پاکستان اسٹیٹ آئل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


پاکستان اسٹیٹ آئل (Pakistan State Oil) پاکستانی تیل اور گیس کی صنعت کا صفِ اول ادارہ ہے۔ اس کا پورا نام پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی لمیٹڈ ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ محدود کمپنی ہے اور اس کے حصص کراچی، لاہور اور اسلام آباد اسٹاک ایکسچینج پر درج ہے ۔پاکستان اسٹیٹ آئل کا مضبوط بنیادی ڈھانچا اور مصنوعات کی بین الاقوامی معیار سے مطابقت اسے پاکستان کی بہترین کمپنی بناتے ہیں۔ اپنی بہترین کارکردگی کے باعث یہ ایک منافع بخش کمپنی ہے اور اس کا ثبوت اس کے حصص کی دن بدن بڑھتی مالیت ہے۔

تاریخ[ترمیم]

ابتداء[ترمیم]

پاکستان اسٹیٹ آئل کا وجود انیس سو ستر 1970ء کے وسط میں آیا جب حکومتِ پاکستان نے قومی املاک کا حصہ بنانے کے تحت ), پاکستان نیشنل آئل (PNO)، اور دائود پیٹرولیم کو ملا کر پریمیئر آئل کمپنی(Premiere Oil Company) کی بنیاد رکھی۔ تین جون 1974ء میں پیٹرولیم اسٹوریج ڈیویلپمنٹ کارپوریشن (Petroleum Storage Development Corporation PSDC) کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ تیئیس اگست1976 ء میں اس کا نام بدل کر اسٹیٹ آئل کمپنی (State Oil Company Limited SOCL) رکھ دیا گیا۔ پندرہ ستمبر 1976ء میں ایسو پاکستان (Esso Pakistan) کی ضمانتیں خرید کے اس کا اختیار ایس او سی ایل (SOCL) کے ہاتھ میں دے دیا گیا۔ تیس دسمبر 1976ء کو پریمیئر آئل کمپنی اور اسٹیٹ آئل کمپنی کے انضمام سے پاکستان اسٹیٹ آئل وجود میں آئی۔

دور حاضر[ترمیم]

پاکستان اسٹیٹ آئل کے وجود سے آج تک ایک سوچے سمجھے منصوبہ سے کی جانے والی اندرونی اور بیرونی تجدید سے یہ پاکستان میں تیل کی بازار کاری، توزیع اور ذخیرہ کرنے والی صف اول کمپنی ہے۔ اس پروگرام میں تنظیمی ڈھانچے کی مضبوطی، عملہ کی چھانٹ، ملازمین کی بااختیاری اور صاف شفاف کاروباری عمل کا فروغ شامل ہیں۔ آج پاکستان اسٹیٹ آئل کی کل قدر پچھتر بلین روپے ہے، اور اس کا سیاہ تیل کی مارکیٹ میں 81.2 فیصد اور وائٹ ائل کی مارکیٹ میں61.2 فیصد حصہ ہے۔

پی ایس او ہاؤس[ترمیم]

پی ایس او کا سابقہ ہیڈ آفس داؤد سینٹر میں تھا مگر 2000ء کے ابتداء میں ہیڈ آفس پی ایس او ہاؤس خیابان اقبال کلفٹن میں منتقل کر دیا گیا، پی ایس او ہاؤس کا شمار پاکستان کی خوبصورت ترین عمارتوں میں ہوتا ہے۔

موجودہ کارکردگی[ترمیم]

اپنے 29 ڈپو، 9 تنصیبات (کل گنجائش 860،000 میٹرک ٹن)، 6000 ٹینک لاریوں، ٹینک ویگنوں، پائپ لائن کے جال، 3612 ریٹیل پمپ (جن میں 1610 نئے وژن ریٹیل میں ڈھالے جا چکے ہیں) اور 2000 ہنر مید ملازمین کی بدولت پاکستان اسٹیٹ آئل نہ صرف تیل کی مارکیٹنگ کی صنعت بلکہ دیگر صنعتوں کو بھی نفع کی شرح اور کاروباری حجم میں مات دے چکی ہے۔ یہ پاکستان کی پہلا عوامی حلقہ کا ادارہ ہے جو عالمی اقتصادی فورم (World Economic Forum) کا رکن بنا اور اس کے علاوہ کراچی اسٹاک ایکسچینج (Karachi Stock Exchange) کے بہترین تجارتی ادارہ کا انعام حاصل کر چکی ہے۔

صارفین[ترمیم]

ہر روز کسی نہ کسی طرح پاکستان اسٹیٹ آئل کی مصنوعات سے 2.8 ملین صارفین، 2000 کاروبار اور صنعتیں حکومتی ادارے، پاک فوج، ریلوے، زراعت، خودمختار بجلی گھر (Independent Power Producers IPPs)، نو ہوائ اڈے اور تین بندر گاہیں مستفید ہوتے ہیں۔

مصنوعات[ترمیم]

  • پریمیئر ایکس ایل (Premier XL) گیسولین
  • گرین ایکس ایل (Green XL) ڈیزل
  • ہائ آکٹین بلینڈنگ کامپوننٹ (High Octane Blending Component)
  • انجن آئل
    • ڈیو (Deo) ڈیزل انجن آئل
    • کیرینٹ (Carient) پیٹرول انجن آئل
  • سپیریئر کیروسین آئل (Superior Kerosene Oil)
  • لائٹ ڈیزل آئل (Light Diesel Oil)
  • جیٹ فیول
  • فرنس آئل
    • ہائ سلفر فرنس آئل (High Sulfur Furnace Oil)
    • لو سلفر فرنس آئل (Low Sulfur Furnace Oil)
  • کمپریسڈ نیچرل گیس (Compressed Natural Gas)
  • مائع پیٹرولیم گیس (Liquified Petroleum Gas)
  • مائع نیچرل گیس (Liquified Natural Gas)

اضافی قدری خدمات (Value Added Services)[ترمیم]

  • کارڈز
    • کاربوریٹ کارڈز (Corporate Cards)
    • فلیٹ کارڈز (Fleet Cards)
    • پریپیڈ کارڈز (Prepaid Cards)
    • لائلٹی کارڈز (Loyalty Cards)
    • پریویلیج لائلٹی کارڈز (Privilege Loyalty Cards)
  • نان فیول ریٹیل

بیرونی روابط[ترمیم]