کتاب زبور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

کتاب مقدس کی یہ کتاب زبور150 مزامیر (مزمور کی جمع مطلب گیت ) پر مشتمل ہے۔ زبور مزامیر کے 5 مجموعوں پر مشتمل ہے۔

  • پہلا مجموعہ گیت 1 تا 41 تک ہے۔
  • دوسرا مجموعہ گیت 42 تا 72 تک ہے۔
  • تیسرا 73 تا 89 تک ہے۔
  • چوتھا مجموعہ گیت 90 تا 106 تک ہے ۔
  • پانچواں مجموعہ گیت 107 تا 150 تک کے مزامیرپر مشتمل ہے۔

اس کتاب کی تصنیف و تالیف کے زمانہ کا اندازہ 1440 تا 586 قبل مسیح کے درمیان کا ہے۔اس کتاب کے زیادہ تر مزامیر حضرت داؤد علیہ السلام سے منسوب ہیں اس لیے بعض لوگ اسے حضرت داؤد علیہ السلام کی تصنیف بتاتے ہیں۔بائبل کے علماء اس کتاب کے 150 میں سے

  • 73 گیت حضرت داؤد علیہ السلام سے منسوب کرتے ہیں۔
  • 9 کو نبی قورح سےمنسوب کرتے ہیں۔
  • 2 کو حضرت سلیمان علیہ السلام سے منسوب کرتے ہیں۔
  • 1 کو ایتان سے منسوب کرتے ہیں۔
  • 1 کو ہیمان سے منسوب کرتے ہیں۔
  • 1 کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے منسوب کرتے ہیں۔
  • 12 کو آسف سے( جو لاویوں کے گھرانے سے تھا) منسوب کرتے ہیں۔
  • 51مزامیر ایسے ہیں جن کے تخلیق کاروں کے نام معلوم نہیں۔

انجیل میں کتاب اعمال باب 4 آیت 25 اور کتاب عبرانیوں باب 4 آیت 7 کے مطابق مزامیر 2 اور 95 حضرت داؤد علیہ السلام کی تخلیق بتائے جاتے ہیں۔
بعض مزامیر کے شروع میں موسیقاروں کے لیے راگ اور سر کی رہمنائی کے سلسلے میں کچھ ہدایات عبرانی زبان میں درج ہیں جن کو کوئی واضح مطلب سمجھ میں نہیں آ سکا۔ ان گیتوں اور نظموں کے مضامین کی مختلف اقسام ہیں، مثلا شخصی یا ذاتی گیت، دعائیں اور مناجات، عبادت کے مواقعوں کے لیے، تاریخ سے متعلق، خدا کی حمد و ثناء کے لیے، توبہ اور استغفارات کے لیے، مسیح موعود سے متعلق اور خداوند کی عظمت سے متعلق وغیرہ۔ مزمور 51 حضرت داؤد علیہ السلام کی توبہ اور استغفار سے متعلق ہے۔ مزمور 1 آیت 1 کے الفاظ تقریباً وہی ہیں جوانجیل کے مطابق حضرت عیسیٰ السلام نے مصلوب ہوتے وقت اپنی زبان سے ادا کیے۔ وہ الفاظ انجیل میں کچھ اس طرح سے ہیں کہ اَے میرے خدا، اَے میرے خدا! تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟ متی کی انجیل باب 22 آیت 45 مرقس کی انجیل باب 15 آیت 26 میں یہی الفاظ کچھ اس طرح سے ہیں کہ الوہی، الوہی لما شبقتنی؟
اس کتاب کے کئی مزامیر یہودی عبادتوں میں بڑے احترام کے ساتھ گائے اور پڑھے جاتے ہیں۔ عیسائی بھی ان گیتوں( مزامیر) کو اپنے عبادتی جلسوں اور اپنی دعاؤں میں پڑھتے ہیں اور اسے روحانی فیض کا باعث بتاتےہیں۔ان مزامیر کے متعلق عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ وہ یسوع مسیح کے دکھوں، خصوصاً اُن کی صلیبی موت کے متعلق ہیں۔ انہی کی وجہ سے وہ آپ کے ابن داؤد کہلائے جانے کے باعث آپ کی ابدی بادشاہی اور جاہ و حشمت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
اس کتاب میں خداوند کو بطور خالق کائنات پیش کیا گیا ہے۔ کائنات کو اُس کی صنعت گری کہا گیا ہے اور اُس کے عجائبات کی طرف بھی بہت ہی دلکش انداز میں اشارے کیے گئے ہیں۔ یعنی آسمان، اجرام فلکی، زمین، سمندر، درخت، موسم ، حیوانات، طیور ، بھیڑ بکریاں اور مچھلیاں وغیرہ ۔
بعض مزامیر انسان کے مقام اور انجام، مسیح کی کہانت، مسیح کی ایذا کشی اور صلیبی قربانی سے متعلق سمجھے جاتےہیں۔ بعض بنی اسرائیل کے مصر کی غلامی سے نجات پانے اور اُن کی صحرا نوردی اور اُن کے عروج و زوال سے متعلق ہیں۔ان سب سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی اپنے نیک بندوں کو فراموش نہیں کرتا۔اپنے نیک بندوں کو تنبیہ یعنی وارننگ ضرور دیتا ہے اور مصیبت سے نجات کے انتظام بھی خود کرتا ہے۔
زبور کا مزمور 23 ، جس کے الفاظ کچھ اس طرح ہیں کہ خداوند ہی میرا چوپان ہے، عام طور پر ہر عیسائی اور یہودی کی زبان پر رہتا ہے اور خطرے اور مصیبت کے وقت بکثرت پڑھا جاتا ہے۔


مزید دیکھیں[ترمیم]