منظور الہی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
منظور الہی ٹیسٹ کیپ نمبر101
Manzoor illahi.jpeg
کرکٹ کی معلومات
بلے بازیدائیں ہاتھ کا بلے باز
گیند بازیدائیں ہاتھ کا فاسٹ میڈیم باؤلر
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ ایک روزہ
میچ 6 54
رنز بنائے 123 741
بیٹنگ اوسط 15.37 22.45
100s/50s -/1 -/1
ٹاپ اسکور 52 50*
گیندیں کرائیں 444 1743
وکٹ 7 29
بولنگ اوسط 27.71 43.51
اننگز میں 5 وکٹ
میچ میں 10 وکٹ n/a
بہترین بولنگ 2/38 3/22
کیچ/سٹمپ 7/- 21/-
ماخذ: [1]، 4 February 2006

منظور الہی (پیدائش:15اپریل 1963ءساہیوال، پنجاب) پاکستانی سابق کرکٹر ہیں جنہوں نے 1984ء سے 1995ء تک 6 ٹیسٹ اور 54 ایک روزہ ایک روزہ بین الاقوامی میچز کھیلے منظور الہی نے پاکستان کے ساتھ زرعی ترقیاتی بینک اف پاکستان ، ملتان اور ہاکستان ریلوے کی طرف سے کرکٹ مقابلوں میں حصہ لیا ان کے بھائی سلیم الہی،ظہور الہی، اور بیٹے بابر منظور نے بھی کرکٹ مقابلوں میں اہنے جوہر آزمائے۔

ٹیسٹ کرکٹ میں کارکردگی[ترمیم]

منظور الٰہی کو بھارت کے خلاف 1984-85ء کے سیزن میں فیصل آباد کے مقام پر ٹیم کا حصہ بنایا گیا جہاں انہوں نے ایک اننگ میں 76 رنز بنائے اور 74 رنز کے عوض ایک وکٹ کے بھی مالک بنے۔ بھارت نے پہلے کھیلتے ہوئے 500 رنز بنائے جس میں روی شاستری 139، سندیپ پاٹیل 127 اور انیشمن گائیکوارڈ کے 74 رنز شامل تھے۔ انیشمن گائیکوارڈ منظور الٰہی کی پہلی وکٹ بنے جب انہوں نے اپنی ہی گیند پر ان کا کیچ پکڑ لیا۔ پاکستان کی باری آئی تو انہیں 26 رنز پر وکٹوں کے درمیان دوڑنے میں سستی کا خمیازہ رن آئوٹ کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ قاسم عمر 210، مدثر نذر 199 اور سلیم ملک 102 کی بڑی اننگ کی بدولت پاکستان نے 674 رنز بنا کر 6 وکٹوں پر اننگ ختم کردی۔ ایک ماہ کے بعد انہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف حیدر آباد ٹیسٹ میں اتارا گیا مگر یہاں بھی ان کے بلے سے رنز ناراض ہی نظر آئے جب وہ 19 اور 4 ناقابل شکست رنز بناسکے۔ اس کارکردگی کی وجہ سے 3 سال انہیں ٹیم سے دور رکھا گیا۔ 1987ء میں بھارت کا دورہ کرنے والے ٹیم کا حصہ بنایا گیا۔ اس دورہ کا آغاز انہوں نے احمد آباد ٹیسٹ میں 52 رنز بنا کر کیا۔ یہ ان کے ٹیسٹ کرکٹ کی واحد اور اکلوتی نصف سنچری تھی جبکہ انہو نے 8 رنز دے کر ایک کھلاڑی کو بھی آئوٹ کیا۔ بنگلور کے دوسرے ٹیسٹ کی دوسری اننگ میں وہ صرف 8 رنز ہی بنا پائے جبکہ پہلی اننگ میں وہ بغیر رنز بنائے آئوٹ ہوئے۔ اس کارکردگی کی صورت انہیں 8 سال تک ٹیم سے باہر بٹھا دیا گیا۔ تاہم ایک روزہ مقابلوں میں وہ شریک رہے مگر پانچ روزہ ٹیسٹ میں انہیں کوئی موقع نہ مل سکا۔ 1985ء میں جب پاکستان نے زمبابوے کا دورہ کیا تو انہیں پھر قسمت آزمائی کیلئے منتخب کیا گیا۔ بلائیو کے پہلے ٹیسٹ میں اس نے پہلی اننگ میں 13 رنز بنائے جبکہ دوسری اننگ میں ایک رن پر ناٹ آئوٹ رہے۔ اس سیریز کے دوسرے اور آخری ٹیسٹ میں ہرارے کے مقام پر وہ دونوں اننگز میں رنز بنانے سے محروم رہے اور اس طرح وہ بدقسمت کہے جاسکتے ہیں کہ اپنے کیریئر کی آخری اننگ کو یادگار نہ بنا سکے۔ اس کے بعد وہ دوبارہ کبھی ٹیسٹ میچوں میں نظر نہیں آئے۔

اعدادو شمار[ترمیم]

منظور الٰہی نے 6 ٹیسٹ میچوں کی 10 اننگز میں 2 دفعہ ناٹ آئوٹ رہ کر 123 رنز سکور کئے۔ 15.37 کی اوسط سے سکور ہونے والے ان رنزوں میں 52 اس کا کسی ایک اننگ کا سب سے زیادہ سکور تھا۔ یہ نصف سنچری اس کی ٹیسٹ میچوں میں بننے والی اکلوتی نصف سنچری تھی جبکہ 54 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کی 46 اننگز میں 13 دفعہ ناٹ آئوٹ رہ کر 741 رنز 22.45 کی اوسط سے سکور کئے۔ 50 ناقابل شکست ان کی کسی ایک اننگ کا سب سے زیادہ سکور تھا اور ایک روزہ مقابلوں میں بننے والی یہ اکلوتی نصف سنچری تھی۔ 194 فرسٹ کلاس میچوں میں منظور الٰہی نے 294 اننگز میں 27 مرتبہ بغیر آئوٹ ہوئے 8366 رنز بنائے۔ 31.33 کی اوسط سے پایہ تکمیل تک پہنچنے والے اس مجموعے میں 163 ناٹ آئوٹ اس کا سب سے زیادہ سکور تھا۔ 10 سنچریاں اور 46 نصف سنچریاں اس کے فرسٹ کلاس کیریئر کا حصہ ہیں۔ اس نے ٹیسٹ میچوں میں 7، ایک روزہ مقابلوں میں 21 اور فرسٹ کلاس میچوں میں 149 کیچز پکڑے۔ ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے 194 رنز دے کر 7، ایک روزہ مقابلوں میں 1262 رنز دے کر 29 اور فرسٹ کلاس میچوں میں 10174 رنز دے کر 360 وکٹیں اپنے نام کیں۔

حوالہ جات[ترمیم]