اہل قرآن شیعہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اہل قرآن شیعہ ،قرآنیون،جریان قرآنیان شیعہ یا قرآنیان [1] ان ایرانی شیعوں کو کہا جاتا ہے جو اصلاح شیعت کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اگرچہ تاریخ شیعت میں یہ احتمال ظاہر کیا جاتا ہے کہ بہت سارے لوگ موجود رہے ہیں جو صرف قرآن کی حاکمیت کے قائل تھے تاہم رسمی علما کی مخالفت اور ان سے خوف کی وجہ سے تقیہ کرتے رہے۔ ایسا کہنا چاہیے کہ سید جمال الدین اسد آبادی وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے اصل دین کی طرف واپسی کی تحریک چلائی اور فرماتے تھے : "ملت اسلامی کی بیماریوں کا واحد علاج یہ ہے کہ وہ خود کو صدر اول کے مسلمانوں کی طرح دین کے اصل قواعد کی طرف لوٹائیں۔ "[2] اہل تشیع میں اصلاح یا روشنفکری اور تجدد دینی کا آغاز بدعات اور خرافات کے مقابلہ سے شروع ہوا اور یہ مشروطہ ایران کے ساتھ نشو و نما ہوتی گئی۔ چنانچہ رئج عقائد میں تجدد گرائی یا نظرثانی کرنے والے علما سید جمال الدین افغانی،اسد اللہ خرقانی ، آیت اللہ محمد حسن شریعت سنگلچی،شیخ محمد خالصی زادہ،حیدر علی قلمداران،ابوالفضل برقعی،سید صادق تقوی،یوسف شعار،سید محمد جواد غروی،سید علی اصغر غروی،محسن کدیور،علی اکبر حکمی زادہ،سید جلال جلالی قوچانی،انجینر حسین برازندہ،خسروبشارتی،عبدالوہاب فرید تنکابنی،مہدی بازرگان عبد العلی بازرگان شامل ہیں۔ آیت اللہ شریعت سنگلجی کے مایہ ناز شاگرد "علی اکبر حکمی زادہ" کی طوفان برپا کرنے والی کتاب "اسرار ہزارسالہ" سے میں اہل قرآن شیعہ کے نظریہ کو ہی بیان کیا گیا ہے۔ اسرار ہزار سالہ جس کا جواب آیت اللہ خمینی نے " کشف الاسرار" کے نام سے اور آیت اللہ خالصی زادہ نے بھی جواب لکھا،علی اکبر حکمی زادہ جو آیت اللہ طالقانی کے بھانجے ہیں لکھتے ہیں : "آج ہمارے(شیعہ اثناعشری کے ) پاس جو دین ہے وہ 95 فیصد گمراہی اور ضلالت پر مشتمل ہے۔" [3] جب کہ سیداحمد کسروی اپنی کتاب "شیعہ گری" میں لکھتے ہیں : "اسلام دو ہیں۔ایک حقیقی اسلام جو محمد مصطفی ص لے کر آئے اور آپ کی وفات تک جو اسلام رائج رہا وہی حقیقی اسلام ہے۔ جب کہ دوسرا اسلام وہ ہے جو رسول ص کی وفات کے بعد سے آج تک جو رائج(فرقوں کا) اسلام ہے وہ خرافاتی اسلام ہے " اہل قرآن شیعہ کے عمومی افکار و نظریات

فہرست

توحید[ترمیم]

اہل قرآن شیعہ عموما سب سے زیادہ توحید پر زور دیتے ہیں اور شرک کے سخت خلاف ہیں۔ان کی کتب "توحید عبادت" شریعت سنگلجی اور برقعی و قلمداران کی کتابوں میں سب سے زیادہ فوکس اور زور اسی نظریہ توحید اور چار اقسام توحید پر کاربند رہنے کی تاکید اور ہرقسم کے شرک اکبرو اصغر سے خود کو بچانے کی نصیحت کی گئی ہے۔ اور نھج البلاغہ سے علی ع کی وصیت " کہ توحید و سنت کے چراغوں کو جلائے رکھنا" ان کا مشن ہے۔[4]

قبروں پر تعمیرات اور عبادات و تبرکات[ترمیم]

اہل قرآن شیعہ طبقہ قبروں پر ہر قسم کی تعمیر اور قبر کو چار انگشت سے بلند کرنے کو غیر شرعی سمجھتے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ سب سے بڑے شرک کے مراکز یہ قبریں ہیں۔قبہ سازی،گلکاری،چونے سے سنگ مرمر سے سجاوٹ حرام ہے۔ قبر کی مٹی کے علاوہ کوئی مٹی استعمال نا کی جائے اور زمین سے چار انگلیوں سے اونچی قبروں کو گرا کر سنت کے مطابق تعمیر کی جائے .اس پر آیت اللہ شریعت سنگلجی کی "توحید عبادت"، آیت اللہ برقعی کی "زیارت قبور کی بہت ساری بدعات" ملاحظہ کریں جہاں موم بتی،شمع جلانا اور چادر چڑھانا وغیرہ کو اسراف و خلاف شرع قرار دیا ہے۔ حیدرعلی قلمداران [5]نے مسلمانوں کے زوال کے اسباب میں سے ایک ان قبروں اور درگاہوں پہ اسراف ں توہمات کو قرار دیا۔ ان کے مطابق قبرپرستی مردہ پرستی خلاف شرع اور باعث شرک عمل ہے۔[6]

غیر اللہ کے نام پر ذبح و قربانی[ترمیم]

فلاں کے نام لے کر قربانی کی جائے تو اس کو حرام گوشت قرار دیتے ہیں۔اس طرز فکر کے مطابق غیر خدا کے نام پر کچھ ذبح کرنا،قبروں درگاہوں پر ذبح کیے گئے جانوروں کا گوشت کھانا حرام ہے اور ذبح کرنے والا شرک کا ارتکاب کرتا ہے۔ آیت اللہ شریعت سنگلجی کتاب "توحید عبادت" میں ایک باب اس عنوان سے قائم کر کے اس شرک کو شیعہ احادیث سے مفصل رد کرتے ہیں اور قربانی کو خالص رضائے الھی کیلے کرنے کی نصیحت کرتے ہیں۔جب کہ آیت اللہ برقعی اپنی کتاب"تضاد مفاتیح الجنان با آیات قرآن" میں ایک جگہ اس پر مفصل لکھتے ہیں۔

نذر و نیاز غیر اللہ کیلے[ترمیم]

غیر اللہ کیلے نذر و نیاز،دیگ اور لنگر کو غلط سمجھتے ہیں۔ان کے نزدیک نذرو نیاز اور منت صرف خدا کیلے مانی جائے اور ان جیسے جگھوں پر کھانا لینا اور نذر و نیاز تبرکات کھانا حرام ہے جیسا کہ آیت اللہ برقعی نے اپنی تفسیر تابشی از قرآن میں ذکر کیا ہے۔

استغاثہ و استعانت غیر اللہ[ترمیم]

غیر اللہ سے غیبی امور کیلے مدد مانگنا استغاثہ استعانت و استمداد کو اہل قرآن شیعہ شرک سمجھتے ہیں۔ان کے خیال میں جب مشکل کشا،حاجت روا،داتا و گنج بخشنے والا صرف خدا ہے تو ایاک نعبد وایاک نستعین اور اذ تستغثون ربکم پر کاربند ہو کر حقیقی مولا مشکل کشا حاجت روا اللہ کو پکارا جائے .یا علی مدد یاابوالفضل عباس یا سکینہ کو شرکیہ جملے قرار دیتے ہیں۔ان کے مطابق امام سجاد نے صحیفہ سجادیہ میں اور علی المرتضی نے اپنی مناجات میں صرف اللہ کو ہی پکارا ہے اور اسی سے مدد طلب کی ہے۔

وسیلہ اورشفاعت و سفارش[ترمیم]

اہل قرآن شیعہ وسیلہ حتی کہ روز قیامت سفارش و شفاعت کے منکر ہیں۔ان کے نزدیک شفاعت انبیا و اولیاء قرآن سے متصادم نظریہ ہے اور ان کا کہنا ہے کہ دشمنان اسلام نے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کیلے شفاعت روز قیامت کی من گھڑت احادیث داخل کیں .اس کے علاوہ حدیث نابینا اور وسیلہ حضرت عباس رسول کے چچا کا بطور وسیلہ حضرت عمر کے پیش کرنے کو بھی من گھڑت حدیث سمجھتے ہیں۔جیسا کہ حیدر علی قلمداران نے اپنی کتاب "راہ نجات از شر غلات" میں اس کو الگ جزؤ مین بیان کیا ہے۔

مسئلہ حاضروناظر[ترمیم]

اہل قرآن شیعہ طرز فکر کا عقیدہ ہے کہ صرف اللہ تعالی ہی ہر جگہ حاضر و ناظر ہے۔ اور اس کے علاوہ کسی مخلوق کی یہ صفت نہیں کہ بیک وقت ہر جگہ موجود ہو۔ اور ان کا نظریہ ہے کہ ارواح انبیا وآئمہ اور اولیاء جنت میں "دارالسلام" میں ہے۔ اور قبروں میں بقید حیات نہیں بلکہ اس دنیا سے بالکل لا تعلق اور بے خبر ہیں۔اور روز قیامت اسی بے خبری بعد از وفات کا ذکر خدا کے سامنے کریں گے .

علم غیب اور انبیا و اولیاء اور امام[ترمیم]

اہل قرآن شیعہ کے مطابق صرف اللہ" عالم الغیب" ہے اور انبیاو ائمہ اولیا مومنین باخبار الغیب ہے "یؤمنون بالغیب" ان کی صفت ہے اور اللہ بعض غیب کی باتیں /اخبار بذریعہ وحی ان کو "ذالک من انباء الغیب نوحیہ الیک" بتا دیتا ہے اظہار کر دیتا ہے (سورہ یوسف 102) اور اسی طرف اشارہ دیگر آیت میں کیا گیا ہے کۂ غیب تو صرف اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا اور جب ضرورت پڑے اللہ انبیا کو اپنی مرضی سے بذریعہ وحی اس کا اظہار کر دیتا ہے۔ ایسا نہیں کہ انبیا جب چاہے غیب جانیں اپنی مرضی سے بغیر وحی کے بلکہ سراسر خدا کی مرضی اور اس کی طرف سے وحی کے بعد ہی اخبارغیب جانتے ہیں،یعنی عالم غیب نہیں بلکہ تمام اولیا انبیا و ائمہ مومنین باخبار غیب ہے

نوع انبیا و امام -نور وبشر[ترمیم]

اس طبقہ فکر کا نظریہ ہے کہ ائمہ بھی نوع بشر ہے۔ عام انسانوں کے ساتھ فرق صرف نبوت اور وحی ہے۔ اور نوری جسم یا روح کے نظریۂ کۂ لباس بشر میں ہم سے الگ انسان ہیں اس نظریہ کے قائل نہیں بلکہ انا بشر مثلکم کو مثل ہی مانتے ہیں اور انابشر من نور یا انا بشر غیر کم کے نظریات کو رد کرتے ہیں .

قرآن فہمی اور تدبر قرآن[ترمیم]

اہل قرآن شیعہ جس موضوع پر سب سے زیادہ زور دیتے ہیں ان کے ہاں وہ قرآن فہمی ہے کہ قرآن کو سمجھ کر پڑہیں اور اس پر تدبروغور کریں اور اپنے عقائد کی بنیاد قرآن کو بنائیں .اور کوئی عقیدہ نظریہ روایت قرآن کے خلاف نظر آئے تو اس کورد کر دیا جائے خواہ کتنی ہی صحیح السند روایت کیوں نہ ہو وہ زخرف یعنی لغو ہے۔

زیارت قبور[ترمیم]

قبروں کی زیارت کو اس طبقہ میں سے بعض مطلقا حرام اور زیارت قبور پر ثواب کو من گھڑت روایات قرار دیتے ہیں۔حیدر علی قلمداران نے "راہ نجات از شر غلات- زیارت و زیارت نامہ" اور "ارمغان آسمان" میں اس زیارت کیلے قبروں پر جانے کو غلط عمل قرار دیا۔ جب کہ آیت اللہ شریعت حسن سنگلجی اور آیت اللہ ابن رضا رضوی برقعی کے مطابق قبروں کی زیارت تو جایز ہے اور اس کا مقصد صرف عبرت حاصل کرنا اور ان مردہ لوگوں کیلے بخشش کی دعا کرنا اور انبیا و اولیا کی قبروں پر جاکر صرف تجدید اور عہد کرنا کہ دین پر چلنے میں ان کی سیرت کو اپنایں گے مقصد ہو،باقی قبروں پر ھرقسم کا سجدہ،بوسہ دینا،تبرک حاصل کرنا اور ان کا طواف وغیرہ شرک و خلاف شریعت ہے۔

نحوست،فال اور توھمات[ترمیم]

اہل قرآن شیعہ طبقہ کا عقیدہ ہے کہ نحوست دنوں میں نہیں، صفر کے مہینہ میں کوئی نحوست نہیں .اسی طرح الو بولنا ،13 نمبر کو منحوس سمجھنا قرآن سے فال نکالنا، کالی بلی کے راستہ کاٹنے وغیرہ کو منحوس سمجھنا اور اسی طرح کسی دن کو سعد کا باعث سمجھنا یہ سب توہمات ہیں جن کی کوئی شرعی حیثیت نہیں بلکہ مشرکین ضعیف العقیدہ لوگوں کی بکواسات ہیں .

ستاروں کے اثرات و احوال[ترمیم]

ستاروں کا حال دیکھنا زائچہ بنانا کیپ ری کان، ثور، وغیرہ کے ساتھ لوگوں کی قسمت کا حال ،اسٹرالوجی اور نجومی وغیرہ کو بکواسات سمجھتے ہیں۔اور ان کے مطابق ہاتھ دیکھنا پالمسٹری شرکیہ عقیدہ کے حامل لوگ جو غیب دانی کا دعوی کرتے ہیں سب فضول و خلاف شرع حرکات ہیں .

فاتحہ خوانی،قل تیجا،چالیسواں ،برسی و دیگر رسومات[ترمیم]

فاتحہ خوانی،مجاور رکھنا قاری کو قبر پر بٹھانا اور باقی رسومات اسراف و تبذیر ہے۔ ان کے ہاں شرعی طریقہ اور سنت یہ ہے کہ میت کے گھر سے کچھ نا کھایا جائے اور میت کے گھر والے تین دن سوگ کریں اور ہمسایہ کے لوگ تین دن تک ان کو کھلایں میت کے گھر سے کھانا اور پیٹ خور اخوند و ملا کیلے پیسے دینا تاکہ کچھ رسومات اد ا کریں خلاف شرع و بدعت سمجھتے ہیں .

وفات مسیح ع[ترمیم]

اہل قرآن شیعہ کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی اگرچہ صلیب پر نہیں چڑھے لیکن ان کی وفات ھوگئی اور وہ دوبارہ واپس نہیں آینگے .

امام مہدی،غیبت،انتظار ،رجعت[ترمیم]

اہل قرآن شیعہ حضرات کسی امام مہدی کے وجود کو مکمل رد کرتے ہیں ان کا عقیدہ ہے کہ امام حسن عسکری ع لاولد فوت ہو گئے تو بعض دنیاپرستوں نے ان کیلے ایک بیٹے کا وجود فرضی طور پر اس لیے مشہور کیا تاکہ ان کے نام پر خمس کے مزے اڑائیں .اس سازش کے شرکاء نے خود کو امام مہدی کا نائب قرار دے کر دنیوی مفادات حاصل کیے .مہدی کواہل قرآن شیعہ ایک افسانہ قرار دیتے ہیں اور ان کے رجعت کو خلاف قرآن ایک واقعہ اور ڈرامۂ سمجھتے ہیں۔ان کا عقیدہ ہے کوئی مہدی اسلام کے مطابق نہیں بلکہ شیعہ سنی کتب میں اسلام دشمنوں نے مہدی کے متعلق روایات داخل کیے .

اماموں کا معصوم و منصوص ہونا[ترمیم]

تمام اہل قرآن شیعہ مہدی جن کا وجود ہی مشکوک ہے ،اس لیے باقی باقی گیارہ اماموں کی عزت کرتے ہیں۔ان کو لیڈر مانتے ہیں یا اپنے دور کے اعلیٰ و ارفع مجتہد سمجھتے ہیں جیسا کہ ڈاکٹر محسن کدیور کا خیال ہے۔ لیکن ان سب کو معصوم عن الخطاء اور منصوص من اللہ اور مفترض الطاعت نہیں سمجھتے . ان کے مطابق امام تابع دین ہے جزو دین نہیں .

منابع و کتب[ترمیم]

سب سے زیادہ دلائل اپنے موقف کے حق میں اہل قرآن شیعہ قرآن سے دیتے ہیں،جس کے بعد نھج البلاغہ کو اپنے عقائد و نظریات کے صحیح ہونے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔اس کے علاوہ صحیفہ کاملہ سجادیہ سے بہت ساری عبادات نقل کرتے ہیں اور صحیفہ علویہ سے بھی خوب استفادہ کرتے ہیں۔تاریخ کے حوالے سے الغارات ثقفی،وقعہ صفین اور الجمل نامی نصر ابن مزاحم کی قدیم ترین شیعہ اثناعشری کتب بھی زیادہ تر استعمال کرتے ہیں۔ البتہ اس کے علاوہ بھی شیعہ احادیث کی روایات کو سب سے زیادہ استعمال بطور حوالہ کرتے ہیں۔لیکن سنی کتب حدیث بھی بسا اوقات استعمال کرتے ہیں۔اور بطور کل شیعہ سنی زیدی کتب سے بھی استفادہ کرتے ہیں بشرطیکہ قرآن کے خلاف نا ھو ورنہ خواہ کتنی صحیح سند کی احادیث ھو قرآن کے مخالف ہو تو رد کر دیں گے .

خلفاء راشدین[ترمیم]

اہل قرآن شیعہ اگرچہ علی ع کو تمام صحابہ سے افضل اور خلافت کے حقدار سمجھتے ہیں۔البتہ چونکہ بطور نص علی ع کی خلافت کے موجود ہونے کے انکاری ہیں۔تو جب خلیفہ اول دوم وسوم کو امت خصوصا مھاجرین نے منتخب کیا اور علی ع نے ان کے ساتھ اچھا سلوک اور ان کی تعریفیں کیں .اس لیے ان 3 کی عزت واحترام اور فضیلت بطورسابقین اولون کے قایل ہیں۔خصوصا حضرت عمر کے حد درجہ احترام کرتے ہیں .

یزید و معاویہ[ترمیم]

چونکہ علی ع نے مختلف روایات اور نھج البلاغہ میں مذمت اور خلاف اسلام سازشوں سے پردہ اٹھایا ہے اس لیے اہل قرآن شیعہ علی ع کی طرح معاویہ کے سخت خلاف ہیں اور سب سے زیادہ تنقید کرتے ہیں۔اسی طرح یزید کو ہی قاتل حسین اور ناشائستہ کردار کا حامل سمجھتے ہیں .

تقیہ کے متعلق[ترمیم]

جس تقیہ کو شیعہ اثناعشری میں ائمہ ع سے منسوب کیا گیا ہے اہل قرآن شیعہ اس کو رد کرتے ہیں اور ائمہ ع پر اس کو جھوٹ سمجھتے ہیں۔اور رائج تقیہ کو آئمۂ ع کی کردار کشی اور ان کو بدنام کرنے کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے تقیہ کو ناجائز اور جھوٹ قرار دیتے ہیں .

متعہ اور ازدواج موقت[ترمیم]

متعہ کو اہل قرآن شیعہ حرام اور زنا قرار دیتے ہیں۔اس کو خلاف شرع اور خلاف قرآن قرار دے کر ہر اس روایت کو جو کتب حدیث میں نکاح موقت سے متعلق وارد ہیں جھوٹ کا پلندہ سمجھتے ہیں جس کو دشمنان اسلام نے ازدواج اسلامی کو خراب کرنے اور فحاشی پھیلانے کیلے رواج دیا۔

زیارت عاشورا،زیارت جامعہ اور دعائے ندبہ اور دعائے توسل[ترمیم]

اہل قرآن شیعہ زیارت عاشورا،زیارت جامعہ کو سندا غیر مستند مانتے ہیں۔اور ان کے متن کو خلاف قرآن سمجھتے ہیں۔اور من گھڑت۔ دوسری طرف دعائے توسل کو شرک آمیز اور قرآنی تعلیمات کے خلاف سمجھتے ہیں۔اور دعائے ندبہ کو بھی من گھڑت فتنہ انگیز دعا قرار دیتے ہیں۔ اور اس دعائے ندبہ کے رد میں مستقل کتب بھی اہل قرآن شیعہ علما نے لکھی ہیں .

قصیدہ اور مدح سرائی[ترمیم]

اہل قرآن شیعہ قصیدہ اور مدح کے نام پر غلو آمیزا ور مبالغہ آرائی پر مبنی قصیدوں اور مدح کے سخت خلاف ہے۔ آغا علی اصغر موسوی غروی نے اس پر مقالہ تحریر کیا ہے۔

مرثیہ اور نوحہ خوانی[ترمیم]

اہل قرآن شیعہ نوحہ خوانی اور مرثیوں کو جاھلانہ کاموں سے تشبیہ دیتے ہیں اور اس کو خلاف شریعت سمجھتے ہیں۔آغا اصغر غروی موسوی نے نوحہ و مرثیہ خوانی کے رد میں مقالہ لکھا ہے۔

عزاداری کے رسومات اور شبیہ سازی[ترمیم]

اہل قرآن شیعہ عزاداری کے نام پر سینہ کوبی،زنجیر زنی قمہ زنی آگ پر ماتم کو غیر اسلامی اور ناجایز حرام قرار دیتے ہیں۔مزیر گھوڑا پرستی علم پرستی اور شبیہ پرستی تابوت پرستی کے بھی سخت خلاف ہیں اور اس کو مجوسیت و مشرکین کے اعمال سمجھتے ہیں .

بکا وماتم اور گریہ[ترمیم]

اہل قرآن شیعہ میں سے کچھ افراد ماتم اور گری کو بھی صبر کے منافی قرار دیتے ہیں۔اور اس کو اسلامی تعلیمات کہ وفات پر تین دن سے زیادہ سوگ حرام ہے سے متصادم سمجھتے ہیں۔ان کے خیال میں کسی کی وفات پر انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنا اور خدا کی امانت کو واپس لینے پر صبر کرنا چاہیے خواہ کوئی بھی ہو۔

تقلید حرام[ترمیم]

اہل قرآن شیعہ تقلید کو حرام قرار دیتے ہیں اور تحقیق و اجتہاد کے حق میں ہے۔ ان کے نزدیک علما سے رجوع کرنا تو درست ہے لیکن ہر حال میں خواہ قرآن کے خلاف بھی مجتہد کی بات ہو اس کو قبول کرنا شرک اور ان علما کو بنی اسرائیل کی طرح ارباب بنانا ہے۔

فقہ جعفری اور فروعی مسائل[ترمیم]

اہل قرآن شیعہ نماز،روزہ،حج و زکوۃ فقہ جعفری کے مطابق ادا کرتے ہیں اور عموما سجدگاہ بھی استعمال کرتے ہیں۔ہاتھ چھوڑ کر اور اس کے علاوہ وضو بھی جعفری فقہ کے مطابق ادا کرتے ہیں۔اور بغض ان میں سے وضو میں پاؤں دھونے کو اور سجدگاہ استعمال نہ کرنے کو بھی درست سمجھتے ہیں .

تبرکات،پتھر درخت قدم گاہ[ترمیم]

تبرکات کے نام پر پتھر درخت اور قدم گاہ یا جعلی ضریحوں کی عبادت کواہل قرآن شیعہ درست قرار نہیں دیتے .بلکہ ایسے درخت پتھر قدم گاہ کو مٹانے کے حق میں ہوتے ہیں تاکہ یہ شرک کی فیکٹریاں نہ بن جائے .

تعویز گنڈے اور نقش[ترمیم]

اہل قرآن شیعہ تعویز گنڈے کے سخت خلاف ہیں اور جو نقوش دستیاب ہیں برکات کے نام پر ان کو یکسر مسترد کرتے ہین۔ ان کے مطابق قرآن سے تعویز بنانا قرآن کو ترک کرنے اور اصل مقصد قرآن سے انحراف ہے۔ اور قرآن یا غیر قرآن سے تعویز بنانے اور امام ضامن باندھنے کو بھی ناجائز و شرک قرار دیتے ہیں اور توحید عبادت نامی کتاب میں آیت اللہ شریعت سنگلجی نے تعویز دھاگہ اور نقش کو خلاف تعلیمات اہل بیت ع قرار دیا ہے۔

جعلی حدیث کسا اور جعلی حدیث غدیر[ترمیم]

اہل قرآن شیعہ اگرچہ اس حدیث غدیر اور حدیث کسا کو تسلیم کرتے اور بالکل درست سمجھتے ہیں جو شیعہ سنی مستند کتابوں میں متفق علیہ ہے۔ لیکن اثناعشری کے ہاں جو دوسری حدیث کساء اور غدیر ہے اس کو من گھڑت اور غیر مستند قرار دیتے ہیں اوراہل قرآن شیعہ علما نے اس دوسری جعلی حدیث کسا و حدیث غدیر کے رد پر کتابیں لکھی ہیں۔خصوصا الامینی کی الغدیر کا وقتا فوقتا رد کرتے رہتے ہیں .

کلمہ طیبہ[ترمیم]

اہل قرآن شیعہ چونکہ اثناعشری کے ہاں رائج امامت کے تصور اور علی ع کی امامت کیلے نص کے موجود ہونے کا قائل نہیں۔ اس لیے ان کے نزدیک امام دین کا جزو نہیں بلکہ تابع دین ہے اور خود علی ع جو کلمہ پڑھ کر مسلمان کہلائے یا مومن کہلائے وہ کلمہ "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" ہے اس میں اضافہ ایک جسارت و بدعت اور علی ع کے نہج البلاغہ کے فرامین و ارشادات اور مناجات علی ع کے خلاف بھی ہیں کیونکہ آپ ع صرف شھادتین کو ہی نجات کا ذریعہ قرار دیتے تھے .

خمس، عوام کی بیچارگی[ترمیم]

اہل قرآن شیعہ کے افکار کے حامل حیدر علی قلمداران، نے اس پر مستقل کتاب لکھی کہ خمس جنگی غنائم تک محدود ہے اور عوام کے مکاسب اور کمائی سے اس کو لینا ایک ظلم ہے۔ اسی نظریہ کو آغا موسی الموسوی، احمد الکاتب، آیت اللہ برقعی،آیت اللہ شریعت سنگلجی آغا مصطفی حسینی طباطبائی وغیرہ اہل قرآن شیعہ کے مبلغین نے جابجا اپنی تحریروں میں بیان کیا۔

وحی کے نزول کا اختتام اور حجت بھی ختم[ترمیم]

اہل قرآن شیعہ رسول ص کے بعد نزول وحی کے ہر دعوی کو اسلام سے متصادم اور قرآن کے خلاف سمجھتے ہیں۔اس کے علاوہ رسول ص کے بعد کسی کو حجت نہیں سمجھتے یعنی محمد ص کی آمد اور آپ پر قرآن کے نزول کے بعد پیغام الہی کو رسول نے مکمل پہنچا کر دنیا سے چلے گئے تو اب " تمت بنبینا الحجۃ" جو علی ع کا قول بھی ہے کسی اور کی حجت کے قائل نہیں .اور رسول ص اور قرآن مجید کو ہر زمانے کا تاقیامت امام و راہنما(امام زمان) سمجھتے ہیں .

صوفی ازم:[ترمیم]

تصوف اور صوفی ازم کے اہل قرآن شیعہ سخت خلاف ہیں۔اور تصوف کو ایک غیر اسلامی پودا سمجھتے ہیں جس کو اسلام کی زمین میں لگایا گیا۔ صوفیوں کو ہی تمام گمراہیوں اور بدعات کا محور گردانتے ہیں جیسا کہ آیت اللہ برقعی نے التفتیش در مسلک صوفی میں اپنا یہ نظریہ بیان کیا ہے۔ مستقل کتب صوفی ازم کے خلاف "صوفی گری" کے نام سے ایرانی اہل قرآن شیعہ نے لکھی ہیں .

اولی الامر،راسخون فی العلم اور اھل الذکر[ترمیم]

ان اصطلاحات کو عام اثناعشری پنجتن پاک ع سے متعلق قرار دے کر تاویلیں کرتے ہیں۔جب کہ اہل قرآن شیعہ ان تاویلوں کو مسترد کرتے ہیں۔اور اولوالامر سے متعلق ان کا نظریہ ہے کہ لشکروں کے امیر یا جن کو رسول ص امیر و قائد بنا کر بھیجتے وہ مراد ہیں۔اہل قرآن شیعہ کے بانی شریعت سنگلجی کے استاد آیت اللہ اسداللہ موسوی میراسلامی نے مستقل کتاب"اولوالامر کے معنی " پر لکھی جس میں حضرت ابوبکر و عمرو عثمان و علی چاروں کو اولوالامر قرار دیا۔ جب کہ آیت اللہ برقعی نے تفسیر تابشی قرآن میں کئی صفحات پر بحث میں اسی موقف کو دہرایا ہے۔ اور شاھراہ اتحاد بررسی نصوص امامت میں حیدر علی قلمداران نے اور التشیع سیاسی والتشیع دینی میں احمد الکاتب نے بھی اسی طرز فکر کو اپنایا ہے۔

آیت تطہیر اور آیت مودۃ قربی[ترمیم]

جیسا کہ اثناعشری ان دو آیات کو پنجتن ع تک محدود کرتے ہیں۔ جب کہ شان نزول اور سیاق و سباق کو نظرانداز کر کے آیات کے باہمی ربط کو خاطر میں نہیں لاتے .جب کہ اہل قرآن شیعہ اہل بیت کے اصل مصداق آیت کی رو سے ازواج رسول اور بعد میں بیت علی ع کو دعائے رسول کی بدولت اس آیت میں داخل کرتے ہیں۔اور نہج البلاغہ کی روشنی میں آل جعفر،آل عقیل،آل حارث و حمزہ کو بھی اہل بیت قرار دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ آیت مودت کو مکی سورت قرار دے کر اثناعشری تاویلات کو رد کرتے ہیں .

انصارومھاجرین و شوری[ترمیم]

اہل قرآن شیعہ نہج البلاغہ کی روشنی میں انصار و مہاجرین کی حق شوری کو درست اور انتخاب خلافت کو صحیح قرار دیتے ہیں اگرچہ اہلبیت علی ع کے پاس تھی لیکن علی ع نے نص جلی اپنی خلافت پر ہونے کا ذکر نہیں کیا بلکہ اپنی صلاحیت و فضیلت کو خلافت کے اہل کے طور پر پیش کیا۔ اہل قرآن شیعہ اصحاب رسول ص کو مرتد قرار نہیں دیتے بلکہ ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا کے مصداق اصحاب رسول کو 3 یا 9 نفر قرار نہیں دیتے .

سب وشتم اور لعنت[ترمیم]

اہل قرآن شیعہ سب ولعن اور شتم کو خلاف تعلیمات اہل بیت ع قرار دیتے ہیں۔ اور اس طرز عمل کو شیعان معاویہ کا کرار قرار دیتے ہیں کہ کسی کو سب وشتم اور لعنت کیا جائے . اس کو نہج البلاغہ میں علی ع کے حکم کہ جب آپ کے شیعہ معاویہ اور اس کے شیعہ پر سب و شتم کر رہے تھے فرمایا کہ تم سب کرنے والے مت بنو اور امام جعفر صادق ع کا قول جس نے کسی انسان کوکہا اے خنزیر، تو وہ ہمارا شیعہ نہیں .اور دیگر حکم ائمہ ہدی ع کے خلاف سمجھتے ہیں۔اور تبراء کے نام پر دوسروں کے مقدسات کی توہیں کو برا خیال کرتے ہیں۔اور دعائے صنمی قریش اور زیارات عاشوراء جہاں خلفائے ثلاثہ پر لعنت وارد ہے، اہل بیت ع کے خلاف ایک جعل کردہ سازش سمجھ کر ان کو رد کرتے ہیں .

حدیث قرطاس اور حسبنا کتاب اللہ[ترمیم]

حدیث قرطاس کو اکثر اہل قرآن شیعہ مسترد کرتے ہیں۔کہ جب رسول ص بار بار صرف قرآن یا قرآن وسنت یا پھر قرآن و عترت کو ہدایت کا منبع کے طور پر چھوڑ کر جانے کی روایات موجود تھے پھر آخری وقت لکھنے کی ضرورت کیا تھی کہ کچھ لکھ کر جاوں تاکہ تم گمراہ نہ ہوں .اسی لیے آیت اللہ برقعی حدیث قرطاس کو جعلی من گھڑت قرار دے کر اس کو خلاف عقل وقرآن اور حضرت عمر کو بدنام کرنے کیلے مجوسی سازش قرار دیتے تھے اور کہتے ہیں کہ نبی امی ص کا یہ فرمانا کہ میں کچھ لکھتا ہوں حالانکہ آپ ص کچھ لکھ نہیں سکتے تھے بلکہ لاو میں املا کراتا ہوں یا لکھواتا ہوں ہونا چاہیے تھا جو اس من گھڑت روایت میں نہیں .اور جب علی ع نے صرف قرآن(نہ کہ قرآن و سنت یا قرآن وعترت) کو نہج البلاغہ میں گمراہی کے زمانہ میں ہدایت کا امام "کانھم ائمۃ الکتاب ولیس الکتاب امامھم" قرار دے رہے ہیں اور حضرت فاطمہ ع اپنی مناجات میں قرآن کو کافی قرار دے کر "اور خدا نے جو کتاب نازل کی وہ جملہ کافی ہے ہدایت کیلے " مہر ثبت و تصدیق کی۔ اور خود قرآن میں "کیا ان لوگوں کیلے کافی نہیں جو کتاب ہم نے آپ پر نازل کی"؟ فرمایا گیا ہے۔ پھر کیا حسبنا کتاب اللہ سیاق و سباق کے حوالے سے غلط ہے۔ ان تین مواقع پر۔ بہرحال ڈاکٹر مصطفی حسینی طباطبائی اور کچھ دیگر اہل قرآن شیعہ کسی حد تک "اہل قرآن" ہیں اور "کیا قرآن کو حدیث کے بغیر سمجھا جا سکتا ہے " پر ان کی آڈیو درس اور مقالے موجود ہیں۔اور"نہضت ربانی" جو ایران کے اہل قرآن بھی سمجھے جاتے ہیں ڈاکٹر کلہر بھی حسبنا کتاب اللہ کو عین حق اور درست قرار دیتے ہیں۔لیکن اکثر و بیشتر اہل قرآن شیعہ قرآن و متواتر احادیث جو خلاف قرآن و عقل نا ہوں اس کی حجیت کے قایل ہیں۔اور قرطاس کی حدیث کو مسترد کرتے ہیں آیت اللہ برقعی کی اس موضوع پر بہت زیادہ تحقیق ہے .

بارہ خلیفہ/امیر/امام والی روایت[ترمیم]

اہل قرآن شیعہ بارہ امام والی لوح جابر اثناعشری کتب کی روایت اور شیعہ سنی کی بارہ خلفا کی روایت کو رد کرتے ہیں۔ان کے خیال میں خلفاء والی روایت اور خلافت 30 سال تک رہے گی پھر ملوکیت یہ روایت متصادم ہے، 30 سال میں بارہ خلیفہ امام کون کون تھے .؟ اس کے علاوہ بارہ خلیفہ والی روایت کے بعض روایت میں ان بارہ کی بیعت پر امت اتفاق کرے گی پھر اتفاق/اجماع امت کی یہ سعادت اور بیعت اثناعشری کے جو گیارہ امام گزرے اس میں سے کتنے کو یہ سعادت ملی خلافت ملی؟ اور یا روایت ہے کہ یہ سب قریش سے ہوں گے تو حسن ع یا حسین ع کی اولاد سے ہونا یا معصوم ہونے کا ذکر نہیں اورنہ واجب الاطاعت مفترض الطاعۃ ہونے کا۔ نیز ان کے نام بتائے نہیں گئے پھر اس کو پیشن گوئی سے زیادہ اہمیت نہیں دے سکتے جیسا کہ 30 جھوٹے کذاب دجال مدعیان نبوت ہونے یا پھر شیعہ اثناعشری کتب میں امام مہدی فرزند حسن عسکری ع کے بعد بارہ مزید مہدی آنے کی پیشن گوئی ہے کیا ان 30 مدعیان نبوت اور بارہ مہدیوں کے نام بھی رسول ص نے بتائے یا ان کے نام پر مورخین اور محدثین اختلاف کے شکار ہیں َ؟اس موضوع پر حیدر علی قلمداران نے مفصل بحث لکھی ہے " کتاب شاھراہ اتحاد بررسی نصوص امامت" اور کتاب "بت شکن(الکافی عقل و قرآن کے خلاف روایات)" آیت اللہ برقعی نے بھی مدلل گفتگو کی ہے۔

رسول اللہ ص کی بیٹیاں[ترمیم]

اہل قرآن شیعہ رسول ص کی چار حقیقی/سگی بیٹیوں کے قائل ہیں۔اور قل لازواجک وبناتک میں چاروں بیٹیوں کو بنات کی مصداق قرار دیتے ہیں۔نیز حضرت عثمان بن عفان کو حقیقی داماد رسول ص اور ذوالنورین سمجھتے ہیں اور "تمھیں رسول ص کی دامادی کا شرف حاصل ہواجو ان دونوں(حضرت ابوبکروعمر) کونہین ملا" نھج البلاغہ میں اسی شرف دامادی کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں .

اوقات نماز[ترمیم]

اہل قرآن شیعہ نمازوں کے الگ الگ پڑھنے کے قایل ہیں اور علی ع نے نہج البلاغہ اور وقعہ صفین اور الغارات میں جو اوقات الگ الگ بتائے ہیں۔اسی کو درست قرار دیتے ہیں اور علی اصغر بنابی اور آیت اللہ برقعی کی مساجد میں پانچ وقت الگ الگ وقت میں اذان و نماز باجماعت کا اہتمام ہوتا تھا۔ اہل قرآن شیعہ اذان میں علی ع کی ولایت کی گواہی جس نیت سے خواہ قصد رجا بھی ہو بدعت سمجھتے ہیں البتہ یہ باقی الفاظ اذان اثناعشری کے مطابق ہی دیتے ہیں۔آغا سید مصطفی حسینی طباطبایی دو نمازوں کو اکھٹا کر کے پڑھنے کو بدعت قرار دیتے ہیں ان کے نزدیک رسول ص نے غدیر خم کے روز باوجود سفر کی حالت میں ہونے کے نمازوں کو الگ الگ ان کے اوقات میں پڑھی،جب کہ ان کا کہنا ہے کہ امام حسین ع نے بھی کربلا میں روز عاشور(باوجود سفر میں ہونے کے ) نماز ظہر کو اس کے افضل وقت میں الگ کر کے پڑھی جمع کر کے عصر کی نماز کو ساتھ ظہر کے نہیں پڑھی۔ پس آغا مصطفی اور دیگر اہل قرآن شیعہ فکر کے حامل علما جمع صلاتین کو بدعت سمجھتے ہیں اور ان کے نزدیک یہ جمع بین صلاتین خلاف قرآن ہے۔

نکاح ام کلثوم اور اسمائے فرزندان و دختران ائمہ ع[ترمیم]

اہل قرآن شیعہ میں نکاح ام کلثوم پر کچھ اختلاف ہے کچھ اس کو قبول کرتے ہیں بعض کو اشکال ہے۔ لیکن اکثریت ام کلثوم حقیقی بیٹی زہرا ع و علی ع کے عمر بن خطاب کے ساتھ نکاح کے قایل ہیں۔آیت اللہ برقعی کھتے ہیں کہ عمر داماد علی ع تھے جن سے ام کلثوم بنت فاطمہ کا نکاح ہوا اور عمر کے دو اولاد ان سے ہوئیں .یہی حیدر علی قلمداران کا نظریہ بھی ہیں۔آیمہ نے اپنے فرزندوں کے نام ابوبکروعمر عثمان اور بیٹیوں کے نام عائشہ رکہے . اور برقعی اس کو خلفا وعلی ع کے درمیان عدم رقابت اور دوستی و محبت کا ثبوت قرار دیتے ہیں .

غلو ازم اور غلات[ترمیم]

اہل قرآن شیعہ غلو اور غالیوں کے سخت خلاف اور ان کے ہاتھ کا بناکھانا اور ان سے میل ملاپ کو درست نہیں سمجھتے .ان کے نزدیک غالی کائنات کے تمام مشرکین سے بدتر مشرک ہیں اور ان لوگوں نے اہل بیت ع کے ساتھ ایسا سلوک اور ان کی شان میں غلو کیا جیسے عیسی عکے ساتھ عیسائیوں نے کیا۔ اہل بیت ع ان سے بری ہیں اور روز قیامت ان غالیوں کو اپنا دشمن قرار دے کر ان سے برات کا اظہار کریں گے .اس موضوع پر حیدر علی قلمداران قمی نے "راہ نجات از شر غلات" کے نام سے بہترین کتاب لکھی .

صفات الھی[ترمیم]

اہل قرآن شیعہ صفات خدائی ید،ساق،نظر وغیرہ کے حوالے سے اثناعشری،زیدی اور معتزلۂ سے متفق ہیں ان الفاظ سے وہ خدا کا ہاتھ،ساق اور اللہ کو دیکھنا مراد نہیں لیتے اسی طرح استوی کے معنی میں بھی یہ اثناعشری اور معتزلہ وزیدی شیعوں کا ہم فکر ہیں۔ان کے نزدیک اللہ کو دیکھنا یہ ایک ناممکن اور خلاف قرآن وسنت نظریہ ہے۔

روضہ خوانی[ترمیم]

روضہ خوانی کے نام پر اہل بیت ع اور ائمہ ہدی کو الوہیت کے مقام پر بٹھانا اور غلو مبالغہ آرائی پر مشتمل محافل عزاداری کو اہل قرآن شیعہ حرام جانتے ہیں۔بقول ان کے ان مجالس میں جھوٹ پر مبنی قصے کہانیاں سنائی جاتی ہیں اس کے وہ سخت خلاف ہیں۔بلکہ ایسے جھوٹے مصائب کے انبار لگانا ان کے نزدیک اھل بیت ع اور امام حسین ع پر۔ سب سے بڑا ظلم ہے۔

سنیوں کے پیچھے نماز[ترمیم]

اہل قرآن شیعہ چونکہ تقیہ کو رد کرتے ہیں اور علی ع کا خلفاء کے پیچھے ان کی اقتدا میں 25 سال نماز پڑھنا بطور تقیہ نہیں تھا کہ علی ع 25 سال منفرد اور بغیر جماعت کے نماز پڑہیں .بلکہ مسلمانوں کے ساتھ جماعت میں شریک ہوئے اور خلفا کے پیچھے نماز پڑھی بغیر تقیہ و انفرادی نیت کے .اس لیے اہل قرآن شیعہ سنیوں کے پیچھے بغیر تقیہ اور انفرادی نیت کے بغیر نماز پڑھنے کو درست سمجھتے ہیں .

ولایت تکوینی اور تفویض[ترمیم]

اہل قرآن شیعہ کے افراد ولایت تکوینی اور تفویض کا عقیدہ نہیں رکھتے اور اس کو شرک قرار دیتے ہیں۔خطبہ بیان اور دیگر دعاؤں اور خطبات کو شرک و غلو آمیز کلام اور ائمہ ھدی کو مبری قرار دیتے ہیں۔درسی از ولایت آیت اللہ برقعی اور راہ نجات از شر غلاۃ-ولایت اس موضوع پر اعلی کتب ہیں .

حوالہ جات[ترمیم]