محمد ایوب قادری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد ایوب قادری
معلومات شخصیت
پیدائش 28 جولا‎ئی 1926  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اونالا، اتر پردیش، برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 25 نومبر 1983 (57 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن سخی حسن  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
تعلیمی اسناد پی ایچ ڈی  ویکی ڈیٹا پر تعلیمی اسناد (P512) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مؤرخ، محقق، مترجم، پروفیسر  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو، فارسی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل جنگ آزادی ہند 1857ء، سوانح، تاریخ، ترجمہ  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

پروفیسر ڈاکٹر محمد ایوب قادری (پیدائش: 28 جولائی، 1926ء - وفات: 25 نومبر، 1983ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز محقق، مورخ، سوانح نگار، مترجم اور ماہرِ تعلیم تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

محمد ایوب قادری 28 جولائی، 1926ء کو اونالا، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔[1][2][3] انہوں نے فارسی کی تعلیم اپنے والد مولوی مشیت اللہ قادری اور عربی کی تعلیم حکیم عبد الغفور جو ان کے آبائی علاقے کے مشہور عالم اور بزرگ تھے، سے حاصل کی۔ انہوں نے انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاکستان ہجرت سے پہلے 1950ء میں اپنے ننھیال بدایوں سے پاس کیا اور پاکستان آ گئے۔ پاکستان میں ابتداً سندھ کے ضلع دادو اور پھر کراچی میں مستقل سکونت اختیات کی۔ 1956ء میں وفاقی اردو کالج سے بی اے کیا اور پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی میں بطور ریسرچ آفیسر منسلک ہو گئے۔1962ء میں انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے (اردو) کی ڈگری حاصل کی اور وفاقی اردو کالج میں لیکچرار مقرر ہوئے۔[3]

ادبی خدمات[ترمیم]

محمد ایوب قادری کی تصانیف میں ارباب فضل و کمال بریلی، مولانا فیض احمد بدایونی، مخدوم جہانیاں جہاں گشت، مولانا محمد احسن نانوتوی، جنگ آزادی 1857ء اور کاروان رفتہ کے نام سرِ فہرست ہیں۔ انہوں نے فارسی کی کئی اہم کتابوں کو بھی اردو کے قالب میں ڈھالا۔ ان میں تذکرہ علمائے ہند، مآثر الامراء، مجموعہ وصایا اربعہ، فرحت الناظرین اور طبقات اکبری شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے کئی اہم اور نادر کتابوں کے حواشی بھی تحریر کیے۔ انہوں نے اردو نثر کے ارتقا میں علما کا حصہ شمالی ہند میں 1857ء تک کے موضوع مقالہ تحریر کر کے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔[2]

تصانیف[ترمیم]

  • لولوئے ازغیب (شیو لال) (ترتیب)
  • علم و عمل جلد اول ( عبد القادر خانی،مولوی معین الدین افضل گڑھی) (ترجمہ)
  • مقالات یوم عالمگیر
  • عہد بنگش کی سیاسی، ثقافتی اور علمی تاریخ
  • مجموعہ وصایا اربعہ (ترجمہ)
  • جنگ آزادی 1857ء
  • خط و خطاطی
  • سیرالعارفین (حامد بن فضل اللہ جمالی) (ترجمہ)
  • ماثر الامرا-جلد اول، دوم، سوم (از صمصام الدولہ شاہنواز خان) (ترجمہ)
  • طبقات اکبری (از خواجہ نظام الدین احمد) (ترجمہ)
  • مولانا محمد احسن نانوتوی
  • تبلیغی جماعت کا تاریخی جائزہ
  • مرقع شہابی
  • مخدوم جہانیاں جہاں گشت
  • مولانا فیض احمد بدایونی
  • تذکرہ علمائے ہند ( ترجمہ)
  • اردو نثر کے ارتقا میں علما کا حصہ شمالی ہند میں 1857ء تک ( پی ایچ ڈی مقالہ)
  • سید الطاف علی بریلوی:حیات و خدمات
  • ارباب ِ فضل و کمال بریلی
  • کاروان ِ رفتہ
  • غالب اور عصر غالب

وفات[ترمیم]

ڈاکٹر محمد ایوب قادری 25 نومبر، 1983ء کو کراچی، پاکستان میں ٹریفک حادثے میں اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے اور کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔[1][2][3][4]

حوالہ جات[ترمیم]

خارجی روابط[ترمیم]