نرگس دت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نرگس دت
(انگریزی میں: Nargis ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Nargis in Awaara film.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (انگریزی میں: Fatima Rashid ویکی ڈیٹا پر (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 1 جون 1929ء
کلکتہ، مغربی بنگال، برطانوی راج
وفات 3 مئی 1981 (عمر 51 سال)
ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
وجہ وفات سرطان لبلبہ  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (–15 اگست 1947)
Flag of India.svg بھارت (26 جنوری 1950–)
Flag of India.svg ڈومنین بھارت (15 اگست 1947–26 جنوری 1950)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شریک حیات سنیل دت (1958–1981)
اولاد سنجے دت
نمرتا دت
پریا دت
والدہ جدن بائی  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
رکن راجیہ سبھا   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
1980  – 1981 
عملی زندگی
پیشہ اداکاری
پیشہ ورانہ زبان ہندی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دور فعالیت 1935، 1942–1967
کارہائے نمایاں برسات (1949ء فلم)،  مدر انڈیا  ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
قومی فلم اعزاز برائے بہترین اداکارہ (برائے:Raat Aur Din) (1968)
IND Padma Shri BAR.png فنون میں پدم شری  (1958)
فلم فیئر اعزاز برائے بہترین اداکارہ (برائے:مدر انڈیا) (1958)  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نرگس دت[1] (فاطمہ راشد؛ ولادت: 1 جون 1929ء - وفات: 1981ء) ایک بھارتی بالی وڈ اداکارہ تھیں جن کا اصلی نام فاطمہ رشید تھا مگر وہ اپنے فلمی نام نرگس دت سے پہچانی جاتی تھیں۔ نرگس دت پہلی مرتبہ اسکرین پر ایک چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر فلم “تلاشِ حق “ میں نمودار ہو ئی تھیں مگر ان کا اداکاری (ایکٹنگ) کیرئیر 1942ء میں بننے والی فلم “تمنا“ سے شروع ہو تا ہے۔ 1957ء میں ریلیز ہونے والی فلم “مدر انڈیا“میں ان کے کردار "رادھا" کو لا زوال شہرت حاصل ہوئی- 1958ء میں سنیل دت سے شادی کے بعد انہوں نے فلم انڈسٹری کو چھوڑ دیا۔ نرگس کا انتقال 1981ء میں اپنے بیٹے سنجے دت کے فلمی کیرئیر شروع ہونے سے چند دن قبل لبلبہ کے کینسر سے ہوا-بعد ازاں ان کی یاد میں “نرگس دت میموریل کینسر فاؤ نڈیشن “ بھی بنا یا گیا۔

ذاتی زندگی[ترمیم]

نرگس کا اداکار راج کپور کے ساتھ طویل عرصے تک رشتہ رہا، جو آوارہ اور شری 420 فلموں میں ان کی شریک اداکار تھے۔ راج کپور شادی شدہ تھے اور ان کے بچے تھے۔ جب راج کپور نے اپنی اہلیہ کو طلاق دینے سے انکار کر دیا تو نرگس نے ان کے نو سال طویل رشتے کو ختم کر دیا۔[2][3]

نرگس لاجونتی (1958) میں

بیماری اور وفات[ترمیم]

2 اگست 1980ء کو، نرگس راجیہ سبھا کے ایک اجلاس کے دوران بیمار ہوگئیں، اس کی ابتدائی وجہ یرقان سمجھا گیا۔ ان کو گھر لے جایا گیا اور انہیں بمبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ پندرہ دن کے ٹیسٹ کے بعد، اس دوران ان کی حالت بدتر ہوتی چلی گئی اور ان کا وزن تیزی سے کم ہو گیا، انہیں 1980ء میں لبلبے کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی اور اس بیماری کا علاج نیویارک شہر میں میموریل سلوان-کیٹرنگ کینسر سنٹر میں ہوا۔[4][5] ہندوستان واپس آنے پر، ان کی حالت بگڑ گئی اور انہیں بریچ کینڈی اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ نرگس 2 مئی 1981ء کو شدید بیمار ہوئیں اور اگلے ہی دن ان کا انتقال ہو گیا۔ انہیں ممبئی کے میرین لائنز کے بڑا قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ 7 مئی 1981ء کو نرگس کے بیٹے کی پہلی فلم راکی ​​کے پریمیئر میں ان کے لیے ایک نشست خالی رکھی گئی تھی۔[6]

فلمیں[ترمیم]

نوٹ : واضح رہے کہ یہ فہرست مکمل نہیں ہے-

  • تلاشِ حق (1935ء)
  • تمنا (1942ء)
  • تقدیر(1943ء)
  • برسات
  • آدھی رات (1950ء)
  • بے وفا(1952ء)
  • انہونی (1952ء)
  • آہ (1953ء)
  • مدر انڈیا (1957ء)
  • رات اور دن (1967ء)

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Archived copy". 01 مئی 2009 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 19 مئی 2009. 
  2. Patel، Bhaichand (19 November 2007). "Clangorous Liaisons". Outlook. اخذ شدہ بتاریخ 02 جون 2015. 
  3. Roy، Gitanjali (17 January 2017). "Rishi Kapoor Reveals Dad Raj Kapoor's Alleged Affairs With His Heroines". NDTV Movies. اخذ شدہ بتاریخ 30 جولا‎ئی 2017. 
  4. Usman، Yasser (2018). Sanjay Dutt: The Crazy Untold Story of Bollywood's Bad Boy. Juggernaut Books. صفحہ 50. ISBN 978-93-86228-58-1. 
  5. Somaaya، Bhawana (2017-05-25). "Nargis and Sunil Dutt: A Love Story In the House of Heartbreaks". TheQuint. اخذ شدہ بتاریخ 08 اگست 2020. 
  6. Dhawan، M.L. (27 April 2003). "A paean to Mother India". دی ٹریبیون. اخذ شدہ بتاریخ 07 ستمبر 2008.