سی کے نائڈو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سی کے نائڈو
CK Nayudu 1930s.jpg
ذاتی معلومات
مکمل نامکوٹری کناکئیا نائڈو
پیدائش31 اکتوبر 1895(1895-10-31)، ناگپور، مہاراشٹر[1]
وفات14 نومبر 1967(1967-11-14) (عمر  72 سال)، اندور، مدھیہ پردیش
بلے بازیدائیں ہاتھ کا بلے باز
گیند بازیدائیں ہاتھ کا گیند باز
بین الاقوامی کرکٹ
قومی ٹیم
پہلا ٹیسٹ (کیپ 7)25 جون 1932  بمقابلہ  انگلستان
آخری ٹیسٹ15 اگست 1936  بمقابلہ  انگلستان
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ فرسٹ کلاس
میچ 7 207
رنز بنائے 350 11,825
بیٹنگ اوسط 25.00 35.94
100s/50s 0/2 26/58
ٹاپ اسکور 81 200
گیندیں کرائیں 858 25,798
وکٹ 9 411
بولنگ اوسط 42.88 29.28
اننگز میں 5 وکٹ - 12
میچ میں 10 وکٹ - 2
بہترین بولنگ 3/40 7/44
کیچ/سٹمپ 4 170/1
ماخذ: [1]

کوٹری کناکئیا نائڈو कोट्टेरी कनकैया नायडू(پیدائش:31 اکتوبر 1895ء ناگپور، مہاراشٹر|وفات:11 ستمبر 1950ء اندور، مدھیہ پردیش) ٹیسٹ کرکٹ میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے پہلے کپتان تھے۔ ۔[2] جنہوں نے بھارت کی طرف سے 7 ٹیسٹ میچ کھیلے ان کے خاندان کے کافی لوگ کرکٹ سے وابستہ رہے جن میں سی ایس نائیڈو (بھائی) وی کے نائیڈو (پوتا) سی ایل نائیڈو(بھائی) سی این نائیڈو (بیٹا) سی آر نائیڈو (بھائی) پی نائیڈو (بیٹا) ڈی ڈی گووندراجن(بھتیجا) شامل۔ہیں سی کے نائڈو نے انڈیا، آندھرا، وسطی ہندوستان، وسطی صوبے، برار ہندو،ہولکر،حیدرآباد (بھارت) راجپوتانہ اور متحدہ صوبہ کی طرف سے بھی اس کھیل میں حصہ لیا تھا۔

ابتدائی دور[ترمیم]

سی کے نائڈو 31 اکتوبر 1895ء کو بارہ بڑا ناگپور میں کوٹاری سوریہ پرکاش راؤ نائیڈو کے ہاں پیدا ہوئے، راؤ بہادر کوٹاری نارائنا سوامی نائیڈو کے بیٹے،مچھلی پٹنم، آندھرا پردیش کے ایک وکیل اور زمیندار تھے جو کئی دیہاتوں کے مالک تھے۔ ایک پھلے پھولے وکیل ہونے کے علاوہ، وہ آل انڈیا نیشنل کانگریس پارٹی کے ایک سرخیل رکن تھے۔

کرکٹ سے وابستگی[ترمیم]

سی کے نائڈو سی ایس نائیڈو اور سی ایل نائیڈو تینوں بھائیوں نے مسابقتی کرکٹ کھیلی۔ نارائن سوامی اتنے امیر تھے کہ انہوں نے اپنے دونوں بیٹوں کو مزید تعلیم کے لیے انگلینڈ بھیج دیا۔ ان کے بڑے بیٹے، کوٹاری ویکاترامنا نائیڈو کی شادی ایلورو کے راجہ پربھاکر مورتی کی بیٹی سے ہوئی تھی اور ان کا ایک بیٹا تھا جس کا نام کوٹیری رنگا راؤ نائیڈو تھا جو انگلینڈ سے وکیل بھی تھا۔ چھوٹے بیٹے، کوٹیری سوریا پرکاش راؤ نائیڈو کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں، اس نے بی اے کیا۔ اور کیمبرج یونیورسٹی کے ڈاؤننگ کالج میں ایم اے کیا اور اسے 1891ء میں مڈل ٹیمپل بار میں بلایا گیا۔ وہ اپنی جسمانی صلاحیتوں کے لیے سراہا گیا اور کیمبرج یونیورسٹی کیمپس میں ہرکولیس کے نام سے جانا جاتا تھا۔ وہ کچھ سالوں تک ہولکر اسٹیٹ کی ہائی کورٹ میں جسٹس رہے اور کچھ عرصہ چیف جسٹس کے طور پر کام کیا۔ ان دنوں مہاراجہ شیواجی راؤ ہولکر حکمران تھے۔ مہاراجہ نے ریکارڈ پر رکھا تھا کہ اسے صرف دو لوگوں پر بھروسہ تھا- سوریہ پرکاش راؤ پہلے اور کے ایس۔ نوا نگر کے رنجیت سنگھ جی، جو سسیکس اور انگلینڈ کے لیے کھیلتے تھے اور کیمبرج میں رہتے ہوئے سی سوریا پرکاش راؤ نائیڈو کے ہم عصر تھے۔ کوٹاری کناکایا نائیڈو نے 1958ء تک باقاعدگی سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی، اور آخری بار 1963ء میں 68 سال کی عمر میں واپس آئے۔ کہا جاتا ہے کہ 1923ء میں، ہولکر کے حکمران نے انہیں اندور بلایا اور انہیں اپنی فوج میں کپتان بنا دیا، بولکر کی فوج میں ایک کرنل کے اعزاز سے نوازا جب آرتھر گلیگن نے 1926-27ء کے سیزن میں ہندوستان کے پہلے دورہ ایم سی سی کی قیادت کی۔ بمبئی جم خانہ میں نائیڈو نے 116 منٹ میں 11 چھکوں کے ساتھ 153 رنز بنائے۔ باب وائیٹ کی گیند پر ان کا ایک چھکا جم خانہ کی چھت پر جا لگا۔ ایم سی سی نے اس اننگز کے اعتراف میں انہیں چاندی کا بیٹ پیش کیا۔ وہ 1941ء میں ایک برانڈ (باتھ گیٹ لیور ٹانک) کی توثیق کرنے والے پہلے ہندوستانی کرکٹر بھی تھے۔ حکومت ہند نے انہیں 1956ء میں پدم بھوشن کا تیسرا سب سے بڑا (اس وقت دوسرا سب سے بڑا) شہری اعزاز سے نوازا تھا۔

سی کے نائیڈو کی فیملی[ترمیم]

سی کے نائڈو کی دو شادیوں سے نو بچے تھے، سات لڑکیاں اور دو بیٹے، یعنی سی نارائنا سوامی نائیڈو اور پرکاش نائیڈو، جو ایک ہندوستانی کھلاڑی اور ہندوستانی پولیس سروس آفیسر تھے۔ ان کی بیٹی، چندرا نائیڈو ہندوستان کی پہلی خاتون کرکٹ مبصر تھیں۔

کرکٹ کیریئر[ترمیم]

سی کے نائڈو کو سات سال کی عمر میں اسکول کی ٹیم میں شامل کیا گیا تھا، اور اس نے روشن مستقبل کی جھلک دکھائی تھی۔ انہوں نے 1916ء میں بمبئی ٹرائینگولر میں فرسٹ کلاس ڈیبیو کیا۔ یورپیوں کے خلاف ہندوؤں کے لیے، وہ نویں نمبر پر بلے بازی کے لیے آئے اور اس کی ٹیم 7 وکٹوں پر 79 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ اس نے 1956-57ء میں رنجی ٹرافی میں آخری بار شرکت کی اور اس وقت ان کی عمر 62 سال تھی، انہوں نے اترپردیش کے لیے اپنی آخری اننگز میں 52 رنز بنائے۔ اس سے پہلے سیزن میں اس نے راجستھان کے خلاف 84 رنز بنائے تھے، ان کے لگائے دو چھکے ونو مانکڈ کو کبھی نہیں بھولے۔ 84 کی اس اننگز نے نائیڈو کو فرسٹ کلاس کرکٹ میچ میں اپنی عمر یا اس سے زیادہ رنز بنانے والے سب سے معمر کھلاڑی کے طور پر ریکارڈ توڑنے والا بنا دیا۔ اس کا آخری سفر 1963-64ء میں ایک چیریٹی میچ میں ہوا، جب وہ مہاراشٹر کے گورنر الیون کی طرف سے مہاراشٹر کے چیف منسٹر الیون کے خلاف کھیلے۔

اعداد و شمار[ترمیم]

سی کے نائیڈو نے 7 ٹیسٹ میچوں کی 14 اننگز میں 81 کے بہترین سکور کے ساتھ 350 رنز بنائے۔ 25.00 کی اوسط سے ترتیب پانے والے ان رنزوں میں 2 نصف سنچریاں بھی شامل تھیں جبکہ 207 فرسٹ کلاس میچوں کی 342 اننگز کھیل کر انہوں نے 15 دفعہ بغیر آئوٹ ہوئے 11825 رنز کا بڑا مجموعہ بنایا۔ 35.94 کی اوسط سے بننے والے اس سکور میں 200 اس کے کسی ایک اننگ کا سب سے زیادہ سکور تھا۔ 26 سنچریاں اور 58 نصف سنچریوں سمیت 170 کیچز اور ایک سٹمپ بھی اس کے ریکارڈ میں شامل ہے۔ سی کے نائیڈو نے 386 رنز دے کر 9 ٹیسٹ وکٹیں اپنے نام کیں۔ 3/40 اس کا بہترین بولنگ فگر تھا جبکہ اسے 42.88 کی اوسط حاصل رہی۔ اس نے 12038 رنز دے کر 411 فرسٹ کلاس وکٹیں اپنے نام کیں۔ 7/44 ان کی کسی ایک اننگ کی بہترین بولنگ تھی۔ 29.28 کی اوسط سے لی گئی ان وکٹوں میں 12 مرتبہ ایک اننگ میں 5 یا اس سے زائد اور 2 دفعہ 10 وکٹیں شامل تھیں۔

انتقال[ترمیم]

سی کے نائڈو کا انتقال14 نومبر 1967ء میں اندور مدھیہ پردیش میں 72 سال اور 13 دن کی عمر میں ہوا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Cricket archive profile". 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 10 فروری 2018. (تتطلب إشتراكا (معاونت)). 
  2. "C.K Nayudu — The First India Captain". Sporteology.com. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 16 اگست 2014.