلا (صدر مجلس ِ علماء پاکستان)
الحاج السید محمد عباس (مہتمم مدرستہ القران ، چیئرمین ڈسٹرکٹ مومنین کانفرنس)استر زئی
نعیم ُ الملت سرکار الحاج مولانا غلام حسین (مصنف “نعیم الابرار“)
جناب شوکت واسطی (ادارہ علم و فن پاکستان) Molana Mohsin Ali Imrani
انجمن محبان اہلبیت ڈیرہ اسماعیل خان Molana Mohsin Ali Imrani