کائفینگ یہود

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کائفینگ یہود
Jews of Kai-Fung-Foo, China.jpg
کائفینگ کے یہود, 19ویں صدی کے آخر یا 20ویں صدی کے آغاز میں
گنجان آبادی والے علاقے
اسرائیل, چین
 چین ~1,000
 اسرائیل 19 (2016ء تک)[1]
زبانیں
مینڈارن چینی اور عبرانی (جدید)
یہودی-فارسی (تاریخ)
مذہب
یہودیت
متعلقہ نسلی گروہ
ہان چینی, حوئی قوم, ایرانی یہود.

کائفینگ یہود چین کے ہینان صوبے کے کائفینگ شہر کی ایک چھوٹی سی یہودی برادری کے لوگ ہیں، جواب چینی معاشرے میں جذب ہوچکے ہیں ، جبکہ کچھ یہودی روایات اور رواجوں کو اب بھی محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔ کائفینگ میں ان کی ابتدا ء اور آمد کا وقت ماہرین کے نزدیک قابل بحث معاملہ ہے۔

تاریخ[ترمیم]

اکثر دانشور اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ شمالی سونگ مملکت (1127ء-960ء) کائفینگ کے علاقے میں ایک یہودی برادری وجود رکھتی تھی، اگرچہ کچھ لوگ ان کے وجود کو اس سے بھی قبل یعنی تانگ راج (907ء-618ء) یا اس سے پہلے کے زمانے تک بھی مانتے ہیں ۔ [2] شمالی کائفینگ مملکت کا دار الحکومت کائفینگ، شاہراہ ریشم کی ایک شاخ پر ایک بین الاقوامی شہر تھا۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ یہودسفاردی یہود کی ایک چھوٹی سی برادری ہو، جس کا تعلق فارس یا بھارت سے ہوسکتا ہے یا شاید وہ صلیبیوں سے فرار ہوتے ہوئے سمندر کے راستے یا بری راستوں سے وہاں پہنچے اور شہر میں آباد ہوئے اور 1163ء میں وہاں ایک کنیسہ بھی تعمیرکیا۔ [3]

منگ راج کے دوران (1644ء-1368ء) ، ایک منگ حکمران نے ان یہود پرآٹھ خاندانی نام رکھے جن سے وہ آج تک پہچانے جاتے ہیں : آئے، شی، گاؤ، گان، جین، لی، ذھانگ اور ذھاؤ۔ 20ویں صدی کے آغاز تک ذھانگ قبیلہ میں زیادہ تر اسلام قبول کر چکے تھے۔

کائفینگ کنیسہ کے یہود منتظمین "ملا" کہلاتے تھے۔ 1642ءمیں ایک تباہ کن سیلاب نےکنیسہ تباہ کیا، اگرچہ صحیفی نسخوں کو بچانے کے لیے بہت کوشش کی گئی۔گاؤ قبیلہ کے گاؤ زوؤان نامی آدمی نے ، بار بار سیلاب میں کئی غوطے لگا کر کچھ صحیفے بچائے اور اس کے بعد تمام سات قبیلوں کی مدد سے 13 کتابیںبحال کی گئیں۔ [4] سیلاب اور آگ نے بار بار کائفینگ کنیسہ کی کتابیں تباہ کیں ؛ [جب?] کچھ انہوں نے ننگزیا اور ننگبو سے حاصل کر کے بدل لیں اور ایک عبرانی تورات کا نسخہ ایک شانزی نامی مسلمان سے حاصل کیا گیا جسے کینٹن میں ایک یہود مرتےوقت دے گیا تھا ۔ [کب؟][5]

جلاوطنی عجائب گھر، تل ابیب میں کائفینگ کنیسہ کا ایک نمونہ
18 ویں صدی، کائفینگ کنیسہ کا داخلی حصہ

چین میں یہودیوں کی موجودگی کا علم یورپیوں کو 1605ء تک نہ تھا، جب کائفینگ سے ایک یہودی (جو بیجنگ میں جنشی کے امتحانات کے لیے آیا تھا )نے بیجنگ میں مٹیو ریچی سے ملاقات کی۔ مٹیو ریچی کے تبلیغی مہم کی سرگزشت کے مطابق ، [6] [7] اس کے ملاقاتی بنام ای ٹیان (艾田 ) نے وضاحت کی کہ وہ ایک خدا کی عبادت کرتا ہے۔ یہ بھی قلم بند کیا گیا ہے کہ جب اس نے عیسی علیہ السلام کے ساتھ مریم کی ایک تصویر دیکھی، تو اس نے اس تصویر میں ربقہ کو عیسو / یعقوب کو گمان کیا۔ ای نے بتلایا کہ کائفینگ میں بہت سے دوسرے یہودمسکون ہیں ۔ ان کا ایک شاندار کنیسہ (لیبایسی 礼拜寺 libai si ) تھا اور ان کے پاس کتابوں اور لکھے ہوئے مواد اور کی ایک بہت بڑی تعداد تھی۔

ای کے دورے کے تقریباً تین سال بعد ، رکی نے ایک چینی مسیحی کو کائفینگ کا دورہ کرنے کے لیے بھیجا؛ انہوں نے عبادت گاہ میں رکھی مقدس کتب کا مطالعہ کیا ، جس نے رچی کو اس بات کی تصدیق کی اجازت دی کہ وہ سب واقعی تورات ہی کے متن تھے جس کو یورپ میں پینٹاٹیوچ/تورات کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ، سوائے اس بات کے کہ انہوں نے عبرانی حروف تہجی استعمال نہیں کی (جو نسبتا دیر سےایجادہوئی) ۔ [8]

جب رچی نے کائفینگ کے "حکمران کنیسہ" کو لکھا، اس سے کہا جس مسیح کا یہودانتظار کر رہے تھے وہ آچکا تو، "صدر پادری" نے لکھا تھا کہ اس کے بعد مسیح دوبارہ دس ہزار سال تک نہیں آئے گا۔ تاہم، بظاہر تربیت یافتہ جانشین کی کمی پر فکرمند ، ربی نے رچی کو اپنی تبلیغ کر ڈالی ، چاہیے کہ مسیحی مبلغ ان کے ایمان (یہودیت) میں شامل ہوجائے اور سور کا گوشت کھانا ترک کر دے ۔ بعد میں، ای کے بھتیجے سمیت، کیفے سے کائفینگ کے تین اور یہود نے بیجنگ کے کاروباری دورے پر عیسائی مبلغ کے گھر پربپتسما لیا۔ انہوں نے عیسائی مبلغ کو بتایا کہ یہودی ربی مر چکا اور (چونکہ رچی نے اس کی پیشکش قبول نہیں کی تھی)، اسہی کی رائے پر اس کا بیٹا بھی قائم ہے جو ایمانی معملات میں کافی بے علم اور کمزور ہے۔ چین کے یہودی برادری کی صورت حال کے بارے رچی کا مجموعی تاثر یہ تھا کہ "وہ ساریسن (یعنی مسلمان ) بننے کے راستے پر ہیں۔ [8]بعد میں ، یورپی مبلغین کی ایک بڑی تعداد نے کائفینگ برادری کا دورہ کیا ۔

1850ء کے تائپنگ بغاوت کائفینگ یہودی برادری کے منتشر ہونے کی وجہ بنی، لیکن بعد میں یہ کائفینگ واپس آگئی۔ کائفینگ میں تین سنگی ستون (حجر عمودی)ملے جس پر کندہ کاری ہوئی تھی ۔ ان میں سے سب سے پرانا 1489ء میں بنا جو 1163ء میں تعمیر ہوئے کنیسہ کا ذکر کرتا ہے(اس کنیسہ کا نام 清真寺 ، قنگن سی تھا ، جو مسجد کے لیے چینی اصطلاح ہے)۔ اس پہ کندکاری سے لکھا ہے کہ یہود ہان بادشاہت (دوسری صدی ق م ۔ دوسری صدیء )میں بھارت سے چین آئے ۔ یہ 70 یہود کے نام کا حوالہ دیتا ہے جن کے خاندانی نام چینی تھے، یہ ستون ایک بے نام سونگ بادشاہ کے لیے بنایا گیا تھا اور اس پر ان کے ابراہیم سے عذرا کے دور تک مذہب کی تبدیلیاں بھی درج ہیں۔ 1512ء کی تاریخ کا ایک اورکتبہ(ذوانزہونگ داؤجنگ سی کے کنیسہ سے ملا) ان کے یہودی مذہبی طریقوں کی تفصیلات بتاتا ہے۔ تیسرا کتبہ1663ء کی تاریخ کا ہے، جو قنگن سی کے کنیسہ کی تعمیر نو اور دوسرے دو کتبوں میں موجود معلومات کا اعادہ کرتے ہیں۔ [9]

دو کندہ کاری کیے سنگی ستون(حجر عمودی) سونگ مملوک خاندان کے جنرل یوئی فے کی کمر پر مشہورگودہی گئی نقش(ٹیٹو) کا حوالہ دیتے ہیں۔جس کا مطلب "ملک کے لیے بےحد وفاداری" تھا،یہ سب سے پہلے 1489ء میں ایک سنگی ستون(حجر عمودی) جو نمودار ہوا کے ایک حصہ پر یہود کے بارے میں بات کرتا ہے "ملک اور شہزادہ کے لیے بے انتہا وفاداری" ۔ دوسرا حصہ 1512ء سنگی ستون(حجر عمودی) جو چینی فوج میں یہودی فوجیوں اور افسروں کےبارے میں لکھا گیا"بے انتہائی وفا ملک کے لیے"۔

20 ویں صدی کے ابتدائی رومن کیتھولک محقق پادری یوسف بروکر نے درج کیا کہ رچی کی چینی یہودیوں کی یاداشت اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ کائفینگ میں 16ویں صدی کے اختتام اور 17ویں صدی کے آغاز میں دس یا بارہ یہودی خاندان موجود تھے [10] اور یہ کہ اطلاعات کے مطابق وہ وہاں پانچ چھ سو سال سے رہ رہے تھے۔ ان مسودوں میں بھی ذکر کیا گیا تھا کہ ہانگژو میں یہود کی ایک بڑی تعداد تھی۔ [10] یہ تجویز کیا جاسکتا ہے کہ وفادار یہود ہانگژو یعنی جنوب کی جانب فرار ہوئے جہاں عنقریب گواؤژونگ کی تاجپوشی ہونا تھی۔ اصل میں، 1489ء سنگی ستون بتاتا ہے کہ کسطرح یہود نے ( جینگ کانگ حادثہ کے بعد"بیانلنگ یعنی کائیفنگ ترک کیا") ۔

کائیفنگ کے یہود کے باقی علاقوں کے یہودی تارکین سے تفرید کے باوجود ، کائیفنگ کے یہود نے کئی صدیوں تک یہودی روایات اور رسومات کو زندہ رکھا۔ 17 ویں صدی میں، انجذاب نے ان روایات کو ختم کرنا شروع کیا۔ یہودیوں اور دیگر نسلی گروہوں، جیسے چینی ہان اور اقلیتوں جیسے ہوئی اور منچو گروہوں کے درمیان آپسی ازدواج کی شرح میں اضافہ ہوا۔ 1860ء میں کنیسہ کی تباہی یہودی برادری کی تباہی کا سبب بنا۔ [11] تاہم، 1867ء میں کائیفنگ کا دورہ کرنے والا پہلا مغربی یہودی ج ل لیبرمن نے محسوس کیا کہ "دفنانے کے لیے ان کے پاس اب بھی ان کی اپنی زمین موجودتھی"۔ 1868ء میں یہ اطلاع دی گئی کہ ان کی عبادت میں فقط بائبل کے کچھ ٹکڑے شامل تھے۔[12] شنگھائی کے کاروباری اور دانشور س م پرلمین نے 1912ء میں لکھا کہ "وہ تابوت میں مردے کو دفن کرتے ہیں لیکن چینیوں میں مستعمل تابوتوں سے ان کے تابوت مختلف شکل کے ہوتے ہیں اور چینیوں کی طرح غیر مذھبی کپڑوں کی بجائے ململ کے کپڑے میں مردے کو دفناتے ہیں "۔ [13]

دور حاضر[ترمیم]

شارع زمین مارکیٹ ، کائیفنگ، 1910ء۔ کنیسہ دکانوں کی قطار کے دوسری طرف دائیں جانب ہے

چین میں، سیاسی صورت حال کی وجہ سے، 1980ء کے آغاز میں جب سیاسی اور اقتصادی اصلاحات کو لاگو کیا گیا چین میں کائیفنگ یہود اور یہودیت پر تحقیق رک کر جمود کا شکار ہوئی۔ 1980ء کے دہائیوں میں، مجلسِ دانشورانِ عالم نے چینی یہودی ادارہ قائم کیا تاکہ چین میں یہودی طبقات کی تاریخ پر تحقیقات کیجاسکے اور چین میں یہودی تاریخ سے متعلق تعلیمی منصوبوں کو فروغ دیا جائے اور کائیفنگ کے یہود کے وجود کی حمایت کی جائے۔ [14] 1992 ء میں چین اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام نے یہودی تجربے اور یہودیت میں دلچسپی کو پھر سے روشن کیا، خاص طور پر اس ضمن میں کہ25،000 یہود نے نازی دور میں شنگھائی کیجانب فرار ہو کر پناہ لی ۔ [15]

چین میں یہودیوں کی تعداد کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ اعداد و شمار صرف سرکاری رویوں میں تبدیلی کی وجہ سےبھی تبدیل ہو سکتے ہیں۔ آخری مردم شماری کے مطابق تقریباً 400 باضابطہ یہود کائیفنگ میں موجود تھے،،جو اب بڑھ کرتقریبا 100 خاندان یعنی 500 افراد کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ [16] 1000 باشندوں کا اب بھی یہودی نسب سے تعلق ہے ، [11] اگرچہ صرف 40 سے 50 افراد یہودی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ [17]

کائفینگ کے یہود کی نسل کہتی ہے کہ ان کے آباء و اجداد نے ان سے کہا کہ وہ یہودی ہیں اور ایک دن "وہ اپنی زمین پر واپس جائیں گے"، [11] دوسروں کو ان کے آباء کے بارے میں مبہم واقفیت ہے۔ [18]

کائیفنگ یہود نے مقامی غیر یہودی چینیوں کے ساتھ باہمی ازدواج استوار کئےجس سے ان کی اپنے پڑوسیوں سے کافی حد تک مشابہت ہوئی۔ [19] البتہ ایک خاصیت انہیں ان کے پڑوسیوں سے ممتاز کرتی رہی وہ ترک سور خوردنی تھا۔ [11] چو یینان، چینی خاتون، جس نے 1981ء میں اپنی یہودی نسلیت اپنی ماں کی اقلیتوں پر مجلس میں شرکت کرنے کیوجہ دریافت ، کہتی ہیں کہ ان کے خاندان نے سور کا گوشت یا خول مچھلی نہیں کھائی اور ان کے دادا نے ہمیشہ نیلے رنگ ٹوپی پہنتے تھے۔ [20]

ہم عصر ربیائی یہودیت کے ڈھانچے میں ، یہودیت کی شجرہ مادری کے ذریعے ترسیل غالب ہے، جبکہ چینی یہود نے اپنی ترسیل یہودیت شجرہ پدری پر مبنی رکھی۔ اس کے نتیجے میں ،اسرائیلی شہریت حاصل کرنے کے لیے واپسی کے قانون کے تحت انہیں اقبال یہودیت سے گزرنا پڑتا ہے۔

یہودی سیاحوں کے ساتھ رابطے کے بعد، کائیفنگ کے کچھ یہود عالمی یہودیت کے مرکزی دھارے سے پھر سے جڑگئے ہیں ۔ [21] حال ہی میں کائیفنگ یہود کی نسل کے ایک خاندان نے باقاعدہ طور پر یہودیت قبول کر کے اسرائیلی شہریت حاصل کی۔ [22] ان کے تجربات دستاویزی فلم، کائیفنگ، یروشلم میں بیان کیے گئے ہیں۔ [23] 20 اکتوبر 2009ء کو کائیفنگ کے یہودکی پہلی جماعت شوئے اسرائیل تنظیم (اسرائیل کو لوٹانے والے) کے علیا آپریشن کے تحت کی طرف اسرائیل پہنچی ۔ [24] [25] [26]

21 ویں صدی میں، چینی یہودی ادارہ اور شوئے اسرائیل نے کائیفنگ، چین اساتذہ بھیجے تاکہ وہ دلچسپی رکھنے والے کائیفنگ کے یہود کو ان کے یہودی ورثہ کے بارے میں سکھائیں۔ جیسا کہ امریکی یہودی۔عیسائی پہل کار ٹموتھی لرنر کے آغاز کردہ کام پر تعمیر کریں۔[حوالہ درکار] تاہم، 2014ء میں حکام نے یہودی اسکول اور 2015ء کے موسم گرما میں دونوں تنظیموں کو بند کرکے اساتذہ کو نکال دیا، اس یہودی طبقہ کے اجتماعات پر پابندی لگائی گئی، کائیفنگی یہود متعدد عجائب گھروں کو زائرین کے لیے بند کر دیا گیا، یہود کے برجماعت دوروں پر امتناع عائد کی گئی اور کنیسہ کو بھی بند کیا گیا۔ حکام کے ساتھ مشکلات آمدہ سالوں تک جاری رہی۔ [27] یہودی نسل پرست اور کائیفنگ یہود کے حمایتی فی الحال چین کے حکام سے کائیفنگی یہود کی قدیمت اور غیر معمولیت منوانے کے طریقوں کی تلاش میں ہیں تاکہ ان میں سے دلچسپی رکھنے والوں کو ان کی اپنی چینی یہودی زندگی پر عمل کرنے کی اجازت دی جائے۔ [28]

کائیفنگ کی دستاویزات[ترمیم]

کائیفنگ یہود کے تحریر کام میں سے بہت کم بچ سکا ہے ۔ تاہم، ایک اہم حصہ ، اوہایو کے عبرانی یونین کالج کی کتب خانہ میں رکھا گیا ہے۔ [29] اس کام کے مجموعہ میں چینی حروف میں لکھی گئی یہودی دعائیہ کتاب سدر اور عبرانی حروف میں لکھی بائبل کے بھی تھی۔ عبرانی حروف تہجی اس میں قابل ذکر ہے، جبکہ بناوٹی طور پہ اس میں حروف علت کو استعمال کیا گیا ،جو یقیناکسی ایسے شخص نے واضح طور پر نقل کیا گیا جو ان کو نہیں سمجھتا تھا۔ اگرچہعبرانی حروف صحیح استعمال ہوئے ہیں، حروف علت بے ترتیب طور پر رکھے گئے ہیں، جس کی وجہ سے لکھا ہوا متن بے معنی معلوم ہوتا ہے۔ چونکہ جدید عبرانی عام طور پر حروف علت کے بغیر تحریر کیا جاتا ہے، ایک معتبر عبرانی گو ان حروف کو نظرانداز کرسکتا ہے، کیونکہ کچھ انشائیہ غلطیوں کے ساتھ حروف صامت (حروف غیر علت)صحیح طریقے سے لکھا جاسکتا ہے۔ برطانوی کتب خانہ میں کائیفنگ کنیسہ کے بائبل کا ایک پلندہ موجود ہے ۔ [30]

تنازعات[ترمیم]

کندہ کاریِ سنگِ کائفینگ[ترمیم]

1489ء سنگی ستون (بائیں) اور 1512ء سنگی ستون (دائیں) کی سیاہوی رگڑیں

کندہ کاریِ سنگِ کائفینگ میں: قدیم چین میں یہودی طبقہ کی وراثت ، عبرانی تاریخ اور چینی مذہب کے استاد طبیرو ویزنے کائفینگ یہود کے چھوڑے ہوئے 1489ء ، 1512ء اور 1663ء کے سنگی ستونوں کا اپنا ترجمہ پیش کیا ۔ اس ترجمے سے اخذ کردہ نئی معلومات کے مطابق، ویز نے نظریہ پیش کیا کہ 6 صدی قبل مسیح کے اسیری بابل کے بعد، مایوس لاوی اور کاہن عزیر ؑ سے جدا ہوکر شمال مغربی بھارت میں آباد ہوئے۔ 108 ق.م سے کچھ عرصے قبل ، یہود نے چین کے گانسو صوبے ہجرت کی اور چین کے جنرل لی گوانگ نے انہیں دیکھا ، جو ہان راج کی سرحدوں کو وسعت دینے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ صدیوں بعد یہود کو عظیم انسدادِ بدھمت کے دوران (46-845ء) کے دوران چین سے نکال دیا گیا تھا، جہاں وہ نینگشیا کے علاقے میں رہتے تھے۔ ویزز کا ماننا ہے کہ وہ بعد میں سانگ راج کے دوران چین واپس آئے جب اس کے دوسرے حکمران تائےژانگ نے غیر ملکی دانشوروں کی حکمت کی تلاش میں ایک فرمان جاری کیا۔ [9]

کتاب کے تجزیہ میں وکیل اور کائفینگ یہودی برادری کے حمایتی ارون م. برگ، نے دعوی کیا کہ ویز نے کئی مذہبی دستاویزات جیسے تورات ، ہگادہ ، نماز کی کتابوں کو اپنے مقالے میں نہیں شامل کیا تھا اور صرف اس نے سنگی ستون پر انحصار کیا۔ اس طرح کے دستاویزات کی تاریخ کا موٹے طور پر اندازہ ظاہری اور تحریری خصوصیات سے لگایا جاتا ہے ۔ اگرچہ وہ سنگی ستون میں مستعمل فارسی الفاظ کا حوالہ دیتا ہے ، ویزز نے اپنے مقالے میں اس تحقیق کو شامل نہیں کیا کہ عبادتی دستاویزات کی یہودی-فارسی زبان کب پہلی دفعہ اس کے مقالے میں استعمال ہوئی ۔ یہودی-فارسی زبان کو سب سے پہلے وسطی ایشیا میں 8 ویں صدی کے دوران ترقی ملی، [31] جو مصنف کے یہود کے چین میں داخل ہونے کے مفروضے کے کافی عرصہ بعد ہے ۔ برگ ان تین سنگی ستونوں پر لکھائی اور کندہ کاری کی تاریخی ساکھ پر بھی سوال کرتا ہے۔ وہ ان کی تعین زمانہ میں سہو کی مثال دیتے کہتے ہیں یہودیوں کا دعوی تھا کہ 1163ء میں منگ راج کے حکمران نے کنیسہ تعمیر کرنے کے لیے زمین ہبہ کی ۔ [32]

کائفینگ یہود کی توثیق[ترمیم]

2004ء میں لندن کے اوریئنٹل اور افریقی مطالعہ کے اسکول کے تحقیقاتی رکن ڈاکٹر زن ژہو نے ، کائفینگ برادری کی صداقت کے بارے میں اپنے شکوک شائع کیے۔ [33] ژہو نے اس بات پر زور دیا کہ یہودی کی ظاہری موجودگی زیادہ تر مغربی ثقافتی بناوٹ تھا، [30] جو جیمز فین 1840ء کی تحریر چین میں یہودی اور 1874ء کی تحریر چین میں یہود کی یتیم کالونی [34] جس کی ابتدائی تحقیق 17 ویں صدی مسیحی مبلغین کی یاداشتوں پر مبنی تھی۔ [33] وہ اپنے بیان کو برقرار رکھتی ہیں کہ 1851ء تک برادری کے پاس کوئی تورات کا پلندہ نہیں تھا، جب وہ اچانک نمودار ہوئے تاکہ مغربی آرزومندوں کو فروخت کیے جائیں۔ [33] وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ کنیسے کے نقشے مغرب میں تراشے گئے کیونکہ وہ بالکل بھی اصلی نہیں معلوم ہوتے اور یہ کہ کائفینگ یہودی برادری کے بارے دعوی کیا جاتا ہے کہ پہچانے جانے سے قبل ہی یہودی رسومات پر عمل پیرا تھے ۔ زن ژہو کا اخذ کردہ نتیجہ یہ ہے کہ کائفینگ برادری کسی بھی معقول حس میں یہود نہیں تھے۔ [33] تاہم زہو کے مفروضہ کو کائفینگ یہودسے منسوب تاریخی مصنوعات کے ثبوت رد کرتے ہیں، جو اب ٹورنٹو کے شاہی عجائب خانہ میں ہیں یا یہود کے اولاد کی یاداشتوں کے دوام میں ہیں۔ [35]

حالیہ اکتشافات[ترمیم]

یو پینگ نے مکمل طور پر سانگ راج میں یہودی داخلے کے نظریہ کو مسترد کیا، [36] جسے بہت سے چینی دانشوروں نے بڑے پیمانے پر اس نظریہ کو قبول کیا ہے۔ ماہر صینیات چن چانگچی اور وے قیانزی نے یہ استدلال کیا کہ یہود 998ء میں چین گئے، جیسا کہ سانگ کی تاریخ لکھتی ہے کہ سال 998ء راہب(مونک) نی - وے (僧 你 尾 尼) اور دیگر افراد نے بھارت سے سات سال سفر کر کےحکمران سانگ زینزونگ کو خراج عقیدت دی۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ نی- وئے نی بدھ مانک نہیں بلکہ یہودی ربی تھا۔ [37] [38] ژانگ قیانہانگ اور لیو بیلو نے بطور ثبوت سانگ تاریخ میں ایک روداد کا حوالہ بھی دیا کہ یہودی تارکین کی ایک بڑی آبادی نی-وائے-نی کے ساتھ 20 فروری 998ء کو بھارت سے کائیفینگ پہنچے۔ [39] تاہم، سانگ راج میں مانک (راہب) ذہی-پین (志 磐) کی تالیف کردہ بدھ کتاب فو-زوٹونگ-جی (佛祖 统计 بدھ جنتری) میں محتاط تحقیق کی بنیاد پر، یو پینگ مندرجہ ذیل بیان کو تلاش کیا: "998ء میں، مرکزی بھارتی راہب نی - وے- نی (沙门 你 尾 抳) مع دیگر چین میں سانگ حکمران ذہن زونگ سے بدھمت کی نوادرات، صحیفے، بنیان(ربڑ) کے پتے اور بیج سمیت ملنے آئے۔ [40] کتاب نے سینگ نی وے نی (僧) کی بجائے شہ مین (沙门) نی - وے- نی کی اصطلاح استعمال کی ، جیسا کہ سانگ کی تاریخ میں درج ہے، اگرچہ دونوں الفاظ کا مطلب چینی زبان میں "بدھ مانک(راہب)" ہے۔ اس کے باوجود، نی - وے- نی نے اپنے ساتھ مغربی کپڑا نہیں لایا تھا اور یہ کہ وہ یہودی راہب نہیں تھا۔ [36]

یو پینگ نے یوآن داخلے کا نظریہ تجویز کیا کائیفینگ لوگ حوئی قوم (مسلمانوں) کے ساتھ منگول یوآن راج میں چین میں داخل ہوئے، کیونکہ چینی تاریخی ذرائع منگول آن یوآن راج تک چین میں یہود کی موجودگی کا ذکر نہیں کرتے ۔ [41] وہ استدلال کرتا ہےکہ کائیفینگ یہودی فارس سے تھے۔ [36]

1679ء کے سنگی ستون پر درج ایک جملہ کسی یہودی چاؤ قوم کے آن ڈو لا بطورجن یائی گوونگ (锦衣 公) کا ذکر کرتا ہے ، یو نشان دہی کرتا ہے کہ کنیسہ اِبتداً تعمیر ہوا ناکہ وہ بعد یعنی1421 ء میں مرمت کےذریعے سے بحال ہوا۔ اور یہ کہ 1489ء کے کندہ کاری پر لکھا سانگ راج کا آن ڈولا اور منگ راج کا آن چنگ ، دراصل ایک ہی شخص تھا۔ کائفینگ کی یہودی لی قوم کے جینیاتی نسبی سلسلے کی ایک کتاب "پئین کی دفاع کی ڈائری (روزنامچہ)" کے مطابق ، وہ تشخیص کرتا ہے کہ اولین ترین اور قابل بھروسا یہود کے کائفینگ میں آمد کی تاریخ منگ راج کے ہونگ وو دور (98-1368ء) میں ملتی ہے۔یو یہ بھی دعوی کرتا ہے کہ منگ راج کی شروعات میں سمو قوم (色目人) کے خلاف فرق روا رکھنے اور جبری ثقافتی تسلط کی پالیسی نے کائفینگ قوم کی چینی آبادی میں تبدیلی کو مزید تیز کیا۔ یہود نے چین میں آبادکاری کا تاثر منگول یوآن راج سے سانگ راج ، ہان راج حتی کہ ژو راج تک بتلانے پر زور دیا تاکہ یہود کی چین میں موجودگی مسلم ہان قوم کے عرصہ کے مساوی ثابت کی جاسکے اور انہیں یہود مخالف امتیازی سلوک کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ [36]

کتب اور فلمیں[ترمیم]

کائفینگ یہود، نیشنل جغرافیائی، 1907ء

ادبی حوالہ جات[ترمیم]

امریکی ناولن گار پرل س بیک ، جو چین میں پلی بڑھی اور چینی زبان میں رواں گفتار تھی، نے اپنا ایک تاریخی ناول ( پیونی )چینی یہودی برادری پر ترتیب دیا۔ یہ ناول چینی ثقافتی قوتوں کی یہود کی جداگانہ شناخت کو آہستہ آہستہ مدہم کرنے اور باہمی ازدواج پر لکھا گیا ہے ۔ عنوانی کردار، چینی کنیزپیونی اپنے مالک کے بیٹے داؤد بن عزیر سے محبت کرتی ہے، لیکن اپنی نچلی حیثیت کی وجہ سے اس سے شادی نہیں کرسکتی۔ آخر میں وہ اونچے طبقہ کی چینی خاتون سے شادی کرتا ہے، جس سے اس کی ماں مضطرب رہنے لگتی ہے جسے اپنی خالص نسل اور غیر منقولہ نسل پر فخر ہوتا ہے۔ باقی ماندہ نام ، جیسے "چننے ہوئے پٹھے کی سڑک" اور رواجات جیسے سور کا گوشت کھانے سے اجتناب، کی موجودگی ناول بھر پر حاوی ہیں۔

براڈوے موسیقانہ چو کھیم ایک افسانوی کہانی ہے جو کائفینگ یہودی برادری کے گرد گھومتی ہے۔ نمائش میں، یورپی اداکاروں کا ایک گروہ چیو کیم کی کہانی پیش کرنے کے لیے چینی فنکاروں کے ایک طائفہ میں شمولیت اختیار کرتا ہے۔ جو ایک دانشور ہوتا ہے اور اپنی بیوی روز اور بیٹی لوٹے کے ساتھ، اپنے آباءواجداد کے بارے میں جاننے اور لڑکی کے لیے شوہر تلاش کرنے کے لیے کائفینگ کا سفر کرتے ہیں۔

دستاویزی فلمیں[ترمیم]

مؤرخ مائیکل وڈ اپنی 1992ء کی دستاویزی سلسلہ ورثہ (لیگیثی) میں کائفینگمیں ایک چھوٹی سی گلی میں چلتا ہے جسے وہ کہتا ہے کہ " صحیفےسکھانے والے فرقہ کی پٹڑ ی "، یعنی یہود۔اس نے نشاندھی کہ کہ آج بھی کائفینگ میں یہودموجود ہیں ، لیکن "موجودہ سیاسی تناظر میں" وہ خود کو ظاہر کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ دستاویزی فلم کی کتاب بتاتی ہے کہ داخلی دروازوں پر اب بھی مزوزا اور کمروں میں شمعدان دیکھا جاسکتا ہے ۔ اسی طرح، کینیڈا کے فلم ساز سمچا یعقوبوچی ،"اپنی دستاویزی فلم دس گمشدہ قبائل کی کھوج" میں ، ایک بزرگ کائفینگ یہودی کے گھر کا دورہ کرتا ہے، جو کائفینگ یہود کی حالیہ تاریخ کی وضاحت کرتا ہے، اسے کچھ پرانی تصاویر دکھاتا ہے اور اپنی شناختی دستاویزات جو اسے یہودی نسلی گروہ کا ایک رکن ظاہر کرتی ہیں ۔ ایک حالیہ دستاویزی فلم، کائفینگ میں منیان ، کچھ یہودی سیاح کے دورہ چین کے دوران موجودہ کائفینگ یہودی برادری کا احاطہ کرتی ہے ۔ [42]


مزید دیکھیے[ترمیم]

مزید پڑھئیے[ترمیم]

  • انسن لیٹنر اور اردن کاغذ، چینی یہودیوں کی کیفینج: ایڈنشن اور اینڈریوشن کا ایک میلینیم (لیکنٹننگ کتب، 2017).
  • Loewe، Michael (1988). "The Jewish Presence in Imperial China". Jewish Historical Studies 30: 1–20. 
  • پیٹرکیا M. انجکشن (ed. )، مشرقی گیٹ کا کیفینگ: چین ، چین سینٹر، یو این منیئنٹا، 1992 کے اندر ایک یہودیوں کی دنیا ، 1992، ISBN 978-0-9631087-0-8 .
  • اردن پیپر (2012)، کیفینگ یہودی یہودیوں، 1000-1850 (وائلڈ لاریئر یوپی).
  • مائیکل پولک، منارائنس، یہودیوں اور مشنریوں: یہودی سلطنت میں یہوواہ تجربے ((نیویارک: وییتیریل، 1998)، ISBN 978-0-8348-0419-7 .
  • شلومی رسکین، "چینی یھودی کے بارے میں ایک بائبل"، مووریٹیٹ اسرائیل (جرنل آف یہودیوں، صیہونیزم اور الریز-اسرائیل)، نمبر 3 (ستمبر 2006)، پی پی.   60-85.
  • سڈنی شاپرو، پرانے چین میں یہودیوں ، چین کے ماہرین کی طرف سے مطالعہ ، (نیویارک: ہپکوینئر کتب، 1984)، 2001 ISBN 978-0-7818-0833-0 .
  • چیم سیمون، کیفینگ چین کے یہودیوں کی طرف سے یہودیوں کے مذہبی مشاہدے (چین جوڈوک انسٹی ٹیوٹ، 2010).
  • ولیم چارلس وائٹ، چینی یہودیوں ، دوسرا ایڈیشن (نیو یارک: پیرون، 1966).
  • Xu Xin، یہودی Kaifeng، چین ، (جرسی سٹی: KTAV، 2003)، ISBN 978-0-88125-791-5 گوگل کی کتابیں .
  • Xu Xin، چینی یہودیوں کی کیفینگ کے کنودنتیوں ، (ہاکوکن: KTAV، 1995)، آئی ایس بی بی گوگل کتابیں .

بیرونی روابط[ترمیم]

  • Stuart Winer۔ "5 Chinese women immigrate to Israel, plan conversion"۔ Times of Israel۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-12-19۔
  • Empty citation (معاونت)
  • Matthew Fishbane (مارچ 30, 2010)۔ "China's Ancient Jewish Enclave"۔ The New York Times۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-02-01۔
  • Empty citation (معاونت)
  • Empty citation (معاونت)(Original from the University of Michigan)
  • Empty citation (معاونت).
  • Empty citation (معاونت).
  • ^ ا ب Ricci 1953، صفحہ۔ 109.
  • ^ ا ب Weisz, Tiberiu. The Kaifeng Stone Inscriptions: The Legacy of the Jewish Community in Ancient China. New York: iUniverse, 2006 (ISBN 0-595-37340-2) Google books
  • ^ ا ب مسیحی مہم جوئی کے ساتھ، سنساس ، پی. گیلریر کے انگریزی ترجمہ میں (1953)
  • ^ ا ب پ ت Empty citation (معاونت)
  • Empty citation (معاونت)
  • Empty citation (معاونت)
  • "The Sino-Judaic Institute"۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 اپریل 2016۔
  • Jüdische Nachrichten۔ "Youtai – Presence and Perception of Jews and Judaism in China"۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 اپریل 2016۔
  • "Are There Really Jews in China?: An Update"۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 اپریل 2016۔
  • "China Virtual Jewish History Tour"۔ www.jewishvirtuallibrary.org۔
  • "Hadassah Magazine"۔
  • ایپیسٹن، مارام، امریکی یہودی یہودیوں کے. حجم 1، تاریخی اور متوازن نظریات (جائزہ) ، چین کا جائزہ بین الاقوامی   - جلد 7، نمبر 2، 2000 گر، پی پی 453-45
  • "CHINESE WRITER STUDIES JEWISH ROOTS"۔ The New York Times۔ 18 جون 1985۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 اپریل 2016۔
  • Kaifeng Jews Celebrate Hannukah یوٹیوب پر
  • چین کے ایک گاؤں سے. یروشلم میں شادی کی چھت پر . ارٹز 7
  • "箱根の楽しみ方ガイド"۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 اپریل 2016۔
  • کیفینگ سے کیببٹمیم سے . یروشلیم پوسٹ
  • چینی یہودی یہودی اسرائیل ، یہوواہ ٹیگرافک ایجنسی نیوز سروس، 10 // 26/09 میں پہنچتے ہیں .
  • اسرائیلی یشوو میں کیفاینگ یہودیوں کا مطالعہ ، پورے آرتھوڈوکس تبدیلی کے راستے پر، سات وقف چینی یہودیوں نے منصوبہ بندی کرنے کا ارادہ رکھ رکھا ہے کہ وہ اپنے دورۂ اجازتوں کو علاحدہ ویزا کے لیے اسرائیل کا دورہ کریں تاکہ وہ مستقل طور پر اسرائیل کا دورہ کریں، ربیکا بیٹن، 08/24/10.
  • Ty Joplin، سی سی پی کا قیفین یہودیوں کی ٹنی کمیونٹی ، کتر موسم سرما ، 17 جنوری 2019 کو خاموش کر رہا ہے .
  • انسن لیٹنر، "بقا اور بحالی کے درمیان: کفینگ-یہودی شناخت کے بارے میں یہودی یہودی اثرات کا اثر،" انسن لیٹنر اور اردن کاغذ میں، چینی یہودیوں کا کیفینج: ایڈاپریشن اور برداشت کا ایک ملین (لیکنٹنٹن کتب، 2017)
  • Dalsheimer Rare Book Exhibit Error in webarchive template: Check |url= value. Empty.. Jews of Kaifeng Manuscripts
  • ^ ا ب "Sacred Texts: Kaifeng Torah"۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 اپریل 2016۔
  • روتھ، نورمون. قرون وسطی یہودی تہذیب: ایک انسائیکلوپیڈیا. Routledge، 2002، پی. 394
  • کافینگ پتھر کا نسخہ کا جائزہ 09-26-2009 کو حاصل
  • ^ ا ب پ ت Empty citation (معاونت)
  • چین میں یہودیوں کی یتیم کالونی ، 1874
  • اردن کا کاغذ ملاحظہ کریں، "کیفین یہوداہ کے علوم، 1000-1850" (ویلیفڈ لوریئر یوپی، 2012)؛ زو Xin، "کافینگ چین کے یہودیوں" (KTAV، 2003)؛ سڈنی شاپرو، "پرانے چین میں یہودیوں" (ہپکوئنر، 2001)؛ انسن لیٹنر اور اردن کا کاغذ، "چینی یہودیوں کا کیفینگ" (لیکنٹن کتابیں، 2017)؛ اور چیم سیمون، "کیفینگ چین کے یہودیوں کی طرف سے یہودیوں کی مذہبی مشاورت" (چین جوڈوک انسٹی ٹیوٹ، 2010).
  • ^ ا ب پ ت Yu، Peng (Autumn 2017). "Revising the date of Jewish arrival in Kaifeng, China, from the Song Dynasty (960–1279) to the Hung-wu period (1368–98) of the Ming Dynasty". Journal of Jewish Studies LXVIII (2): 369–86.. 
  • چن، چانگکی. 'شاہسٹ مونک یا یہودی ربیبی'؟، شاپرو (ایڈ.)، پرانے چین میں یہودیوں ، پی پی 139-42
  • وی، Qianzhi. 'کیفینگ میں یہودی تصفیہ کی تاریخ کی تحقیقات'، تاریخی ماہانہ 5 (1993)، صفحہ 36-41؛ پی. 39.
  • ژانگ، Qianhong اور لیو، Bailu. 'ہنن یونیورسٹی کے جرنل 46: 6 (2006)، پی پی 97-100؛ جرنل اسٹین آرٹیکلز سے کیفینگ یہودیوں کی سماجی حالت پر ایک مطالعہ؛' پی. 97.
  • Zhi-pan، فو-زو ٹونگ-جی (بوہا المبارک)، وول. 44؛ فو-زو ٹونگ-جے سی بیٹی اے الیکٹرانک ورژن میں ((چینی بودھسٹ الیکٹرانک ٹیکسٹ ایسوسی ایشن، 2002)، پی. 444، http://buddhism.lib.ntu.edu.tw/BDLM/sutra/chi_pdf/sutra20/T49n2035.pdf
  • چن، یوآن. زو وو (ایڈ.) میں، 'اسرائیلی مذہب کا مطالعہ' چن چن یوآن (شنگھائی: شنگھائی پیپلز پبلشنگ ہاؤس، 1981)، پی پی 84 - 5 کی طرف سے منتخب تاریخی مضامین .
  • "Minyan in Kaifeng: A Modern Journey to an Ancient Chinese Jewish Community"۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 جون 2016۔