کتاب عبدیاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

یہ کتاب عبدیاہ نبی نے لکھی ہے۔ عبدیاہ کا مطلب ہے خدا کا خادم۔ یہ کتاب بھی ادُوم قوم کے خلاف لکھی گئی ہے۔ اس قوم کو نبی اسرائیل سخت نفرت کی نظر سے دیکھتے تھے۔
یہ کتاب غالباً چھٹی صدی قبل مسیح میں وجود میں آئی۔ اس کتاب میں خدا کا نبی ادُوم کے لوگوں کو آگاہ کرتا ہے کہ اُن پر خدا کا غضب نازل ہونے والا ہے کیونکہ اُنہوں نے خدا کی قوم، بنی اسرائیل پر بہت ظلم کیا تھا۔ یہ وہی زمانہ تھا جب اہل بابل نے یہوداہ اور یروشلم کو 586 قبل مسیح میں شکست دی تھی۔ اس کتاب کےلکھے جانے کا مقصد ادُوم کےلوگوں کو آگاہ کرتا تھا۔ لیکن یہی سب بنی اسرائیل کے لیے فتح اور ہمت افزائی کا پیغام لیے ہوئے تھا۔ہم اس کتاب کے مطالعہ سے یہ سبق سیکھتے ہیں کہ خدا اپنے بندوں کے دکھ اُٹھانے اور مصیبتوں میں گرفتار ہونے کے باوجود بھی اُن کی خبر رکھتا ہے اور اُنہیں بچاتا ہے۔ عبدیاہ صاف طور پر اس حقیقت کا اظہار بھی کرتا ہے کہ خدا صرف بنی اسرائیل کا خدا ہی نہیں ہے بلکہ وہ تمام قوموں کو اپنی نظر میں رکھتا ہے۔ یہ کتاب صرف ایک باب پر مشتمل ہے جس کا عنوان عبدیاہ نبی کی رویا(خواب) ہے۔