کتاب ایوب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

کتاب مقدس کی یہ کتاب ایوب عبرانی شاعری کا ایک اعلیٰ شاہکار ہے۔ شاعری کے ساتھ ساتھ اس کتاب کے بہت سے حصے نثر میں بھی بیان کیے گئے ہیں۔کتاب مقدس کی بعد کتابیں جن میں کتاب زبور، کتاب امثال، کتاب واعظ اور کتاب غزل الغزلات وغیرہ بھی نظم کے انداز میں لکھی گئی ہیں۔
یہودی علماء کا خیال ہے کہ یہ کتاب ایوب کسی نامعلوم شاعر کا شاہکار ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور اخسویرس شاہ ایران ، جس کا ذکر کتاب آستر کے باب 1 آیت 1 میں آیا ہے ، کے درمیانی زمانے کی لکھی گئی۔اخسویرس بادشاہ کو یونانی زبان میں Xerxes کہہ کر پکارا گیا ہے۔ اس بادشاہ کا سن وفات 465 قبل مسیح ہے۔ بعض علماء اس کتاب کو حضرت سلیمان علیہ السلام کی تصنیف بتاتے ہیں۔
اس کتاب میں بعض شخصیات اور شہروں کے نام بھی آئے ہیں مگر اسے تاریخی تصنیف قرار نہیں دیا گیا۔ اس کتاب ایوب میں بتایا گیا ہے کہ ایک شخص جو یہ جاننے کی کوشش میں لگا ہوا ہے کہ دنیا میں انسان کو دکھ اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، آخر کیوں؟ اور خدا جو محبت اور شفقت کا سرچشمہ ہے وہ خدا کیوں اپنی مخلوق کو مصائب میں مبتلا ہونے دیتا ہےخاص طور پر جب جبکہ انسان سیدھی اور نیک راہ پر چل رہا ہو۔
یہ کتاب حضرت ایوب علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے تین دوستوں کے درمیان ہونے والے مکالمات پر مشتمل ہے اور بہت اعلیٰ ادبی شاہکار ہے۔ عبرانی کےعلماء اس کتاب کو عبرانی شاعری کا ایک نادر نمونہ سمجھتے ہیں اور اس کے اسلوب، حسن بیان، تخلیق کی گہرائی اور اعلیٰ زبان کو تعریف کرتے ہں اور اس کے اعلیٰ پندونصائح، اس کی اخلاقی قدروں اور انسان دوستی کے اظہار کو عدیم المثال قرار دیتے ہیں۔
حضرت ایوب علیہ السلام ایک راستباز انسان تھے۔ مال و دولت کی آپ کے پاس کوئی کمی نہ تھی۔ شیطان آپ کی راستبازی کو پرکھنے کےلیے خداتعالیٰ کی اجازت سے آپ کو آلام و مصائب کا نشانہ بنا دیتا ہے لیکن آپ اس امتحان میں کامیاب رہتے ہیں۔ یہودیوں، مسیحیوں اور مسلمانوں سب اہل کتاب کے ہاں حضرت ایوب علیہ السلام کو کردار انسانی کا اعلیٰ ترین نمونہ سمجھاجاتا ہے۔آپ کے صبرو شکر کے حوالے سے ”صبر ایوب“ ضرب المثل بن چکا ہے۔
اس کتاب کے مطالعہ سے ہم یہ سبق سیکھتے ہیں کہ خدا جو کچھ ہونے دیتا ہے اُس میں انسان کی فلاح و بہبود چھپی ہوتی ہے اور بعض اوقات دکھ تکلیف اور مصیبتیں جن کا ہمیں سامنا کرنا پڑتا ہے وہ تمام ہمارے ایمان کی مضبوطی اور تزکیہ نفس کے لیے ہمارے کام آتی ہیں۔اس لیے ہمیں زندگی کے نامساعد حالات کو بھی استقلال کے ساتھ برداشت کرنا چاہیے۔
اس کتاب کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

  1. حضرت ایوب علیہ السلام کے حالات (باب 1 تا باب 2)
  2. حضرت ایوب علیہ السلام اور آپ کے دوستوں کے مکالمات( باب 3 تا باب 31)
  3. الیہو کی تقاریر (باب 32 تا باب 37)
  4. خدا کے ارشادات (باب 38 تا باب 41)
  5. انجام (باب 42)