کتاب یسعیاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

اس کتاب کے مصنف کا نام یسعیاہ ابن آموص ہے ۔ وہ یروشلم کے رہنے والے تھے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور شاہی دربار کے آداب اور طور طریقوں سے واقف بھی تھے۔اپنے زمانے کے حالات اور واقعات سے بھی بخوبی آگاہ تھے۔ کتاب مقدس کے مطابق وہ نبی بھی تھے اور اُن کی نبوت کا زمانہ عزیاہ، یوتام، آخز اور حزقیاہ کے دور حکومت تک پھیلا ہوا تھا۔ یہ مدت تقریباً 740 قبل مسیح تا 681 قبل مسیح ہے۔ کچھ اور روایات سے پتہ چلتا ہے کہ اُنہیں منسہ کے زمانہ میں آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کر دیا گیا تھا۔اُن کا تعلق زیادہ تر یہوداہ کے علاقہ سے رہا، اُس کی تحریروں میں سامریہ کا نام بھی آیا ہے۔
یسعیاہ نے اپنی زندگی میں یہودیوں کی شمالی حکومت کے زوال کا بھی مشاہدہ کیا ہے اور یہ بھی دیکھا ہے کہ کس طرح بنی اسرائیل کے 10 قبیلے نیست و نابود ہو گئے
یسعیاہ نبی کی بہت سی پیشن گوئیاں اس حد تک درست ثابت ہوئی کہ بعض علماء یہ تک سوچنے لگ گئے کہ ان پیشن گوئیوں کو اُن حالات کے وقوع میں آنے کے بعد کتاب میں بطور پیشن گوئی درج کیا ہو گا۔ اگر یسعیاہ کی کتاب کا بغور مطالعہ کیا جائے تو اس کے طرز تحریر، محاوروں اور لسانی تراکیب سے معلوم ہو گا کہ یہ کتاب ایک ہی شخص کی تحریر ہے، کوئی پیشن گوئی بعد میں شامل نہیں کی گئی۔انجیل مقدس میں اس کتاب کی آخری پیش گوئیوں کا جب بھی ذکر آیا ہے اُنہیں یسعیاہ نبی سے ہی منسوب کیا گیا ہے۔(پڑھئیے کتاب یوحنا باب 12 آیت 38 تا 41 تک)
پرانے عہد نامہ کی کتابوں میں پیش گوئیوں کی وجہ سے یہ کتاب سب سے زیادہ پسند کی جاتی ہے۔نئے عہد نامہ یعنی انجیل مقدس میں اس کتاب کے تقریباً پچاس اقتباسات درج ہیں، جو زیادہ تر خدا کی ذات سے تعلق رکھتےہیں۔اُن میں تخلیق کائنات، خدا کی پروردگاری، انسان، گناہ، نجات، قیامت، عدالت اور مسیح کےدوبارہ نزول کے بارے میں تفصیلات درج ہیں۔اس کتاب کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ انسان خدا کے فضل سے نجات پاتا ہے۔ وہ اسے محض اپنے نیک اعمال سے حاصل نہیں کر سکتا یا اُس کا حقدار نہیں ہو سکتا۔عیسائی حضرات کے نزدیک اس کتاب میں یسوع کے مسیح ہوے اور آپ کے کام کے بارے میں پرانے عہد نامہ کی ساری کتابوں سے زیادہ مواد اس کتاب میں موجود ہے، جیسے آپ کنواری سے پیدا ہونگے، دکھ اٹھائیں گے اور انسان کے گناہوں کا کفارہ دیں گے۔اسی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔آپ کو صلح کا شہزادہ کہہ کر پکارا گیا ہے۔ انسان کی نجات کو ”برہ کے خون“ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صلیبی موت) سے نسبت دی گئی ہے۔
اس کتاب کو درج ذیل حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:

  1. کتاب کا مصنف اور تصنیف کا مقصد (باب 1 تا باب 6)
  2. عمانویل اور دیگر پیش گوئیاں(باب 7 تا باب 12)
  3. بت پرست اقوام کے بارے میں پیش گوئیاں(باب 13 تاباب23)
  4. اسرائیل اور دنیا (باب 24 تا باب 27)
  5. صیون کی اُمیدیں (باب 28 تا باب 35)
  6. یروشلم کی خاطر (باب 36 تا باب 39)
  7. یروشلم کی مخلصی (باب 41 تا باب 56آیت 8)
  8. خدا کی عالمگیر بادشاہی کا قیام (باب 56 آیت 9 تا باب 66)