سفید بونا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

سفید بونا (white dwarf) ان ستاروں کو کہتے ہیں جو اپنی عمر کا بیشتر حصہ گزارنے کے بعد فیوزن (fusion) کے قابل نہیں رہتے اور اپنے گرتے ہوئے ٹمپریچر کے باعث اچانک منہدم ہو کر سکڑ جاتے ہیں۔ ایک سورج جتنا بڑا ستارہ جب سفید بونے میں تبدیل ہوتا ہے تو اسکی جسامت سکڑ کر ہماری زمین کے برابر رہ جاتی ہے۔ سائز چھوٹی ہونے اور وزن (کمیت) میں کمی نہ ہونے کی وجہ سے اس ستارے کا مادہ انتہائ کثیف ہو جاتا ہے یعنی اگر حجم برابر ہو تو پانی سے دس لاکھ گنا زیادہ بھاری ہوتا ہے۔ زمین پر سب سے زیادہ کثیف چیز osmium ہے جو پانی سے صرف 22.6 گنا بھاری ہوتی ہے۔

ہبل کی دوربین سے لی گئی تصویر جسکے مرکز میں سائرس A اور نیچے بائیں جانب نقطے کی مانند سائرس B نظر آرہا ہے۔ سائرس B ایک سفید بونا ستارہ ہے۔ جسامت میں اسقدر فرق کے باوجود دونوں ستاروں کی کمیت میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ یہ ستارے ہم سے 8.6 نوری سال کے فاصلے پر ہیں۔ سائرس A آسمان کا سب سے زیادہ روشن ستارہ ہے۔ زہرہ اس سے بھی زیادہ روشن ہے مگر وہ سیارہ ہے۔

جسامت[ترمیم]

سورج کے مقابلے میں ہماری زمین کا نصف قطر 0.009 ہے۔ کمیت کے اعتبار سے سورج ہماری زمین سے 3.3 لاکھ گنا بڑا ہے جبکہ قطر کے لحاظ سے 110 گنا بڑا ہے۔
سفید بونے کا نصف قظر 0.008 سے لے کر 0.02 تک دیکھا گیا ہے یعنی جسامت میں تو یہ ہماری زمین کے لگ بھگ برابر ہوتے ہیں مگر کمیت میں سورج کے برابر ہوتے ہیں۔
سائرس B نامی سفید بونے کی جسامت زمین سے بہت چھوٹی ہے مگر کمیت تین لاکھ گنا زیادہ ہے۔

کیا ہر ستارہ سفید بونا بن سکتا ہے؟[ترمیم]

ہر ستارے کے مرکز میں ہلکے ایٹموں کے آپس میں جڑ جانے کا عمل جاری ہوتا ہے جسے fusion کہتے ہیں۔ فیوزن کی وجہ سے ستاروں کے مرکز میں بے پناہ حرارت پیدا ہوتی ہے اور ستارے کی گیسیں گرم ہو کر پھیلتی ہیں جس سے ستارے کی جسامت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ستاے کی کشش ثقل یعنی gravity ستارے کی گیسوں کو پھیلنے سے روکنے کی کوشش کرتی ہے اور ان دونوں قوتوں کا توازن ستارے کی جسا مت کو سہارے رکھتا ہے۔

ایک مصور کی نظر سے ایک سفید بونے ستارے کا بوڑھا ہونا.

صرف وہ ستارہ سفید بونا بن سکتا ہے جسکی کمیت (وزن) ہمارے سورج سے 1.44 گنا تک زیادہ ہو۔ اس سے بڑا ستارہ سفید بونے میں تبدیل نہیں ہو سکتا۔ اس حد کو چندرا شیکھر کی حد Chandrasekhar limit کہتے ہیں۔ ستارے میں موجود مادے کی نوعیت کے اعتبار سے اس حد میں معمولی سی تبدیلی آ سکتی ہے۔ ہماری کہکشاں میں موجود زیادہ تر یعنی 97 فی صد ستارے سورج کے ہم وزن ہیں اور ایک دن سفید بونے میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اسوقت جو سفید بونے دیکھے گئے ہیں ان میں سے بیشتر کی کمیت سورج کا 0.5 سے 0.7 ہے۔ اب تک دریافت شدہ سب سے چھوٹا سفید بونا سورج کی 0.17 کمیت رکھتا ہے اور سب بڑا سفید بونا سورج کی 1.33 کمیت رکھتا ہے۔

اجزاء ترکیبی[ترمیم]

سب سے کم کمیت والے سفید بونے ہیلیم سے بنے ہوتے ہیں۔ نسبتاً بڑے ستاروں میں جب triple alpha process کے ذریعے ہیلیم میں فیوزن ہوتا ہے تو کاربن اور آکسیجن بنتے ہیں۔ اس لیئے درمیانی کمیت کے سفید بونے کاربن اور آکسیجن سے بنے ہوتے ہیں۔ اگر ابتدائی ستارہ اتنا بڑا ہو کہ مرکز میں درجہ حرارت ایک ارب ڈگری سنٹی گریڈ تک جا پہنچے تو کاربن میں بھی فیوزن ہونے لگتا ہے اور اس سے نیون اور میگنیشیم بنتے ہیں اس لیئے سب سے زیادہ کمیت والے سفید بونے آکسیجن، نیون اور میگنیشیم سے بنے ہوتے ہیں۔

سفید بونے مزید کیوں نہیں سکڑتے؟[ترمیم]

سفید بونے Pauli exclusion principle کی وجہ سے مزید سکڑ نہیں پاتے۔
سفید بونے ایٹموں سے نہیں بنے ہوتے بلکہ degenerate matter سے بنی گیس کا گولا ہوتے ہیں۔ ایٹم کے اندر زیادہ تر جگہ خالی ہوتی ہے اور اس وجہ سے ایٹموں سے بنی چیزوں کی کثافت کم ہوتی ہے۔ اگر سونے کے ایک ایٹم کو 3.3 میل کا سمجھا جائے تو اسکے مرکزے کی جسامت صرف ایک فٹ کی ہو گی۔
degenerate matter میں بھی الیکٹران الیکٹران کو اور پروٹون پروٹون کو زبردست قوت سے دھکیلتا ہے جسکی وجہ سے ایسے مادے کو ایک حد سے زیادہ نہیں دبایا جا سکتا۔

جب کثافت بہت زیادہ ہوتی ہے تو گیس کے نئے قوانین عمل میں آتے ہیں جنکے تحت پریشر اور ٹمپریچر کا تعلق ختم ہو جاتا ہے اور ستارے کے سکڑنے سے حرارت پیدا نہیں ہوتی۔ اب صرف الیکٹرون ڈیجنیریسی پریشر کشش ثقل کو روکے رکھتا ہے۔[1]

زمین پر اگر کسی چیز میں مزید مادہ ملایا جائے تو جسامت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ لیکن degenerate matter میں جب مزید مادہ داخل ہوتا ہے تو اسکی جسامت میں کمی آتی ہے کیونکہ کشش ثقل بڑھ جاتی ہے۔ اسکا مطلب یہ ہوا کہ اگر سفید بونے کی کمیت زیادہ ہو تو جسامت کم ہوتی ہے اور کمیت کم ہو تو جسامت زیادہ ہوتی ہے۔ طبیعیات کے اصول یہ بھی بتاتے ہیں کہ مکمل ٹھنڈا ہونے پر بھی سفید بونے جسامت برقرار رکھتے ہیں۔


Material کثافت kg/m3میں Notes
خالص پانی 1,000
اوسمیم 22,610 کمرے کے درجہ حرارت پر
سورج کا مرکز ~150,000
سفید بونا ستارہ 1 × 109
ایٹم کا مرکزہ 2.3 × 1017[2]
نیوٹرون ستارے کا مرکز 8.4 × 10161 × 1018
بلیک ہول 2 × 1030[3]

نیوٹرون ستارہ[ترمیم]

اگر کسی ستارے کی کمیت چندرا شیکھر کی حد Chandrasekhar limit سے زیادہ ہو تو وہ ایندھن ختم ہونے پر سفید بونا بننے کی بجائے neutron star میں تبدیل ہو جاتا ہے کیونکہ کمیت زیادہ ہونے کی وجہ سے کشش ثقل کی قوت Pauli exclusion principle کی قوت پر حاوی ہو جاتی ہے جس سے پروٹون اور الیکٹرون ملکر نیوٹرون اور نیوٹرینو بناتے ہیں۔ اس عمل میں توانائ جذب ہوتی ہے۔ نیوٹروں دوسرے نیوٹرون اور پروٹون کے لیئے زبردست کشش رکھتا ہے۔ اس طرح بننے والے نیوٹرون تیزی سے آپس میں جڑ کر جو نیوٹرون ستارہ بناتے ہیں وہ سفید بونے سے بھی کہیں زیادہ کثیف ہوتا ہے اور اسکا قطر لگ بھگ صرف 20 کلو میٹر یا اس سے کم ہوتا ہے۔
سفید بونے کی سطح پر escape velocity روشنی کی رفتار کا صرف 2 فیصد ہوتی ہے مگر نیوٹرون ستارے پر یہ روشنی کی رفتار کا صرف 70 فیصد ہوتی ہے۔
نیوٹرون ستارے کی ہی ایک قسم Pulsars کہلاتی ہے۔

بلیک ہول[ترمیم]

اگر کسی ستارے کی کمیت Tolman–Oppenheimer–Volkoff limit سے بھی زیادہ ہو تو وہ ایندھن ختم ہونے پر neutron star بننے کی بجائے بلیک ہول میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہ حد ابھی تک واضح نہیں ہوئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سورج کی کمیت سے تین گنا یا زیادہ بھاری مرکز رکھنے والا ستارہ (یعنی سورج سے لگ بھگ 18 گنا بڑا ستارہ) ایندھن ختم ہونے پر ایک بہت بڑے دھماکے سے بلیک ہول بن جاتا ہے۔ [1] بلیک ہول کی کثافت (density) سفید بونے اور نیوٹرون اسٹار سے بھی کروڑوں گنا زیادہ ہوتی ہے۔ نیوٹرون اسٹار نظر آ سکتا ہے مگر بلیک ہول پر escape velocity روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ ہوتی ہے اس لیئے یہاں سے روشنی باہر نہیں جا سکتی۔ اسی وجہ سے بلیک ہول خود کبھی نظر نہیں آ سکتا۔

  • سفید بونے میں degenerate particle الیکٹرون ہوتے ہیں۔ سفید بونے کی کمیت چندرا شیکھر کی حد سے کم ہوتی ہے۔
  • نیوٹرون ستارے میں degenerate particle نیوٹرون ہوتے ہیں۔ نیوٹرون ستارے کی کمیت چندرا شیکھر کی حد سے زیادہ مگر Tolman–Oppenheimer–Volkoff limit سے کم ہوتی ہے
  • بلیک ہول میں degenerate particle کوارک (quark) ہوتے ہیں۔ بلیک ہول کی کمیت Tolman–Oppenheimer–Volkoff limit سے زیادہ ہوتی ہے۔

سفید بونے کی توانائ[ترمیم]

جب ایک ستارہ فیوزن کے عمل سے توانائ پیدا کرنے کے قابل نہیں رہتا تب ہی وہ سفید بونے میں تبدیل ہوتا ہے۔ یعنی سفید بونا اپنی توانائی کی جمع شدہ پونجی کے بل پر گرم ہوتا ہے اور روشنی خارج کرتا ہے۔ بہت چھوٹا ہونے کی وجہ سے اسکی توانائی کا اخراج بھی بہت سست ہوتا ہےاور اسے مکمل ٹھنڈا ہونے میں اربوں سال لگتے ہیں۔ ٹھنڈا ہو کر سفید بونا کالے بونے میں تبدیل ہو جاتا ہے اور پھر نظر نہیں آتا۔ اندازہ کیا جاتا ہے کہ کائنات کی عمر ابھی اتنی نہیں ہے کہ کوئی سفید بونا مکمل ٹھنڈا ہو چکا ہو۔ [4]

اگر دو سفید بونے آپس میں ٹکرا جائیں؟[ترمیم]

اگر دو سفید بونے آپس میں ٹکرا جائیں یا ایک سفید بونے پر باہر سے اتنا مادہ آ گرے کہ اسکی کمیت چندرا شیکھر کی حد پار کر لے تو electron degeneracy pressure کشش ثقل کو روک نہیں سکے گا اور سفید بونا مزید سکڑنے لگے گا۔ مزید سکڑنے پر اسکا ٹمپریچر تو نہیں بڑھے گا لیکن کثافت بڑھ جائے گی جس سے کاربن اور آکسیجن میں فیوزن شروع ہو جائے گا اور اس سے ٹمپریچر بڑھنے لگے گا۔ سفید بونوں میں ٹمپریچر بڑھنے سے حجم نہیں بڑھتا۔ (اگر ٹمپریچر بڑھنے کے ساتھ حجم بھی بڑھتا جائے تو ستارے کو ٹھنڈا ہونے کا موقع مل جاتا ہے۔) ٹمپریچر بڑھنے سے فیوزن بھی تیز ہوتا چلا جاتا ہے جس سے لوہا اور نکل بنتا ہے اور آخرکار ستارہ دھماکے سے پھٹ جاتا ہے جسے Type Ia Supernova کہتے ہیں۔ اس قسم کے سپر نوا میں ستارہ مکمل طور پر بکھر جاتا ہے اور باقی کچھ نہیں بچتا۔ یہ لوہے اور نکل کے ٹکڑے شہاب ثاقب کی شکل میں دور دراز کے ستاروں اور سیاروں پر جا گرتے ہیں۔


مزید دیکھیئے[ترمیم]

بیرونی ربط[ترمیم]


حوالے[ترمیم]

  1. ^ http://www.nicadd.niu.edu/~bterzic/PHYS652/Lecture_22.pdf
  2. ^ Nave, C. R.. "Nuclear Size and Density". HyperPhysics. Georgia State University. http://hyperphysics.phy-astr.gsu.edu/HBASE/Nuclear/nucuni.html. Retrieved 26 June 2009.
  3. ^ Adams, Steve (1997). Relativity: an introduction to space-time physics. CRC Press. p. 240. ISBN 0748406212.
  4. ^ http://www.astronomy.ohio-state.edu/~pogge/Ast162/Unit3/extreme.html