لاوائی گنبد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

آتش فشاں سے سست رفتاری سے نکلنے والے لاوے کی وجہ سے بننے والا گول ابھار لاوائی گنبد کہلاتا ہے۔ کیمیائی اعتبار سے یہ ابھار مختلف اجزاء سے مل کر بنے ہوتے ہیں جن سیلیکا سے بننے والے گنبد سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں۔ گنبد کی شکل کی سب سے بڑی وجہ لاوے کا کثیف ہونا ہے جس کی وجہ سے لاوا زیادہ دور تک نہیں جاتا۔ اس کثافت کی دو عام وجوہات ہیں جو کہ لاوے میں سیلیکا کی بہت بڑی مقدار ہونا اور میگما سے گیسوں کا اخراج ہیں۔

گنبد کی ساخت[ترمیم]

لاوائی گنبد ساکت اجسام نہیں ہوتے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ بڑھتے، ٹوٹتے، جمع ہوتے اور کٹاؤ کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔

گنبد کے حجم میں اضافہ دو طرح سے ہو سکتا ہے جو کہ اندرونی اور بیرونی اضافہ کہلاتے ہیں۔ اندرونی اضافے میں گنبد اندر سے پھیلتا جاتا ہے اور میں نیا لاوا جمع ہوتا جاتا ہے۔ بیرونی اضافے میں لاوا گنبد سے نکل کر اس کی بیرونی سطح پر جمع ہوتا جاتا ہے۔ لاوے کی کثافت کی وجہ سے یہ زیادہ دور تک نہیں بہتا بلکہ آس پاس ہی جمع ہو کر ٹھنڈا ہونے لگ جاتا ہے۔ اس طرح کے گنبد کی اونچائی کئی سو میٹر تک پہنچ جاتی ہے اور ان کے بننے میں عموماً کئی ماہ، کئی سال یا کئی صدیاں بھی لگ سکتی ہیں۔ اندر جمع ہونی والی گیس کی وجہ سے کئی بار یہ گنبد پھٹ بھی سکتے ہیں۔ اگر لاوائی گنبد اس وقت پھٹے جب یہ مائع شکل میں ہو تو اسے پائروکلاسٹک بہاؤ کہتے ہیں جو آتش فشانی عمل کی بھیانک ترین شکل ہے۔ دیگر نقصانات میں جائیداد کو پہنچنے والا نقصان، جنگلاتی آگ اور لہار ہوتے ہیں جو پائروکلاسٹک بہاؤ کے نزدیک موجود کیچڑ اور برف کی وجہ سے ہو سکتے ہیں۔ لاوائی گنبد میں موجود سیلیکا کی بڑی مقدار انہیں مزید تباہ کن بنا دیتی ہے۔

لاوائی گنبد میں عموماً طویل عرصے تک خاموشی رہتی ہے اور پھر اچانک مختصر عرصے کے لئے متحرک ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسے گنبدوں کی شکل مخروطی، لمبے عرصے تک ان کی بڑھوتری، اچانک پھٹنا وغیرہ اہم خصوصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ اگرچہ لاوائی گنبد کی بڑھوتری کی رفتار سے اس میں جمع ہونے والے میگما کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے تاہم اس کے پھٹنے کے بارے کوئی پیشین گوئی کرنا ممکن نہیں۔