کتاب زکریاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

مصنف[ترمیم]

اس کتاب کا مصنف زکریاہ نبی ہے، جو حجی نبی کا ہم عصر ہے۔

زمانہ تصنیف[ترمیم]

یہ کتاب اس وقت لکھی گئی جب نئی ہیکل یروشلم میں زیر تعمیر تھی اور یہ کام 480 قبل مسیح تک جاری رہا۔

تعارف اور مندرجات کتاب[ترمیم]

ہیکل کی تعمیر اُس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اہل یہود یعنی یہودی قوم کو اس کتاب میں اشارتاً مسیح کے اس دنیا میں آنے کے بارے میں خبر دی گئی ہے، جس سے یہ مراد ہے کہ خدا اپنے لوگوں کے درمیان سکونت پذیر ہو گا۔ اس میں اُنہیں یہ روحانی پیغام بھی دیا گیا ہے کہ اگر یہوداہ اور اہل یہوداہ اپنے دل پھر سے خداوند کی طرف موڑیں تو خدا ایک بار پھر اُن کا خدا ہو گا۔ ہمارے لیے اس کتاب میں یہ پیغام ہے کہ خدا ہمیں پھر سے سنبھالنے کے لیے تیار رہتا ہے اگر ہم اپنی زندگیاں اس کی پاک مرضی کے مطابق بسر کریں۔ زکریاہ جو حجی نبی کا ہم عصر تھا، خود بھی یہوداہ واپس لوٹ آیا جس وقت ایران کی حکومت کی طرف سے یہودی جلاوطنوں کو واپس اپنے وطن آنے کی اجازت مل گئی تھی۔ زکریاہ کی کتاب سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ زکریاہ نبی نے کئی مشکلوں اور مخالفتوں کے باوجود بھی ہیکل کی تعمیر کے کام کو پورا کروایا۔

کتاب کی تقسیم[ترمیم]

اس کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:۔

  1. رات کی رویائیں ( باب 1 تا باب 8)
  2. آنے والے واقعات۔ (باب 9 تا باب 14)