سيد عقيل الغروى

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سید العلماء آیت اللہ

سید عقیل الغروی
SAG-01.jpg
لقب آیت اللہ، سیدالعلماء، علامہ، مولانا
دیگر نام سيد غلام محمد قائم رضوی (پیدائشی نام)
ذاتی
پیدائش 1964 (عمر 54–55 سال)
مذہب اسلام (شیعہ اصولی اثنا عشری)
قومیت بھارتی
اولاد سید سجاد الغروی (فرزند)
والدین
  • سید سبط حسن رضوی (والد)
قابل ذکر کام آنگبین، نیا تعلیمی تجربہ، چراغ راہ، تجلیات وغیرہ
دیگر نام سيد غلام محمد قائم رضوی (پیدائشی نام)
قلمی نام عقیلؔ
دستخط Syed Aqeel ul Gharavi Signature.jpg
مرتبہ
مقام لندن
منصب آیت اللہ
ویب سائٹ www.algharavi.org

آیت اللہ علامہ سید عقیلؔ الغروی نامور بین الاقوامی شہرت یافتہ ہندوستانی شيعہ عالم دين، ممتاز فلسفی، مفکر، شاعر، مایہ ناز ادیب، ماہر تعلیم، نقاد، کالم نگار، فعالیت پسند اور مجتہد ہیں۔[1][2][3][4] وہ دورِ حاضر میں منبر اور مجالسِ عزا کی پہچان بن کر سامنے آئے ہیں۔ اردو دان طبقہ چاہے برِ صغیر و مشرقِ وسطٰی میں رہتا ہو یا امریکا یورپ اور آسٹریلیا میں جہاں بھی اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے وہاں سید عقیل کے قدر دان ملیں گے۔[5] انہوں نے حوزہ علمیہ جامعہ الثقلین دہلی میں بحیثیت پرنسپل خدمات انجام دیں اور سفینہ ہدایہ ٹرسٹ کے شریک نگران (co-suprevisor) بھی رہے۔[6] اس وقت وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن[7] ہونے کے علاوہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے نائب صدر بھی ہیں۔[8] اسی کے ساتھ ساتھ وہ آیت اللہ شیخ محسن اراکی کی جانب سے مجمعِ تغریب کے برِّصغیر میں نمائندہ بھی ہیں[9] اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں موجود فلسفے میں پی ایچ ڈی (Ph.D) کرنے والے طلبہ کے نگران (Suprevisor) بھی رہ چکے ہیں۔[10] ان سب کے علاوہ وہ امامیہ اسلامک یونیورسٹی، دہلی کے سرپرست (Patron) اور فورم آف فلاسفرز، انڈیا کے معتمد (Secretary) کے طور پر بھی اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔[11]

حالات زندگی[ترمیم]

ابتدائی حالات[ترمیم]

سید عقیل 2 فروری 1964 میں ہندوستان کے شہر بنارس میں پیدا ہوئے اور بہت چھوٹی عمر میں اپنے والدین کے ساتھ ہجرت کرکے عراق کے شہر نجف اشرف تشریف لے گئے۔ نجف میں کچھ سال رہنے کے بعد واپس بنارس آگئے اور بنارس کے ایک کالج سے بارہویں جماعت کا امتحان پاس کیا۔ پھر دہلی کی مشہور یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے گریجویشن مکمل کی۔[12] اس کے بعد دینی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے ایران کے شہر قم چلے گئے۔ کافی سال قم اور ایران کے دیگر شہروں جیسا کہ مشہد میں دینی تعلیم حاصل کرتے رہے۔ 1994 میں آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی سے اجازہ حاصل کرنے والے کم عمر مجتہد بنے۔ اسی دوران میں ان کے دیگر اساتذہ نے بھی انہیں اجازہِ اجتہاد سے نوازا۔ [13][14]

سید عقیل الغروی اپنے استاد آیت اللہ تقی فلسفی کے ساتھ ایران کے شہر مشہد میں

اساتذہ[ترمیم]

آپ کے کچھ اساتذہ کی فہرست یہ ہے:

  1. آیت اللہ العظمی فاضل لنکرانی
  2. آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی
  3. آیت اللہ العظمی مظاھری اصفہانی
  4. آیت اللہ العظمی عزالدین زنجانی
  5. آیت اللہ العظمی علی نقی نقوی عرف بہ نقن
  6. آیت اللہ علامہ حسن زادہ آملی
  7. آیت اللہ تقی فلسفی مشہدی

ہندوستان واپسی[ترمیم]

اجازہِ اجتہاد حاصل کرنے کے بعد وہ ہندوستان واپس تشریف لائے اور جامعہ الثقلین دہلی میں بحیثیت پروفیسر اور مہتمم (پرنسپل) اپنی ذمہ داریوں کا آغاز کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے استاد سید العلماء مولانا سید علی نقی النقوی مجتہدِ ہند کے انداز میں مجالس ہائے عزا سے خطابت بھی شروع کی اور بہت جلد قبولیتِ عام حاصل کی۔

موجودہ رہائش گاہ[ترمیم]

آج کل سید عقیل لندن میں مقیم ہیں اور وہاں مسجد و امام بارگاہ باب المراد میں عبادات اور مجالس و دروس سے خطاب کرتے ہیں۔[15] آپ لندن میں آیت اللہ العظمی حافظ بشیر نجفی صاحب کے نمائندہ بھی ہیں۔

علمی خدمات[ترمیم]

آیت اللہ عقیل الغروی لندن میں درس دیتے ہوئے

سید عقیل پچھلی دو دہائیوں سے دنیا کے بیشتر ممالک میں مجالس سے خطاب فرما رہے ہیں خصوصیت کے ساتھ پاکستان میں ان کی مجالس کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ انہوں نے اپنی مجالسِ عزا کے ذریعے قدیم لکھنوی اندازِ خطابت کا دوبارہ احیا کیا۔ منفرد انداز میں خطابت کرتے ہیں۔ قرآنی آیات کو سر نامہِ کلام قرار دے کر پورا عشرہ ان کی تفسیر پڑھنا اور ان میں سے شانِ خاندانِ رسالت بیان کرنا، ان تقاریر میں آیاتِ قرآنی اور احادیثِ معصومین کا تفصیلی جائزہ جن میں مذہبی و فقہی رنگ کے ساتھ تاریخ، فلسفہ و منطق اور علم الکلام و علم الرجال کی روشنی میں ان پر تفصیلی گفتگو شامل ہوتی ہے۔

سید عقیل کا طرزِ خطابت خاص لکھنوی تہذیب کی ترجمانی کرتا ہے جو اب دھیرے دھیرے ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ آپ کے خطابات سننے کے لیے نا صرف عوام الناس بلکہ معاشرے کے ہر طبقے کے افراد کثیر تعداد میں شرکت کرتے ہیں۔ جہاں ایک طرف جج حضرات بیٹھے عدلِ الٰہی پر گفتگو سے فیض یاب ہو رہے ہوتے ہیں وہیں ادبا و شعرا خوبصورت زبان سے لطف اندوز ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ جہاں مرثیہ نگار حضرات کے سامنے قدما و اساتذہ کے زبان زدِ عام اشعار میں باریکیوں سے پردے اٹھ رہے ہوتے ہیں، وہیں سیاست دان، جرنیل اور دیگر اعلٰی عہدوں پر موجود عہدے دار اندازِ جہاں بانی علی کے خطبوں کی روشنی میں سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح صاحبانِ عبا و قبا کی ایک قطار ہوتی ہے جو علومِ تفسیر، حدیث، کلام، فلسفہ و منطق سے بہرہ مند ہونے تشریف لاتی ہے۔ غرض علم کا ایک سیل رواں ہوتا ہے جو جاری ہوتا ہے اور سامعین اپنی حیثیت کے مطابق اس میں سے حصہ پاتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے مختلف موضوعات پر سیمینار سے بیشتر ممالک میں خطاب کیا ہے اور ان سیمینار کے سننے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔[16] مشہور شاعر باقرؔ زیدی اپنے ایک مرثیے میں آیت اللہ عقیل الغروی کے منفرد اندازِ خطابت اور دوسرے خطیبوں پر برتری کا ذکر کرتے ہوئے کچھ یوں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں[17]:

؂

یوں تو منبر پر بہت فیض رساں ملتے ہیں
علم و دانش کے بڑے کوہِ گراں ملتے ہیں
ایک سے ایک خطیبوں کے بیاں ملتے ہیں
فکر سے علم نکالیں وہ کہاں ملتے ہیں
اس بلندی پہ نظر ایک وہی آتے ہیں
چشمِ بدور عقیلؔ الغروی آتے ہیں

کتابیں[ترمیم]

سید عقیل الغروی اسلام آباد میں جامعہ الکوثر کا دورہ کرتے ہوئے

سید عقیل کی بائیس (22) سے زیادہ کتب منظر عام پر آچکی ہیں جو اردو زبان میں ہیں۔ انہوں نے فارسی، انگریزی اور عربی زبانوں میں بھی متعدد کتابیں لکھیں ہیں۔ انہوں نے اپنا پہلا ادبی رسالہ جس کا نام ادبی کائنات تھا اس وقت تحریر کیا جب ان کی عمر سولہ (16) برس سے زیادہ نہ تھی۔[18] ان کی چند کتابیں یہ ہیں:

انگریزی اور اردو کتب[ترمیم]

  1. آنگبین
  2. نیا تعلیمی تجربہ
  3. چراغ راہ
  4. تجلیات
  5. فلسفہ معراج
  6. قضاو قدر
  7. حسن اختیار
  8. مجالس غروی
  9. مقام ختم نبوت اور انسان
  10. ولایت حق اور امام حسینؑ
  11. سلام شوق
  12. توحید اور حسینؑ
  13. دعا
  14. ولایت عظمیٰ
  15. Thematic Study of Holy Quran (انگریزی میں)
  16. علم و ارادہ
  17. عید حشر اور جشن محشر

عربی کتب[ترمیم]

  1. فقہ الصلاۃ علی نبیﷺ
  2. الحدیث بین الاسناد و الفقہ
  3. بحث تفسیری و فقہی
  4. الباب الثانی العشر
  5. الحقائق الايمانيه

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]