ایرانی یہود

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ایرانی یہود
کل آبادی
~300,000–350,000 (تخمینہ)
گنجان آبادی والے علاقے
 اسرائیل 200,000–250,000
 ریاستہائے متحدہ 60,000–80,000
 ایران 8,756–25,000
 کینیڈا 1,000
 آسٹریلیا ~740
زبانیں
تاریخی طور پر: فارسی زبان، یہودی فارسی زبانیں، یہودی آرامی
جدید: عبرانی زبان، فارسی زبان، آذربائیجانی زبان، انگریزی زبان
مذہب
یہودیت
متعلقہ نسلی گروہ
جبلی یہودی، مزراحی یہودی، فارسی، آشوری قوم، یہود بخاری، کردی یہودی۔

ایران میں یہودیوں کی موجودگی کی تاریخ تین ہزار سال سے بھی پرانی ہے۔ اسرائیل سے آشور، بابل اور وسطی و مغربی ایران کی طرف یہودیوں کی ہجرت مختلف ادوار میں تسلسل کے ساتھ جاری رہی۔[1] اس عہد ہجرت و نقل مکانی کی پوری تاریخ شاہد ہے کہ یہودیوں کے ایرانیوں کے ساتھ گہرے مذہبی اور ثقافتی تعلقات رہے۔ سیاہکل کے یہودی رمضان میں مسلمانوں کے ساتھ روزہ رکھتے تھے اور کردستان کے یہودی صوفی تقریبات میں شریک ہوا کرتے تھے۔ یہودی بذات خود ایران کی ثقافتی زندگی میں سرگرم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔[2]

پس منظر[ترمیم]

خسرو و شیرین از نظامی گنجوی عبرانی خط میں

سائرس اعظم کے عہد میں یہودیوں کو اسرائیل جو ہخامنشی سلطنت کا حصہ تھا واپس جانے اور اپنے معابد دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت دی گئی۔ لیکن ان میں سے کچھ گروہ ایران ہی میں رہے اور اپنی مذہبی و ثقافتی رسوم آزادانہ انجام دیتے رہے۔ یہودیوں کے ساتھ سائرس اعظم کی اس نوازش کا ذکر عہد عتیق سے کتاب مقدس میں آیا ہے اور دنیا کے تمام یہودی اسی بنیاد پر سائرس اعظم کو اپنا نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔

ایران میں یہودیوں کے کئی تاریخی اور مقدس مقامات ہیں مثلاً انبیا اور دیگر بزرگ ہستیوں کے مزارات جن میں شوش میں دانیال/دانی ایل اور تویسرکان میں حبقوق کے مزارات قابل ذکر ہیں جو مسلمانوں کے لیے بھی قابل احترام ہیں۔ ان کے علاوہ یہودیوں کی کچھ بزرگ ہستیوں میں سے ہاراؤ اورشرگا یزد میں جبکہ ربی سکارلینیلی کاشان میں مدفون ہیں۔

ہمدان میں آستر اور مردکی سے منسوب مزارات ہیں جو یہودیوں کے نزدیک انتہائی قابل احترام ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہگمتانہ (ہمدان کا قدیم نام) ہخامنشی سلطنت کا موسم گرما کا دار الحکومت تھا۔

کتاب آستر[ترمیم]

عہد عتیق کی معروف کتاب آستر کے مطابق آستر اپنے چچا مردکی کی مدد اور شوہر اخسویرس کی بیوی ہونے کی حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے مخالفین کو ختم کرنے میں کامیاب ہوئی۔ تاہم افسانہ آستر اور تاریخی حقائق آپس میں متصادم ہیں کیونکہ تاریخی واقعات اس افسانوی داستان سے مماثلت نہیں رکھتے۔ یہاں اس کا اس طرح سے ذکر شاید اس لیے کیا گیا کہ آستر کی شخصیت ایرانی اور دنیا بھر کے یہودیوں کے لیے افسانوی حیثیت اور مذہبی منزلت رکھتی ہے۔ اس کی داستان اور مقبرہ کی ایران سے نسبت یہودیوں کی ایران اور اس سرزمین سے گہری انسیت کا اظہار ہے جو تاریخ ایران کا حصہ ہے۔

ایران میں ظہور اسلام[ترمیم]

ایران میں اسلام کی آمد اور حکومت کے دوران میں یہودی عراق اور ایران کے بہترین شہروں مثلاً عراق میں پومبدیتا اور تیسفون اور ایران کے شہروں ہمدان، نہاوند، جندی شاپور، شوش، تستر اور اس کے علاوہ قہستان و جرجان جیسے علاقوں میں رہائش پزیر تھے۔ اصفہان میں یہودیوں کا ایک محلہ یہودیہ کے نام سے تھا۔ بلاذری نے فتح اصفہان کے موقع پر ایک معاہدہ صلح کا ذکر کیا ہے جو اسی یہودیہ میں ہوا تھا۔[1]

اسلام کی آمد کے بعد دیگر اقلیتوں کی طرح یہودی بھی جزیہ دینے کے پابند تھے۔ اگرچہ اس دوران میں سائناگوگ کی تعمیر پر پابندی یا مساجد کے مقابلے میں ان کی تعداد کو کم رکھنا، اسلحہ لے کر چلنا اور مخصوص لباس پہننے پر پابندی جیسے قوانین وقتاً فوقتاً نافذ کیے جاتے رہے۔ اس کے باوجود یہودیوں کی زندگی اسلامی ایران میں بازنطینی سلطنت سے بہتر تھی۔[1]

اسلامی دور خلافت[ترمیم]

خلافت راشدہ اور اس کے بعد اموی اور عباسی دور میں یہودیوں نے سماجی اور ثقافتی زندگی کا ایک نیا دور شروع کیا۔ اس عہد میں یہودیوں کا سیاسی اور سماجی راہنما راس جالوت نامی شخص تھا جس کی قیادت کو خلافت کی جانب سے سند قبولیت حاصل تھی۔ راس جالوت پومبدیتا اور سورا کے شہروں میں قائم مذہبی مدارس جنہیں گاؤُن کہا جاتا تھا کے سربراہوں میں سے ایک تھا۔ ایران کے یہودی جزیہ ادا کرنے کے علاوہ گاؤن کی بھی مالی مدد کیا کرتے تھے۔ گاؤن سے مذہبی اور روحانی شعائر کی ترویج و تربیت کے لیے قاصد یہودی آبادیوں میں جایا کرتے جن کے ذمہ معاملات کے تصفیہ اور قضا کی ذمہ داری بھی ہوا کرتی تھی۔ انہی قاصدوں کی وجہ سے چھٹی صدی ہجری میں ہمدان اور اصفہان یہودیوں کے اہم ترین ثقافتی مرکز بن گئے۔[1]

راس جالوت کی معزولی سے ان مقاصد کو زک پہنچی اور ایرانی یہودی اس سے بری طرح متاثر ہوئے۔ اسی دور میں یہودیت میں کچھ نئے فرقوں نے سر اٹھایا جیسے قرائیم اور عوبدیا۔ نیز ابو عیسی یہودی کی بغاوت جس نے مذہب میں تجدیدی رجحانات کی بنیاد رکھنا چاہی لیکن یہ تمام کوششیں گاؤنوں کی شدید مزاحمت کے باعث ناکامی سے دوچار ہوئیں جن میں یوسف فیومی سر فہرست ہے۔[1]

عہد اسلامی کے دوران میں بھاری خراج کے نفاذ نے یہودیوں کو دیہاتوں سے بڑے شہروں کی طرف نقل مکانی پر مجبور کر دیا اور یوں وہ تجارت اور صنعت پر چھا گئے۔[1]

غزنوی دور[ترمیم]

غزنویوں اور سلجوقیوں کے دور میں بھی یہودیوں کی ثقافتی، تجارتی اور سیاسی ترقی جاری رہی۔ کئی یہودی مختلف درباروں میں اہم عہدوں پر فائز رہے۔ اسحاق نامی یہودی محمود غزنوی کے دربار میں ولایت بلخ کا وزیر کان کنی تھا اسی طرح کچھ اور یہودی خواجہ نظام الملک کے دربار میں اہم عہدوں پر فائز تھے۔[1]

منگولوں کے حملے کی وجہ سے یہودی بھی باقی ایرانیوں کی طرح شدید متاثر اور جانی و مالی نقصانات سے دوچار ہوئے۔ لیکن اس دوران میں مذہبی وجود کے خاتمے کی وجہ سی انہیں معاملات حکومت میں فعال کردار ادا کرنے کا موقع ملا اور ارغون شاہ کے دور میں سعد الدولہ نامی شخص وزارت کے منصب پر فائز ہوا۔ ارغون شاہ کے جانشینوں کے دور میں جزیہ پھر سے بحال کر دیا گیا اور یہودی قابل عتاب و ضبطی قرار پائے۔[1] البتہ تیمور نے بقول عربشاہ مسلمانوں اور اہل ذمہ کی تفریق کیے بغیر تباہی کا حکم دیا۔

صفوی عہد میں ایران کا سرکاری مذہب شیعیت قرار پایا تو یہودی اور زیادہ بے آسرا اور تنگی و دشواری کا شکار ہو گئے۔[3]

صفوی دور[ترمیم]

شاہ عباس کے عہد کے سوا یہودی تمام دور صفوی میں زیر عتاب رہے اور زبردستی مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیے جاتے رہے۔ یہاں تک کہ ان میں سے بہت سے مجبوراً سلطنت عثمانیہ کی طرف نقل مکانی کر گئے۔ بالآخر نادر شاہ افشار کے آنے کے بعد ان کی یہ صعوبتیں اور قید و بند ختم ہوئے، یہودیوں نے سکھ کی سانس لی اور یہ عہد تمام ہوا۔[1]

قاچاری دور[ترمیم]

یہود قاچاری دور میں

قاچاری دور پھر سے یہودیوں کے لیے سختیاں اور رنج و الم ساتھ لے کر آیا۔ ان پر پھر سے جبری تبدیلی مذہب کا دباؤ بڑھا (خصوصا المیہ مشہد محمد شاہ قاچار کے عہد کے دوران میں) (واقعہ اللہ داد[1]

جنگ عظیم دوم کے بعد یہودیوں کی کچھ تعداد صہیونی تنظیموں کی حوصلہ افزائی یا موجودہ مشکلات کے پیش نظر اسرائیل کی طرف نقل مکانی کر گئی۔ ان کی اکثریت کو وہاں ناگفتہ بہ حالات سے سابقہ پڑا۔ لیکن گزرتے وقت کے ساتھ بہتری آئی اور آنے والی دہائیوں میں ان میں سے بعض اہم سیاسی عہدوں تک جا پہنچے جن میں صدر موسی کساب اور وزیر دفاع شاؤل موفاز جیسے لوگ شامل ہیں۔

ایران میں یہودیوں کی تعداد کے بارے میں سرکاری طور پر اعداد و شمار پہلی بار 1926ء کے سرکاری گزٹ میں شائع کیے گئے۔ جن کے مطابق اس سال ایران کے مختلف شہروں میں رہائش پزیر یہودیوں کی تعداد 45000 تھی۔ ایرانی یہودیوں کی زیادہ تعداد تجارت اور معاملات تجارت کی دلالی سے منسلک تھی۔[4] زراعت میں یہودی خال خال ہی تھے۔ اس کے علاوہ اس دور میں تہران کی ماہر اور قابل ترین دائیاں یہودی خواتین تھیں جن کے معاوضے بھی سب سے زیادہ تھے۔[5]

پہلوی دور[ترمیم]

رضا شاہ پہلوی اور محمد رضا شاہ پہلوی کے دور میں، ایران میں یہودیوں کی سماجی حیثیت بتدریج مستحکم ہوتی گئی۔[3]

1979ء کے انقلاب کے بعد ایرانی یہودیوں میں ہجرت کی ایک لہر دوڑ گئی اور ان کی آبادی اسی ہزار سے ایک لاکھ تک کم ہوئی اور پھر بتدریج کم ہوتے 25000 سے بھی کم رہ گئی۔ انقلاب کے بعد ترک ایران کرنے والے زیادہ تر یہودی امریکا کے شہروں کیلی فورنیا اور لاس اینجلس منتقل ہو گئے۔ کچھ لوگ یورپ اور اسرائیل کی طرف نکل گئے۔ لاس اینجلس کے شمالی شہر بیورلے ہلز کا میئر (2007ء) ایک ایران نژاد یہودی تھا جو انقلاب سے برسوں پہلے یہاں آکر مقیم ہو گیا تھا۔ اس علاقے کی آبادی کا بیشتر حصہ ایرانی یہودیوں پر مشتمل ہے۔

ایران میں رہ جانے والے یہودیوں میں سے نصف کے قریب تہران میں آباد ہیں۔ کچھ شیراز اور اصفہان جبکہ قلیل تعداد میں یزد اور ہمدان اور کچھ دیگر علاقوں میں رہائش پزیر ہیں۔ انہیں بسا اوقات ملازمت و ذرائع روزگار کے حصول میں مشکلات پیش آتی ہیں اگرچہ یہودیوں کو ملازمت دینا یا لین دین کرنا قانوناً ممنوع نہیں ہے۔

دستوری انقلاب کے بعد قائم ہونے والی قومی مجلس شوری میں دیگر اقلیتوں کی طرح یہودیوں کے لیے بھی نشستیں مختص کی گئیں۔ اس طرح ایرانی یہودی تب سے لیکر اب تک اپنی برادری کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

جمہوری اسلامی دور[ترمیم]

«پیغمبریہ» در قزوین۔ چہار یہودی پیغمبروں کا مدفن

ایران میں استحکام انقلاب کے بعد قائم کی گئی مجلس خبرگان قانون اساسی (ماہرین قانون کی کونسل) میں ایک یہودی نمائندہ ہوتا ہے۔ آئین کے مطابق یہودیوں کا ایک نمائندہ اسلامی مجلس شوری میں بھی شامل ہے۔

یہودیوں کی شرعی، اجتماعی اور سیاسی زندگی کی تشکیل و ترتیب، ان کے مذہبی ادارے، اسلامی مجلس شوری میں یہودیوں کے نمائندہ اور انجمن یہودیان تہران کے بورڈ آف ڈائریکٹرز جیسے تین ادروں کے گرد گھومتی ہے۔ ایرانی یہودیوں کے تمام مذہبی، سماجی، سیاسی اور قانونی معاملات کے بارے میں اعلانات و ہدایات ان ہی تین اداروں کے ذریعے دی جاتی ہیں۔

اس وقت یہودی برادری کی بستیوں اور شہروں میں ان کی متعدد عبادت گاہیں، خصوصی اسکول، ثقافتی ادارے، نوجوان کی تنظیمیں، طلبہ اور خواتین کے مراکز، نرسنگ گھر، بزرگ شہریوں کے لیے رہائشی مراکز، مرکزی لائبریری، کمیونٹی ہال اور یہودی شریعت کے مطابق گوشت کی دکانیں موجود ہیں۔

یہودی ثقافت سے متعلق کتب و رسائل کی نشر واشاعت بھی باقاعدگی سے جاری رہی، انقلاب کے بعد مقامی رسائل کے علاوہ تومز میگزین (1969 تک) اور ماہنامہ افق بینا (انجمن جمعیت یہودیہ 1999ء سے) کے زیر اہتمام شائع ہوتے رہے۔ تہران کے یہودی گیبور اسپورٹس کلب میں جسمانی کھیلوں میں شامل ہوتے ہیں۔ اس کلب کے زیر اہتمام تربیتی کلاسیں اور مقامی سطح پر اقلیتوں کے بیچ مقابلے منعقد کرنے کے علاوہ یہودی و غیر یہودی ماہرین سے استفادہ کرنے کے مواقع مہیا کیے جاتے ہیں۔ انجمن خواتین یہودیہ بھی یہودی خواتین کو کھیلوں میں حصہ لینے کے لیے تعاون کرتی ہے۔ ادارہ مخیر یہودی برادری کے خیراتی اداروں میں سے ایک ہے جس کا اہم ترین منصوبہ تہران کے جنوب میں ڈاکٹر سپیر کا اسپتال ہے جہاں تمام شہریوں کو علاج کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس ادارے کے تمام تر اخراجات مخیر یہودی اٹھاتے ہیں۔

تہران کی یہودی برادری ماضی سے ہی کئی اسکول قائم کر کے چلا رہی ہے۔ ان میں قابل ذکر الائنس اسکول یا اتحادی اسکول ہیں جن کی بنیاد قاچار دور میں الائنس انسٹی ٹیوٹ آف فرانس کے تعاون سے رکھی گئی تھی۔ یہ اپنے دور کے اعلیٰ ترین قابلیت رکھنے والے اسکول تھے جن میں فرانسیسی زبان بھی پڑھائی جاتی تھی۔ موجودہ وقت میں یہودی آبادی اور اسکولوں میں طلبہ کی تعداد کم ہوجانے کی وجہ سے ان میں سے بعض اسکول ادارہ تعلیم نے مسلمان بچوں کی تعلیم کے لیے مختص کر دیے۔ 2005ء میں تہران میں یہودیوں کے پانچ اسکول تھے۔ یہ اسکول اگرچہ محکمہ تعلیم کے عمومی قوانین کے تحت چلائے جاتے ہیں تاہم ترتیب نصاب میں یہودیت کے مذہبی اور ثقافتی رجحانات کو مد نظر رکھا جاتا ہے اور یہودی طلبہ اپنے مذہب و رسومات کی مناسبت سے ہی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

لغوی معنی کے اعتبار سے یہودیوں کو «جهود» بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن «کلیمی» یا «یهود» یا بعض اوقات «موسوی» جیسے الفاظ بھی عوامی زبان میں بولے اور دستاویزی طور پر لکھے جاتے رہے اور تاحال رائج ہیں۔ فارسی ادب میں یہودیت کے پیروکاروں کے لیے بطور گروہ «یهود»، «جهود» اور «کلیمی» بھی مذکور ہے۔ مثنوی میں مولانا روم نے لفظ «جهود» لکھا ہے۔ [6]

زبان[ترمیم]

کردستان اور آذربائیجان میں یہود آرامی زبانیں بولتے ہیں (جو بلاشبہ ختم ہوتی جا رہی ہیں)۔ یونیسکو کی ایک رپورٹ کے مطابق ان میں سے کردستان میں جبلی زبان اور آذربائیجان میں لشان ددان مکمل طور پر ختم ہو چکی ہیں۔[7]

مرکزی ایران کے علاقوں میں بسنے والے یہودی، عمومی ایرانی زبان اس کے مختلف رائج لہجوں میں بولتے ہیں۔ جیسے اصفہانی یہودی لہجہ،[8] یزد کے یہودیوں کا لہجہ،[9] لہجہ ہمدان[10] اور کاشان کا یہودی لہجہ۔یہاں ان لہجوں کی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

ایران میں پراکندگی اور تنظیمات[ترمیم]

ہمدانی یہود کی قدیم تصویر

دور قدیم سے آج تک یہودی جہاں بھی گئے جہاں بھی رہے انہوں نے مذہبی ، ثقافتی اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے انجمنیں یا تنظیمیں ضرور قائم کیں۔ ان انجمنوں میں سے ،کسی کے بھی اغراض و مقاصد آئین و قوانین ایران سے متصادم نہیں رہے۔ موجودہ وقت میں ایرانی یہودیوں کی اہم ترین تنظیم انجمن یہودیان تہران ہے اور باقی تمام تنظیمیں اس کے ماتحت ہیں۔ انجمن یہودیان تہران ، جمہوری اسلامی ایران کے قوانین کی تابع اور ادارہ اوقاف و امور خیریہ کے ماتحت ہے لیکن اپنے نظم و نسق میں ایک بورڈ آف ڈائریکٹرز کی زیر نگرانی خود مختار ہے۔[11]

اس وقت یہودیوں کی آبادی 30000 ہے جو شیراز، اصفهان، همدان، کرمانشاہ، یزد، کرمان، رفسنجان، سیرجان، بروجرد اور دیگر شہروں میں بہترین انداز سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔[11]

ایرانی یہودی امریکا میں[ترمیم]

ایرانی یہودیوں کی ایک بڑی تعداد نیویارک اور لاس اینجلس میں مقیم ہے۔ ِ انیسویں صدی میں مشہد کے رہنے والے یہودی حالات کی سختی کی وجہ سے ایک طویل بحری سفر کے ذریعے بمبئی اور وہاں سے نیویارک (اسرائیل کے بعد یہودیوں کی سب سے بڑی آبادی والا شہر)چلے گئے۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں بہت سے ایرانی یہودی تحصیل علم اورتجارت کی غرض سے نیویارک چلے گئے۔نیویارک میں مقامی یہودیوں کی آبادی میں ایرانی یہودیوں نے خاطر خواہ اضافہ کیا۔نیوراک میں مقیم ایرانی یہودیوں کی تعداد میں ستر کی دہائی کی نسبت کافی اضافہ ہوا۔[12]

نگار خانہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]