جارج اورول

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
جارج اورول

جارج اورول (1903-1950) George Orwell ایک انگریز صحافی، مضمون نگار اور ناول نگار تھا۔۔ وہ ثقافت اور سیاست کا نقاد تھا ۔۔

حالات زندگی[ترمیم]

جارج اورول 1903ء میں بنگال کے شہر ماتیھری (Matihari) میں پیدا ھوا۔ اس کی پیدائیش کے بعد اس کا خاندان انگلستان منتقل ہو گیا۔ اس نے ایٹن Eton اسکول سے تعلیم حاصل کی۔ انڈین امپیرل پولیس کی طرف سے برما میں پانچ سال (1922ء سے 1927ء تک) ملازمت کی۔ 1927 میں واپس انگلستان آیا اور ملازمت چھوڑ کر ]]پیرس[[ چلا گیا جہاں اس نے کتابیں لکھنا شروع کر دیا۔ 1929-35 کے درمیانی عرصہ میں ایک پرائیویٹ اسکول میں پڑھاتا رھا اور صحافت سے منسلک رھا۔1935 واپس انگلستان آ گیا۔ کچھ عرصہ پو لٹری فارم اور ھوٹل چلاتا رھا۔ پھر ایک اسٹور پر کام کرتا رھا۔ اسی دور میں اس کا پہلا کام سراھایا جانے لگا۔ 1936 میں ایلین او شہوگنیسی سے شادی کی۔ اور اسپین چلا گیا۔ ایک قاتلانہ حملے میں اسے گولی لگ گئی اور وہ واپس انگلستان آ گیا۔ میڈیکلی ان فٹ ہونے کی بنا پر دوسری جنگ عظیم میں نہ لڑ سکا۔ بی۔بی۔سی انڈیا پر اردو میں خبریں پڑھتا رھا۔ جنگ کے خاتمے پر وہ ادب میں دوبارہ واپس آیا۔ اس کی بیوی ایک معمولی سے آپریشن میں وفات پا گئی۔ اورول نے ایک لڑکے کو گود لیا۔ آخری وقتوں میں وہ بہت بیمار رھا۔ اسے ٹی۔بی ھو گئی تھی۔ اسی عرصہ میں اس نے سونیا براؤنیل سے دوسری شادی کر لی۔ 23 جنوری1950ء میں فوت ھو گیا۔ اسے اس کی وصیت کے مطابق انگلستان کے ایک گاؤں کے گرجا گھر میں دفن کیا گیا۔ 1949ء میں لکھے اپنے شہرہ آفاق ناول "1984" میں اورول نے دنیا پر ایسی حکومت کا قصہ بیان کیا جس میں قابل اعتراض سوچ رکھنا بھی جرم سمجھا جاتا ہے۔

تصانیف[ترمیم]

  • Down and Out in Paris and London 1933
  • Burmese Days 1934
  • A Clergyman's Daughter 1935
  • Keep the Aspidistra Flying 1936
  • The Road to Wigan Pier 1937
  • Homage to Catalonia 1938
  • 1939 Coming Up For Air
  • Animal Farm 1945
  • Nineteen Eighty-Four 1949

مزید دیکھیئے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]