نجم الحسن کراروی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

علامہ سید نجم الحسن رضوی ہندوستان کے ایک مشہور شیعہ عالم دین اور مذہبی مصنف تھے ـ

ولادت[ترمیم]

آپ 2 صفرالمظفر سنہ 1337ھ مطابق 7 نومبر 1918ء بروز پنجشنبہ، قصبہ کراری ضلع الہ آباد (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے ـ

آپ کے والد کا نام فیض محمد تھا ــ

تعلیم[ترمیم]

ابتدائی تعلیم وطن میں حاصل کرنے کے بعد سنہ 1927ء میں آپ مدرسہ ناظمیہ لکھنؤ میں داخل ہوئے ـ وہاں تین سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد سلطان المدارس چلے گئے، جہاں سے آپ نے سنہ 1938ء میں صدر الافاضل کی سند حاصل کی ــ

سلطان المدارس سے صدرالافاضل کرنے کے بعد آپ نے مدرسۃ الواعظین میں داخلہ لیا۔ اس وقت علامہ سید عدیل اختر مدرسہ کے مدیر تھے جو آپ کو بڑی قدر کی نگاہوں سے دیکھا کرتے تھے ،ـ چنانچہ سنہ 1939ء میں کسولی ضلع انبالہ کے ایک پنڈت، جن کا نام نیک رام تھا، مدرسۃ الواعظین میں آکر مسلمان ہوئے اور اس کے بعد ان کا نام غلام الحسنین رکھا گیا، علامہ عدیل اختر نے انھیں دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے آپ کے سپرد کیا اور آپ نے انھیں تقریباً چھ مہینہ تک دینی تعلیم دی ــ [1]

اساتذہ[ترمیم]

آپ کے مشہور اساتذہ مندرجہ ذیل ہیں :

1 : علامہ نجم الحسن امروہوی (نجم الملۃ)

2 : علامہ سید ناصر حسین موسوی (ناصرالملۃ)

3 : علامہ ابن حسن نونہروی

4 : علامہ ظہور حسین

دینی اور قومی خدمات[ترمیم]

آپ نے مدرسۃ الواعظین سے فارغ ہو کر ایک مدت تک بہار اور دیگر صوبوں میں تبلیغی خدمات انجام دیں ــ

17/ جنوری 1941ء کو آپ نے قصبہ کراری میں ایک مدرسہ بنام مدرسہ امجدیہ قائم کیا جو آج بھی باقی ہے ــ

سنہ 1943ء میں مدرسۃ الواعظین لکھنؤ کے معروف رسالہ، الواعظ کی ادارت آپ کے سپرد کی گئی ــ

تقسیم ہندوستان کے بعد آپ پاکستان کے شہر پشاور ہجرت کر گئے ،ـ وہاں آپ نے محراب اور منبر کے فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ، بہت سی دینی خدمات انجام دیں ــ

سنہ 1948ء میں پشاور میں پاکستان مجلس علماء شیعہ کا قیام عمل میں آیا جس کے آپ ناظم اعلیٰ مقرر ہوئے ــ

مئی سنہ 1950ء میں آپ نے ھفت روزہ ایک مذہبی جریدہ، شہاب ثاقب کے نام سے جاری کیا، جس کا سلسلہ آج تک قائم ہے ــ

سنہ 1974ء میں آپ کو تین سال کے لیے پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل کا رکن منتخب کیا گیا ــ

تصنیف و تالیف[ترمیم]

آپ کا شمار کثیرالتصانیف علما میں ہوتا ہے ـ آپ ایک نہایت ہی عمیق صاحب قلم تھے ـ بہت ہی گراں قدر کتابیں آپ نے تالیف کی ہیں جن میں سے چند اہم کتابیں مندرجہ ذیل ہیں:

1: چودہ ستارے : چودہ معصوم کی سوانح حیات پر اردو زبان میں اب تک لکھی جانے والی کتابوں میں سب سے زیادہ مفصل اور مستند کتاب ہے ــ

2: بہتر تارے : اردو زبان میں شہدائے کربلا کی سوانح حیات پر اب تک لکھی جانے والی کتابوں میں سب سے زیادہ مرتب اور منظم کتاب ہے ــ

3: تاریخ اسلام : حضرت آدم سے حضرت عیسی تک کے انبیاء کی سوانح حیات پر اردو زبان میں اب تک لکھی جانے والی تمام کتابوں میں سب سے زیادہ مستند اور اسرائیلیات سے پاکیزہ کتاب یعنی شان انبیاء کو دنیا کے سامنے صحیح شکل میں پیش کرنے والی کتاب ہے ــ

4: ذکرالعباس : عباس بن علی علمدار کربلا کی سوانح حیات پر اب تک لکھی جانے والی تمام عربی، فارسی اور اردو کتابوں میں سب سے زیادہ مفصل اور مستند کتاب ہے ــ

5: مختار آل محمد : مختار ثقفی کی سوانح حیات پر اردو زبان میں ایک بے نظیر کتاب ہے ــ

6: روح القرآن : اردو زبان میں علوم قرآن پر مشتمل ایک عمدہ کتاب ہے ــ

7: الغفاری : صحابی رسول، ابوذر غفاری کی سوانح حیات پر اردو زبان میں ایک مفصل کتاب ہے ــ

8: نص خلافت

اس کے علاوہ آپ نے کتاب لواعج الاحزان کی دونوں جلدوں پر حاشیہ لکھا ــ

وفات اور مدفن[ترمیم]

رمضان المبارک 1402ھ مطابق یکم جولائی 1982ء بروز پنجشنبہ، پشاور، (پاکستان) میں دل کا دورہ پڑنے سے آپ کی وفات ہوئی ـ اور وہیں آپ کو سپرد لحد کیا گیا ــ [2]

آپ کی وفات پر صدرمملکت جنرل محمد ضیاء الحق سمیت متعدد سربراہان مملکت نے اظہار تعزیت کیا ــ

مآخذ و مصادر[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تذکرہ علما امامیہ پاکستان، صفحہ 407
  2. خورشید خاور، صفحہ 446