خواجہ سید عنایت اللہ شاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

خواجہ سید عنایت اللہ شاہ خواجہ سید عبد اللہ شاہ کے مرید باصفا ہیں
شاہجہان آباد دہلی آپ کا وطن مالوف ہے ابتدائی عمر ہی میں مرشد کی تلاش میں سرگرم تھے آخر سید عبد اللہ شاہ پر یقین ہوگیا کہ یہی ان کی رہنمائی کے کفیل ہو سکتے ہیںان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ریاضت کی تمام منزلیں شیخ مکرم کی زیر نگرانی طے کیں تمام سلاسل میں اجازت مرحمت فرمائی اور خلافت عطا کی اور دین حق کی خدمت کے لیے وقف کر دیا آپ نے تبلیغ کا فریضہ برصغیر کے مختلف علاقوں میں انجام دیا خصوصیت سے وادی کشمیر کو اپنی میں نقشبندیت کا فیضان آپ کے ذریعے خوب پھیلا جس کے اثرات آج تک نمایاں ہیں نہایت دشوار گزار راستوں سے یہ ارباب ہمت کیسے گزرے ہوں گے آج کا سیاح جسے بہت سی سہولتیں حاصل ہے حیران و ششدر ہے کشمیر میں فیض نقشبندیت کو عام کرنے کے بعد شاہجہان آباد واپس لوٹ آئے اور وہیں وفات پائی مزار دہلی میں ہے
خواجہ سید عنایت اللہ وہ نمایاں بزرگ ہیں جن کی نسبت وادی کشمیر سے بڑی مستحکم ہے ان کے آثار بھی کشمیر میں رائج تصوف کی تعلیمات میں بڑے واضح ہیں یہ الگ بات ہے کہ آپ ترویج اسلام کا مشن عام کرتے ہوئے اس سرزمین سے واپس لوٹ گئے تھے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. جمال نقشندڈاکٹر محمد اسحاق قریشی صفحہ 351،جامعہ قادریہ رضویہ فیصل آباد