قبرص میں اسلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

قبرص میں اسلام کی آمد کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ مسلمان مجاہدین قبرص میں خلیفۂ راشد جناب عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی کے دور خلافت میں یہاں پہنچے ۔ یہ زمانہ 649ء کا تھا۔ اور فی زمانہ 1974 تک ترکی قبرص کے جزیرہ نما علاقے میں ترک نژاد مسلمان 18 فیصد تک پہنچ چکے ہيں۔ جو کہ 2 لاکھ 64 ہزار 1 سو بہتر کی تعداد میں جنوبی قبرص میں آباد ہيں۔ ترک نژاد قبرصی اصل میں سنی العقیدہ اور تصوف مائل رجحان رکھتے ہيں ۔ ان کے رہنما نظام القبرصی ہیں جو کہ نقشبندی حقانی سلسلے سے تعلق رکھتے ہيں اور لیفکامیں رہائش پذیر ہيں

اسلام کی آمد[ترمیم]

اسلام اپنے ابتدائی دنوں میں ہی اس خطے تک پہنچ چکا تھا ۔ مسلمانوں نے خلافت راشدہ کے دور میں یونانی جزيرہ کریٹ پر جہاد کیا ۔ کہا جاتا ہے کہ آن حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی بزرگہ اُمِّ حرام بھی اس مہم میں شامل تھیں ۔ [حوالہ درکار]

تاریخ[ترمیم]

قبرص 395ء میں رومی سلطنت کی تقسیم کے بعد بازنطینی سلطنت کا حصہ بنا اور امیر معاویہ کے دور میں اسے مسلمانوں نے فتح کرلیا۔ 1571ء میں لالہ مصطفی کی زیر قیادت عثمانی فوج نے جزيرہ فتح کرلیا۔

موجودہ حالات[ترمیم]

قبرص 1960ء میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ 11 سال تک فسادات کے بعد 1964ء میں اقوام متحدہ کی امن فوج تعینات کی گئی جس کے بعد جزیرے کے یونان کے ساتھ الحاق کیا گیا جس پر ترکی نے 1974ء میں جزیرے پر حملہ کردیا۔ اس کے نتیجے میں شمالی قبرص میں ترکوں کی حکومت قائم ہوگئی جسے ترک جمہوریۂ شمالی قبرص کہا جاتا ہے تاہم اسے اقوام متحدہ تسلیم نہیں کرتی۔ شمالی قبرص اور قبرص ایک خط کے ذریعے منقسم ہیں جسے "خط سبز" کہا جاتا ہے۔ شمالی قبرص کو صرف ترکی کی حکومت تسلیم کرتی ہے۔ جمہوریہ قبرص یکم مئی 2004ء کو یورپی یونین کا رکن بنا۔

نگار خانہ[ترمیم]


مزید دیکھیے[ترمیم]