کٹیہار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شہر
ملکFlag of India.svg بھارت
ریاستبہار
ضلعکٹیہار ضلع
بلندی20 میل (70 فٹ)
آبادی (2011)
 • کل240,565
 • کثافت782/کلومیٹر2 (2,030/میل مربع)
زبانیں
 • دفتری وعمومیمیتھلی،ہندی زبان، اردو، بنگلہ، سرجاپوری ، بھوجپوری ،انگریزی
منطقۂ وقتبھارتی معیاری وقت (UTC+5:30)
ڈاک اشاریہ رمز854105
لوک سبھا حلقۂ انتخابکٹیہار
ودھان سبھا حلقۂ انتخابکٹیہار
ویب سائٹkatihar.bih.nic.in

کٹیہار (انگریزی: Katihar) ہندوستان کا ایک شہر جو کٹیہار ضلع میں واقع ہے۔ اور یہی اس ضلع کا صدر مقام ہے۔[1]

مغربی بنگال کی سرحد پر واقع کٹیہار ہندوستان کی ریاست بہار کا ایک ضلع ہے۔ پہلے یہ پورنیہ ضلع کا ایک حصہ تھا۔ مغل حکومت کے تحت اس ضلع کا قیام حکومت تیج پور نے کی تھی۔ 13 ویں صدی کے آغاز میں یہاں پرمحمددين نے راج کیا۔ 1770ء میں جب محمد علی خان پورنیہ کے گورنر تھے، اس وقت یہ ضلع برطانوی حکومت کے ہاتھ میں چلا گیا۔ اور ایک طویل عرصے تک اس جگہ پر بہت حکومتوں نے راج کیا۔ اور 2 اکتوبر 1973 ء کو ایک الگ اور آزاد ضلع کے طور پر اعلان کر دیا گیا۔

تعلیمی نظام[ترمیم]

نصاب تعلیم اور تعلیمی نظام[ترمیم]

یہ ضلع گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ اور بہت عمدہ مثال ہے۔ یہاں اسلامی مدارس کے ساتھ ساتھ عصری علوم کے مشہور کالجز موجود ہیں۔ خود حکومت بہار کی طرف سے یہاں اسلامی مدارس چلتے ہیں۔ اور غیر حکومتی چھوٹے بڑے مدارس اچھی تعداد میں موجود ہیں۔ عصری علوم میں کٹیہار کا میڈیکل کالج سب سے زیادہ توجہ کا مرکز ہے۔

مشہور تعلیمی ادارے[ترمیم]

● دار العلوم لطیفی، فقیر تکیہ، کٹیہار

  • جامعہ ابوموسی اشعری
  • جامعہ فیضان ولی ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ الہنڈا،پوسٹ:بگھوا،وایہ:بارسوئی گھاٹ،ضلع: کٹیہار بہار۔
  • مدرسہ جمال القرآن خانقاہ جمالیہ کلداسپور،پوسٹ:بگھوا،وایہ:بارسوئی گھاٹ،ضلع:کٹیہار۔
  • جامعہ مدینۃ العلم نستہ،پوسٹ:بگھوا،وایہ:بارسوئی گھاٹ،ضلع: کٹیہار بہار
  • (مدرسہ لطیفیہ)
  • کٹیہار میڈیکل کالج کٹیہار
  • جامعہ اسلامیہ تتواری، براری، کٹیہار
  • جامعہ سلفیہ بھروسیہ اسلام پور، پھلکا، کٹیہار
  • جامعہ امدادیہ مقام و پوسٹ مادھے پور ، وایہ : بارسوئی گھاٹ ، ضلع : کٹیہار ۔
  • مدرسہ دار القرآن سنگھیا،بارسوئی کٹیہار
  • مدرسہ رشیدیہ عمادپور بارسوئی کٹیہار
  • مدرسہ تعلیم القرآن سہی پور ، بلیا بلون ، سالماری ، کٹیہار
  • مدرسہ قاسم العلوم اعظم نگر کٹیہار
  • دارالعلوم اعظم نگر کٹیہار
  • مدرسہ سراج العلوم مانمن لہگریا،بارسوئی کٹیہار۔
  • دارالعلوم بارسوئی کٹیہار
  • دارالعلوم وقف بارسوئی کٹیہار
  • جامعۃ الصالحات سہی پور تیلتا کٹیہار
  • معہد عائشہ بنت صدیق سنگھیا بارسوئی ، کٹیہار
  • جامعہ صدیقیہ پیچ گاچھی روڈ سالماری کٹیہار
  • دارالعلوم بیگھور ہاٹ بارسوئی کٹیہار
  • جامعہ معینیہ چیشتیہ تفسیر القرآن کلداسپور بارسوئی کٹیہار
  • مدرسہ ضیاءالعلوم جگواٹی، کماری پور، منیہاری، کٹیہار۔
  • مدرسہ فلاح المسلمين و یتیم خانہ پھولکا واڑی، مرگھیا، براری، کٹیہار

مشہور مذہبی شخصیات[ترمیم]

☆ مولانا شاہ فیاض عالم ولی اللّٰہی قاسمی چشتی نظامی (مصنف، ناقد، نثر نگار،مفسر،فلسفی،مؤرخ، عالم دین، مشہور سنی بزرگ، رحمن پور، کٹیہار )

☆مولانا حکیم سید شاہ سراج الدین ندوی رحمۃ اللہ علیہ بانی جامعہ مدینۃ العلم نستہ بارسوئی کٹیہار و بانی مدرسہ جمال القرآن خانقاہ جمالیہ کلداسپور کٹیہار۔

☆مولانا ڈاکٹر سید شرف الدین ندوی لکھنؤی ناظم جامعہ مدینۃ العلم نستہ بارسوئی کٹیہار۔

☆قاری سید شاہ نعمت اللہ الحسنی لکھنؤی ناظم مدرسہ جمال القرآن خانقاہ جمالیہ کلداسپور و سجادہ نشین خانقاہ جمالیہ کلداسپور،بگھوا،بارسوئی کٹیہار۔

☆مولانا و مفتی محمد منصور عالم صاحب رحمانی بانی و مہتمم جامعہ فیضان ولی ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ الہنڈا، بگھوا،بارسوئی، کٹیہار و سکریٹری جمعیۃ علماء کدوا ضلع کٹیہار۔

☆مولانا محمد ہارون رشید رحمانی خلیفہ امیر شریعت مفکر اسلام مولانا سید محمد ولی رحمانی جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ

☆مولانا و مفتی محمد اسرار الحق صاحب قاسمی قاضی دار القضاء امارت شرعیہ مدرسہ جمال القرآن کلداسپور بگھوا،بارسوئی ، کٹیہار

☆مولانا سید فخرالدین صاحب مظاہری ناظم جامعہ مدینۃ العلم نستہ بارسوئی کٹیہار

☆مولانا سید برکت اللہ الحسنی لکھنؤی جامعہ مدینۃ العلم نستہ بارسوئی کٹیہار

☆مولانا محمد رضوان اللہ قاسمی گوال ٹولی بارسوئی و سکریٹری جمعیۃ علماء ضلع کٹیہار

☆ مولانا انعام الحق المدنی حفظہ اللہ ناظم اعلیٰ صوبائی جمعیت اہل حدیث بہار

☆قاری محمد منہاج عالم الہندی خازن جامعہ فیضان ولی ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ الہنڈا،پوسٹ:بگھوا،وایہ:بارسوئی گھاٹ،ضلع:کٹیہار،بہار۔

☆ ڈاکٹر رحمت اللہ السلفی حفظہ اللہ ناظم اعلیٰ ضلعی جمعیت اہل حدیث کٹیہار

☆مولانا و مفتی منصور صاحب مظاہری ناظم جامعہ امدادیہ مادھے پور کٹیہار

☆ مولانا مشتاق احمد الندوی حفظہ اللہ نائب ناظم ضلعی جمعیت اہل حدیث کٹیہار

☆مولانا رضوان اللہ قاسمی سکریٹری جمعیۃ علماء کٹیہار و رکن جمعیۃ علماء بہار

☆ مولانا نذیر حسین سنابلی حفظہ اللہ

☆ ڈاکٹر عبد اللطیف حیدری حفظہ اللہ

مواصلاتی نظام[ترمیم]

فضائی مواصلات[ترمیم]

کٹیہار میں بہ ذات خود کوئی ہوائی اڈا نہیں ہے۔ لیکن ہوائی سفر کے لیے یہاں سب قریب ترین ہوائی اڈا باگ ڈوگرا ڈومیسٹک ائیرپورٹ ہے۔ جو کٹیہار سے 160 کلومیٹر کی دوری پر سلی گڑی (مغربی بنگال) میں واقع ہے

ریلوے[ترمیم]

کٹیہار ریلوے اسٹیشن کٹیہار ضلع کا ایک اہم ترین اسٹیشن ہے۔ شمال مشرقی سرحدی ریلوے زون کٹیہار سے ہی شروع ہوتا ہے۔ اور مشرقی ہند کو مغربی ہند سے جوڑنے کے لیے یہی ایک جنکشن ہے۔ یہاں سے ملک بھر میں تقریبا تمام ہی ریاستوں کے لیے ٹرینیں مل جاتی ہیں۔ اور ہر قسم کی ٹرینیں یہاں رکتی ہیں۔

بس اور موٹر گاڑیاں[ترمیم]

کٹیہار قومی شاہراہ 31 سے منسلک ہے۔ اس لیے یہاں سے دیگر مقامات پر جانے کے لیے بسیں ہمہ وقت موجود ہوتی ہیں۔ کٹیہار ریلوے اسٹیشن سے تقریبا ایک کلومیٹر کے فاصلے پر بس اسٹیشن موجود ہے۔ اور وہیں رکشہ و ٹیکسی اسٹینڈ بھی ہے۔ جس سے کٹیہار کے گردو نواح جانے کے لیے بڑی آسانی ہوتی ہے۔

بارسوئی[ترمیم]

اہم مقامات[ترمیم]

کلداسپور[ترمیم]

یہ گاؤں مہانندہ ندی کے کنارے واقع ہے،بارسوئی سب ڈویژن سے تقریباً دس بارہ کیلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور شہر کٹیہار سے تقریباً باون کیلو میٹر دوری پر ہے۔

اس گاؤں میں حضرت مولانا سید شاہ شکر الله قادری بغدادی جیلانی کی ایک شاخ آباد ہے ،مولانا سید شاہ شکر اللہ قادری حافظ الملک حافظ رحمت خاں شہید کی دعوت پر پہلی بھیت روہیلکھنڈ تشریف لائے تھے،پیلی بھیت کی ایک مسجد میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دیتے تھے،حافظ الملک حافظ رحمت خاں نے آپ کو ایک جاگیر بھی دی تھی ، شاہ شکر اللہ قادری کے لڑکے شاہ احسان اللہ قادری بغداد ہجرت کر گئے تھے، ہندوستان میں شاہ احسان اللہ قادری کی اولاد میں سید شاہ سعید اللہ ،سید شاہ عزیز الله اور سید شاہ برکت اللہ وغیرہ رہ گئے تھے ۔شاہ سعید اللہ اور شاہ عزیز اللہ نے لکھنؤ میں قیام کیا ۔

سید شاہ عزیز الله نے سید شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کی شاگردی اختیار کی،سید احمد شہید بریلوی کے ساتھ جد و جہد آزادی میں شریک ہوگئے ،بالاکوٹ کی جنگ میں شرکت کی جس میں آپ کی انگلیاں شہید ہوگئی تھیں ۔بھاگلور میں جنگ آزادی لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے ،مشائخ چک بھاگلپور میں آپ کی قبر ہے ۔آپ کے ایک لڑکے مولانا سید شاہ قمر الدین نے کلداسپور بگھوا بارسوئی اور بنگال کے علاقے میں اصلاح و تربیت اور جد و جہد آزادی کا فریضہ انجام دیا،آپ کے بعد آپ کے لڑکے مولانا جمال الدین اور ان کے بعد ان کے لڑکے مولانا سید شاہ سراج الدین ندوی لکھنوی نے اصلاح و تربیت کا کام جاری رکھا ،اس وقت قاری سید شاہ نعمت اللہ الحسنی لکھنؤی شاہ شکر الله کی اولاد میں بڑی ہستی ہیں اور پورے علاقے کو فیضیاب کر رہے ہیں ۔مختلف دینی اداروں کی نظامت اور سرپرستی کی ذمہ داری آپ کے سر پر ہے ۔

مولانا ڈاکٹر سید شرف الدین ندوی لکھنوی مرحوم نے حالات خاندان عزیزیہ میں تفصیل کے ساتھ ان بزرگوں کی سوانح حیات اور کلداسپور و نستہ کی تاریخ کو تفصیل کے ساتھ تحریر کیا ہے ۔


بالدی باڑی[ترمیم]

گنگا ندی کے قریب واقع منیہاری سے تقریبا 2.5 کلومیٹر کے فاصلے پر بالدی باڑی گاؤں واقع ہے۔ اسی جگہ پر مرشدآباد کے نواب سراج الدولہ اور پورنیہ کے گورنر نواب شوکت جنگ کے درمیان جنگ ہوئی تھی۔

بیلوا[ترمیم]

یہ ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ یہ جگہ بارسوئی کے سیکٹر ہیڈ کوارٹر کے جنوب سے تقریبا آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہاں پر کئی قدیم اور تاریخی عمارتیں ہیں۔ اور ہندؤوں کی عبادت گاہیں (منادر) بھی ہیں۔ یہاں ہر سال بسنت پنچمی نامی ہندو تہوار کے موقع پر میلے کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

گوگابیل جھیل[ترمیم]

یہ جھیل ضلع کٹیہار کے امدآباد بلاک میں واقع ہے۔ جو تقریبا 217.99 ایکڑ زمین پر محیط ہے۔ کٹیہار سے تقریبا 25 کلو میٹر کے فاصلے پر یہ ایک قدرتی جھیل ہے۔ قریب ترین ریلوے اسٹیشن منیہاری ہے۔ سال بھر یہاں پرندوں کی مختلف قسمیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ نہایت ہی سرسبز اور آلودگیوں سے پاک ایک خوب صورت جھیل ہے۔

نواب گنج[ترمیم]

یہ ایک گاؤں ہے جو منیہاری سے تقریبا تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ مغلیہ سلطنت میں اس ضلع کے گورنر نواب شوکت گنج کے پرانے تخت کے لیے یہ جگہ جانی جاتی ہے۔

منیہاری[ترمیم]

کٹیہار کے جنوب میں 20 كلوميٹر کے فاصلے پر منیہاری شہر واقع ہے۔ دیومالائی کہانی کے مطابق ہندؤوں کے بھگوان کرشن کا قیمتی جوہر منی غائب ہو گیا تھا۔ تو وہ تلاشتے ہوئے اس علاقے تک پہونچا تھا۔ اس لیے اس کا نام منی ہاری پڑ گیا۔ کٹیہار ضلع میں منیہاری کا ایک اہم مقام ہے۔گنگا ندی کا ایک مصروف ترین گھاٹ بھی یہیں ہے۔ گوکہ یہ ایک بہت ہی چھوٹا سا شہر ہے، لیکن تجارتی اعتبار سے کٹیہار کے لیے بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ کیوں کہ پڑوسی ریاست جھارکھنڈ کا ضلع صاحب گنج کٹیہار کے لیے ایک خاص تجارتی مقام ہے۔ اور صاحب گنج سے کٹیہار آنے کا یہی ایک واحد راستہ ہے۔ یہاں بڑی بڑی اسٹیمروں کے ذریعے تجارتی سامان کی نقل مکانی ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ بھاری بھرکم ٹرک اور لاریوں کو بھی انہیں اسٹیمروں میں لاد کر ایک طرف سے دوسری طرف پہونچایا جاتا ہے۔ منیہاری کے راستے بہت سارے تجارتی خام مال کٹیہار لایا جاتا ہے۔ جن میں کوئلہ، بالو (ریت)، کنکری، پتھر وغیرہ کے علاوہ فصلوں کی پیداوار میں پٹ سن، مکئی، گیہوں، ارد (ماش) وغیرہ فصلیں شامل ہیں۔ اس علاقے میں دریائے گنگا پر ایک پل کی شدید ضرورت ہے۔ لیکن سیاسی جمع خرچ کے بیچ آج تک یہ کام نہیں ہو سکا۔

کلیانی جھیل[ترمیم]

جھوا ریلوے اسٹیشن کے جوابات سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر کلیانی جھیل واقع ہے۔ ہر سال ماگھ مہینے کے نصف میں کافی تعداد میں لوگ یہاں غسل کرنے کے لیے آتے ہیں۔ ہندؤوں کی دیوی کلیانی کے نام سے اس جھیل کو موسوم کیا جاتا ہے۔

رہن سہن[ترمیم]

چوں کہ یہ ایک سرحدی ضلع ہے۔ جہاں جھارکھنڈ اور مغربی بنگال کی سرحدیں ملتی ہیں۔ اس لیے یہاں کے باشندوں کا معاشرتی رہن سہن بالکل مختلف ہے۔ یہاں کئی قومیں اور کئی زبانیں پائی جاتی ہیں۔ مغربی بنگال کے مالدہ ضلع سے ملنے والی سرحد کے آس پاس زیادہ تر شیرشاہ آبادی قوم پائی جاتی ہے۔ جن کی مادری زبان بنگلہ ہے۔ اور کھانے پینے اور رہن سہن کے معاملہ میں مالدہ ضلع سے مناسبت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ جنوب اور مغرب میں بھوجپوری زبان بولی جاتی ہے۔ اور شمالی علاقے میں سرجاپوری اور میتھلی بولی جاتی ہے۔ پڑھا لکھا طبقہ ہندی اور اردو بولتا ہے۔ دیہاتوں میں مکانات زیادہ تر کچے اور گھاس پھوس والے ہوتے ہیں۔ گنگا کی وادی میں بسنے والے لوگ عموما دو وقت روٹی اور دوپہر کو چاول کھاتے ہیں۔ مچھلی مرغوب غذا ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. انگریزی ویکیپیڈیا کے مشارکین. "Katihar".