برازیل میں اسلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

برازیل میں اسلام سب سے پہلے افریقی غلاموں نے قبول کیا تھا۔. ابتدا میں برازیل میں غلام مسلمانوں نے سب سے بڑی بغاوت کی، جو کہ دنیا کی سب سے بڑی غلاموں کی بغاوت تھی۔ اس کے بعد برازیل میں شام اور لبنان کے مسلمان مہاجرین پہنچےجو اب اقلیت کی صورت میں موجود ہیں۔2010 کی مردم شماری کے مطابق برازیل میں 35،207 مسلمان آباد ہیں۔[1]

آمد[ترمیم]

برازیل میں مسلمانوں کی تاریخ ملک میں افریقی غلام مزدوروں کی درآمد کے ساتھ شروع ہوتی ہے. افریقہ کے درآمد شدہ غلاموں میں سے 37 ٪ برازیل میں بھیجے گئے۔ [2] اور 30 لاکھ غلام صرف برازیل میں لائے گئے۔. 1550 کے اردگرد پرتگالیوں نے افریقی غلاموں کو برازیل میں لانا شروع کر دیا تھا ان غلاموں میں زیادہ تر لوگ مسلمان تھے۔

جنگ باربری کے دنوں کے دوران، کچھ برازیلی لوگوں کے مسلمانوں سے تعلق پروان چڑھے۔ایک پرتگالی عالم و ڈاکٹر انتونیو سوس نے یہ بات عیاں کی ہے کہ 1570 میں جزیرہ نما آئبیریا کے لوگوں نے اس وقت کی بدنام زمانہ شمالی افریقہ کی بندرگاہ الجزائر شہر سے غلاموں کو قید کیا اور انہیں اپنے ساتھ اپنی نئی آبادیوں میں لے کر گئے تھے[3] ان غلاموں میں زیادہ تر لوگ مسلمان تھے۔

۔اس کے بعد شام اور لبنان سے عرب لوگوں نے جنوبی امریکہ کی طرف ہجرت کی ان لوگوں میں زیادہ تر عیسائی تھے لیکن ان میں مسلمان بھی کم مقدار میں موجود تھے۔ ایک اندازے کے مطابق شام اور لبنان سے 11 ملین لوگوں نے برازیل میں ہجرت کی۔

آج[ترمیم]

2010 کی برازیل میں مردم شماری کے مطابق ملک میں 35،167 رہتے ہیں۔ زیادہ تر مسلمان ساؤپالو اور پرانا اور ان کے مضافاتی علاقوں میں آباد ہیں۔ اکثریت سنی مسلمانوں کی ہے جبکہ شیعہ مسلمان بھی معمولی مقدار میں موجود ہیں۔برازیل میں اس وقت 36 مساجد اور دوسرے اسلامی سینٹرز موجود ہیں۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق برازیل میں غیر مسلم شہریوں نے اسلام قبول کیا ہے۔،ایک مسلم ذرائع کے مطابق برازیل میں دس ہزار لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے۔ گزشتہ 30 سالوں کے دوران، اسلام برازیل میں تیز ترین پھیلنے والا مذہب بن گیا ہے۔.گذشتہ چند سالوں میں برازیل میں اسلامی لائبریریوں، سکولوں اور مساجد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔


نگار خانہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ftp://ftp.ibge.gov.br/Censos/Censo_Demografico_2010/Caracteristicas_Gerais_Religiao_Deficiencia/tab1_4.pdf
  2. ^ Lovejoy, Paul E., Muslim Encounters With Slavery in Brazil, Markus Wiener Pub., 2007. ISBN 1-55876-378-3.
  3. ^ Garcés, María Antonia. "Cervantes in Algiers: A Captive's Tale." Nashville: Vanderbilt UP, 2002, p. 35