گنیز ورلڈ ریکارڈز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
گنیز ورلڈ ریکارڈز
Guinnessworldrecords.svg
مدیر Craig Glenday (ed.)[1]
مصور سرورق Simon Jones
زبان English, Arabic, Azerbaijani, Bulgarian, Chinese, Croatian, Czech, Danish, Dutch, Estonian, Fijian, Filipino, Finnish, French, German, Greek, Hebrew, Hungarian, Icelandic, Italian, Japanese, Korean, Latvian, Lithuanian, Norwegian, Persian, Polish, Portuguese, Romanian, Russian, Slovak, Slovene, Spanish, Swedish and Turkish
موضوع World Records
صنف Reference
ناشر Jim Pattison Group
تاریخ اشاعت
10 نومبر 1951 – تاحال
تاریخ اشاعت انگریری
27 اگست 1955 – تاحال
ذرائع ابلاغ کتاب، ٹیلی ویژن
متن [[s:{{{Wikisource}}}|گنیز ورلڈ ریکارڈز]] at ویکی ماخذ

گنیز ورلڈ ریکارڈز ایک سالانہ چھپنے والی کتاب ہے جس میں انسانی کارناموں اور فطری دنیا کے ریکارڈ درج ہیں۔ اپنی فروخت کے لحاظ سے یہ کتاب خود ایک ریکارڈ ہے۔ یہ کتاب بھی امریکہ میں عوامی لائبریریوں سے اکثر چوری ہونے والی کتابوں میں سے ایک ہے۔ اب تک دنیا بھر میں 12٠ ملین سے زائد گنیز ورلڈ ریکارڈز کی کاپیاں فروخت کی جا چکی ہیں۔ ہر سال اس کتاب کا نیا اڈیشن شائع کیا جاتا ہے۔ جس میں گزشتہ سال میں بننے والے نئے ریکارڈ کا اندراج ہوتا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

1٠ نومبر 1951ء کو سر ہیو بیور، بعد میں گینز بک آف بریوریز کے مینیجنگ ڈائریکٹر، شمالی سلوب میں کاؤنٹی ویکسفورڈ، آئر لینڈ میں دریائے سینی کی طرف سے ایک شوٹنگ پارٹی پر چلے گئے۔ وہاں پر انھیں کھیل دیکھ کر یہ احساس ہوا کے ان کا ریکارڈ ہونا بہت ضروری ہے اور اس سے پہلے اس طرح کی دنیا میں کوئی کتاب بھی موجود نہیں ہے۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوا انہوں نے ایک سوال و جواب کی کتاب شائع کی جسے بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ اگست 1954ء میں گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کی ایک ہزار کاپیاں چھاپی گئیں۔ اس کے بعد 1٠7 فلیٹ سٹریٹ، لندن میں 27 اگست 1955ء کو 197 صفحات پر مشتمل ایڈیشن جاری کیا گیا، جو برطانیہ کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے لسٹس میں سب سے اوپر رہا۔ اگلے سال یہ امریکا میں شروع کیا گیا اور اس کی 7٠٠٠٠ کاپیاں فروخت ہوئی تھیں۔ کیونکہ کتاب ایک حیرت انگیز ہٹ بن گئی تھی اس لیے اس کے بعد بھی اس کی بیشمار کاپیاں شائع کی گئیں۔ گینز سوپر لیٹو جو کے بعد میں (گنیز ورلڈ ریکارڈزلمیٹڈ) کے نام سے جانا جاتا ہے اس ادارے نے 1954 میں باضابطہ طور پر پہلی کتاب شائع کی۔ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈز کا گلوبل ہیڈکوارٹر لندن میں ہے۔ اب یہ کتاب اتنی مقبولیت حاصل کر چکی ہے کہ ہر خاص و عام کی زبان پر اس کا نام ہے۔

ارتقا[ترمیم]

یہ مختلف حقائق پر مشتمل ہوتا ہے جس میں ہر طرح کے ریکارڈ جو کے انسانی مدمقابلین اور بہت سے امور اور اجناس کا احاطہ کرتے ہیں۔ ہر ایڈیشن گینز بک آف ڈیٹا بیس کے پاس محفوظ ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں نئے ریکارڈ بھی شامل ہوتے رہتے ہیں۔ کسی ریکارڈ کو توڑنے یا نئے ریکارڈ کو درج کرونے کے لیے تحریری درخواست جمع کروانی پڑتی ہے۔ درخواست کے جواب کے لیے کافی انتظار کرنا پڑتا ہے جو لوگ 4 سے 6 ہفتے انتظار نہیں کر سکتے وہ 45٠$ ادا کر کے فوری اندراج کروا سکتے ہیں۔ یہ دنیا کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کاپی رائٹ کتاب ہے، اس کے علاوہ ٹیلی ویژن سیریز کی ایک بڑی تعداد اسے ناظرین کو دکھاتی ہے۔ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کی تمام فہرست ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہے۔

ریکارڈز کی وضاحت[ترمیم]

گینز بک آف ورلڈ ریکارڈز دنیا کے بہترین اندراج پرمحیط ہے، اس میں بہت سی وجوہات کی بنا پر نئے ریکارڈ شامل بھی کیے جا سکتے ہیں اور ختم بھی کیے جا سکتے ہیں۔ یہ تمام اختیارات گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے پاس ہیں۔ لوگ اس میں نئے ریکارڈ شامل کروا سکتے ہیں بشرط یہ کے وہ پہلے ریکارڈ سے بہتر ہو۔

اخلاقی مسائل اور سلامتی کی تشویش[ترمیم]

گینز ورلڈ ریکارڈز ایسے اندراج قبول نہیں کرتا جو اخلاقیات سے گرے ہوئے ہوں یا جن میں جانوروں کے قتل یا نقصان پہنچانے سے متعلق کچھ ہو اس کے علاوہ گینز پوسٹ یا ای میل کے ذریعے بھیجے ہوئے خط سے کسی بھی ریکارڈ کو قبول نہیں کرتا ہے۔

ریکارڈز کی وضاحت میں مشکلات[ترمیم]

لکی ڈائمنڈ رچ "دنیا کا سب سے زیادہ ٹیٹو زدہ شخص"

کچھ اقسام کے لیے گینز بک آف ورلڈ ریکارڈز کے اصول مختلف ہیں جیسے کہ گینز کی ویب سائٹ خوبصورتی سے متعلق کسی بھی دعوے کو قبول نہیں کرتی ہے کیوں کہ اس کی پیمائش ممکن نہیں ہے۔

عجائب گھر[ترمیم]

1976 میں نیو یارک شہر کی ایک عمارت ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ میں گینز بک آف ورلڈ ریکارڈز کے نام سے ایک میوزیم یعنی عجائب گھرکھولا گیا۔ اس کی نمائش میں دنیا کی بلند ترین انسان (رابرٹ) اور دنیا کا سب سے بڑا زمینی کیڑا اور swallower تلوار کی ایک ایکس رے تصویر وغیرہ دیکھاے گئے۔

ٹیلی ویژن سیریز[ترمیم]

عالمی ریکارڈ توڑنے کی کوششوں پر مبنی گینز بک آف ورلڈ ریکارڈز کے مختلف پروگرام بے شمار ٹیلی ویژن سیریز میں دکھا ئے جاتے رہے ہیں۔

گیمر ایڈیشن[ترمیم]

2٠٠8 میں گینز بک آف ورلڈ ریکارڈز نے ٹوون گیلیکسی نامی ایک تنظیم کے تعاون سے کھلاڑیوں کے لیے گیمر ایڈیشن کا آغاز کیا۔

دیگر ذرائع ابلاغ[ترمیم]

ویڈیو گیمز

ایک ویڈیو گیم (گینز بک آف ورلڈ ریکارڈذ) کے نام سے ٹی ٹی فیوژن کی طرف سے تیار کی گئی۔

فلم

2٠12 میں، وارنر بروس نے اعلان کیا کہ وہ دانیل چون کے ساتھ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کی ایک لیو ایکشن فلم بناہے گا۔

پاکستان[ترمیم]

  • 16 فروری، 2014ء کو لاہور کے نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں 29،040 افراد نے مل کر دنیا کے سب سے بڑے انسانی پرچم کا گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ قائم کیا۔[2]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Corporate"۔ Guinness World Records۔ اصل سے جمع شدہ 19 مارچ 2010 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 19 اکتوبر 2010۔ 
  2. http://thetrentonline.com/pakistan-breaks-guinness-world-record-largest-human-flag-29040-youths-photo/