کتاب احبار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

کتاب احبار (عبرانی: ויקרא‎، یونانی: Λευιτικός) عبرانی بائبل کی تیسری اور تورات کی پانچ کتابوں میں سے ایک ہے۔ بنی اسرائیل کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قیادت میں فرعون مصر کی غلامی سے نکلنے کے تین ماہ بعد کوہ سینا کے دامن میں ایک سال گزارنے کی سعادت نصیب ہوئی تھی۔ حضرت ہارون علیہ السلام ان کے دست راست تھے۔ یہاں انہیں ایک قوم واحد کی حیثیت سے زندگی بسر کرنے کا تجربہ ہوا تھا۔ اب انہیں اپنے خداوند خدا سے بہتر طور پر آشنا ہونے کے ضرورت تھی۔ یہ خدا خود بھی تھا چاہتا تھا کہ اس کی برگزیدہ قوم بھی پاک زندگی بسر کرے چنانچہ اس کا ارشاد تھا: پاک بنو کیونکہ میں جو تمہارا خدا وند خدا ہوں پاک خدا ہوں (2:19)۔ اس آیت طیبہ کے مطابق لوگوں کو پاک زندگی بسر کرنے کی تلقین کی گئی۔

اس ضرورت کی تکمیل کے لیے خدا وند خدا نے بنی اسرائیل کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ پاک اور راستباز زندگی گزارنے کے طور طریقے بتائے، قوانین اور احکام دئیے صحیح طور پر عبادت کرنے کے اصول بتائے اور انہیں ایسے پیشوا بھی دئیے جو ان کی رہنمائی کر سکیں۔ چنانچہ حضرت موسیٰ نے یہ کتاب تصنیف فرمائی۔ علماء نے اس کتاب کو 1450۔1410 ق م کے درمیانی عرصہ کی تصنیف بتایا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ حضرت موسیٰ نے اسے کوہ سینا کے دامن میں رہتے ہوئے لکھا تھا۔

کتاب احبار کی وجہ تسمیہ کے متعلق عرض ہے کہ حضرت یعقوب (اسرائیل) کے بارہ بیٹوں میں سے ایک بیٹے کا نام لاوی تھا، لاوی کی نسل یعنی بنی لاوی کو یہودی قوم کے مرکزی عبادتخانہ یعنی ہیکل میں کاہنوں کے ساتھ مل کر مختلف انجام دینے کے لیے چنا گیا تھا (گنتی 5،6:3)، ان کی خدمات کی تفصیل اس کتاب میں موجود ہے۔ کتاب مقدس کے عربی ترجمہ میں اس کتاب کو لاویین (لاوی کی جمع) اور انگریزی ترجمہ میں Leviticus کا نام دیا گیا ہے لیکن اردو ترجمہ میں اسے احبار کا نام دیا گیا ہے۔ یہ لفظ حبر (عقلمند) کی جمع ہے۔ بنی لاوی کے لیے لازم تھا کہ وہ راستبازی اور عقلمندی کو کام میں لاتے ہوئے اپنی دینی خدمات انجام دیں۔

کتاب احبار کے مطالعے سے قارئین کو معلوم ہو گا کہ بنی اسرائیل کے یہاں عبادت الٰہی کے طور طریقے کیا تھے اور ان پر کون کون سی رسموں کی بجا آوری فرض کی گئی تھی۔ ان کے دینی پیشواؤں کو کون کون سے دینی فرائض انجام دینے پڑتے تھے۔ مختلف قربانیوں، تہواروں،عیدوں اور دنوں وغیرہ کا ذکر اور امر ونہی، حلال و حرام کا بیان بھی اس کتاب میں تفصیل سے موجود ہے۔ کاہن، قربانی، ذبیحہ، مذبح، نذر، خون، چربی، مقدس، راستبازی، گناہ وغیرہ بعض ایسے الفاظ ہیں جو اس کتاب میں بکثرت استعمال کیے گئے ہیں۔

اس کتاب کو ذیل کے دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

  1. خدائے قدوس کی عبادت (1:1۔16:17)
  2. پاک زندگی کے اصول و قواعد (18: 1-27 : 34)
کتاب احبار
پیشرو
خروج
عبرانی بائبل جانشین
گنتی
عیسائی
عہدنامہ قدیم