عدنان میندریس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
عدنان میندریس ایک عوامی اجتماع کے دوران

عدنان میندریس (پیدائش: 1899ء انتقال:17 ستمبر 1961ء) ترکی کے سابق وزیراعظم تھے جو 1950ء میں ڈیموکریٹک پارٹی کے برسراقتدار آنے کے بعد 10 سال وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہے۔ فوجی انقلاب کے نتیجے میں مقدمے کا سامنا کیا اور پھانسی دے دی گئی۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

عدنان بے مشرقی ترکی کی ولایت آیدن میں 1899ء میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق چودہویں صدی کے مشہور ترک طبیب حاجی علی پاشا کے خاندان سے تھا۔ عدنان بے نے ازمیر کے امریکی کالج میں تعلیم پائی اور پھر انقرہ یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کی۔ 15 مئی 1919ء کو جب یونانی ازمیر میں داخل ہوئے تو عدنان میندریس نے ان کے خلاف دفاعی جدوجہد میں پرجوش حصہ لیا۔ جلال بایار سے ان کا پہلا تعارف اسی موقع پر ہوا۔

عدنان میندریس کا تعلق ایک زراعت پیشہ خاندان سے تھا اس لیے ان کو زراعت سے گہری دلچسپی تھی۔ انہوں نے کمال اتاترک اور عصمت انونو کے دور میں ولایت آیدن اور اس سے ملحقہ علاقے کو سیلابوں سے بچانے اور زراعت کی ترقی کے لیے ناقابل فراموش خدمات انجام دیں۔ عدنان میندریس نے اعلانیہ اور کوتاہیہ کی ولایتوں میں بھی تعمیر و ترقی کے کام انجام دیے۔ [1]

سیاسی زندگی[ترمیم]

ترکی میں قیام جمہوریہ کے بعد عدنان میندریس آیدن کی لبرل پارٹی کی شاخ کے صدر ہوگئے۔ 1923ء میں مصطفیٰ کمال نے ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کا اندازہ کیا اور اتاترک کی ہدایت پر وہ 1930ء میں آیدن سے مجلس کبیر ملی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس کے بعد وہ 1909ء تک برابر رکن منتخب ہوتے رہے۔

جب ترکی میں خاندانی نام اختیار کرنے کا قانون بنا تو عدنان بے نے اپنے لیے میندریس کا نام اختیار کیا جو مشرقی ترکی کا اہم دریا ہے۔ عصمت انونو کے صدر بننے کے بعد عدنان میندریس کے ان سے اختلافات ہو گئے۔ وہ 1930ء سے 1938ء تک خلق پارٹی سے وابستہ رہنے کے بعد اس جماعت سے علیحدہ ہوگئے اور جب ایک سے زیادہ سیاسی جماعتیں قائم کرنے کی اجازت ہو گئی تو انہوں نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے 7 جنوری 1946ء کو ڈیموکریٹک پارٹی کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت قائم کی۔ ایک سے زیادہ جماعتیں قائم کرنے کے قانون اور 1948ء میں انتخابی قوانین میں جو جمہوری نوعیت کی ترمیمیں کی گئیں، ان سب میں عدنان میندریس کا نمایاں ہاتھ تھا۔ اتاترک کے انتقال کے بعد سے جلال بایار اور میندریس ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھی رہے اور ان دونوں کا ایک دوسرے سے ویسا ہی تعلق تھا جو مصطفی کمال اور عصمت انونو کے درمیان تھا۔ 1950ء میں ڈیموکریٹک پارٹی نے خلق پارٹی کی 69 نشستوں کے مقابلے میں 408 نشستیں حاصل کرکے شاندار کامیابی حاصل کی تو جلال بایار صدر اور عدنان میندریس وزیراعظم منتخب ہوئے۔

بطور وزیراعظم[ترمیم]

ٹائم میگزین کے سرورق پر

ڈیموکریٹک پارٹی کی حکومت سے ترکی جمہوریت کے جس دور کا آغاز ہوا اس کو ترکی تاریخ میں انقلابِ سفید کہا جاتا ہے یعنی ایک ایسا انقلابی دور جس میں جمہوریت بحال ہوئی، عوام کو خوشحالی حاصل ہوئی اور ترک عوام کے لیے اسلام پر چلنے کی راہ میں عائد شدہ پابندیاں ختم ہوئیں۔ عدنان میندریس کو ترکی میں جمہوریت کا اصل معمار سمجھا جاتا ہے۔

ان کے دور میں صنعت اور زراعت کو تیزی سے ترقی دی گئی اور بہت سی صنعتوں اور کارخانوں کو جو پہلے سرکاری ملکیت میں تھیں، نجی ملکیت میں دے دیا گیا جس کی وجہ سے نجی کاروبار کو فروغ حاصل ہوا۔ اس دور میں زراعت پر بھی خاص توجہ دی گئی، بند اور نہریں تعمیر کی گئیں، کسانوں کی حالت بہتر ہوئی، ملک میں سڑکوں کا جال بچھایا گیا اور بندرگاہوں کی توسیع کی گئی۔

مغربی بلاک سے وابستگی[ترمیم]

اس دور میں دفاعی معاملات میں ترکی مغربی ملکوں کا اور زیادہ محتاج ہو گیا۔ برطانیہ اور امریکہ وسیع پیمانے پر ترکی کو اسلحہ فراہم کررہے تھے۔ 24 اگست 1949ء کو جب بیلجیم، کینیڈا، ڈنمارک، فرانس، آئس لینڈ، اٹلی، لکسمبرگ، ہالینڈ، ناروے، پرتگال، برطانیہ اور امریکہ نے روس کے مقابلے میں میثاق شمالی اوقیانوس (نیٹو) کے نام سے ایک دفاعی تنظیم قائم کی تو 1952ء میں ترکی بھی اس تنظیم میں شامل ہو گیا۔ اس کے بعد 24 فروری 1955ء کو ترکی نے مشرق وسطیٰ کی ایک اور دفاعی تنظیم معاہدہ بغداد میں شمولیت اختیار کرلی جسے 21 اگست 1959ء کے بعد ادارہ میثاق مرکزی (سینٹو) کا نام دیا گیا۔ ان معاہدوں کی وجہ سے ترکی پوری طرح مغربی بلاک سے وابستہ ہو گیا۔ مغربی ملکوں سے اس وابستگی کو اسلامی ممالک میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا گیا۔ خصوصاً عرب ممالک میں جو فلسطین کی وجہ سے مغربی ممالک کے خلاف صف آراء تھے اس کے خلاف ردعمل اور شدید ہو گیا لیکن ترکی کی بھی اپنی مجبوریاں تھیں۔ اشتراکی روس کے جارحانہ عزائم کے خلاف مقابلہ صرف اس صورت سے کیا جاسکتا تھا کہ ترکی پوری طرح مغرب کے دفاعی نظام سے وابستہ ہو جائے۔

مذہبی پالیسی[ترمیم]

عدنان میندریس کے دور میں ترکی کی مذہبی پالیسی میں بھی اہم تبدیلیاں ہوئیں اور ان کی حکومت نے عوام سے کیے گئے تمام وعدے پورے کیے۔ 1932ء سے ترکی میں یہ پابندی تھی کہ اذان اور تکبیر عربی میں نہیں کہی جاسکتی اور 1941ء کے بعد اس حکم کی خلاف ورزی جرم قرار دی گئی تھی۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ 16 جون 1950ء کو مجلس کبیر ملی کی قرارداد کے ذریعے اس قانون کو منسوخ کردیا اور اس دن وزیراعظم عدنان میندریس نے تار کے ذریعے تمام صوبوں میں اطلاع بھیج دی کہ دوسرے دن سے ترکی میں اذان اور تکبیر اقامت عربی میں کہی جاسکتی ہے۔ 17 جون 1950ء ترکی کی تاریخ کا ایک یادگار دن ہے جب 18 سال کے بعد ترکی کے طول و عرض میں پہلی مرتبہ عربی میں اذان دی گئی۔

عدنان میندریس کے دور میں مسجدیں بھی کثرت سے تعمیر کی گئیں جن میں انقرہ میں اتاترک کے مزار کے سامنے قائم مسجد بھی شامل ہے جس کے لیے عدنان نے اپنی جیب سے ایک لاکھ لیرا دیے۔

علاوہ ازیں عدنان میندریس کے دور میں حج پر عائد پابندیاں بھی اٹھالی گئیں اور 1950ء میں 25 سال بعد 423 ترکوں نے فریضۂ حج ادا کیا۔

عدنان میندریس کا ایک اور کارنامہ محکمہ مذہبی امور کا قیام تھا۔ یہ محکمہ تو اتاترک کے زمانے میں بھی موجود تھا لیکن اس زمانے میں اس دائرۂ کار محدود تھا اور اس کا کام اسلامی پیغام کی توسیع و اشاعت سے زیادہ اسلامی ‎سرگرمیوں کی نگرانی کرنا تھا لیکن ڈیموکریٹک پارٹی کے دور میں اس محکمے نے اسلامی علوم کی توسیع و اشاعت اور عوام میں اسلامی روح پیدا کرنے میں نمایاں حصہ لیا۔ محکمہ کے تحت پرانی اور نئی اسلامی کتب بھی ترجمہ کی گئیں جن میں پاکستان کے مولانا مودودی اور مصر کے سید قطب کی کتابیں بھی شامل تھیں۔

مختصر یہ کہ عدنان میندریس کے دور حکومت میں وہ بیڑیاں بڑی حد تک کاٹ دی گئیں جو ترکی میں قیام جمہوریت کے وقت اسلام کے پاؤں میں ڈال دی گئی تھیں۔ عدنان خاص طور پر اتاترک کے نظریات کے اس قدر مخالف تھے کہ ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اگر ان کا بس چلے تو ملک سے اتاترک کی ایک ایک یادگار مٹادیں۔

آخری ایام[ترمیم]

1950ء کے بعد 1957ء کے انتخابات میں شاندار کامیابی عدنان اور جلال بایار کی مقبولیت کا واضح ثبوت تھی۔ عدنان میندریس نے اپنی اس مقبولیت کے سہارے ترکی کے ان عناصر کی ہمنوائی شروع کردی جو ترکی کے آئین سے سیکولرازم کی دفعات نکالنا چاہتے تھے۔ [2]

اتاترک کی اصلاحات کے حامیوں کو ڈیموکریٹ پارٹی کی بہت سی اصلاحات پہلے کی گراں گذر رہی تھیں اب آئین میں تبدیلیاں کرنے کے رحجانات نے ان کو چوکنا کردیا اور 27 مئی 1960ء کو فوج نے جس پر ان عناصر کا غلبہ تھا، حکومت کا تختہ الٹ دیا اور جنرل جمال گرسل کی زیر صدارت فوجی حکومت قائم کردی۔

سزائے موت[ترمیم]

فوجی حکومت نے جلال بایار، عدنان میندریس اور ڈیموکریٹک پارٹی کے دوسرے رہنماؤں پر آئین کی خلاف ورزی کے الزام میں نمائشی مقدمہ چلایا اور اس جرم میں پارٹی کے دو رہنماؤں کو 17 ستمبر 1961ء کو پھانسی دے دی۔ یہ دو رہنما عدنان میندریس اور وزیر خارجہ زور لو تھے۔ جلال بایار کو بھی سزائے موت سنائی گئی تھی لیکن ضعیف العمری کے باعث ان کی یہ سزا عمر قید میں تبدیل کردی گئی۔ ڈیموکریٹک پارٹی بھی توڑ دی گئی اور اس کے ممتاز ارکان پر سیاست میں حصہ لینا ممنوع قرار دے دیا گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ اجر تنجر Acar Tuncer، عدنان میندریس مطبوعہ ازمیر 1958ء
  2. ^ ماہنامہ سونمیز Son Mez، استنبول، مارچ اپریل 1971ء